پنجاب میں تعلیم کا بجٹ آٹھ سو ارب سے زیادہ ہے اور وزیر تعلیم کے نزدیک سرکاری سکول ٹھیکیدار کے آگے بیچنا تعلیمی مسائل کا حل ہے آپ پندرہ ہزار تنخواہ پر رو رہے یہ ایک بیوہ عورت کی داستان پڑھ لیں بیوہ عورت ٹیچر ہے معمولی تنخواہ ہے وہ بھی مہینوں سے نہی ملی اب فاقوں کی نوبت ہے
اب اس نے شکایت کی تو اس کو نکال دیں گے ٹیچر نہی ان کو غلام چاہیں
آواز اٹھائیں ورنہ نسلیں جاہل رہیں گی
جرمنی 🇩🇪 میں فری (فلی فنڈڈ) ماسٹرز یا پی ایچ کرنا چاہتے ہیں تو یہ پوسٹ آپکے لئے مکمل رہنمائی ہے۔ مکمل پراسیس سمجھنے کے لئے پوسٹ کو مکمل پڑھ لیں۔
اگر آپ کا خواب ہے کہ آپ جرمنی جائیں، ماسٹرز یا پی ایچ ڈی کریں، اور اپنی جیب سے ایک روپیہ بھی خرچ نہ کریں، تو یہ پوسٹ آپ کے لیے ہے۔
ہر سال ہزاروں اسٹوڈنٹس DAAD اسکالرشپ کے ذریعے جرمنی جاتے ہیں، لیکن زیادہ تر لوگ صرف اس لیے رہ جاتے ہیں کیونکہ انہیں صحیح معلومات، صحیح وقت، اور صحیح اسٹریٹیجی نہیں ملتی۔
آج میں آپ کو مکمل روڈمیپ دے رہا ہوں۔
اصل میں DAAD ہے کیا؟
یعنی جرمن اکیڈمک ایکسچینج سروس۔
یہ دنیا کی سب سے بڑی اسکالرشپ فنڈنگ آرگنائزیشنز میں سے ایک ہے جو انٹرنیشنل اسٹوڈنٹس کو جرمنی میں پڑھنے اور ریسرچ کے لیے سپورٹ کرتی ہے۔
اگر آپ کا پلان ہے:
یورپ میں ہائر ایجوکیشن
ریسرچ بیسڈ کیریئر
لانگ ٹرم سیٹلمنٹ
فیملی کے ساتھ بہتر فیوچر
تو یہ ایک بہت مضبوط آپشن ہے۔
کون کون اپلائی کر سکتا ہے؟
ماسٹرز کے لیے:
اگر آپ کے پاس بیچلرز ہے
پی ایچ ڈی کے لیے:
اگر آپ کے پاس ماسٹرز ہے
ای پوس EPOS پروگرام:
اگر آپ کے پاس کم از کم 2 سال ورک ایکسپیرینس ہے
یہ خاص طور پر ان لوگوں کے لیے بہت طاقتور راستہ ہے جن کے پروفائل میں گیپ یا جاب ایکسپیرینس موجود ہو۔
کیا کیا ملتا ہے؟
یہ حصہ سب سے اہم ہے:
تقریباً 1000 یورو ماہانہ (ماسٹرز)
1300 سے 1400 یورو ماہانہ (پی ایچ ڈی)
ہیلتھ انشورنس
ٹریول الاؤنس
اسٹڈی الاؤنس
جرمن لینگویج کورس
کچھ کیسز میں فیملی الاؤنس
بعض کیسز میں رینٹ سپورٹ
سادہ لفظوں میں، آپ اپنی پڑھائی پر فوکس کر سکتے ہیں بغیر مالی پریشر کے۔
سب سے پہلے کیا کرنا ہے؟
یہاں لوگ سب سے زیادہ غلطی کرتے ہیں۔
پہلا کام:
اپنا راستہ واضح کریں۔
کیا آپ:
ماسٹرز کے لیے جا رہے ہیں؟
یا
پی ایچ ڈی کے لیے؟
کیونکہ دونوں کا پروسیس مختلف ہے۔
ماسٹرز کے لیے روڈمیپ
Step 1:
اپنا پروگرام ڈھونڈیں
آفیشل ڈیٹا بیس:
https://t.co/PNm4CpzUEf
Step 2:
یونیورسٹیز شارٹ لسٹ کریں
Step 3:
آئیلٹس یا ٹوفل مکمل کریں
Step 4:
موٹیویشن لیٹر اور سی وی تیار کریں
Step 5:
وقت پر اپلائی کریں
پی ایچ ڈی کے لیے اصل گیم
پی ایچ ڈی میں اصل چیلنج اسکالرشپ نہیں۔
اصل چیلنج ہے:
سپروائزر حاصل کرنا
بغیر سپروائزر کے زیادہ تر کیسز میں اپلیکیشن آگے نہیں جاتی۔
یہاں بہت لوگ 50، 100 بلکہ 150 تک ای میلز کرتے ہیں۔
اور یہی نارمل ہے۔
ضروری ڈاکومنٹس
یہ سب تیار رکھیں:
سی وی
موٹیویشن لیٹر
ریکمینڈیشن لیٹر
ریسرچ پروپوزل
ڈگریز
ٹرانسکرپٹس
آئیلٹس / ٹوفل
اہم شرائط
یہ لازمی چیک کریں:
آپ کی آخری ڈگری 6 سال سے زیادہ پرانی نہ ہو
آپ جرمنی میں 15 ماہ سے زیادہ نہ رہے ہوں
اکیڈمک ریکارڈ اچھا ہو
ای پوس کے لیے:
2 سال ورک ایکسپیرینس لازمی
سلیکشن کے لیے میرا مشورہ
ڈی اے اے ڈی صرف اچھے نمبرز نہیں دیکھتا۔
وہ یہ بھی دیکھتے ہیں:
آپ کی اسٹوری کیا ہے؟
آپ کا مقصد کیا ہے؟
آپ مستقبل میں کیا کرنا چاہتے ہیں؟
آپ کی پروفائل کتنی مضبوط ہے؟
اسی لیے:
صرف ڈاکومنٹس جمع نہ کریں۔
اپنی پوری پروفائل کو اسٹریٹیجک طریقے سے بنائیں۔
اہم لنکس
ڈی اے اے ڈی آفیشل:
https://t.co/3FMG2ZmxX2
اسکالرشپ سرچ:
https://t.co/PNm4CpzUEf
ریسرچ ان جرمنی:
https://t.co/L1YjkaEevw
ای پوس لسٹ:
https://t.co/xlotT0aUWJ
اگر آپ جرمنی، یورپ، یا فُلی فنڈڈ اسکالرشپس کے بارے میں مزید ڈیٹیل پوسٹس چاہتے ہیں تو فالو ضرور کریں۔
ڈسکلیمر: یہ پوسٹ صرف عمومی رہنمائی اور معلوماتی مقصد کے لئے ہے۔ ہر پروگرام کی ریکوائرمنٹس اور ڈیڈ لائنز بدل سکتی ہیں، اس لیے اپلائی سے پہلے آفیشل سورس ضرور چیک کریں۔
Good luck ♥️
آج پاکپتن کا بہشتی دروازہ کھولا گیا،یہ پانچ دن عشاء اور فجر کے درمیان کھلا رہے گا۔
روزانہ اس دروازے سے ڈیڑھ لاکھ لوگ گزریں گے جن کا یہ ماننا ہے کہ جو شخص ایک بار اس دروازے سے گزرا اس کے سبھی گناہ معاف ہونگے،یہ جنتی دروازہ ہے ۔
عالم اسلام میں گناہ بخشوانے کی یہ خصوصی سہولت و رعایت پاکستانیوں کے ہاتھ اور حصے میں آئی ہے ۔
مسجد الحرام کے 243 دروازے،مسجد نبوی شریف کے 110 دروازے ،قبلہ اوّل بیت المقدس کے 11 دروازے مسلمانوں کے تینوں مقدسات کے مجموعی 364 دروازوں میں سے کسی دروازے کے حصے میں یہ “سعادت “ نہ آئی کہ آدمی صرف نیچے سے گزرے اور گناہوں سے دھل جائے۔
میں یہ سوچ رہا ہوں کہ تیرہویں صدی سے پہلے اس خطے کے لوگ گناہ بخشوانے کے لئے کیا کرتے ہونگے ؟
جنت کے اس دروازے پر بھیڑ کی وجہ سے 2021 میں 27 افراد جاں بحق ہوئے تھے جب کہ 2010 میں ایک خودکش بمبار کو بھی باب جنت سے گزر کر، چھ افراد کو ہمراہ لیکر، بزعم خود جنت میں جانے کا “شرف” حاصل ہوا تھا۔
جنت کا یہ واحد دروازہ ہے جس پر فرشتے نہیں بلکہ پنجاب پولیس تعینات ہے۔ 🙏
إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
بدلے میں کیا ملا ؟ 👈استاد نے اس چمن کی آبیاری کی
کتنے ہی چلتے سکولز نجکاری کی زد میں آئے، وجہ صرف آپ تھے
اساتذہ کی ضرورت تھی، وہ آپ نے پوری کرنی تھی
وسائل میں کمی تھی، وہ آپ نے پوری کرنا تھی
اگر کوئی کمی تھی تو پوری ہو جاتی، مگر آپ کا نشانہ تو تعلیم ہی ہے
پنجاب میں نوکریاں ختم کرنے کے اثرات۔۔۔۔💔
خدا گنجے کو ناخن نا دے ان پر بلکل ٹھیک آتا ہے
یونیورسٹیوں میں داخلے کم اور جامعات کو خرچے پورے کرنے کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔لوگوں نے تعلیمی ادارے اور ہسپتال پرائیویٹ ہوتے دیکھ کر بچوں کو تعلیم دلوانا ہی چھوڑ دی ہے۔ جس ملک میں ایم فل جب پندرہ ہزار تنخواہ لے گا تو لوگ تعلیم پر پیسہ خرچ کیوں کریں، ایم بی بی ایس کر کے بھی در بدر کی ٹھوکریں ہی کھانی ہیں تو اب ایم بی بی ایس ہی کیوں کریں۔۔
ہسپتال مریم نواز بن گئے اور سکول نواز شریف۔۔۔💔💔
ہر دہشت گرد کے پیچھے ایک کہانی ہوتی ہےمگر بعض کہانیوں کے پیچھے پورا نیٹ ورک چھپا ہوتا ہے۔بشیر زیب کی فائلز اب وہ راز بے نقاب کررہی ہیں جنہیں برسوں سے پردوں میں رکھا گیاتھا ۔👇👇
شہناز کی حقیقت: پروپیگنڈا ویڈیو کے پیچھے چھپی کہانی
دہشت گرد تنظیم بی ایل اے کے پروپیگنڈا ویڈیوز میں دکھائے جانے والے کرداروں کی حقیقت اب آہستہ آہستہ سامنے آ رہی ہے۔ ویڈیو میں نظر آنے والی شہناز، جو دو بچوں کی ماں ہے، پہلے اپنے شوہر کے ساتھ مسقط میں رہائش پذیر تھی۔
خاندانی ذرائع کے مطابق اس کی مسلسل بد اخلاقیوں اور غیر اخلاقی حرکات کی وجہ سے اس کے شوہر نے اسے طلاق دے کر گھر سے نکال دیا۔ طلاق کے بعد یہ پاکستان واپس آئی۔
اس کے دو بھائی اور ایک بوڑھی ماں گھر پر موجود ہیں۔ گھر والوں کو اس نے یہ جھوٹ بتایا کہ وہ ایران شادی کے لیے جا رہی ہے، مگر بعد میں معلوم ہوا کہ اسے بی ایل اے کے دہشت گرد کیمپوں میں پہنچایا گیا۔
ذرائع یہ بھی بتا رہے ہیں کہ اسے دہشت گرد کیمپ تک پہنچانے میں اس کا سگا ماموں صدام بوہیر ملوث ہے، جو مبینہ طور پر دلالی جیسے گھناؤنے کاموں میں ملوث رہا ہے۔
آج یہی لوگ بلوچ خواتین کے نام پر معصوم نوجوانوں کو گمراہ کرنے اور دہشت گردی کے بیانیے کو آگے بڑھانے میں لگے ہوئے ہیں۔
بی ایل اے اور اس کے سہولت کاروں کا اصل چہرہ اب عوام کے سامنے بے نقاب ہو رہا ہے۔
⚠️ بلوچ معاشرے کی عزت، روایات اور خواتین کے نام پر سیاست کرنے والے یہ کردار دراصل نوجوان نسل کو استعمال کر رہے ہیں۔
کل میں نے ایک ڈنمارک کی ایک یونیورسٹی کی ڈگری کی بات کی اور بتایا کہ یونیورسٹی کی گارنٹی کہ پہلی جاب وہ آپ کو دے گی اس پر کچھ لوگ بکواس کر رہے تھے اب یہ پڑھ لیجے یہ یونیورسٹی کی طرف سے لکھا گیا ہے کہ آپ کا ہم گارنٹی دیتے کہ آپ ڈگری مکمل کریں نوکری ہمارا ذمہ ہے ڈنمارک میں انجئنیر بیچلر کی سٹاٹنگ تنخواہ 46 ہزار کرون ہوتی ہے جو پاکستانی تقریباً بیس لاکھ بنتی ہے میں نے تو احتیاط سے دس لاکھ لکھی آپ خود چیک کر سکتے ہیں
اس پر تو میں مکمل ویڈیو بنا سکتا اور ایسی بہت سی اچھی معلومات میرے پاس ہوتی ہے بچوں کے کئیریر کے حوالے سے
اقبال نے کہا تھا
ہم کو تو ميسر نہيں مٹي کا ديا بھي
گھر پير کا بجلي کے چراغوں سے ہے روشن
اب یہ ویڈیو زیادہ بامعنی ہو گئی ہے ایک طرف غریب کے بچے ہیں جو ٹیکس دیتے مگر سکول میں سادہ پنکھا بھی میسر نہی دوسری طرف ان بچوں کے ٹیکس کے پیسوں پر عیاشی کرنے والے افسر شاہی کے محل نما دفاتر جہاں اتنے اے سی لگے کہ گرمیوں میں سردی لگ جائے
اس ویڈیو کو اتنا وائرل کریں کہ پاکستان کا ہر شہری یہ طبقاتی تقسیم اپنی آنکھ سے دیکھ لے اور ان حکمرانوں کو کچھ شرم آئے
انڈین پنجاب کا وزیر اعلیٰ بتا رہا کہ چھ سو یونٹ تک بجلی مفت ہے بے شک اے سی چلا لیں آنہوں نے ایک ہزار انڈین کروڑ کا بجلی بنانے کا کارخانہ خرید لیا مفت بجلی دے رہے ہیں
میرا خیال ایک اے سی ہر گھر کی ضرورت ہے جس قدر گرمئ ہے کاش پاکستان میں کوئی یہ کر دے
اس حکومت نے عوام کے حالات کس نہج تک پہنچا دیئے یہاں سے اندازہ لگائیں ۔۔۔ شہری مطابق پٹرول اتنا مہنگا کہ ہم بائیکیا پر روزی کے قابل نہیں رہے ۔۔ بیٹی بیمار ہے علاج نہیں کر پا رہے۔ ۔ اللہ رحم کرے
عید الاضحی کی آمد آمد ہے۔ قربانی کا جانور خریدنے جائیں تو اب بکرے کا درست وزن جاننے کے لیے بیوپاری کی بات ماننا لازم نہیں
درست وزن معلوم کرنے کا دلچسپ طریقہ
گلگت بلتستان تشریف لانے والے سیاح حضرات متوجہ ہو۔،♥️
ان سے ملیے۔۔۔۔
یہ محمد خان صاحب ہیں ۔۔
سکردو میں پہلی بار آن کال یا آن لائن پنکچر سروس انہوں نے متعارف کرایا ہے ۔
اگر کہیں آپ کی موٹر سائیکل یا گاڑی پنکچر ہوجائے اور وہاں نزدیک پنکچر سروس نہ ہو تو بس ایک کال کریں اور یہ حاضر ۔۔۔۔۔۔
اگر فاصلہ ان کی لوکیشن سے ایک کلومیٹر کے اندر ہے تو کوئی اضافی چارجز نہیں جبکہ ایک کلومیٹر سے باہر فی کلومیٹر تیس روپے چارج ہوں گے ۔۔۔
آن کال پنکچر سروس کے لیے ان کا رابطہ نمبر تصویر میں دیکھ سکتے ہیں اس کے علاؤہ درج ذیل نمبر بھی ان کا ہے
03469555492