دِن میں آتا ھے کبھی، رَات میں آ جاتا ھے،
کیوں ترا ذِکر، مِری ہر بات میں آ جاتا ھے۔
میں کبھی بِے رُخی بَرتُوں، تو بِے وَفا ٹھِہروں،
تِرا یہ وَصف بھی، عــادَات میں آ جاتا ھے۔
اَزقلم
#Hz23O
افغانستان کے صوبہ بدخشاں کے گلوکار میر مفتون کی آواز میں فارسی اور دری زبان کا یہ گیت اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ موسیقی کی واقعی کوئی زبان نہیں ہوتی
اکثریت کو زبان سے شناسائی نہیں ، لیکن گان�� نے اپنی طرف سب کو کھینچا !!!
گانے کے چند بولوں کا اردو ترجمہ !!
کوئی بے چارہ اور تنہا ہے کوئی صحرا میں خشک ہونٹوں کے ساتھ بھٹک رہا اہے
واقعی عجب دنیا ہے یہ دنیا
کوئی بے درد اور بے پرواہ ہے "إكيا عجب دنیا ہے، یہ دنیا
کوئی مچھلی کی طرح تڑپتا کوئی ہے مفلس کوئی دولت میں مست
کوئی ہے بے پا کوئی بے دست عجب دنیا ہے یہ دنیا
ور کوئی وطن سے دور ربت جیسی گل چمن ها سے بچھڑا۔
کوئی آدمیت سے ہے دور غرور میں ہے، دولت سے ہے چور۔ اسے خدا سے بھی زور کا گمان عجب دنیا ہے یہ جہان۔
کوئی قید خانے میں دلگیر اپنے اعمال یہ ہے دلگیر۔
دل میں ارمانوں کی بھرمار عجب دنیا ہے یہ کردار
کوئی بچوں سے نفرت کرتا کوئی ناخن پر بھی مرتا کسی کو بیمار بچہ یاد عجب دنیا ہے بے داد
جیسی جان بدن سے جدا عجب دنیا ہے یہ صدا۔
کوئی بے دین شیطان کا ساتھی انسانوں کا دشمن ذاتی۔ ہمیشہ تکلیف کا خواہاں عجب دنیا ہے یہ جہاں۔
کوئی عشق میں پاگل کہانی ہے وہ لوگوں کی کوئی بے گھر بے منزل عجب دنیا ہے بے دخل
کوئی بیوی کا ہے امیدوار کوئی وطن کے پانی کا طلبگار کوئی کفن کا بے فکر مند!! عجب دنیا ہے یہ دنیا
گُلوں کی خوشبو کو خَار لکھنا،
خِــزاں کــــو موسم، بہار لکھنا۔
ہمیشہ سچ کو ، چھپائے رکھنا،
نقـد کو اب سـے، اُدھــار لکھنا۔
کہ آیا موسم، یہ دھندلکوں کا،
نہ کوئی سچ، اب کے بار لکھنا۔
کہ تیرگی ھــے، اُجــالا اب سے،
کہ وحشتوں کــــو، قرار لکھنا۔
اَزقلم
#Hz23O
@abc_11223 یہ لوگ کیسے مگر، دُشمنی نبھاتے ہیں،
ھمیں تو رَاس نہ ��ئیـں، مُحبتیـں کرنی۔
کبھی فرا��، نئے موسموں میں رُو دِینــا،
کبھی تَلاش، پُرانـی رَفـــاقــتـیـں کرنی۔
#Hz23O
بچھڑ گئے تو یہ دل عمر بھر، لگے گا نہیں،
لگـے گا، لگنـے لگا ھـے، مگـر، لگے گا نہیں۔
نہیں لگـے گا، اُسـے دیکـھ کـر، مگـر، خوش ھے،
میں خوش نہیں ہوں مگر دیکھ کر، لگے گا نہیں۔
#Hz23O