اُس رات میرے چودہ سالہ بیٹے نے صرف اتنا پوچھا تھا، “ابو… آپ پہلے والے ابو کیوں نہیں رہے؟
اُس رات میں بہت دیر سے گھر آیا تھا۔
سردیوں کی رات تھی۔ گلی تقریباً سنسان ہو چکی تھی۔ دور کہیں کتوں کے بھونکنے کی آواز آ رہی تھی۔ میں نے آہستہ سے دروازہ کھولا تاکہ بچے نہ جاگ جائیں۔
مگر ڈرائنگ روم کی ہلکی زرد روشنی ابھی جل رہی تھی۔
اور صوفے پر میرا چودہ سالہ بیٹا حمزہ بیٹھا تھا۔
گھٹنوں پر کمبل، آنکھوں میں نیند، اور چہرے پر میرا انتظار۔
مجھے دیکھتے ہی فوراً کھڑا ہو گیا۔
“ابو… کھانا گرم کر دوں؟”
پتہ نہیں کیوں…
یہ ایک عام سا جملہ اُس دن سیدھا دل میں جا کر لگا تھا۔
میں نے ہنسنے کی کوشش کی۔
“نہیں یار… کھا لیا تھا۔”
وہ چند لمحے خاموشی سے مجھے دیکھتا رہا۔
پھر آہستہ سے بولا،
“جھوٹ بول رہے ہیں نا؟”
میں رک گیا۔
کیونکہ بچے جب بڑے ہونے لگتے ہیں نا… تو وہ باتیں نہیں، انسان پڑھنے لگتے ہیں۔
سچ یہ تھا کہ صبح سے صرف دو کپ چائے پی تھی۔ دفتر میں اتنا دباؤ تھا کہ کھانے کا ہوش ہی نہیں رہا۔ اوپر سے مالک نے سب کے سامنے ذلیل کیا الگ۔
“اگر کام نہیں ہوتا تو گھر بیٹھ جاؤ… باہر لائن لگی ہوئی ہے نوکری کرنے والوں کی۔”
میں پوری واپسی راستے یہی سوچتا آیا تھا کہ اگر واقعی نوکری چلی گئی تو؟
کرایہ؟
بچوں کی فیس؟
امی کی دوائیاں؟
گھر کا خرچ؟
مرد عجیب مخلوق ہوتا ہے۔
سب کے لیے چھت بناتا رہتا ہے…
مگر اپنے اوپر گرتی ہوئی چھت کا ذکر نہیں کرتا۔
حمزہ خاموشی سے کچن میں گیا اور دال گرم کرنے لگا۔
میں اُسے دیکھتا رہا۔
اُس کی شکل میں مجھے اپنا بچپن نظر آیا۔
وہی وقت سے پہلے سمجھدار ہو جانے والی خاموشی۔
وہ پلیٹ لے کر آیا اور میرے سامنے رکھ دی۔
“کھا لیں ابو…”
میں نے پہلا نوالہ توڑا ہی تھا کہ اُس نے اچانک پوچھ لیا،
“آپ خوش ہیں؟”
میرا ہاتھ وہیں رک گیا۔
بعض سوال انسان کے اندر ایسے گرتے ہیں جیسے بند کمرے میں اچانک شیشہ ٹوٹ جائے۔
میں نے بات ہلکی کرنے کی کوشش کی۔
“پاگل ہے؟ کیوں نہیں ہوں گا؟”
وہ آہستہ سے بولا،
“کیونکہ آپ پہلے والے ابو نہیں رہے…”
کمرے میں عجیب خاموشی پھیل گئی۔
وہ میری طرف دیکھے جا رہا تھا۔
“پہلے آپ گھر آتے تھے تو امی کے ساتھ بیٹھتے تھے… ہمیں باہر لے جاتے تھے… ہنستے تھے… اب آپ بس چپ رہتے ہیں۔”
میں خاموش رہا۔
کیونکہ وہ غلط نہیں تھا۔
میں واقعی آہستہ آہستہ ختم ہو رہا تھا۔
اور عجیب بات یہ تھی…
کسی نے محسوس بھی نہیں کیا۔
دفتر والوں کو صرف کام چاہیے تھا۔
رشتے داروں کو صرف مدد۔
گھر والوں کو صرف مضبوط باپ۔
اور میں؟
میں کب کا کہیں پیچھے رہ گیا تھا۔
حمزہ میرے پاس آ کر بیٹھ گیا۔
پھر اُس نے بہت آہستہ سے پوچھا،
“ابو… مرد تھک کیوں جاتے ہیں؟”
میں کافی دیر جواب نہیں دے سکا۔
پھر نہ جانے کیوں دل بھر آیا۔
میں نے پہلی بار اپنے بیٹے سے سچ بولا۔
“کیونکہ بیٹا… مردوں کو رونے نہیں دیا جاتا۔”
وہ خاموشی سے سنتا رہا۔
میں بولتا گیا۔
“جب مرد پریشان ہو تو لوگ کہتے ہیں مضبوط بنو… جب ٹوٹے تو کہتے ہیں مرد بنو… جب خاموش ہو جائے تو کہتے ہیں بدل گیا ہے…”
میری آواز بھاری ہو گئی۔
“اور ایک دن… وہ واقعی بدل جاتا ہے۔”
حمزہ کی آنکھیں بھر آئیں۔
پھر اُس نے آہستہ سے میرا ہاتھ پکڑا اور بولا،
“آپ میرے سامنے رو سکتے ہیں ابو…”
بس…
یہ جملہ سن کر میں ٹوٹ گیا۔
پتہ نہیں کتنے سال بعد رویا تھا۔
ایسے جیسے اندر جمع ساری تھکن آنکھوں سے نکل رہی ہو۔
اور میرا بیٹا…
وہ خاموشی سے میرے پاس بیٹھا رہا۔
نہ نصیحت۔
نہ سوال۔
بس ساتھ۔
اُس رات مجھے پہلی بار سمجھ آیا…
مرد کو ہمیشہ حل نہیں چاہیے ہوتا۔
کبھی کبھی صرف ایک انسان چاہیے ہوتا ہے جو اُس سے پوچھ لے:
“تم واقعی ٹھیک ہو؟”
آج حمزہ یونیورسٹی میں ہے۔
کبھی کبھی رات کو میرے کمرے میں آتا ہے، چائے بناتا ہے اور بغیر کسی وجہ کے میرے پاس بیٹھ جاتا ہے۔
اور جاتے جاتے ہمیشہ ایک بات کہتا ہے:
“ابو… خود کا بھی خیال رکھا کریں۔”
پھر میں اُسے جاتا ہوا دیکھتا ہوں اور دل میں دعا کرتا ہوں:
یا اللہ…
میرے بیٹے کو اچھا مرد ضرور بنانا…
مگر ایسا مرد کبھی نہ بنانا جو ساری زندگی سب کا بوجھ اٹھاتے اٹھاتے اندر سے خاموش ہو جائے۔
قرآن پاک نے ہمیں خبر دی کہ بانجھ بڑھیا حاملہ ہو گئی، کنواری عورت نے بچہ جنا، چھری نے ذبح نہیں کیا، آگ نے جلایا نہیں، مچھلی نے نگل لیا مگر ہضم نہیں کیا، پتھر سے اونٹنی نکلی، چاند دو ٹکڑے ہو گیا، شیر خوار بچے نے بات کی، سمندر پھٹ کر دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ اُس ناممکنات کے رب سے تم کیسے یہ گمان کر سکتے ہو کہ وہ تمہاری ممکن حاجات پوری نہیں کرے گا؟
خاتون صحافی سعدیہ خان کی فیس بک وال سے
بےقراری
اتنی دیر سےکھڑا ہوں اس دروازےکے پاس
جوکھلتا ہی نہیں
پھر بھی بند نہیں ہوتا
ہوا میں تیرا نام گھل گیا ہےہر سانس اسےچاٹتی ہے
پھر بھی پیاس نہیں بجھتی
چاندنی بھی آج تھوڑی بےچین ہے
پتےسرگوشیاں کرتےہیں
کوئی سنتا نہیں
دل کہتا ہےبیٹھ جا
اور پاؤں کہتےہیں چلتا رہ
سالار حیدر
#Mehfil
@Naveedsatti555 کیسا بھئی کسی سستی کتی کا بچہ ہے نا ویسے تو
لوڑے، پہلے خود کہا کہ لاہور آیا ہوں، ایڈریس سینڈ کرو
اس نے کر دیا
پھر جمعرات کی بات کر کے بدھ کو چلا گیا اس بات پر بھی جوتے کھائے تو نے
اب کہہ رہا واٹس ایپ کرو یا آنلائن پوسٹ کر دو
پتا نہیں تم جیسے گانڈو رات کو سو کیسے جاتے ہیں
I’ve said this before: if you need guidance for studying in Germany, feel free to reach out, I’m your free consultant. Public university education is free, and I can help you find the right course. Don’t waste money on consultants who lack real knowledge of the system.
خدا کے بندے تو ہیں ہزاروں بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے ۔۔۔
میں اس کا بندہ بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہوگا۔۔۔۔
Makes my eyes teary....
#BabarAzam
Just another day of being mass-attacked & not caring for it. In Machiavelli’s words, it is far safer to be feared(or abhorred), than loved. Will never appease the herd for validation. Cry on !!
سورج سے دن میں بندہ 10 سے 20 ہزار یونٹ وٹامن ڈی حاصل کرتاہے۔ جبکہ انسانی ضررت 600 سے 800 یونٹ ہوتی ہے۔ اضافی یونٹس پر کیپیسٹی چارجز کی مد میں ٹیکس لگنا چاہیے۔
یہ لڑکا چوک چوراھوں پر مسلم لیگ نواز کے لئے یوتھیوں سے لڑتا رھا ،ھم میں سے سب نے اس کی ویڈیو کبھی نا کبھی لگائی ھے لیکن پنجاب میں پیرا فورس،ٹریفک وارڈنز کی بدمعاشی،تاجران اور کسانوں کی دشمن پالیسیز کے خلاف بول پڑا۔یوتھئے نا بنیں اس حکومت کے غلط اقدامات پر سچ بولیں سچ لکھیں۔
Pyaray Non-PTA Jaun Elia (panel change), aik to ap parhay likhay nhi hain upar se koshish bhi nhi krty. When I said Pakistan saved lives of Iranian leadership, I was quoting an intelligence report published in the entire international media landscape which you didn’t read because you were too busy with Kaptan Chappal. Posting links below to educate you:
Proof 1: “Pakistan’s Call Saved Iranian Leaders” https://t.co/PkPXDwIE83
Proof2: “Israel took Iranian leaders off its 'hit list' after Pakistan's intervention”
https://t.co/jpZFxnBJXV
Proof 3: Israel took Iran's Araqchi, Qalibaf off hit list after Pakistan request to US https://t.co/FLGCavsFYY