🚨راولاکوٹ میں عوام کرفیو توڑ کر ایک مرتبہ پھر سے سڑکوں پر نکلنا شروع ہوگئی ہے
یاد رہے راولاکوٹ میں صبح سے کرفیو نافذ کیا ہوا ہے جہاں دو افراد اکٹھے نظر آئیں ان کو گولی مارنے کا آرڈر ہے
ن لیگ تو اب فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی پارٹی ہے نواز شریف تو اس کے برائے نام سربراہ رہ گئے ہیں۔ تمام تر کوششوں اور اپنا سب سے طاقتور مہرہ (نواز شریف) گلگت بھیجنے کے باوجود ملٹری اسٹیبلشمنٹ عوام کو قائل نہیں کر سکی۔ ن لیگ تو دوسری پوزیشن پر بھی نہیں آئی، عمران ریاض خان
یہ وہی پرانا اور شرمناک کھیل ہے جو ایک بار پھر دہرایا جا رہا ہے۔** فروری میں عوام نے انہیں مسترد کیا، آج پھر اپنی شکست چھپانے کے لیے دھاندلی، چوری اور طاقت کے سہارے نتائج بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
خالد خورشید کی والدہ کے حلقے سے 167 بیلٹ پیپرز غیر قانونی طور پر لائے گئے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ریٹرننگ آفیسر نے خود معاملہ پکڑا، لیکن اس کے باوجود انہی بیلٹ پیپرز پر مہریں لگا کر انہیں بیلٹ باکسز میں ڈالا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہی کھیل دیگر حلقوں میں بھی جاری ہے۔
اگر فیصلے ووٹ سے نہیں بلکہ چوری شدہ بیلٹوں سے کرنے ہیں، تو پھر الیکشن کا ڈھونگ رچانے کی ضرورت کیا ہے؟ یہ صرف دھاندلی نہیں، عوام کے مینڈیٹ پر کھلا ڈاکا ہے۔ **ووٹ چرائے جا سکتے ہیں، عوام کا فیصلہ نہیں۔
#قید_میں_خان_ووٹ_میں_خان
#جی_بی_کا_فیصلہ_عمران_خان
راولا کوٹ اسپتال کی صورتحال
تتہ پانی سے تعلق رکھنے والے سب انسپکٹر سردار عنایت جنہال کے برطانیہ میں عزیز ، چند لواحقین اور عینی شاہدین کے مطابق سب انسپکٹر نے مظاہرین پر گولی چلانے سے انکار کیا اور انکی شہادت مظاہرین کی فائرنگ سے نہیں ہوئی۔ صورتحال بگڑ چکی ہے جسے چھپایا جارہا ہے۔
گلگت بلتستان میں بڑی تعداد میں خواتین کا ووٹ دینے کے لیے باہر نکلنا معنی خیز ہے۔ پی ٹی آئی کو یہاں سے پہلی فیور نکل مل گئی ہے۔ لوگ اب سائفر کو نہیں مانتے، عمران خان لوگوں کے دل میں گھُس کر بیٹھ گیا ہے، اسد اللہ خان
گلگت بلتستان ووٹرز کی لمبی قطاریں، رپورٹر کا سوال ووٹ کس کا ، جواب " پی ٹی آئی زندہ باد"
آج ایک بار پھر عوام اس ظالم رجیم کے خلاف ووٹ دے کر اپنے غم و غصے کا اظہار کررہی ہے دوسری طرف دھاندلی کے عظیم منصوبے تیار ہیں عوام کو ووٹ دینے کے بعد اپنے ووٹ کی حفاظت خود کرنی ہوگی۔
گلگت بلتسان میں ٹرن آؤٹ بہت اچھا ہے لیکن انہوں نے اس کے لیے بھرپور منصوبہ بندی کی ہے کئی پولنگ اسٹیشنز کے دروازے ہی نہیں کھولے جارہے۔ جب ٹرن آؤٹ ذیادہ ہو جاتا ہے تو پولنگ اسٹیشن پر دھاندلی کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے، شہباز گل