The Zionist devils are the enemies of peace and humanity. The Israeli attack on Lebanon during the peace process is blatant aggression.
They will destroyed in the madness of creating a Greater Israel.
The American rulers have lost their dignity, prestige and global influence by patronizing the rogue state of Israel.
The whole world is spitting on the Zionists .
The only abode of those rejected by Allah Almighty is hell.
The blood of the innocent people of Gaza , Iran and Lebanon cannot be shed in vain.
انٹیلی جینس بیورو سے متعلق ہاوسنگ سوسائٹی گلبرگ گرین کو زمین فراہم کرنے والے بہادر خان کے گھر پر نامعلوم افراد کی آمد انہیں نامعلوم جگہ منتقل کردیا گیا ۔ چند ماہ پہلے بہادر خان نے آئی بی انتظامیہ پر سنگین بدعنوانی کے الزامات کی ویڈیو بھی جاری کی تھی۔
سارامیڈیاجانتاہےکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چاررکنی لارجر بینچ نےوفاقی کابینہ پرتوہین عدالت کی کاروائی وجسٹس سرداراعجازسے عافیہ صدیقی کیس کومنتقل کرنےکے چیف جسٹس کےانتظامی حکم کی قانونی حیثیت پرعدالت میں سرے سے کوئی سماعت نہیں کی،یہ کیسافیصلہ ہےجوسماعت کےبغیرہی عدالتی فیصلہ بن گیا؟
یہ جان کر خوشی ہوئی کہ میرے استاد، معروف قانون دان اور جج جناب شوکت عزیز صدیقی نے بطور ایڈووکیٹ سپریم کورٹ دوبارہ وکالت کا آغاز کر دیا ہے۔
ان کے لیے نیک تمنائیں اور نیا سفر مبارک۔ قانون اور انصاف کے لیے ان کی خدمات مزید ثمر آور ہوں۔
جسٹس (ر)شوکت عزیز صدیقی کے اعزاز میں تقریب کیوں منعقد کی؟
سپریم کورٹ بار کے اُن عہدیداران کی جانب سے،جو اس وقت حکومتی حلقوں کے قریب سمجھے جاتے ہیں، نائب صدر ملک خوشحال خان سے بازپرس اورعہدہ ورکنیت معطل کرنے کی دھمکی۔شوکت صدیقی صاحب کےمستعفی ہونے کےفیصلے کاپس منظر آشکار ہو رہا ہو
ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان کے چیئرمین جمشید حسین کی جانب سے سینئر وکیل عمران شفیق ایڈوکیٹ کو انسانی حقوق کے فروغ، قانون کی بالادستی اور مظلوم طبقات کے حقوق کے تحفظ کے لیے گراں قدر خدمات کے اعتراف میں کونسل کا سب سے بڑا ایوارڈ دیا گیا۔
چیف جسٹس لاہور اور احسن بھون کی منطق کمال ہے!
انتظامیہ جوڈیشل کمیشن پر قبضہ کرے—قبول
وزیرِاعظم اپنی پسند کی آئینی عدالت بنائے—قبول
ستائیسویں ترمیم سے عدلیہ مسدود ہو—قبول
لیکن اگر ریاست قبضہ مافیا سے غریب کی زمین واپس لے تو—یہ غلط!
یہ انصاف نہیں، طاقتوروں اور مافیاز کی حفاظت ہے
جسٹس جہانگیری کی برطرفی نے یہ حقیقت واضح کر دی ہے کہ پاکستان میں اب عدالت نہیں رہی، طاقت ہی سب فیصلے کرتی ہے۔ بنیادی حقوق محض کاغذی اعلانات بن چکے ہیں، اور ماسوائے آئینی استثناء کے حامل شخصیات کے کسی شہری کی جان، آزادی اور وقار کے تحفظ کی اب کوئی مؤثر آئینی ضمانت باقی نہیں رہی۔
جسٹس اعظم خان نے ایڈوکیٹ ایمان مزاری اور ایڈوکیٹ ھادی علی چٹھہ کیطرف سے جج مجوکہ کی عدالت میں شھباز سپیڈ سے ہونے والے ٹرائل کیخلاف اپیل کی سماعت کی۔
ایڈوکیٹ ھادی علی چٹھہ، ایڈوکیٹ ریاست علی آزاد، ایڈوکیٹ حلیم عباسی، ایڈوکیٹ اشرف گجر، بیرسٹر سعد رسول، ایڈوکیٹ زینب جنجوعہ اور ایڈوکیٹ عمران شفیق کے علاوہ بار کے دیگر ارکین بھی بڑی تعداد میں کمرہ عدالت میں موجود تھے۔
ایڈوکیٹ ریاست علی آزاد نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے ملزمان کی عدم موجودگی میں سرکاری گواہان کے بیان ریکارڈ کئیے جو غیر قانونی ہے۔
جسٹس اعظم خان نے کچھ دیر میں فیصلہ سنانے کا اعلان کیا
شاہ زیب خانزادہ ایک مثالی صحافی ہیں، جن کے طویل کیریئر میں نہ کوئی جانبداری کی سرسری جھلک نظر آئی، نہ کسی حقیقت پر کوئی سمجھوتا ہوا دکھائی دیا؛ تحقیق، منطق واستدلال کے ذریعے سچ عوام کے سامنے لاتے ہیں، اپنی فصاحت، حاضر دماغی، باوقار طرزِ سوال سے ایک بلند پروفیشنل معیار پر فائز ہیں
شاہزیب خانزادہ کے بارے میں تو میں یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ ان سے اختلاف تو کیا جا سکتا ہے مگر۔۔۔
شاہزیب خانزادہ کے پروگرام کا مستقل ناظر ہوں اور ان سے اختلاف کرنا مشکل ہوتا ہے۔ شاہزیب اپنے ادارے کے شاید وہ واحد صحافی ہیں جنہوں نے جیو اور جنگ گروپ کے مکمل طور پر فوج کا “اے آر وائی” بن جانے کے فیصلے کے بعد بھی ممکن حد تک غیر جانبداری کو برقرار رکھا۔
مسلسل ن لیگ پر تنقید ہی نہیں کی، ان کی بڑی بڑی وارداتوں کا جواب لیتے ہوئے شریف فیملی کو لاجواب کر دیا۔ ایسے میں جب باقی اینکرز شریف فیملی کی غلط کاریوں کے بارے میں صرف تبصرے اور سخت الفاظ استعمال کرتے تھے، شاہزیب نے جنوبی ایشیا کی سیاسی تاریخ کے سب سے بڑے فنانشیل اسکینڈل پر سلمان شہباز کو ساری دنیا کے سامنے ایکسپوز کر دیا۔ اس کے علاوہ بھی ن لیگی قیادت کی کرپشن کو ایکسپوز کرنے کی بیسیوں مثالیں ہیں۔
فوج کی سیاست، کاروبار اور گورننس میں مداخلت پر بھی وہ ایک وقت تک بلاواسطہ تنقیدی فقرے بولتے رہے۔ باقی صحافی اور اینکرز اپنے مین اسٹریم میڈیا پروگرامز میں یہ بھی نہ کر سکے۔
پی ٹی آئی کے فوج سے رومانوی تعلقات رکھنے کے بارے میں دہرے معیار کو عیاں کرنا یقیناً ضروری ہی نہیں، ہر صحافی کی صحافتی ذمہ داری بھی ہے۔ یہی شائزیب نے بھی کیا۔ مسلسل پروگرام دیکھتے رہنے کی بنیاد پر میں کہہ سکتا ہوں کہ شاہزیب نے پی ٹی آئی کے ہر معاملے پر مؤقف کو بھی باقی اینکرز سے زیادہ وقت دیا۔پی ٹی آئی کی یہ خواہش ہی غلط ہے کہ ہر صحافی گلے میں ڈھول اور پاؤں میں گھنگھرو ڈال کر پی ٹی آئی کی بولی بولنا شروع کر دے۔
ایک آدھ غلط فیصلہ ہر انسان سے ہو جاتا ہے مگر شاہزیب نے اپنے باقی کولیکس کی طرح کبھی بھی دن رات ثنا خوانی اور فوجی جرنیلوں کی پرستش نہیں کی۔ سخت زبان کا استعمال اور یا آرمی چیف کی ایکسٹنشن پر مختلف نقطہ نظر رکھنے والوں پر طنز کے تیر نہیں چلائے۔
شاہزیب خانزادہ اور ان کے گھر کی خواتین کے ساتھ پیش آنے والے واقعے نے رنجیدہ کر دیا۔ جو بھی لوگ دوسروں کی فیمیلیز اور خواتین کی ہراسانی میں ملوث ہیں انہیں نشان عبرت بنا دیا جانا چاہیے۔
شرم آنی چاہیے پی ٹی آئی والوں کو لوگوں کی فیمیلیز کو ہراساں کرتے ہوئے۔ اگر طاقتور فوجی جرنیلوں کو جواب نہیں دے سکتے تو عام لوگوں اور صحافیوں پر حملہ کرنے کا جواز ہی نہیں بنتا۔
شاہزیب کو مضبوط رہنا چاہیے اور اپنا زبردست صحافتی کام جاری رکھنا چاہیے۔
وفاقی آئینی عدالت میں بینچ سازی! پھر وہی لڑائی!!
آئینی عدالت تو اس لیے بنی کہ ہم خیال بینچ سازی کا خاتمہ ہو اور صوبوں کی نمائندگی ہو۔
مگر آئینی عدالت میں بینچوں کا تصور خود اسی اصول کے خلاف ہے جس پر عدالت بنی تھی۔
واضح ہے کہ ترمیم سازوں کو صرف مرضی کے جج درکار تھے۔
چیف جسٹس امین الدین خان نے وفاقی آئینی عدالت کے لیے تین بینچ تشکیل دے دیے!
بینچ 1 چیف جسٹس امین الدین خان جسٹس علی باقی نجفی،جسٹس ارشد حسین شامل!
بینچ 2 جسٹس حسن رضوی جسٹس کے کے آغا شامل ہیں جبکہ بینچ 3 جسٹس عامر فاروق جسٹس روزی خان بریچ شامل ہوں گے! آئینی عدالت آج سے مقدمات کی سماعت کا آغاز کرے گی
اگر آئین کی حفاظت عدالت کے ایوانوں میں ممکن نہیں رہی،
تو میدان میں اترنا ہی عدلیہ کا وقار بچانے کا واحد راستہ ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے پہل کی،
اب سپریم کورٹ و ہائی کورٹس کے ہر جج پر لازم ہے کہ
اپنے حلف کی پاسداری میں مستعفی ہو کر آئین کا ساتھ دے۔
ارشد شریف کی مرحومہ والدہ نے انصاف کے حصول کی خاطر یہ وقت بھی دیکھا جب کوئی وکیل ان کے کیس کی پیروی کو تیار نہیں تھا سب ڈر گئے تھے پھر جسٹس ریٹائرڈ شوکت عزیز صدیقی نے یہ حامی بھری اور پھر وہ سپریم کورٹ کے سامنے وکالت کرتے رہے ان کے چیئرمین این آئی آر سی بننے کے بعد ایڈوکیٹ عمران شفیق کیس کی پیروی کرتے رہے