”سہیل آفریدی نے لانگ مارچ کو ملتوی کیا، حکومت کو مذاکرات کی دعوت دی، جس سے حکومت کا اسلام آباد پر چڑھائی کا بیانیہ زمین بوس ہو گیا۔ حکومت کا پورا منصوبہ تھا کہ تحریک انصاف کو فورسز سے مدمقابل کروایا جائے اور پھر ایک جھوٹا بیانیہ گھڑ کے اگلے 2 ، 3 سال مزے کیے جائیں۔ یہی وجہ کہ لانگ مارچ ملتوی ہونے پر حکومتی وزراء بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر بچگانہ بیانات دے رہے ہیں۔ حکومت نے عدالت کے احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خود کئی روز سے اسلام آباد کی سڑکوں کو بند کر رکھا ہے۔“ پارس جہانزیب
@Parasjahanzaib1
#ہمارا_مارچ_ہماری_مرضی
پچھلے ایک سال میں شہباز شریف نے 14 غیر ملکی دورے کئے اور 33 دن ملک سے باہر گزارے! ان کی اس شبانہ روز محنت کے نتیجے میں ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری پچھلے سال کی نسبت 32% اور کم ہو گئی۔ میاں صاحب آپ اللہ کا واسطہ گھر ہی رہا کریں
”ہر پاکستانی کو حمود الرحمان کمیشن رپورٹ کا مطالعہ کرنا اور یہ جاننا چاہئیے کہ اصل غدار تھا کون؛ جنرل یحیٰ خان یا شیخ مجیب الرحمٰن“ - بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان
#غدار_کون_تھا
عمران خان کے اہل خانہ کا بیان
۲۷ ستمبر ۲۰۲۶
* نورین نیازی اور ان کی عمران خان سے ملاقات سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
* اس ملاقات سے منسوب بیان میں کوئی سچائی نہیں ہے۔ گردش کرنے والی تمام باتیں من گھڑت ہیں۔
* نورین نیازی نے سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق آخری بار ۲۵ اگست ۲۰۲۶ کو اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کی تھی۔ انہوں نے اس ملاقات کی کوئی تفصیلا ت کبھی کسی کے ساتھ شیئر نہیں کیں۔
* یہ بات بھی انتہائی تشویشناک ہے کہ اس طرح کی من گھڑت کہانی ایک ایسے وقت میں پھیلائی جا رہی ہے جب وہ خود غیر قانونی طور پر حراست میں ہیں اور ان کے پاس ان دعوؤں کا جواب دینے یا وضاحت کرنے کا کوئی موقع نہیں ہے۔
ہم ان جھوٹی خبروں کی سخت تر دید کرتے ہیں!
منجانب
عمران خان کا خاندان
🚨🚨🚨 It has now been confirmed by multiple sources that @ImranKhanPTI’s sisters have been on hunger strike in prison for the past 48 hours, protesting their alleged illegal detention and the reported maltreatment of women prisoners. The family has also reportedly been denied access to them.
اے آر وائی کی خبر میں سب سے بڑا جھول یہ ہے کہ عمران خان کے سامنے سہیل آفریدی اتنا طاقتور ہو گیا ہے کہ وہ عہدہ نہیں چھوڑے گا اور عمران خان صاحب کو علی امین گنڈا پور صاحب کی ضرورت پڑ گئی ہے سہیل آفریدی کو ہٹانے کے لیے ؟ 😂
عمران خان کا ایک پیغام آنے کی دیر ہے ، سہیل آفریدی ایک منٹ میں حکم کی تعمیل کریں گے اور بعد میں پیٹیشن بھی نہیں کریں گے کہ عمران خان سزا یافتہ مجرم اور نااہل ہیں، آرٹیکل 62٫63 پر پورا نہیں اترتے
بہت سوچا تجھے اگنور کیا جائے بُوٹ پالشی مگر اب نہیں اب تیرا جیتے جی پوسٹ مارٹم ہوگا شرارتی کے ہاتھوں جب تک ڈی جی آئی ایس پی آر کو میری شکایت نہیں لگاتا تگڑا ہو جا بے غیرتا 😜✌️
عمران خان سے غداری کرنے والوں کی لسٹ میں ڈاکٹر زرقہ کا نام سب سے اوپر ہے
اس عورت سے زیادہ موقع پرست، لالچی، گھٹیا شخص PTI میں کوئی نہیں، یہ وہ عورت ہے جس سے فیاض الحسن چوہان بھی بہتر ہے
ترمیم کے موقع پر اس عورت نے بیٹے کے اغواء کا ڈرامہ رچایا حالیہ دنوں میں جرنیلوں کے اشارے پر پارٹی پالیسی کے خلاف جا کر کشمیر ایکشن کمیٹی کے خلاف پریس کانفرس کر دی اور انہیں ملک دشمن اور غدار تک کہہ ڈالا، اب یہ شہباز شریف کیساتھ گھوم رہی ہے اس غدار کو پارٹی سے جلد از جلد فارغ کیا جانا چاہیے
حوالدار MF دھمکی لگاتا ہے مکھو ٹھپ دیا جاۓ گا، ایسا انتظام کیا جاۓ گا کہ نسلیں یاد رکھیں گی، فوج عمران خان سے شدید نفرت کرتی ہے، جب حوالدار MF سے ان دھمکیوں پر سوال ہوتا ہے تو کہتا ہے میں تو بس خبر دے رہا ہوں
حوالدار MF صاحب آپ نے کبھی عاصم منیر کی بیٹیوں کے ڈپلومیٹک پاسپورٹ کی خبر دی، آپ نے کبھی یہ خبر دی کہ عوام اس فوج سے شدید نفرت کرتی ہے آپ نے کبھی یہ ٹویٹ کی کہ DGMI کے بھائی کو رشوت کے الزام میں اٹھا لیا گیا
اگر آپ کے خیال میں یہ سب خبریں دینا نا مناسب ہے تو جو بکواس آپ PTI اور عمران خان کے بارے میں خبر کے نام پر کرتے ہیں وہ بھی انتہائی غیر مناسب ہے
اگر صحافی یک طرفہ مارکیٹنگ کرنا شروع ہو جاۓ تو وہ صحافی نہیں ایک دلا کہلاتا ہے
آج رکن قومی اسمبلی فضل محمد خان کے بھتیجے سے ملاقات ہوئی۔ فضل محمد خان کو رشکئی انٹرچینج کے قریب سادہ کپڑوں میں ملبوس مسلح افراد کی جانب سے مبینہ طور پر اغوا کرکے لے جانا انتہائی تشویش ناک اور قابلِ مذمت ہے۔ فضل محمد خان عمران خان کے دیرینہ ساتھی ہیں اور پارٹی کے لیے ان کی گراں قدر خدمات ہیں۔ ان شاء اللہ جلد چارسدہ کا دورہ کرکے فضل محمد خان کے اہلِ خانہ سے ملاقات کروں گا۔ کسی بھی شہری، سیاسی کارکن یا منتخب نمائندے کو قانون سے ماورا اقدامات کے ذریعے ہراساں یا لاپتہ کرنا ناقابلِ قبول ہے۔ آئین اور قانون کی بالادستی ہر صورت یقینی بنانا ہوگی۔ ان شاء اللہ ظلم و جبر کا یہ دور جلد ختم ہوگا، کیونکہ اس ملک کا مستقبل ان نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہے جو آئین، قانون کی حکمرانی، جمہوریت اور اپنے بنیادی حقوق پر یقین رکھتے ہیں۔