خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی سہیل آفریدی معتبر سیاسی رہنما کے طور پر ابھر رہے ہیں آج کے دن انہوں نے سول سیکرٹریٹ پشاور میں سیکورٹی تھریٹ پر ملازمین کی اچانک چھٹی اور سیکرٹریٹ کی بندش کے بعد جس طرح معاملات کو اپنے ہاتھ میں لے کر سیکورٹی تھریٹ کے غبارے سے ہوا نکالی وہ قابل ستائش ہے وزیر اعلی خود جمعہ کی نماز کی ادائیگی کے لئے بغیر پروٹوکول کے مسجد پہنچ گئے وہ حیران کن تھا خیبر پختونخوا کی کئی مساجد میں جمعہ کے روز خودکش حملوں کی تاریخ ہے وزیر اعلی سہیل آفریدی نے جس جرات اور ہمت کا مظاہرہ کیا وہ دیگر وزرائے اعلیٰ کے لئے ایک مثال ہے زندہ باد سہیل آفریدی
سینئر صحافی محسن رضا خان
ہم یہاں بیٹھ کر کہتے تھے عمران خان منشیات کا عادی ہے جیل نہیں کاٹ سکے گا، منشیات کے عادی سے صحت مند ترین انسان تک کا سفر جو ہمارا ہوا یہ ہم سب پر بھی سوال ہے، اعزاز سید
میں نے کھبی نہیں کہا وہ منشیات کے عادی ہیں، عمر چیمہ
آپ نے بھی کہا ہے میں آپکو ریکارڈ دیکھا دوں گا، اعزاز سید
فیصلہ کل کا ہوچکا بس باضابطہ اعلان باقی آج والے اجلاس صرف اتمام حجت ہیں اور جواب میں شاید " سرکاری اسپتال "
چیزیں اسی حساب سے آگے بڑھتی ہیں یا پھر کوئی spoiler بیچ میں آتا انتظار کرنا پڑے گا
“دہشتگرد ہمیں خوفزدہ نہیں کر سکتے۔ خیبرپختونخوا کے عوام اور حکومت دہشتگردی کے سامنے کبھی سر نہیں جھکائیں گے۔ دہشتگردی کا ہر محاذ پر پوری قوت کے ساتھ مقابلہ کیا جائےگا، عوام کے جان و مال کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا”۔ وزیراعلی سہیل آفریدی کی سول سیکرٹیرٹ دورے کے موقع پر گفتگو
شاہد خٹک صاحب اور شفیع جان صاحب پر میڈیاپر پابندی عائد کردی ہے۔ اگر سیاسی آوازوں کو میڈیا پر جگہ نہیں دی جائے گی تو پی ٹی آئی کو بھی اپنے تمام نمائندگان کے الیکٹرانک میڈیا سے بائیکاٹ کا واضح فیصلہ کرنا چاہیے۔
جمہوری آوازوں پر پابندیاں فسطائیت اور آمریت کی علامت ہیں۔ جتنی مرضی پابندیاں عائد کر لیں، سچ کو بند کمروں کے فیصلوں اور پابندیوں سے دبایا نہیں جا سکتا۔
@ShafiJanPTI@ShahidkhattakSk
اگر کسی کمپنی کا چیف فنانشل آفیسر جا کر میڈیا کے سامنے کہے کہ ہماری کمپنی کولیپس کر گئی ہے تو اس کمپنی کا سی ای او ، اس کے بعد اس سی ایف او کو دفتر داخل ہونے دے گا ؟
میں تو حیران ہوں کہ اتنے بڑے بیان کے بعد شہباز شریف نے محسن نقوی کے خلاف کوئی ایکشن کیوں نہیں لیا،وہ اب تک کابینہ میں بیٹھے کیسے ہیں؟ حفیظ اللہ نیازی صاحب کا سوال
وکیل میاں دائود کا ن لیگ کو اپنوں کیساتھ میچ نہ ڈالنے کا مفت مشورہ، احسن بھون کے ن لیگ اور نظام پہ احسانات کی لمبی فہرست گنوادی۔ آج مریم نواز کے شوہر کیپٹن صفدر کو بچھو سے تشبیہ دی اور احسن بھون سے معزرت کرنے کا بھی مطالبہ۔ ساتھ ہی ن لیگ کو کہا کہ ہلکی پھلکی دل آزاری برداشت کریں۔
گونگے تو سارے چپ رہے ، البتہ وضاحت جیسی ہوئی اس میں مزید بےعزتی ہو گئی، لیکن مشورہ خوب ہے کہ برداشت کریں، مت بھولیں کہ آپ دوبارہ لندن یا جیل میں ہوں گے۔
جب کوئی فوجی ٹرک پر چڑھ کر عوام سے ہی تعلق توڑ لے، اپنی جڑیں خود ہی کاٹ دے تو پھر برداشت ہی کرے، یہ درست مشورہ ہے۔
PTI should just keep delaying march with 2-3 days, for the couple of weeks, Islamabad is already blocked.
This govt will fall with the fear of people, without the march.
کمال بات ہے حکومت راستے خود بند کر رہی کنٹینرز لگا رہی اب کوئی محب وطن شہری اسلام آباد ہائیکورٹ کا رجوع نہیں کر رہا نہ اسکا کاروبار نہ بنیادی انسانی حقوق متاثر ہو رہے !
ان کا وزیرِ اطلاعات کل اِدھر آیا تھا، دھمکیاں دے رہا تھا، اس کی شکل دیکھو اور باتیں دیکھو۔ یہ ایک کام کریں، آپ کے پیچھے جو سپورٹ ہے، آپ آئیں بات کریں، خیبر پختونخوا میں نہیں کہتا، میں آپ کو پنجاب میں چیلنج کرتا ہوں، آپ بات کریں، پھر اپنا حشر دیکھیں۔ آپ یہاں دھمکیاں دیتے ہیں، ہم پُرامن لوگ ہیں، ہم جمہوری لوگ ہیں، لیکن یہاں آپ جس لب و لہجے میں بات کرتے ہیں، آپ یاد رکھیں، وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا۔
پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے نائب صدر کمال سلیم سواتی کو مانسہرہ ٹاؤن شپ چوک سے گرفتار کرنے کی کوشش، کمال سلیم بچ کر انصاف سیکریٹریٹ پہنچ گئے۔ واقعے کی ایف آئی آر کے لیے کمال سلیم کا کارکنان کے ہمراہ ڈی پی او آفس مانسہرہ کے باہر دھرنا دینے کا اعلان
انیق ناجی 🔥🔥
ہم سے پٹواری شکوہ کرتے ہیں کہ آپ تو نوازشریف کے ساتھ ہوتے تھے اسکو سپورٹ کرتے تھے اچانک کیا ہوگیا آپ خان صاحب کو سپورٹ کرنے لگ گئے؟
ووٹ کو عزت دو کا نعرہ کس نے لگایا تھا؟میں ڈکٹیشن نہیں لوں گا یہ نوازشریف کہتا تھا ہم نظریاتی لوگ اس نعرے کے پیچھے آج تک وہیں کھڑے ہیں کہ سول سپریمیسی ہونی چاہیے ۔ نوازشریف اپنے نظریے سے ھٹ گیا اسکا اڑھائی سال انتظار کیا کہ شاید کبھی واپس آجائے اسکو جھنجھوڑا سمجھایا لیکن وہ نہیں آیا۔۔ اس نعرے پر آج عمران خان نہ صرف ثابت قدمی سے کھڑا یے بلکہ اس نے ہم سب کو غلط ثابت کردیا کہ وہ جیل نہیں کاٹ سکے گا۔ اس پر اسکے خاندان پر ظلم عظیم یو رہا یے لیکن وہ جھک نہیں رہا۔ وہ اس نظریے پر کھڑا ہے جو نظریہ عوام کا ہے اسلیے عوام اسکے پیچھے کھڑی ہے۔
لا انفورسمنٹ ایجنسیز کا کام لوگوں کا تحفظ کرنا ہوتا ہے ۔ یہ سب تو نہیں ہوتا جو کیا جا رہا ہے۔ لوگوں کو اٹھانا انکے گھروں کو توڑنا اور اس سب پر نوازشریف خانوش ہے اور اسکی حکومت میں یہ سب ہو رہا ہے
محسن نقوی میرے گھر آئے تھے، عمران خان کے مسائل اور 27 ستمبر لانگ مارچ کے حوالے سے بات چیت ہوئی ہے۔ نہ میں نے ملنے کیلئے کوئی رابطہ کیا تھا اور نہ ہی میری کوئی ڈیمانڈ تھی۔
اپوزیشن لیڈر علامہ ناصر عباس