*🚨مولانا کو شاباش*
*🔥مولانا کی تقریر پر اتنا ہی کہوں گا کہ آؤٹ کلاس ، یہ دلیل کی ایک معراج تھی ۔ دلیل کے ہتھیار کا جس طریقے سے استعمال ک��ا گیا اور جس طرح سیاسی زبان میں غیر سیاسی لوگوں کو سمجھایا ہے۔ اس سے ایک بات واضح ہو گئی کہ اس ملک کا مستقبل سیاست دانوں کے ہاتھ میں ہے۔
"غزہ میں شہید ہونے والی ننھی بچی کے اپنے والد سے آخری الفاظ:
'ابو! میں حوضِ کوثر دیکھ رہی ہوں، اور دو محلوں جیسے بہت بڑے، عظیم گھر بھی دیکھ رہی ہوں۔'"💔
یہ سنگین واقعہ اسپیشل ایجوکیشن اسکول پیر محل میں معذور بچی کا کتابوں کے بیگ کے ساتھ سیڑھیاں چڑھنے کا ہے
مریم نواز کے شاندار بنائے اسکولوں کا پول یہاں کھل جاتا ہے جہاں بچیوں کی یہ حالت ہے
بھارتی جمہوریت اور سیکیولرازم دفن ہو چکی ہے ۔۔بھارت میں ایک مسلمان بزرگ کے ساتھ ایک ہندو جوان کا سلوک۔ ایک لمحے کیلئے محسوس کریں یہ بزرگ کس قدر خوف کے ماحول میں جی رہا ہے۔ یہ بزرگ کتنا مجبور محض لاچار اور بے کس ہے۔ اس کا اتنا بس نہیں چل رہا یہ انتیاپسنف ذومبی کے ہاتھ ہی ہٹانے کی کوشش کرے ۔ کوئی ساتھ بھی نہیں دے رہا !
چند روز قبل بلال سابقہ نام راشد کی پوسٹ لگائی تھی
راشد نے بتایا تھا چھ سال کی عمر میں رحیم یار خان یا فیصل آباد سےغفاربھٹی نامی شخص کے ہاتھوں سندھ کے شہر دوڑ پہنچا تھا اور اپنے خاندان سے بچھڑ گیا تھا۔
پھر کراچی کے ایک شیلٹر میں پہنچا اور وہاں بڑا ہوا جوان ہوا۔
انکی ویڈیو بہت زیادہ لوگوں نے شئیر کی اور رحیم یار خان سے کافی دوستوں نے دن رات محنت کی لیکن کوئی پیش رفت نہیں ہوپارہی تھی۔
الحمدللہ تین چار روز قبل بالآخر یہ الجھی گتھی سلجھنے کی امید جاگ اٹھی ۔
کوئٹہ کے ایک صاحب جو رحیم یار خان میں رہتے ہیں نے رابطہ کیا اور بتایا کہ انکے ساتھ ایک بندہ کام کرتا ہے راشد انکا بچہ ہے۔
نام میچ ہوا ہے۔فیملی نے بتایا کہ سر پر آپریشن کا نشان ہوگا وہ راشد سے پوچھا تو تصدیق ہوگئی ہے۔اور بچپن میں راشد کو گھر والوں نے پھوپھی کے پاس کڑہائی کا کام سیکھنے کے لئے بھیجا تھا اسکی بھی دھندلی یادیں راشد کے ذہن میں ہ��ں۔
راشد نے کہا تھا کہ والدہ فوت ہوچکی ہے،گھر والوں کا کہنا ہے کہ والدہ حیات ہے والد فوت ہوچکے۔
چہروں کے خدوخال بھی ایک جیسے لگ رہے۔
لیکن پھر بھی ان شاء اللہ راشد اور اسکی والدہ کا ڈی این اے میچ کرکے تصدیق کریں گے پھر انکی ملاقات کرائیں گے۔
اس فیملی تک دیر سے رسائی اس لئے ملی ہے کیونکہ یہ بہت ہی غریب ہیں اور انڈرائیڈ موبائل سے دور ہیں۔
دعا کریں اللہ خیر والا معاملہ فرمائے
#waliullahmaroof
اس ظلم کو روکو
فلسطینی قیدیوں پر جو مظالم ڈھائیے جارہے ہیں انکو دیکھ کر جسم نہیں انسانیت کی روح کانپ جاتی ہے میری اپیل ہے امن معاہدہ کرنے والوں سے کہ خدارا ان مظالم کو روکا جائیے
🇵🇸
اس نوجوان کا نام ک��بی اور اور والد کا نام بارو ہے۔
کوبی مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والا پانچ سالہ بچہ تھا،سال 1994 میں کینٹ سٹیشن صدر کراچی کے قریب سے سڑک پر سویا ہوا پولیس کو ملا تھا اور ایک شیلٹر میں جمع ہوگیا تھا۔
اس ویڈیو کو زیادہ سے زیادہ شہیر کریں۔
مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے دوست اپنی کمیونٹی میں ضرور شئیر کریں
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
03162529829
17 April 2026
#waliullahmaroof #karachi #PakistanZindabad
ظلم کی انتہا
رحیم یارخان پولیس کا ظلم' فرمائشی/ غیر قانونی طور پر ایک شخص کو پکڑا اور کسی کے ڈیرے پر لے جا رہے تھے والد نے ویڈیو بنا لی اور ڈی پی او رحیم یارخان عرفان سمو سے فوری ایکشن لینے کا مطالبہ کر دیا
یہ معصوم بچی جو اپنا نام زرینہ اور والد کا نام کاشف بتاتی ہے 31 مارچ 2018 کو اعوان ٹاؤن لاہور سے لاوارث ملی تھی اور تاحال اس کے ورثا کی تلاش ممکن نہیں ہو سکی۔ اس وقت یہ ایک یتیم خانے میں موجود ہے جہاں اس کی دیکھ بھال کی جارہی ہے لیکن یہ معصوم اپنوں سے دور ہے۔
اگر آپ اس بچی یا اس کے ورثا کو جانتے ہیں تو 15 یا 03090000015 پر رابطہ کریں-
جزاک اللہ ، واللہ المستعان
تعصب کی انتہا: میرٹ پر مسلمان طلبہ کی کامیابی برداشت نہ ہوسکی۔
بھارت میں ایک میڈیکل کالج صرف اس لیے بند کر دیا گیا کیونکہ وہاں پہلے بیچ کے 50 میں سے 40 طلبہ مسلمان تھے۔ رویش کمار نے اس تعصب کا پردہ چاک کر دیا ہے۔ جب ریاست ہی تعلیم کی دشمن بن جائے، تو ترقی کیسی؟
کبھی یہ ایرانی افواج کو صحابہ سے بہتر ثابت کر رہے ہوتے ہیں اور اب افواج پاکستان سے بہتر ثابت کر رہے ہیں!
جب حقیقت یہ ہےکہ انکے سب بڑےکسی محاذ پے لڑتے ہوئے نہیں مارے گئے بلکہ اپنوں کی غداری کی وجہ سےدوسرے نےگھر میں گھس کر مارا ہے
اور اس نمونےکو کوئی بتائے یہ کامیابی نہیں ناکامی ہے
صہیونی فوج فلسطینیوں کو شہید کرنے کے بعد ان کی کھالیں اتار رہی بیچ رہی ہے؟
کیا نام نہاد مہذب دنیا تحقیقات کا مطالبہ کرے گی کہ صہیونی ریاست دنیا کے اس سب سے بڑے انسانی کھال کے بینک کے لیے انسانی کھالیں کہاں سے لے رہی ہے؟
🔴 سوڈان میں بچے بھوک سے مر رہے ہیں۔ سوڈان اس وقت دنیا کے سب سے بڑے اور تیزی سے بڑھتے ہوئے مہاجر بحران کا سامنا کر رہا ہے: 90 لاکھ سے زیادہ داخلی طور پر بے گھر افراد، کل 1 کروڑ 40 لاکھ بے گھر انسان اور پورے 2 کروڑ 90 لاکھ لوگ بھوک سے نبرد آزما ہیں۔
یہ ایک انسانی المیہ ہے۔
اس نوجوان کا نام جاوید ہے اور والد کا نام ایاز ہے ۔
جاوید کراچی کے علاقے کورنگی یا اسکے آس پاس کسی علاقے کا رہائشی تھا۔
سال 2004/5 میں جاوید گھر سے نکلا تھا اور بھٹک گیا۔
سمندر کے قریب پولیس نے لاوارث پاکر ایک شیلٹر میں جمع کردیاتھا۔
اس وقت جاوید کی عمر پانچ سے چھ سال کے درمیان تھی۔
جاوید کو اپنے والد ایاز اور بھائی سہیل کا نام یاد ہے اسکے علاوہ اور کچھ یاد نہیں ہے۔
مادری زبان پشتو ہے۔
جاوید اس وقت لاوارث ہے،ابھی جن حالات سے گززرپا ہے وہ یہاں بیان کرنے کے قابل نہیں ہے۔
آپ تک اگر یہ پوسٹ پہنچ رہی ہو تو انسانیت کی خاطر جاوید کو اپنوں سے ملانے میں مدد کریں۔اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں۔آپکا ایک شئیر جاوید کو اذیت ناک زندگی سے نکال کر ایک خوشحال ماحول میں لوٹا سکتا ہے ۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں۔
03162529829
18 April 2026
#waliullahmaroof