دہلی اسکول کے طالب علم اپنے اسکول کو مافیا سے بچانے نکلے ہیں۔۔۔۔مافیا چاہتا ہے زمین ہڑپ کر کے بچوں کا مستقبل تاریک کردیں۔۔۔بچے چاہتے ہیں تعلیم حاصل کر کے مافیا کے سامنے کھڑے ہوں۔۔۔
میں بچوں کے ساتھ ہوں اور آپ ؟ ✊🏼
#دہلی_گورنمنٹ_اسکول
یہ ٹویٹ اتنا زیادہ Retweet کرو تاکہ ہر ایک پاکستانی شہری تک پہنچے
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں 2008 سے لے کر جون 2026 تک حکومتِ پاکستان تقریباً 3.3 ٹریلین روپے یعنی 3330 ارب روپے بنتے ہیں اس پروگرام پر خرچ کر چکی ہے اس سال کے بجٹ میں مزید 838 ارب روپے اس پروگرام کے لیے مختص کیے
یہ ایک بہت بڑی رقم ہے۔ ان وسائل سے ملک میں درجنوں جدید ہسپتال، اعلیٰ معیار کی یونیورسٹیاں، ہزاروں اسکول و کالجز،موٹروے، سڑکیں، ڈیم اور ہائیڈرو پاور منصوبے بنائے جا سکتے تھے جو مستقل معاشی ترقی اور روزگار کا ذریعہ بنتے۔
اہم سوال یہ ہے کہ 18 سال گزرنے کے باوجود کیا غربت واقعی کم ہوئی ؟
کیا وہ خاندان جو 2008 سے امداد لے رہے تھے آج اپنے پاؤں پر کھڑے ہیں؟
اگر ایک پروگرام مسلسل کھربوں روپے لینے کے باوجود لوگوں کو مستقل خود کفیل نہ بنا سکے تو پھر اس کی پالیسی شفافیت اور مؤثریت پر سوال اٹھنا فطری بات ہے۔
حقیقت یہ بھی ہے کہ اس پروگرام کے دوران کرپشن، سیاسی مداخلت، جعلی رجسٹریشن اور غیر مستحق افراد کو فائدہ پہنچنے کی شکایات بارہا سامنے آئی۔ دوسری طرف عام غریب آدمی کی زندگی میں وہ بڑی تبدیلی نظر نہیں آئی جس کا وعدہ کیا گیا تھا۔ نا روزگار کے مواقع بڑھے، نا لوگوں کو مستقل کاروبار یا ہنر ملا۔ صرف نقد امداد سے غربت کا مستقل خاتمہ ممکن نہیں ہوتا۔
وقت آگیا ہے کہ یا اس پروگرام کو ختم کیا جائے
یا اسے صوبوں کے حوالے کر کے ہر صوبے کو اپنی ضروریات کے مطابق اصلاحات کا اختیار دیا جائے،
اور امداد کے ساتھ ہنر، روزگار چھوٹے کاروبار تعلیم اور صحت کو لازمی جوڑا جائے تاکہ لوگ مستقل طور پر خود کفیل بن سکیں، نہ کہ ہمیشہ امداد کے محتاج رہے
(خالد حسین تاج کی وال سے کاپیڈ)
ساتھیوں سوشل میڈیا کمپین میں درجہ ذیل ہیش ٹیگ کے ساتھ ساتھ لاپتہ ساتھیوں کے حوالے سے چند پوسٹرز کا بھی اجرا کیا گیا ہے آپ ساتھیوں سے گزارش ہے کے ان پوسٹرز کو بھی اپنے ٹویٹس اور دیگر سوشل میڈیا پوسٹس میں شامل کریں شکریہ.
#LiftBanOnAltafHussain#ReleaseAllMQMWorkers
کراچی کو درپیش مسائل کا حل تب ہی نکل سکتا ہےجب کراچی اور اس شہر کے اصل وارث بااختیار ہوں گے۔ کراچی سول سوسائٹی مسلسل اپنےحقوق کےلئے جدوجہد کر رہی ہے۔ پیپلزپارٹی پیداگیروں کا ایک ٹولہ ہےجو اس شہر پہ قابض ہے، اب ہم سب کو مل کر کراچی کو ان کےتسلط سے آزاد کروانا ہے۔
#بااختیار_کراچی
کراچی سول سوسائٹی کراچی سے محبت کرنے والے لوگوں پر مشتمل ہے!
ہم کراچی سول سوسائٹی کی آواز بننے والے لوگ کسی سیاسی جماعت کے بھی ہمدرد ہو سکتے ہی لیکن اس بات کا تعلق سول سوسائٹی سے ہر گز نہیں ہے
ہم میں کچھ لوگ نون لیگ، تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور متحدہ کے ہمدرد ہیں۔
یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے
بلکل اسی طرح ان کی منعقد کردہ اسپیسز بھی ان کا ذاتی معاملہ ہے
کراچی سول سوسائٹی کی اسپیس میں کراچی سول سوسائٹی کا ٹویٹر اکاونٹ جب تک موجود نہ ہو وہ کراچی سول سوسائٹی کی اسپیس بھی ��ہیں ہوتی۔
ہم سب اپنے ذاتی معاملات میں آزاد ہیں کس سے کس طرح بات کریں یہ ہمارا ذاتی مسئلہ ہے!
لیکن متفق اور متحد ہیں کراچی کے لئے
اور مل کر کراچی اور کراچی کے عوام کے حق کے لئے بولتے رہے ہیں بولتے رہیں گے!
جس کو جو سمجھنا ہے سمجھتا رہے!
#بااختیار_کراچی
اہلیان کراچی:
اگر آپ کراچی سے محبت کرتے ہیں، اس کے زخموں کو دیکھ کر خاموش نہیں رہتے، اس کے مسائل کو اجاگر کرتے ہیں، اس کی بہتری کے لیے سوچتے اور لڑتے ہیں، اور کراچی والوں کے درد کو اپنا درد سمجھتے ہوئے مسلسل آواز اٹھاتے ہیں
ان تمام مخلص کراچی والوں کے لیے ایک خصوصی گروپ تشکیل دیا گیا ہے۔
اگر آپ کا دل بھی کراچی کے لیے دھڑکتا ہے اور آپ اس شہر کی اصلاح و ترقی میں حصہ ڈالنا چاہتے ہیں، تو بس اس ٹویٹ کے نیچے ریپلائی کر دیں۔
آوازوں کو متحد کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ کراچی بدل سکتا ہے اگر ہم سب مل کر کوشش کریں۔
شکریہ ❤️
@KhiCivilSociety
#کراچی_سول_سوسائٹی
https://t.co/ZHLQKcJVAp
دنیا کی ��اپ 10 زبانوں میں #PPPChorHai (یعنی PPP چور ہے / PPP is a thief) کا ترجمہ/ہیش ٹیگ یہ ہے:
1English (انگلش) #PPPIsAThief یا #PPPChorHai
2Mandarin Chinese (چینی) #PPP是小偷 (#PPPShìXiǎotōu) (PPP shì xiǎotōu)
3Hindi (ہندی) #PPPChorHai (یہ پہلے سے ہی استعمال ہوتا ہے) یا #पीपीपीचोरहै
4Spanish (ہسپانوی) #PPPEsUnLadrón (PPP es un ladrón)
5Arabic (عربی) #بي بي بي_لص (#PPP_Liss) یا #PPP_سارق (PPP sāriq / liss)
6French (فرانسیسی) #PPPEstUnVoleur (PPP est un voleur)
7Bengali (بنگالی) #পিপিপিচোর (#PPPChor) یا #PPPচোরহয়েছে
8Portuguese (پرتگالی) #PPPEUmLadrão (PPP é um ladrão)
9Indonesian (انڈونیشین) #PPPAdaPencuri یا #PPPChor (ماخوذ) (#PPP adalah pencuri)
10Russian (روسی) #ПППВор (#PPPVor) (PPP Vor)
کراچی کی سول سوسائٹی نے اب بھٹو کو دفنانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ بھٹو دفنایا جائے گا تو کراچی بہتر ہو گا۔ کراچی پاکستان کا معاشی حب ہے۔ کراچی ترقی کرے گا تو پاکستان ترقی کرے گا۔ لہذا پورا پاکستان ساتھ دے کراچی والوں کا بھٹو کو دفنانے میں۔ شکریہ
#PPPChorHai
ٹرینڈ پینل پر آ گیا ہے، اب باقی کام آپ کا ہے کراچی والوں۔ اس ٹرینڈ کو اب آپ نے ٹاپ پر لے کر جانا ہے۔ اور پچھلے ٹرینڈز کی طرح تین دن تک پینل پر رکھ کر سب کو بتانا ہے
#PPPChorHai
تو سب شروع ہو جائیں اس ٹرینڈ پر ٹویٹس ٹھوکنا۔۔
سول سوسائیٹی جن ایشوز پر آواز ُاٹھارہی ہے وہ ایشوز ہر کراچی والوں کو درپیش ہیں !
آج عام آدمی نے اس ٹرینڈ کو کامیاب بنانے میں اپنا حصہ ڈالا ہے اسی طرح کراچی کے لئے آواز ُاٹھاتے رہیں !
#PPPChorHai
تین کڑوڑ آبادی والےشہر کے لئے پینے کا پانی بھی نایاب ہوتا جا رہا ہے۔ ورلڈ بینک سے K4 منصوبے کےلئے ملنے والے پیسے کرپشن کی نظر ہو گئے۔ اس منصوبے نے 2026 میں پورا ہونا تھا، لیکن 15 فیصد بھی مکمل نہیں ہوا، اور جو کام ہوا وہ بھی غیرمعیاری ہوا۔
#PPPChorHai
قومی خزانے کے 13ارب روپے کو اس طرح ملبے تلے روند دیا گیا
حب کینال کے نام پر پیپلزپارٹی کی جانب سے ہونے والا ایک اور کرپشن پروجیکٹ۔۔ ویسے تو کئ ہیں
لیکن ان وقت کے یزیدیوں نے تین کروڑ عوام کے حصے کے پانی پر بھی نقب زنی کی ہے
@PakPMO@OfficialDGISPR#PPPChorHai
صرف بلدیہ ٹاون نہیں پورے کراچی کا یہ ہی حال ہے۔ کراچی پر مسلط پیپلز پارٹی نے ایک میٹروپولیٹن شہر کو کھنڈر بنا دیا ہے۔ کراچی والوں کو اب پیپلز پارٹی نامی عذاب سے آزادی چاہیئے۔
#PPPChorHai
آئی تاااااا
میلا بے بی ملتجا وہاب TransKarachi نامی ٹھیکیدار کمپنی جو یونیورسٹی روڈ کی تعمیر میں تاخیر کی ذمہ دار ہے اسی کمپنی کا ڈائریکٹر بھی ہے۔
اسی لئے تو جمہوریت بہترین چنتقام ہے
امی: میں ناک کے غدود کا آپریشن کروالوں ؟ بیٹا دیکھ لو، کوئی مسئلہ نہ ہو ۔
خیر اس کی حالت کودیکھتے ہوئے تمام گھر والوں نے اجازت دے دی
جب اس کو ڈی ایچ کیو ہسپتال اوکاڑہ لایا گیا تو تمام گھر والوں کو اس سے دور کردیا اور کہا کہ آپ پریشان نہ ہوں بیٹا ٹھیک ہوجائے گا ۔
تھوڑی دیر بعد اسے بے ہوشی کی دوا کا انجکشن لگایا گیا تو اس کی حالت بگڑنے لگ گئی
اب ڈاکٹرز خود پریشان ہوگئے اس کے بعد یہ بچہ کبھی ہوش میں نہ آیا
وہاں جیسے بچے کی والدہ کو معلوم ہوا تو بقول ان کے کہ انہیں شبہ ہے کہ بچے کو بے ہوشی کی دوا کی اوور ڈوز دی گئی جس کے باعث اس کی حالت بگڑ گئی اور وہ جاں بحق ہو گیا
اس کے بعد معاملہ کو دبانے کے لیئے ہسپتال انتظامیہ نے تقریباً 5 گھنٹے بچے تک نعش ورثاء کے حوالے نہیں کی، جس پر لواحقین نے شدید احتجاج کیا
وہاں بچے کی والدہ اور بہنیں روتیں رہیں جب بات میڈیا تک پہنچی تو تب جاکر بچے کو ان کے والدین کے حوالے کیا گیا ۔
افسوس یہ بچہ خواب سجائے اس دنیا سے رخصت ہوگیا کیا کوئی ہے جو اس بچے کو انصاف دے سکے ؟
😪😪😪😪😪😪