Thread by @zahida_rahim: "نسیم زہرہ اپنی کتابFrom Kargil to the Coupمیں لکھتی ہیں کہ کارگل چارجرنیلوں کابلنڈرتھاان میں اس وقت کےچیف آف آرمی سشرف، فورس کمانڈر آف ناردرن ایریازمیجرجنرل جاوید حسن، چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل عزیز خان، اور کمانڈر 10کو […]" https://t.co/xROJhdM7Dw
A waiting list of 15,000 children awaiting life-saving heart surgeries has been brought down to ZERO! When I assumed office in 2024, thousands of families were waiting for hope, while many children had already lost their lives to disease and apathy.
Our resolve is clear: no child should lose the chance to live simply because their family cannot afford treatment.
مولانا فضل الرحمٰن جیسے سینئر سیاستدان، جو خود دہشت گردی کا شکار رہے ہیں، ان سے دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والوں کی حمایت کی توقع نہیں تھی۔ نااہلی، نالائقی اور کرپشن سے خیبر پختونخوا کی بربادی کے ذمہ داروں کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کے بجائے ان کی حمایت میں بات کرنا نہایت افسوسناک ہے۔
جن کی حمایت میں بیانات جاری ہو رہے ہیں، ان سے پوچھا جائے کہ کیا تیرہ سال میں وہ کسی ایک شہید کے جنازے میں بھی شریک ہوئے؟ الٹا دہشت گردوں کو پناہ دی، انہیں پالا پوسا اور پاکستان پر حملہ آور ہونے کے لیے وسائل، پناہ گاہیں اور اپنے صوبے کی زمین فراہم کی۔
یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے خیبر پختونخوا میں نااہلی کے انبار لگا دیے، وہاں کے عوام کی زندگیاں تباہ و برباد کر دیں اور انہیں دہشت گردی کی نذر کر دیا۔ صوبے کے قیمتی وسائل دھرنوں اور احتجاجوں پرخرچ کر دیے، اور تیرہ قیمتی سال کرپشن اور نالائقی کی نذر کر دیے۔
جس سپہ سالار نے معرکۂ حق میں ملک کو تاریخی فتح سے ہمکنار کیا اور جس کی قیادت میں پاکستان کو حرمین شریفین کے تحفظ کا اعزاز ملا، اس کے بارے میں مولانا صاحب کے الفاظ نے ہر محبِ وطن پاکستانی کا دل دکھایا ہے۔
پاک فوج کے افسر اور جوان آج بھی دہشت گردی کا ناسور ختم کرنے کے لیے سینوں پر گولیاں کھا رہے ہیں۔ ہر روز کسی ماں کا لختِ جگر، کسی بہن کا بھائی اور کسی کا شوہر سبز ہلالی پرچم میں لپٹ کر گھر آتا ہے۔ان شہیدوں کے لہو کو سلام پیش کرنے اور اپنی فوج کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے دہشت گردی کے خاتمے کی راہ میں رکاوٹ بننے والوں کا ساتھ دینا آپ کے شایانِ شان نہیں۔
آپ کی جماعت نے خود دہشت گردی کے زخم سہے ہیں، آپ کے ساتھیوں نے شہادتیں دی ہیں۔ اور جن کی حمایت میں آج آپ کھڑے ہیں، کل یہی آپ کے بارے میں انتہائی ناشائستہ زبان استعمال کرتے اور ذاتی حملے کرتے رہے ہیں۔ دہشت گردی کے متاثرین کا دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والوں کے ساتھ کھڑا ہونا کم از کم میری سمجھ سے باہر ہے۔
خیبر پختون خواہ میں میں اپنی حکومت کے خاتمے کا ذمہ دار اور کوئی نہیں تحریک انصاف خود ہے۔
خیبر پختونخوا کے بھائیوں اور بہنوں کو تیرہ برس صرف دھرنے،انتشار، گالم گلوچ اور سستے ٹرینڈز ملے۔ آج اگر خیبر پختونخوا گورنر راج اور ایمرجنسی کی باتیں سن رہا ہے تو یہ عوام کا نہیں،تیرہ سالہ نااہلی کا قصور ہے
خیبر پختونخوا کے بھائیوں اور بہنوں سے سوال ہے کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا ایک ہی ملک میں ہیں،ایک ہی آئین اور ایک ہی قومی خزانے کے حصہ دار ہیں،پھر ایک صوبے میں ترقی کا سفر اور دوسرے میں تنزلی اور بدامنی کیوں؟ فرق وسائل کا نہیں، نیت اور اہلیت کا ہے۔
اگر پنجاب ستھرا ہو سکتا ہے تو خیبر پختونخوا کیوں نہیں؟ کیونکہ وہاں صفائی نہیں، صرف سیاست ہوئی۔
اگر پنجاب کے ہونہار بچوں کو اسکالرشپ مل سکتی ہے تو خیبر پختونخوا کے بچوں کو کیوں نہیں؟ کیونکہ وہاں ترجیح بچے نہیں، دھرنے تھے۔
اگر پنجاب کی مائیں بے فکر ہیں تو خیبر پختونخوا کی مائیں خوف میں کیوں؟ کیونکہ وہاں توجہ عوام کی حفاظت پر نہیں، اسلام آباد پر چڑھائی پر رہی۔
اگر پنجاب میں گرین الیکٹرو بسیں چل سکتی ہیں تو خیبر پختونخوا میں کیوں نہیں؟ کیونکہ وہاں منصوبے زمین پر نہیں، صرف سوشل میڈیا پر چلے۔
اگر پنجاب کے گاؤں تک پختہ سڑکیں پہنچ سکتی ہیں تو خیبر پختونخوا کی سڑکیں ادھوری کیوں؟ کیونکہ وہاں وعدے ہوئے، کام نہیں۔
اگر پنجاب میں مفت دوا، فیلڈ ہسپتال اور کلینک آن ویلز دہلیز پر ہیں تو خیبر پختونخوا کا مریض بے بس کیوں؟ کیونکہ وہاں عوام کی صحت سے زیادہ اقتدار عزیز رہا۔
"کیوں" کا جواب ایک ہی ہے: تیرہ سالہ انتشار اور نااہلی!
پنجاب نے ثابت کر دیا کہ حکومتیں بڑھکوں سے نہیں، کام، کام اور کام سے چلتی ہیں۔خیبر پختونخوا کو اب انتشار نہیں، خدمت چاہیے۔
Beyond the rhetoric, Real Hard Work yields Real Result. Congratulations to Chief Minister Punjab @MaryamNSharif for the Global Recognition of Punjab Government’s Affordable Housing Program. Indeed, a Great Honor for Pakistan 🇵🇰.
یہ ہوتا ہے لیڈر جو دنیا کے سامنے بولے تو اس کی باتوں کی تصدیق کوئی اور نہیں بلکہ دنیا کی سپرپاور امریکا کا صدر کرے اوتلر کلپ اپنے سوشل میڈیا اکاونٹ پر خود شئیر کرے۔
#PMShehbazAtUNGA81
پانامہ آیا، اس میں نوازشریف کا نام نہیں تھا، تا ہم میاں صاحب کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا گیا اور وہ تاریخی تقریر کرنا پڑی "یہ ہیں وہ ذرائع"۔ اگلوں نے پھر اس جھوٹ پر کیس بنایا، میڈیا پر چلایا اور اس میں سزا بھی دلوائی اور سات سال رگڑا بھی۔ اس پر عمران ریاض، معید پیرزادہ، منصور علی خان اور دیگران نے بے شمار پروگرام بھی کئے۔ اب یہ سب لوگ جہاز پر پروگرام کر رہے ہیں، اور جہاز بھی مریم نوازشریف کا، باقی تین جہازوں کو کوئی ذکر نہیں۔ انہیں جو سوالات تک لکھ کے بھجواتے ہیں وہ اندر بیٹھے وہی لوگ ہیں جو پانامہ کے سوالات لکھ کر بھجواتے تھے۔ ارشاد بھٹی نے ادارے کو یوں ذلیل کیا کہ لکھ کے بھجوائے گئے نقاط جیو پر بیٹھ کے باقاعدہ کاغذ پر سے پڑھ کے سناتا، لیکن لکھ کے دینے والوں کو سمجھ نہ آتی کہ یہ ان کی بےعزتی ہو رہی ہے بلکہ وہ اس پر سر دھنتے اور فخر سے کہتے کہ ہم چاہیں تو ایک بیرے کو بھی سینئر تجزیہ کار بنا سکتے ہیں۔
کیا ہماری سیاسی قیادت ماضی کی غلطی دہرانے سے باز آ سکتی ہے؟؟ کیوں کہ انہوں نے تو باز نہیں آنا
🙄🙄
سہیل آفریدی اپنے صوبے کے ان ساڑھے چار کروڑ لوگون کی نمائندگی کا دعویدار ہے جن میں سے دو کروڑ سے زائد افراد پنجاب میں رہتے ہیں ایک کروڑ سندھ میں۔
باقی کتنے بچے؟؟؟
🤣
یوتھڑو
تمہارے لئے تو دنیا ہی انیس سو بانوے کے بعد شروع ہوئی تھی۔ تمہیں کیا پتہ علامہ اقبال ٹاون لاہور سے کئی دن تک لائیو کوریج 1989 میں سی بی این ایس پر اسی ہسپتال مینیجمنٹ سافٹ وئر پر ہوتی رہی تھی۔
تمہین تو یہ بھی پتہ نہیں ہو گا ٹائمز میگزین کا ٹائٹل علوی بردران کی تصویروں سے سجا تھا، اور ٹائمز کا میگزین کا تو تمہیں بالکل بھی پتہ نہیں ہوگا۔
تمہیں تو یہ بھی نہیں ہو گا یہ سافٹ وئر 1982 میں بن چکا تھا اور 1984 میں آواری ہوٹل لاہور میں ہونے والی ایک آئی ٹی کی سافٹ وئر نمائش میں چوری ہوا تھا اور ایک امریکی کمپنی نے چوری کیا تھا۔
تمہیں تو یہ بھی نہیں پتہ ہو گا کہ بل گیٹس کو "سسٹمز پاکستان" نے تب انٹرن شپ دینے سے انکار کر دیا تھا جب مائیکروسوفٹ کا وجود ہی نہیں تھا۔
کسی جاہل کے بچے تم لوگ حسن نثار اور عمران خان کی بکواسیات سن سن کر پیدا اور جوان ہوئے تم شکست خوردہ ذہنیت کے حامل لوگوں کو کیا پتہ اس شاندار تاریخ کا جو ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھی اور ہاتھوں سے لکھی؟
پنجاب میں داخل ہوتے ہی اس نے سُکھ کا سانس لیا اور کہا کہ اب اسے سکیورٹی اور حفاظت کی ضرورت نہیں اور یہ کہہ کر وہ سیدھا جا کر دھلے دھلائے فٹ پاتھ پر، تشریف سے قمیض ہٹائے بغیر بیٹھ گیا،😍 اندازہ فرمائیں اسے صفائی کی کوالٹی کا کس قدر یقین ہے۔
قدر کرو پٹواریو اس تھڑد کلاس مسخرے کی کہ وہ مفت میں آپ کی حکومت کی مشہوری کر رہا ہے۔
😂
مریم نوازشریف صاحبہ نے بالکل درست کہا، دونوں صوبوں بلوچستان اور کے پی کے کی سیاسی اشرافیہ اب دہشت گردوں کے بارے میں ایک خاص قسم کا نرم گوشہ رکھتی ہے اور انہیں دہشت گرد کہنے سے انکاری ہے۔ پنجاب کے محکمہ داخلہ کو ہرروز درجنوں تھریٹ الرٹ کے پی کے سے بذریعہ وفاق موصول ہوتے ہیں۔ تو پھر پنجاب کی وزیر داخلہ کیا کرے جو دو کروڑ پختونوں کی بھی محافظ ہے؟
پنجاب میں کرپشن کے لیے اب کوئی گنجائش، کوئی پناہ اور کوئی رعایت باقی نہیں۔ کرپشن اور رشوت کے ناسور پر آہنی ہاتھ ڈال دیا ہے، زیرو ٹالرنس کا حکم دے دیا گیا ہے۔ نشاندہی کے لیے خصوصی خفیہ سیل قائم کر دیا گیا ہے، جس کی رپورٹ براہِ راست مجھے دی جا رہی ہے۔ عوام کی شکایات کے لیے ہیلپ لائن 1350 قائم ہے، شکایت کنندہ کا نام مکمل خفیہ رکھا جائے گا اور ہر شکایت پر کارروائی ہو گی۔ عہدہ، تعلق یا سفارش کسی کو نہیں بچا سکے گی، لوٹی ہوئی رقم کی مکمل ریکوری تک کارروائی ختم نہیں ہو گی۔ عوام کا پیسہ صرف عوام پر خرچ ہو گا، کسی کو کھانے نہیں دوں گی۔
اور پھر اس کے ہاتھوں ایک کیس خراب ہوگیا ، ختنہ کے عمل کے دوران ایک بچے کی مین آرٹری کے ساتھ ایک ذیلی شریان بھی کٹ گئی جودماغ کو خون پہنچانے والی شریان تھی اس میں خلل آگیا تاہم وہ بچہ بڑا تو ہوگیا مگر ذہنی معذوری سے نہیں بچ پایا ۔
اگر معین علی فلسطین سے اظہارِ یکجہتی کا رِسٹ بینڈ پہن کر میچ نہیں کھیل سکتے تو اسکائی اسپورٹس کرکٹ کے دوران عمران خان کے بچوں کا سیاسی انٹرویو کیسے نشر کر سکتا ہے؟ پھر فلسطینی بچوں پر پروگرام کیوں نہیں؟ سلمان بٹ، اس دوٹوک مؤقف پر تمہارے پچھلے سارے گناہ معاف!
چاچو نے پمز کے ایم ڈی اور 1122 کے ڈائریکٹر سمیت آٹھ پھڑکا دئیے۔ محکمانہ انکوائری کے علاؤہ اقدام قتل کے مقدمات بھی درج الگ الگ درج ہوں گے
چاچو نےچس کروا دی