*بوڑھے لوگ*
میرے طالبعلمی کے زمانے میں *ملکوال* ریلوے اسٹیشن پر ایک بڑا سا بُک اسٹال ہوتا تھا۔ میں ہر مہینے کے پہلے دنوں میں *کھیوڑہ* سے ریل گاڑی پر یہاں پہنچتا۔ اتنے زیادہ رسالے، کتابیں اور ان کے چمکتے دمکتے سرورق دیکھ کر میں دیر تک گنگ کھڑا رہتا۔ ایسے لگتا جیسے وہ سب میرے ساتھ جانے کیلئے مشتاق ہوں۔ لیکن میں والد صاحب کیلئے اردو اور حکایت ڈائجسٹ، اور اپنے لِئے نئے افق اور ابنِ صفی کا ناول خریدتا۔ اور پھر دھڑکتے ہوئے دل کے ساتھ بیتاب لہجے میں اپنے محبوب "سب رنگ" ڈائجسٹ کے تازہ شمارے کی آمد کا پوچھتا اور جواب حسبِ معمول نفی میں پا کر دل ہی دل میں شکیل عادل زادہ کو دو چار سنا دیتا۔ میری جانب پُرشوق نگاہوں سے تکتی باقی سب کتابوں سے نظریں چرا کر میں پلیٹ فارم پر آجاتا۔ پِرچ میں انڈیل کر چائے کی چسکیاں لیتا اور اگلی ریل گاڑی سے کھیوڑہ واپس چلا جاتا۔
یہ ریل گاڑی کھیوڑہ سے ملکوال دن میں دو بار آتی جاتی تھی۔ سفید یونیفارم میں ریل گارڈ سِیٹی بجا کر سبز جھنڈی لہراتا تو کوئلے سے چلنے والا بھاری بھرکم سیاہ انجن لمبی کُوک بجا کر چھک چھک کرتا چل پڑتا۔ اور پلیٹ فارم کا سینہ دہلنے لگتا۔ کچھ مسافر ہمیشہ بھاگ کر چلتی گاڑی پر سوار ہوتے۔ شاید ایسا کرنے میں انہیں مزا آتا ہو گا۔ یہ ریل گاڑی جب صبح کے وقت ملکوال سے کھیوڑہ آتی تو مسافروں سے لدی ہوتی۔ زیادہ تر مسافر ان قصبوں اور دیہات کے رہنے والے مزدور اور کارکن ہوتے جو کھیوڑہ میں نمک کی کان، آئی سی آئی سوڈا ایش فیکٹری اور ڈنڈوت سیمنٹ فیکٹری میں کام کرتے تھے۔ صبح آتے، سارا دن کام کرتے اور شام کو اسی گاڑی سے واپس لوٹ جاتے۔
دن بھر ویران سا رہنے والا کھیوڑہ کا یہ ریلوے اسٹیشن صبح اور شام کے وقت آباد ہو جاتا۔ خوب چہل پہل ہوتی۔ خصوصاََ شام کے وقت اسٹیشن پر آنے جانے والوں کی بھیڑ لگ جاتی۔ خوانچہ فروش بڑی سرگرمی سے چٹ پٹی چیزیں بیچتے۔ بچے جوان اور بوڑھے رنگ برنگے کپڑوں میں ملبوس، کچھ جلدی میں کچھ گھبرائے ہوئے اور کچھ برجوش دکھائی دیتے۔ ریلوے اسٹیشن سے ملحق والی بال کا میدان بھی ہر شام سج جاتا، جسے دیکھنے کیلئے مسافر بھی اکٹھے ہو جاتے۔ خوانچہ فروش ایک دوسرے سے مقابلے میں اپنی اپنی چیزیں بیچنے کیلئے طرح طرح کی آوازیں لگاتے۔ میں یہ دلچسپ منظر دیکھنے کے لئے اکثر شام کو ریلوے اسٹیشن کی طرف نکل جاتا۔ اور بعد میں ان خوانچہ فروشوں جیسی آوازیں نکال کر گھر والوں کو خوب ہنساتا۔
یوں یہ ریلوے اسٹیشن دن میں دو بار گاڑی کے آنے اور جانے پر باقاعدہ آباد ہو جاتا، گویا زندہ ہو جاتا۔ کھیوڑہ کی سب سے پُر رونق جگہ بن جاتا۔ لیکن ریل گاڑی کے جاتے ہی یہ ویران سا ہو جاتا، خاموش سا ہو کر رہ جاتا، جیسے بُجھ گیا ہو۔ جیسے مر گیا ہو۔
یہ رونق صرف گاڑی کی آمد و رفت سے نہیں تھی۔ بلکہ روزانہ سفر کرنے والے مسافروں کے دَم سے تھی۔ خالی پلیٹ فارم کو دیکھ کر یوں لگتا جیسے صدیوں سے اداس ہو۔ جیسے رو رہا ہو۔ جیسے ان سینکڑوں مانوس چاپوں کو یاد کر رہا ہو جن کی دھمک سے اس کا سینہ صبح و شام دھڑکتا اور بعد ازاں ویران ہو جاتا ہے۔ *ہر پلیٹ فارم کی زندگی مسافروں کی آمد و رفت سے بندھی ہوتی ہے۔ جس پلیٹ فارم کو مسافر ہی میسر نہ ہوں، وہ آہستہ آہستہ مر جاتا ہے۔*
بوڑھے لوگ بھی ریلوے پلیٹ فارم کی طرح ہوتے ہیں۔ ان کی زندگی اپنے اِرد گِرد بسنے والوں سے وابستہ ہوتی ہے۔ ان کی رونق وہ مانوس چاپ ہوتی ہے جس کے وہ منتظر رہتے ہیں، وہ آوازیں ہوتی ہیں جنہیں سننے کیلئے ان کی سماعتیں بیتاب رہتی ہیں۔ انہیں ریلوے پلیٹ فارم کی طرح ویران مت ہونے دیں، انہیں اکیلا مت چھوڑیں۔ انہیں وقت دیں۔ ان سے باتیں کریں۔ جب تک وہ موجود ہیں، انہیں زندہ رکھیں۔
*نعیم ضرار*
مجھے فخر ہے کہ عمران خان نے مجھ پر اعتماد کیا اور میں اس اعتماد کوصحیح ثابت کرکے دکھایا۔ ہم نے ہمیشہ کہاکہ ہم مشکل وقت کے ساتھی ہیں۔ میں اور میری جماعت نے اپنی وفاداری ثابت کی۔ خان صاحب کاحق خان کو واپس مل گیاہے۔میں اور میری پوری جماعت عمران خان کو تہہ دل سے مبارکباد پیش کرتی ہے۔
اسلام آباد بلیو ایریا میں PIA کا شاندار کمرشل پلازہ سولہ کروڑ میں کون خرید رہاہے ؟ اس بلڈنگ کی قیمت کم ازکم آٹھ ارب روپیہ ہے، وزارت خزانہ وزارت نجکاری ، وزیراعظم اور ڈپٹی وزیراعظم کس کو کوڑیوں کے حوالے کررہے ہیں
اطہر من اللّہ نے دھجیاں اڑا دی ہے 🔥قاضی نے مٹی ڈالنے کے لئیے کہا نئی قانون سازی کریں اطہر من اللّہ نے جواب دیا کسی نئی قانون سازی کے ضرورت نہیں ایجنسیاں آئین کے تحت وزیراعظم کے نیچے آتی ہیں اگر وہ کچھ کرتی ہیں تو وزیر اعظم اور اور پوری کابیبہ ذمہ دار ہے 🔥🔥
گویا ججز کو ڈرانا دھمکانا، عام انتخابات پر ڈاکہ ڈالنا اور پولیس تھانوں پر دھاوے بولنا کافی نہ تھا کہ وہ ” نامعلوم“ افراد جو اب زیادہ نامعلوم بھی نہیں رہے، این اے-8 باجوڑ میں الیکشن آفس پر حملہ آور ہوئے ہیں جہاں انہوں نے توڑ پھوڑ کے ساتھ الیکشن عملے کو بھی وحشیانہ سلوک کا نشانہ بنایا ہے جسکی تفصیلات ریٹرننگ افسر نے اپنے خط میں قلمبند کی ہیں۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں ریاستی نظم کا شیرازہ پوری طرح بکھر چکا ہے اور ”جنگل کا بادشاہ“ یہاں قانون کی حکمرانی کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئےپوری ڈھٹائی سے اپنے ایجنڈے کی تکمیل میں مصروف ہے۔ستم ظریفی تو یہ ہے کہ اعلیٰ عدلیہ بظاہرکسی ساز باز کے نتیجے میں اس لاقانونیّت میں ملوّث ہے یا اس کے خلاف اقدام کرنے سے بے حد خوفزدہ اور عاجز ہے۔
میرے پیارے اباجی میاں محمد شاکر 42 سال پہلے آج کے دن 21اپریل 1982کو اللہ میاں کے پاس چلے گئے، جانے سے پہلے ہمیں رزق حلال،حق سچ پر قائم رہنے، نیک نامی،نماز روزے کی ادائیگی کا ہمیشہ درس دیا جس پر میں اپنی استطاعت کی حد تک کاربند ہوں اللہ والد مرحوم کو جنت الفردوس میں جگہ دے آمین
چوہدری پرویزالہی کو ہسپتال سے بیمار حالت میں زبردستی جیل لیجایا گیا جبکہ ڈاکٹرز نے سختی سے منع کیا، وزارت صحت اور وزارت داخلہ نے ڈاکٹرز کو چُپ رہنے کا حکم دیا
احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے جیل عدالت میں لگی شیشے لکڑی کی دیواریں توڑنے کا حکم دیدیا ، میڈیا کو القادر ٹرسٹ کیس میں آزادانہ مکمل کوریج کی اجازت
کئی لوگ دبئی کی بارش کا کراچی سے موازنہ کر رہے ہیں اور کراچی اور سندھ حکومت پر ہونے والی تنقید کو بلاجواز قرار دے رہے ہیں۔ ایک تو UAE کا خطہ ہمیشہ سے خشک ہی رہا ہے اور اسے بارشوں کے نقطہ نظر سے ڈیزائن ہی نہیں کیا گیا۔ اب انکے سامنے کلائمیٹ چینج کی وجہ سے بالکل ایک نئی صورتحال پیدا ہوئی ہے انکا ٹریک ریکار ڈ بتاتا ہے کہ وہ اس سے بھی جلد نمٹ لیں گے۔ مگر کراچی میں نہ بارشیں نئی ہیں اور نہ نااہلی نئی ہے۔ قدرتی آفت کہیں بھی آ سکتی ہے مگر شہر میں کچرے کے ڈھیر ہوں یا نالوں کی صفائی کا معاملہ ہو یا پھر تجاوزات کی بھرمار اور بغیر نقشوں کے قبضہ گروپوں کی کاروائیاں۔ دبئی ریکار ڈ بارشوں سے ڈوبا ہے جبکہ کراچی کو ہر سال ڈبویا جاتاہے۔