مریم نواز : "یہ اُن بگڑے ہوئے ، استثنی والے اور مغرور تمغوں والے لوگوں کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہے جو غریبوں کو اپنے سے کمتر انسان سمجھتے ہیں اور یہ گمان کرتے ہیں کہ دولت اور طاقت ، تمغے ، فیلڈ مارشل کے عہدے کے بل بوتے پر وہ قانون سے بالاتر ہو سکتے ہیں اور جو چاہیں کر کے بچ نکلیں گے۔
بطور وزیرِ اعلیٰ پنجاب، میں مظلوموں کے ساتھ کھڑی ہوں، چاہے اُن پر ظلم کرنے والا کتنا ہی طاقتور، فرعون، یزید کیوں نہ ہو۔ کسی کی دولت، استثنی ، اثر و رسوخ یا سیاسی یا سیاست سے کوئی تعلق نہ ہو اُسے قانون کے کٹہرے میں جواب دہ ہونے سے نہیں بچا سکتے۔"
خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگانے سے پہلے میڈیا میں جھوٹا بیانیہ چلایا گیا کہ ہم نے دہشتگردی کا خاتمہ کرنا ہے، ایمرجنسی نافذ کر کے اب کبھی گٹروں کے ڈھکن لگاتے پھر رہے ہیں تو کبھی تجاویزات آپریشن کے نام پر غریب کی ریڑھی الٹا رہے ہیں، فاٹا کے ضم شدہ اضلاع کو باقی صوبوں نے وعدے کے باوجود فنڈز نہیں دیئے، ہم پہلے ہی کہتے تھے کہ ان کا مقصد دہشتگردی نہیں قیمتی معدنیات پر قبضہ جمانا ہے۔
#گورنر_راج_نامنظور
#آئین_شکن_راج_نہیں_چلے_گا
خان میرا وعدہ ہے۔ خدا کی قسم اپنی اوقات کے مطابق تمہارے ساتھ ایمانداری سے کھڑا ہونے کی کوشش کروں گا۔ جس دن نہ ہو سکا۔ کھلا اعلان کروں گا۔ کہ اب میری بس۔ پیٹھ میں چھرا نہیں گھونپوں گا۔
”مراد سعید کے گھر پر پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کی طرف سے دھاوا بولا گیا ہے۔ ان کے بھائی اور بزرگ والدہ کو زدو کوب کیا گیا۔ انتہائی افسوس ناک اور قابل مذمت حرکت ہے۔ ان کا مقصد یہی ہے کہ مراد سعید گرفتار ہو جائے اور پھر یہ اس کے خلاف اپنا انتقام پورا کر سکیں۔ عمران خان کی سیاسی جدوجہد طویل ہے، اس میں بہت ضروری چیز ہے کہ مراد سعید کسی صورت ان کے ہاتھ نہ آئے۔ “ بیرسٹر شہزاد اکبر
@ShazadAkbar
#PakistanUnderAsimLaw
DSP شہید عمران الدین آخر تک دہشتگردوں سے لڑا۔ خیبر پختونخواہ پولیس کے اس بہادر بیٹے نے اپنے کیریئر میں بے شمار آپریشنز کئے۔ کئی بار جان خطرے میں ڈالی اور آج شہید ہوگیا۔ عمران الدین دہشتگردوں کے خلاف دہشت کی علامت تھا۔
شہید عمران الدین کو سب سے بڑا ایوارڈ نشان حیدر دینا چاہیے۔
إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
ڈی ایس پی عمران الدین شہید (کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ - خیبر پختونخوا پولیس)
آج پاکستان نے ایک غیرت مند اور بہادر بیٹا کھو دیا ہے اور خیبر پختونخوا پولیس ایک ایسے نڈر، بااصول اور جری افسر سے محروم ہو گئی ہے جس کی شجاعت، دیانت داری اور قربانی کو تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔
ڈی ایس پی عمران الدین شہید کا شمار ان بے باک افسران میں ہوتا تھا جنہوں نے ملک و قوم کی سلامتی کے لیے ہمیشہ خطرات کا مردانہ وار مقابلہ کیا۔ متعدد قاتلانہ حملوں، بم دھماکوں اور فائرنگ کے واقعات میں زخمی ہونے کے باوجود ان کے پایہ استقلال میں کبھی لغزش نہ آئی۔
جب ایک حملے کے بعد انہیں محفوظ مقام پر تبادلے کی پیشکش کی گئی، تو انہوں نے کہا: "دہشت گرد سمجھیں گے کہ میں ڈر گیا ہوں!" وہ ایک بااصول اور پیشہ ور افسر تھے جنہوں نے فرنٹ لائن پر رہ کر ہمیشہ اپنے فرض اور قومی غیرت کو مقدم رکھا۔
وہ ایک بااصول اور پیشہ ور افسر تھے جنہوں نے فرنٹ لائن پر رہ کر ہمیشہ اپنے فرض اور قومی غیرت کو مقدم رکھا۔
ضلع کرک کے علاقے چارپارہ (خُرّم محمد زئی) میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) کی جانب سے خفیہ اطلاع پر کیے جانے والے سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشن کے دوران شدت پسندوں اور پولیس کے درمیان زبردست فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ ڈی ایس پی عمران الدین شہید نے اگلی صفوں میں قیادت کرتے ہوئے اپنے رفقائے کار کے ساتھ بہادری سے مقابلہ کیا اور فرض کی راہ میں جامِ شہادت نوش فرمایا۔
خاطر خواہ مواقع میسر ہونے کے باوجود انہوں نے خطرے سے پیچھے ہٹنے کی بجائے آخری سانس تک میدانِ عمل میں ڈٹے رہنے کو ترجیح دی۔ ان کی یہ عظیم قربانی خیبر پختونخوا پولیس کی اعلیٰ روایت اور پاسبانِ وطن کی بے مثال شجاعت کا روشن باب ہے۔
اللہ تعالیٰ ڈی ایس پی عمران الدین شہید اور ان کے شہید رفقاء کو جنت الفردوس میں اعلیٰ ترین مقام عطا فرمائے اور سوگوار خاندانوں و کے پی پولیس کو یہ عظیم صدمہ صبرِ جمیل کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔