میں وزیراعظم شہبازشریف، فیلڈمارشل عاصم منیر، وزیرخارجہ اور پاکستان کے تمام حکام سے اپیل کرتاہوں کہ وہ صومالیہ میں قزاقوں کی فائرنگ سے شہید اورزخمی ہونے والے اور زندہ بچ جانے والے پاکستانی عملےکو فی الفور وطن واپس لانے کے اقدامات کریں۔
پانچ مہینے تک تیل بر دار جہاز پر موجود پاکستانی عملے کے ارکان صومالی قزاقوں کی قید کے دوران حکومت پاکستان سے اپیلیں کرتے رہے، حکومت پاکستان نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی، بالآخر قزاقوں نے وہاں کئے جانے والے آپریشن کے دوران عملے کے پانچ ارکان کوفائرنگ کرکے شہید اورکئی ارکان کو زخمی کردیا۔ ان کے ماں،باپ، بیوی بچے حکمرانوں سے اپیلیں کررہے ہیں کہ اگر حکومت ان کے پیاروں کوزندہ واپس نہیں لاسکی توکم از کم ان کی میتیں اور زخمیوں کوہی واپس لے آئے۔
میں حکمرانوں سے کہتاہوں کہ اگرآپ اپنے شہریوں کا ذرہ برابر بھی احساس ہے تو آپ قزاقوں کے ظلم کانشانہ بننے والے پاکستانی ��ملے کے ماں باپ، بیوی بچوں کی فریادوں پرتوجہ دیں، شہیدوں کی میتوں کو اور زخمیوں کوفی الفور وطن واپس لانے کے اقدامات کریں تاکہ ان کی مظلوم فیملیزان کودیکھ سکیں، شہیدوں کی تدفین کرسکیں اورزخمیوں کاعلاج کراسکیں۔ یہ آپ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
الطاف حسین
30ستمبر 2026ء
On September 30, 1988, Hyderabad experienced a mini apocalypse.
#سانحہ_حیدرآباد_30ستمبر
Whenever we have the authority, we will ensure that those responsible for the #Hyderabad tragedy face justice.
This was stated during the address commemorating the 38th anniversary of the tragic event.
..........
On September 30, 1988, thirty-eight years ago, Hyderabad, the second largest city in #Sindh, experienced a night of chaos that felt like a mini apocalypse. That evening, a group of armed men in ten vehicles stormed into the city, unleashing a barrage of gunfire on unsuspecting citizens across various neighborhoods. Anyone who crossed their path became a target. For half an hour, the shooting went on, and shockingly, neither the police nor any local authorities showed up. The commissioner, deputy commissioner, SDM, and the entire administration just vanished from sight.
Over 200 innocent people lost their lives, and many more were injured, including youths, the elderly, women, and children. The streets of Hyderabad were tragically marked by the blood of the #Muhajirs.
This wasn’t the first time such violence occurred; similar attacks had happened in #Karachi during General Ayub Khan's rule, resulting in the deaths of many innocent Muhajirs. The same kind of brutality was seen during Zulfikar Ali Bhutto's government as well.
On December 14, 1986, there were similar attacks in Aligarh Colony and Qasba Colony in Karachi, leading to a tragic massacre of the Muhajirs.
As these attacks persisted, Altaf Hussain urged the Muhajirs to get licenses and keep weapons for their safety and to protect their belongings. Even today, I encourage the Muhajirs to take steps to ensure their survival.
The Prophet of Islam, Hazrat Muhammad Mustafa ﷺ, taught his Companions the importance of being prepared and even shared insights on where to find the best arrows and swords.
As we mark the 38th anniversary of the tragic events in Hyderabad on September 30, 1988, I want to pay my respects to the martyrs and extend my heartfelt condolences to their families. I assure them that when we have the opportunity, we will ensure that those responsible for these acts are brought to justice.
I strongly condemn those biased individuals who point fingers at the @OfficialMQM and Muhajirs for the Hyderabad tragedy. It's absurd that the victims of the massacre were Muhajirs, yet we are still being blamed. I want to ask: when the linguistic bill was introduced in the Sindh Assembly during Bhutto's time in 1972, who sparked the riots across Sindh? Did the MQM even exist back then? Was Altaf Hussain involved in politics at that time?
People who spread false accusations about MQM and Altaf Hussain on social media: have they ever actually witnessed Altaf Hussain or the MQM committing acts of terrorism? When questioned, their response is often that they just heard it from someone else.
People who make these accusations are often just passing along rumors, but do they really understand what took place in Hyderabad on September 30, 1988? This kind of hateful mindset has only stoked the flames of animosity and bias in our country. The tragic massacre of the Muhajirs in Hyderabad that day was meant to instill fear in them. Yet, we stood strong then, and we will continue to stand strong today.
I want to honor the martyrs of the Hyderabad tragedy and pray that Allah Almighty accepts their sacrifices. May their blood be a source of blessing that helps us succeed in our goals.
Altaf Hussain.
London. UK.
Public address on the occasion of 38th anniversary of the martyrs of the Hyderabad tragedy on September 30, 2026.
دنیامیں کہیں بھی کوئی بھی انقلاب پرامن طریقے سے نہیں آیا، ہرجگہ ظالم ومظلوم، حاکم ومحکوم، قابض قوتوں اورمقبوضہ عوام کے درمیان لڑائی کے بعد ہی انقلاب آیاہے اورمقبوضہ قوموں کو آزادی حاصل ہوئی ہے۔
18ویں صدی تک ام��یکہ برطانوی سلطنت کی کالونی تھا،امریکہ کے عوام سرجھکا کر برطانوی سلطنت کے ظلم کوبرداشت کرتے رہے، لیکن پھر1775ء میں امریکہ کے عوام نے سلطنت برطانیہ سے آزادی کے لئے جدوجہد شروع کردی، اس دوران باقاعدہ گھمسان کی جنگ ہوئی، یہ جنگ تقریروں اوروعظوں سے نہیں بلکہ بندوقوں سے ہوئی۔امریکہ کی اس جدوجہد آزادی کو Revolutionary War of Independence کہا جاتا ہے۔
اسی طرح برطانوی سلطنت سے آزادی کے لئے برصغیر کی جنگ آزادی برسوں تک جاری رہی۔ اسی طرح بلوچ عوام بھی 1948ء سے بلوچستان کی آزادی کے لئے لڑرہے ہیں جسے 1948ء میں فوجی طاقت کے ذریعے پاکستان میں شامل کیاگیاتھا اوراس کے ��لاف مزاحمت کرنے پر بلوچوں کوقتل کیا گیا، انہیں پھانسیاں دی گئیں۔ اگرامریکہ کی آزادی کی جنگ کوRevolutionary War of Independence کہہ سکتے ہیں تو پھر بلوچوں کی اس جنگ کو Revolutionary War of Independence کوکیوں نہیں کہا جاسکتا؟ بلوچ عوام کہتے ہیں کہ ان کی سر زمین پر زبردستی قبضہ کیا گیا ہے لہٰذا تمام ایجنسیاں بلوچستان سے نکل جائیں، بلوچستان سے قبضہ ختم کیاجائے اور بلوچستان کو آزاد کردیا جائے۔ جوبلوچ مزاحمت کاراپنی آزادی کے لئے ہتھیار اٹھائے ہوئے، ان بلوچوں کو”فریڈم فائٹر“کے بجائے غداراورملک دشمن کیوں قرارد یاجاتا ہے؟ انہیں فتنہ الہندوستان کیوں کہا جاتاہے؟
دنیامیں جہاں بھی کوئی ریاست ماورائے آئین وقانون کام کرے، ریاست کے ادارے کسی بھی قوم کے لوگوں پرظلم ڈھائیں، ان کے نوجوانوں کوقتل کریں،ان کے گھروں میں داخل ہوکران کے بزرگوں اور بچوں پر تشدد کریں، ان کی ماؤں بہنوں کے سروں سے چادریں کھینچیں،ان کی بے حرمتی کریں، ان کی حرمت اورتقدس پامال کریں اورکسی قوم کو دبانےکےلئے ماورائے قانون عمل کریں تواس عمل کے خلاف لوگوں کی جانب سے بھی ”سائیکو ری ایکشنری ایکشن“ Psycho Reactionary Action یعنی نفسیاتی ردعمل ہوتا ہے اوراس نفسیاتی ردعمل میں لوگ قانون ہاتھ میں لے لیتے ہیں۔ یہ ردعمل نیوٹن کے تیسرے قانون حرکت Third Law of Motion کے تحت ہوتاہے، یعنی ہرعمل کا ردعمل ہوتاہے اورمخالف سمت میں ہوتا ہے۔ہرایکشن کاری ایکشن ہوتاہے، یعنی اگرآپ قانون کے خلاف کسی کے ساتھ زیادتی کریں گے تو زیادتی کانشانہ بننے والے بھی خلاف قانون ردعمل کا اظہار کرتے ہیں، پتھرمارتے ہیں، یاردعمل میں کچھ بھی کرتاہے، دنیامیں ہرجگہ اسی طرح نفسیاتی ردعمل ہوتا ہے۔ اگردنیامیں کہیں بھی کوئی انقلاب آتا ہے تو اس کے پیچھے عوام کا ”سائیکو ری ایکشنری ایکشن“ Psycho Reactionary Action یعنی نفسیاتی ردعمل کارفرما ہوتا ہے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر فکری نشست نمبر478 سے خطاب
2، اکتوبر2026ء
عدالتوں کے فیصلوں کے پرخچے اڑائے جارہے ہیں پھربھی مذاکرات، مذاکرات کا کھیل کھیلا جارہا ہے،
اگرمذاکرات ہرمسئلہ کاحل ہوتے تو پھر دنیا میں کہیں بھی جنگیں نہیں ہوتیں۔ الطاف حسین
………………………………
صوبہ بلوچستان اورصوبہ خیبرپختونخوا سمیت پورے ملک میں امن عامہ کی صورتحال سب کے سامنے ہے، کہنے کو ملک میں جمہوریت ہے میڈیا کا کردار وہی ہے جو مارشل لا دور میں ہوا کرتا ہے، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں وہی نشر وشائع کیاجاتا ہے جو حکومتِ وقت چاہتی ہے، تمام ٹی وی چینلز پر جوٹاک شوز اور تجزیئے پیش کیے جاتے ہیں وہ عموماً طےشدہ ہوتےہیں کہ کس موضوع پر کیا کہنا ہے اور ریڈلائن کیا ہوگی۔
میرا کام پاکستان کے عوام کے سامنے سچ کہنا ہے چاہےکسی ک�� اچھا لگےیا برا لگے�� حقیقت یہ ہے کہ اس وقت ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت تحریک انصاف کے بانی عمران خان اپنے ساتھیوں کے ہمراہ تین برسوں سے جیل میں قید ہیں، 9،مئی2023ء کے کیسوں میں عمران خان اور ان کے ساتھی تو جیلوں میں قید ہیں لیکن انہی مقدمات میں ملوث پی ٹی آئی کے وہ رہنماء جو جیل میں قید تھے لیکن جب انہوں نے پریس کانفرنس کرکے تحریک انصاف اور عمران خان سے لاتعلقی کا اعلان کیا تو انہیں رہا کردیا گیا، کتنے اخبارات نے جرات کرکے کھل کر اس پر اداریئے لکھے جب یہ لوگ بھی مقدمات میں ملوث ہیں توپھر عمران خان سے علیحدگی کااعلان آرام سے اپنے گھرکیسے چلےگئے؟ کتنے ٹی وی چینلز نے اس اہم نکتہ پر کھل کراظہارخیال کیا؟
18، اگست2026ء کو سپریم کورٹ کی جانب سے حکمنامہ جاری کیا گیا کہ عمران خان صاحب کو دوروز کے اندراندر شفاانٹرنیشنل اسپتال اسلام آباد منتقل کیاجائے اورمیڈیکل بورڈ تشکیل دیکر ان کامکمل طبی معائنہ کرایا جائے۔ ��دالت عظمیٰ کے اس حکم کے بعد کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ حکومت ملک کی سب سےبڑی عدالت کے فیصلے پر عملدرآمد نہ کرے لیکن سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود موجودہ حکومت، عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال کے بجائے پمز اسپتال لے گئی اور ایک گھنٹے بعد انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کردیا۔ ملک کی آخری امید عدالت عظمیٰ ہوتی ہے، موجودہ حکومت نے عدالت عظمیٰ کافیصلہ نہیں مانا لیکن اس حکومتی عمل کےخلاف ٹی وی چینلز کے کسی بھی تجزیئے میں یہ نہیں کہا گیا کہ عدالتی حکم عدولی پر موجودہ حکومت کو فی الفور برطرف کردینا چاہیے اور وزیراعظم سمیت پوری وفاقی کابینہ کو توہین عدالت کے جرم میں گرفتارکیا جانا چاہیے۔
تحریک انصاف کی جانب سے 27 ستمبر 2026ء کو لانگ مارچ کا اعلان کیا گیا لیکن پھر لانگ مارچ ملتوی کردیا گیا اور اب 4، اکتوبر2026ء کو لانگ مارچ کرنے کااعلان کیا گیا ہے اور اس دوران پی ٹی آئی کے رہنماؤں اورحکومتی ارکان میں مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔کہا جارہا ہے کہ تحریک انصاف کے متعدل مزاج رکھنے والوں کے ذریعے مذاکرات کیے جارہے ہیں اورمعتدل مزاج رکھنے والوں کی کوئی ریڈ لائن نہیں ہوتی بلکہ ایسا مزاج رکھنے والا چاہتا ہے کہ کسی بھی طریقے سے مذاکرات کامیاب ہوجائیں اورہم وہی فیصلہ کریں جو حکومت چاہتی ہے اور اس طرح ہم لانگ مارچ ایک مرتبہ پھر ملتوی کردیں۔
عمران خان صاحب کے بنیادی نکات یہی ہیں کہ ہمیں ہرطرح سے آزادی چاہیے تاکہ ہم اپنے فیصلے خود کرسکیں اور کوئی ہمیں ڈکٹیشن دینے والا نہ ہو۔ میں پی ٹی آئی کے لوگوں سے سوال کرتا ہوں کہ عمران خان کو جیل میں قید ہوئے تین سال ہوچکے ہیں لیکن انکے چاہنے والوں نے ابھی تک احتجاجی سیاست کیوں نہیں کی؟ PTI کےرہنما کیوں کہتے ہیں کہ ہمیں احتجاجی سیاست کے بجائے مذاکرات کرنے چاہئیں؟ کیا دنیا کے بڑے مسائل مذاکرات کےذریعے حل ہوئے ہیں؟ جہاں عوامی حکومتوں کی آواز کو بندوق کے ذریعے دبایاجاتا ہو، عدالتوں کے فیصلوں کے پرخچے اڑائے جاتے ہوں اس ملک میں باربارمذاکرات کا کیا نتیجہ نکلا؟ کیا سپریم کورٹ اوراسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلوں پر عملدرآمد کیا گیا؟ پھربھی مذاکرات، مذاکرات کا کھیل کھیلا جارہا ہے، اگرمذاکرات دنیا میں ہر مسئلہ کاحل ہوتے تو پھر دنیا میں کہیں بھی جنگیں نہیں ہوتیں۔
1/2
وزیراعظم شہباز شریف نے آج صومالیہ میں قزاقوں کےہاتھوں شہید ہونےوالے پاکستانیوں کے اہل خانہ کو ایک کروڑ 25 لاکھ روپےکی مالی معاونت کرنے،انہیں رہائش اور انکے بچوں کو مفت تعلیم فراہم کرنےکا اعلان کیا ہے۔بہت شکریہ۔
کاش کہ وزیراعظم صاحب ان صومالی قزاقوں کو تاوان کی رقم اداکردیتےتو یہ پاکستانی زندہ واپس آجاتے، یہ پیسے، اور یہ امداد کئی گنا بھی دیدی جائے تو وہ بھی ان فیملیز کے پیارے واپس نہیں آسکتے۔
وزیراعظم صاحب ! ان شہیدوں کے اہل خان�� آپ سے صرف یہ چاہتے ہیں کہ ان کے شہیدوں کی میتیں اور زخمی جلد از جلد ان تک پہنچادیں
30ستمبر 1988ء کو حیدرآباد میں قیامت صغریٰ بپاکی گئی تھی۔
جب بھی اختیارملا، قاتلوں کوانصاف کے کٹہرےمیں لائیں گے۔سانحہ حیدرآباد کی 38 ویں برسی پرخطاب
#سانحہ_حیدرآباد_30ستمبر
آج سے 38برس قبل 30 ستمبر 1988ء کو سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں قیامت صغریٰ بپا کی گئی تھی۔ اس روز شام کے وقت 10 گاڑیوں میں سوار اسلحہ بردار حیدرآباد شہر میں داخل ہوئے، انہو ں نے شہر کے مختلف علاقوں میں شہریوں پر اندھا دھند فائرنگ کی،جو سامنے آیا اسے گولیوں کانشانہ بنایا گیا، آدھے گھنٹے تک یہ سلسلہ جاری رہا لیکن نہ پولیس، انتظامیہ پہنچتی ہے، کمشنر، ڈپٹی کمشنر، ایس ڈی ایم پوری انتظامیہ غائب ہوتی ہے۔200 سے زائد معصوم شہریوں کو شہیدکردیا جاتا ہے اور سینکڑوں زخمی ہوتے ہیں جن میں نوجوان، بزرگ، خواتین اوربچے شامل ہوتے ہیں، حیدرآباد کی سڑکیں مہاجروں کے خون سے رنگ دی جاتی ہیں۔ اسی طرح کے حملے جنرل ایوب خان کے زمانے میں کراچی میں بھی ہوئے تھے جن میں بڑی تعداد میں بے گناہ مہاجروں کوشہید کردیا گیا تھا، اسی طرح کے واقعات ذوالفقارعلی بھٹوکے دور حکومت میں بھی کرائے گئے۔ 14دسمبر1986ء کواسی طرح کراچی میں علی گڑھ کالونی اورقصب کالونی میں پر بھی حملے کرکے مہاجروں کا قتل عام کیا گیا تھا۔جب اسی طرح کے حملے ہوتے رہے تو الطاف حسین نے ڈنکے کی چوٹ پر مہاجروں سے کہا تھا کہ وہ اپنی جان ومال کے تحفظ کے لئے لائسنس بنوائیں اوراسلحہ رکھیں اورمیں آج بھی مہاجروں سے کہتا ہوں کہ وہ اپنی بقا کا سامان کریں۔ امام الانبیا حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ نے بھی صحابہ کومسلح ہونے کادرس دیا اوریہاں تک بتایا کہ ک��اں کے بنے ہوئے تیراورتلواریں اچھی ہوتی ہیں۔
میں سانحہ حیدرآباد 30ستمبر1988ء کے شہدا کی 38ویں برسی پر شہیدوں کوخراج عقیدت پیش کرتا ہوں اوران کے لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہارکرتاہوں اوران سے وعدہ کرتا ہوں کہ جب بھی ہمیں اختیارملا، ہم قاتلوں کوانصاف کے کٹہرے میں لائیں گے۔
میں ان متعصب لوگوں کی بھی مذمت کرتا ہوں جو سانحہ حیدرآباد کا الزام بھی ایم کیوایم اور مہاجروں پر لگاتے ہیں، یہ مذاق ہے کہ قتل عام بھی مہاجروں کاہواورالزام بھی ہمی پر لگایاجائے۔ میں سوال کرتاہوں کہ جب 1972ء میں بھٹوکے زمانے میں سندھ اسمبلی میں لسانی بل پیش کیا گیا تھااس وقت پورے سندھ میں فسادات کس نے کرائے تھے؟ کیااس وقت ایم کیوایم موجود تھی؟ کیااس وقت الطاف حسین میدان سیاست میں تھا؟جولوگ مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمزپر بیٹھ کرایم کیوایم اور الطاف حسین پرجو جھوٹ اور من گھڑت الزامات لگاتے ہیں، کیا انہوں نے اپنی آنکھوں سے الطاف حسین یا ایم کیوایم کو دہشت گردی کرتے دیکھا ہے؟ ان سے پوچھو تو جواب دیتے ہیں کہ ہم نے فلاں سے سناہے۔ الزامات لگانے والے سنی سنائی باتیں توبیان کرتے ہیں لیکن کیا انہیں معلوم ہے کہ 30 ستمبر 1988ء کوحیدرآبادمیں کیا ہوا تھا؟ اسی قسم کی نفرت انگیزسوچ نے ملک میں نفرت اورعصبیت کی آگ بھڑکائی ہوئی ہے۔
30ستمبر 1988ء کوحیدرآباد میں مہاجروں کاقتل عام اسی لئے کیا گیا تھا تاکہ مہاجروں کو خوفزدہ کردیا جائے لیکن ہم نہ کل خوفزدہ ہوئے تھے اورنہ آج خوفزدہ ہوں گے۔میں سانحہ حیدرآباد کے شہدا کوخراج عقیدت پیش کرتاہوں اوردعا کرتاہوں کہ اللہ تعالیٰ شہیدوں کی قربانیوں کوق��ول فرمائے اوران کے لہوکی بدولت ہمیں اپنے مقصد میں کامیابی عطافرمائے۔
الطاف حسین
سانحہ حیدرآباد کے شہدا کی 38ویں برسی پر خطاب
30ستمبر 2026ء
سینئر صحافی اور معروف تجزیہ نگار مبشر فاروق نے ثبوت وشواہد کے ساتھ منشیات کی اسمگلنگ اور پیپلزپارٹی کے سابق وزیرداخلہ ذوالفقار مرزا کے گھناؤنے کردار کو بے نقاب کیا ہے*
*براہ کرم اس معلوماتی اور تحقیقی پروگرام کو ضرور سنیں اور زیادہ سے زیادہ شیئر بھی کریں۔
*شکریہ*
https://t.co/fwahM6rXd4
صومالی قزاقوں کی فائرنگ سےپاکستانی عملےسمیت پانچ افرادکی شہادت بڑاسانحہ ہے۔
ریاست پاکستان کا فرض تھا کہ وہ اپنے شہریوں کو بچانے کیلئے تاوان کاانتظام کرتی لیکن اس نے ایسانہیں کیا۔
جو پاکستانی مغوی شہیدہوئے ہیں ان کاخون وفاقی اورصوبائی حکومتوں کے سرجاتاہے۔
کراچی کے شہری،وفاپرست ساتھی اورہمدرد غمزدہ فیملیزکاغم بانٹیں، شہیدوں کی تجہیزوتکفین کے انتظامات میں حصہ لیں۔
صومالی قزاقوں کی فائرنگ سے پاکستانی شہریوں کی ہلاکت پرہنگامی خطاب
……………………………
صومالی قزاقوں کی جانب سے ہائی جیک کئے گئے تیل بردارجہاز کے یرغمال عملے کے شہیدوزخمی ہونےکاواقعہ ا��ک بڑا سانحہ ہے اورمیں اس سانحہ میں شہیدو زخمی ہونے والوں کی فیملیز کے ایک ایک فرد سے دلی تعزیت کااظہارکرتاہوں اور اس سانحے پرمیں ان کے ساتھ ہوں۔
تیل لےجانے والاجہاز جس کانام ” آنر“ HONOUR تھا۔جس پرسوار عملے کی تعداد 17 تھی۔جہاز کے عملے میں 17میں سے 10 افراد کاتعلق پاکستان سےتھا جبکہ عملے کے باقی سات ارکان کاتعلق انڈونیشیا، انڈیا، سری لنکااوربرما سے تھا۔ یہ جہاز متحدہ عرب امارات سے صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو جارہاتھا۔ 24 اپریل 2026ء کو جب یہ جہازصومالیہ کےسمندری علاقے میں پہنچاتو صومالی قزاقوں نے اس جہازکو ہائی جیک کرلیا۔ صومالی قزاقوں کی جانب سے یرغمالیوں کی رہائی کےلئے تاوان مانگا گیا تھا۔لیکن حکومت پاکستان نے سنی ان سنی کردی۔ جہاز کے پاکستانی عملے کے ارکان کی فیملیز نے حکومتی شخصیات سے ملاقاتیں کرکے فریادیں کیں کہ ان کے پیاروں کی بازیابی کے لئے کوششیں کی جائیں۔ افسوس کہ وفاقی اورصوبائی حکومتوں نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی۔آج مورخہ 29ستمبر 2026ء کویہ افسوسناک اطلاع ملی کہ بحری قزاقوں اورصومالیہ کے فوجیوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا اورقزاقوں نے جاتے جاتے فائرنگ ک��کے کئی مغویوں کو شہیدوزخمی کردیا۔قزاقوں کی فائرنگ سے جہاز کے عملے کے پانچ ارکان شہید اورچار شدیدزخمی ہوگئے۔جن میں تین پاکستانی سیکنڈ آفیسر کاشف عمر، تھرڈانجینئر محمودانصاری، بوائلرآپریٹر رفیع اللہ شامل ہیں جبکہ ایک انڈین اورایک میانمار کاشہری شامل ہے۔
یہ ایک بہت بڑاسانحہ ہے اورمیں اس سانحے پر بہت دکھی اورغمزدہ ہوں۔میں سوال کرتا ہوں کہ اگرکسی ملک کاکوئی جہازہائی جیک کرلیاجائے تواس ملک کی وزارت بحری ام��ر، پورٹس اینڈشپنگ اور وزارت خارجہ حرکت میں آتی ہے، جو دوسرے ملک کی حکومتوں اور سفارتخانوں کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کی میری ٹائم فورسزاوردیگرمتعلقہ اداروں سے رابطے کرتی ہیں اورسفارتی سطح پر تمام تروسائل اورتعلقات استعمال کرکے اپنے یرغمالی شہریوں کی بازیابی کےلئے کوششیں کرتی ہیں۔ حکومت پاکستان کوبھی چاہیے تھاکہ وہ صومالی قزاقوں کے ہاتھوں ہائی جیک کئے گئے جہازکے پاکستانی عملے کی بحفاظت واپسی کے لئےتمام تر حکومتی اور سفارتی سطح پر فوری اقدامات کرتی، قزاقوں سے رابطے کرتی، ان پر سفارتی دباؤ ڈلواتی، اپنے شہریوں کی جان بچانے کےلئے تاوان کی ادائیگی کا انتظام کرتی۔لیکن افسوس کہ حکومت پاکستان نے ایسانہیں کیا۔جب مجھ پر پابندی نہیں لگی تھی اور ایسے ہی ایک پاکستانی جہازکے عملے کو صومالی قزاقوں نے یرغمال بنالیاتھاتومیں نے یہ سب کوششیں کرکے عملے کی بحفاظت پاکستان واپسی کروائی تھی۔ اگریہ سب کچھ میں کرسکتا تھا توحکومت نے کیوں نہیں کیا؟ یہ وفاقی وصوبائی حکومتوں کی ذمہ داری نہیں تھی توکس کی ذمہ داری تھی؟ ریاست کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنے مغوی شہریوں کوچھڑانے کے لئے سرکاری خزانے سے رقم اداکرکے انہیں بحفاظت واپس لیکرآئے لیکن پانچ مہینے تک کسی نے نہیں سنا۔ یہ موجودہ حکمرانوں کی بے غیرتی اوربے شرمی ہے کہ اپنے شہریوں کی جانیں بچانے کے لئے ان کے خزانے میں پیسے نہیں لیکن وزیراعلیٰ پنجاب کے لئے انتہائی لگژری جیٹ گلف اسٹریم G500 خریدنے کے لئے 45سے 50 ملین امریکی ڈالر نکل آئے جولگ بھگ پاکستانی 13سے 14ارب روپے بنتے ہیں۔ جوپاکستانی یرغمالی شہیدہوئے ہیں ان کا خون وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے سرجاتاہے۔
یہ موجودہ حکومت کی غفلت اور بے حسی ہے کہ جہازکے مغویوں کی فیملیز نے جب حکمرانوں سے درخواستیں کیں، کسی نے توجہ نہیں دی۔ اتوار 6 ستمبر کو یرغمالی عملے کی مظلوم فیملیزنے مجبورہوکر کراچی میں شاہراہ فیصل پر واقع پاکستان کی وزارت خارجہ کے رابطہ دفتر کے سامنے پلے کارڈز لیکر دریاں بچھاکردھرنا دیدیا کہ وفاقی حکومت ان کے پیاروں کی رہائی کے لئے فوری اقدامات کرے، لیکن ان کی فریادسننے کے بجائے پیر7 ستمبر کی صبح سندھ پولیس نے ان فیملیز کوجن میں خواتین، بزرگ، نوجوان شامل تھے،ان کےپلے کارڈز پھاڑے، دریاں پھاڑدیں اوران سب کو گرفتار کرکے تھانے میں بند کردیا۔ سندھ پولیس اورحکومت کوایسا کرتے ہوئے ذرہ برابر بھی شرم نہیں آئی۔ یہ س��دھ پولیس والے ڈاکو ہیں، ڈاکوؤں کے سردارہیں،
1/2
London میں الطاف حسین نے ایم کیو ایم کے ابتدائی دور سے مقبول اشعار دہراتے ہوئے اپنی جانب سے چند جملے بھی شامل کیے۔ یہ پیغام کس کے لیے تھا، معلوم نہیں—مگر انداز نے کئی سوال ضرور چھوڑ دیے۔
شعر تھا یا کسی کے نام سیاسی پیغام؟
#AltafHussain#MQM#MQMLondon#PakistanPolitics#Jago
حیدرآباد میں جو خواتین سر پہ قرآن لیکر اپنے لوگوں کی جان بخشی کی فریاد کر رہی تھیں نسل پرستوں نے حکومتی سرپرستی میں فائرنگ کر کے دونوں کی بے حرمتی کی ،آفر��ن ہے ان پہ جنھوں نے تمام قدغنوں پابندیوں کے باوجود ۳۸ سال گزرجانےکے بعد آج بھی اس واقعہ ،اپنے شہداء کو زندہ رکھا ہوا ہے
کراچی میں لائنز ایریا کے بعد دہلی کالونی کے علاقے میں بھی شرپسند جعلی وکلا کی دہشت گردی اور غنڈہ گردی کا ایک اور واقعہ :
کئی روز تک دکان سے بغیر پیسے دیئے سامان لے جاتے رہے ، پیسے کا مطالبہ کرنے پر دکاندار کو مارا پیٹا اور مزید مسلح غنڈے بلواکر دکان کو آگ لگادی۔
پولیس نے ان دہشت گرد جعلی وکلا اور ان کے ساتھیوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی اسلئے کہ پولیس اور یہ دہشت گرد جعلی وکلا آپس میں ایک ہیں۔
پیپلزپارٹی کی نسل پرست حکومت سندھ نے بھی کراچی پولیس کو یہ پالیسی دے رکھی ہے کہ ان شرپسند جعلی وکلا اور ان کے دہشت گرد گینگز کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی جائے بلکہ ان کی مکمل معاونت کی جائے۔
یہ غنڈہ گردی کراچی بار اور سندھ بار سے نکل کر اب کراچی کے علاقوں میں پھیل رہی ہے، اگر حکومت سندھ نے اس سلسلے کو نہیں روکا تو یہ سلسلہ ایک روز شہر میں فساد برپا کرنے کا سبب بنے گا
یہ ویڈیو ان لوگوں کیلئے ہے جو قیام پاکستان سے چار سال پہلے ایک قرارداد پاس کر کے منزل کے قریب پہنچتی بس میں چڑھے اور اب ہر دوسرے دن اس قرارداد کو بھیک منگے کے ہاتھ میں ایکسرے کی طرح لے کر سوشل میڈیا پر آ جاتے ہیں۔
ہمارے دوست طارق حبیب نے یہ ویڈیو فیس بک پر شیئر کی ہے خدا جانے کس نے یہ ویڈیو بنائی مگر یقین کریں کراچی کے لوگ کس طرح زندگی گزارتے ہیں اس ویڈیو میں اس کی مکمل درست عکاسی کی گئی
اس شہر میں رہنا کتنا مشکل ہوگیا ہے اس ویڈیو میں دیکھ لیں
قائدِ تحریک الطاف حسین نے سالگرہ پر جانثاروں کے نذرانے کی رقم اسی نوجوان گلوکار کو دے دی جس نے گا کر مبارکباد پیش کی مخالفین نے ادھورا کلپ کاٹ کر وائرل کر دیا: "دیکھو رقم سمیٹ کر لے جا رہا ہے۔" میں خود اس لمحے کا چشم دید گواہ ��ھا۔ یہ رہی مکمل ویڈیو
@AltafHussain_90 @azizabadi