اقتدار میں آتے ہی ہر حکمران کو سوشل میڈیا سے مسئلہ ہونے لگتا ہے۔ سہیل آفریدی اگر آج وزیر اعلیٰ ہیں تو اس میں بڑا ہاتھ اسی سوشل میڈیا کا ہے، جسے وہ کل تک 'پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ' کہتے تھے۔
آج وہی سوشل میڈیا جب ان سے عمران خان کی رہائی، بھائی کے سیکرٹریٹ میں عمل دخل اور ٹھیکوں کی منصفانہ تقسیم پر سوال کر رہا ہے، تو انہیں یہی سوشل میڈیا 'انتشاری' لگنے لگا ہے۔
First all PTI leaders MNAs MPAs Senators and specially CM KPK Sohail Afridi pay in advance, why people and workers give money for tehreek, if you back again from tehreek how you will refund money to people's and workers
جنید اکبر صاحب کو رونے دھونے اور بہانے بنانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اب بہانوں کے بجائے عملی اقدامات کریں۔
ان کے تمام دوست کرب پتی ہیں؛ عاطف خان، سینیٹر ذیشان ، فضل محمد خان، انور تاج، شہرام ترکئی اور اسد قیصر پنجاب سے زین قریشی، عون بپی، اس طرح سندہ کے ایم این اے اور سینیٹرز سب کے سب انتہائی مالدار لوگ ہیں۔
یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے عمران خان کے نام پر ۱۵، ۱۵ سال حکومت کی، وزارتوں کے مزے لیے اور مراعات حاصل کیں۔ ان کے لیے ۵۰ کروڑ روپے دینا کوئی بڑی بات نہیں۔ انکے علاوہ تمام ایم این اے اور ایم پی اے صرف ایک ایک کروڑ روپے بھی دیں تو ۵۰ ارب روپے آسانی سے جمع ہو سکتے ہیں۔
عمران خان صاحب کو فوری، مؤثر اور مستقل طبی علاج کی ضرورت ہے۔ ان کی صحت کے معاملے پر کسی قسم کی غفلت یا تاخیر قابلِ قبول نہیں۔
27 ستمبر کے لیے بھرپور تیاری کریں، لیکن اس سے پہلے عمران خان صاحب کی صحت اور ان کے فوری علاج کے حق میں بھرپور، مؤثر آواز بلند کریں۔
سب عمران خان کے نام پر دکانیں چمکا رہے ہیں. بیرسٹر گوہر گروپ عاصم منیر کے لیے کام کرتا ہے. اب تو مولانا ڈیزل بھی گواہی دے رہا ہے.
بیرسٹر گوہر استیفہ دو.
#ReleaseImranKhanNow
منڈی بہاؤالدین کے حلقہ NA-68 سے پاکستان تحریکِ انصاف کے منتخب رکنِ قومی اسمبلی حاجی امتیاز احمد چوہدری کو اسلام آباد سے پشاور جاتے ہوئے مبینہ طور پر اغوا کیا جانا انتہائی تشویشناک اور قابلِ مذمت واقعہ ہے۔ہم حاجی امتیاز احمد چوہدری کی فوری بازیابی، واقعے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ اس بار پوری قیادت کو بھی گرفتار ہونا پڑا تو گرفتار ہونا ہے،
پھر قوم نکلے گی اور واپسی نہیں ہوگی۔
اے بی سی ڈی پلان پر عمل کیا جائے گا تو اس دفعہ قیادت بھی گرفتاریوں کے لیے تیار رہے۔