کچھ عرصہ پہلے ہم بڑے فخر سے کہتے تھے کہ پاکستان فری لانسنگ میں آگے بڑھ رہا ہے… نوجوان گھروں میں بیٹھے ملک کے لیے اربوں ڈالر کما رہے ہیں۔ لیکن آج کا سچ کچھ اور ہے…جو تھوڑا تلخ بھی ہے… اور دلوں کو ہلانے والا بھی۔
ہم نے ایک بڑی غلطی کی۔
ہمارے ہزاروں نہیں، لاکھوں لڑکوں نے یونیورسٹی جانا چھوڑ دیا۔
میٹرک اور انٹر کے بعد ہی انہوں نے سمجھ لیا کہ اب شارٹ کٹ سے پیسے کمانے ہیں۔
انہیں لگا کہ ڈگری کی ضرورت نہیں…
محنت کی ضرورت نہیں…
بس چند آسان چیزیں سیکھ لو اور کمانا شروع کر دو۔
ہر طرف ایک ہی آواز تھی:
“آن لائن کماؤ… جلدی کماؤ… آسان کماؤ…”
انہیں بتایا گیا:
لوگو بنا لو…
بیک گراؤنڈ ہٹا لو…
کاپی پیسٹ کر لو…
ویڈیوز بنا لو…
اور یہی کہا گیا:
“بس یہی سیکھ لو… زندگی سیٹ ہے”
اور وہ بھیڑ چال میں اسی راستے پر چل پڑے۔
انہیں لگا کہ یہی اصل قابلیت ہے… یہی کامیابی ہے۔
لیکن آج حقیقت بدل چکی ہے۔
وہی آسان کام…
جو کل تک کمائی کا ذریعہ تھے…
آج چند سیکنڈ میں اے آئی کر رہا ہے۔
اور کلائنٹ اب ان کاموں کے لیے کسی کو ہائر ہی نہیں کرتا۔
دوسری طرف حالات مزید سخت ہو گئے ہیں۔
فائیور (Fiverr) پر مقابلہ اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ ریٹس نیچے آ گئے ہیں…
ہر دوسرا بندہ وہی آسان کام لے کر کھڑا ہے…تو ویلیو ختم ہو گئی ہے۔
اپ ورک (Upwork) پر بھی کہانی بدل چکی ہے۔
کنیکٹس مہنگے ہو گئے ہیں…
بڈنگ مشکل ہو گئی ہے…
اور الگورتھم اب صرف انہی لوگوں کو اوپر لاتا ہے جن کی ہسٹری مضبوط ہو۔ نئے بندے کے لیے جگہ بنانا اب پہلے جیسا آسان نہیں رہا۔
اور ایک خاموش حقیقت…
بہت سے اکاؤنٹس بند ہوئے…
سخت پالیسیاں آئیں…
اور خاموشی سے ہزاروں لوگ مارکیٹ سے باہر ہو گئے۔
کوئی شور نہیں… کوئی خبر نہیں…
بس لوگ ایک ایک کر کے غائب ہوتے گئے۔
نتیجہ یہ نکلا کہ ہزاروں نہیں… لاکھوں نوجوان جو انہی آسان کاموں پر کھڑے تھے…
آج فری لانسنگ سے بھی باہر ہیں…
اور تعلیم سے بھی دور ہو چکے ہیں۔
بیچ راستے میں کھڑے ہیں…
یہ سب اچانک نہیں ہوا۔
ہم نے خود شارٹ کٹ سکھایا…
ہم نے آسان راستہ دکھایا…
ہم نے خواب تو بیچے…
لیکن حقیقت نہیں بتائی۔
اور یہاں ایک بات بہت صاف کہنا چاہتا ہوں…
میں کسی انفلوئنسر یا کسی سیاسی جماعت پر تنقید نہیں کرنا چاہتا…
لیکن نوجوانوں کو راستہ دکھانا، ان کے مستقبل کی رہنمائی کرنا…
یہ کام ماہرِ تعلیم، پروفیسرز اور اساتذہ کا ہے۔ یہ کام انہیں ہی کرنے دیں۔
فالوورز بڑھانے اور بڑا اجتماع کرنے کے اور بھی راستے ہوتے ہیں…
یہ آپ کا کام نہیں کہ بھولے بھالے اور معصوم بچوں کے کیریئر سے کھیلیں۔
آج وہی نوجوان کھڑا ہے… اور پوچھ رہا ہے:
میں کہاں جاؤں؟
میں کیا کروں؟
یہ صرف فری لانسنگ کا مسئلہ نہیں رہا…یہ اب ہمارے معاشرے کا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔
ہمیں رک کر سوچنا ہوگا…
ہم اپنے بچوں کو کیا سکھا رہے ہیں؟
ہم انہیں کس راستے پر ڈال رہے ہیں؟ کیا ہم انہیں وقتی کمائی دے رہے ہیں…
یا ایک مضبوط مستقبل؟
یہ وقت ہے سچ دیکھنے کا…
سچ ماننے کا…
اور سچ بولنے کا۔
دنیا بدل چکی ہے۔ اب بچوں کو دھوکے میں رکھنا بند کریں…
انہیں حقیقت دکھائیں۔
انہیں سمجھائیں کہ زندگی کوئی شارٹ کٹ نہیں…
یہ ایک لمبی دوڑ ہے۔
سو میٹر کی دوڑ جیتنا آسان ہے…
لیکن میراتھن جیتنے کے لیے سالوں کی تیاری لگتی ہے۔
اگر ہم نے آج خود کو اور اپنی سوچ کو نہ بدلا…تو کل بہت دیر ہو جائے گی۔ لیکن اگر آج بات سمجھ آ گئی…
تو یہی مشکل وقت…
ایک نئی شروعات بھی بن سکتا ہے۔
-سہیل بلخی
Liftoff.
The Artemis II mission launched from @NASAKennedy at 6:35pm ET (2235 UTC), propelling four astronauts on a journey around the Moon.
Artemis II will pave the way for future Moon landings, as well as the next giant leap — astronauts on Mars.
کویت میں کچھ رہائشی مکانات کی تعمیر کا سلسلہ جاری تھا...
پاکستان کی ایک تعمیراتی کمپنی NC کو بھی چند سو مکانات کا ٹھیکہ دیا گیا۔
وہاں کام کرنے والے پاکستانی ملازمین نے اپنے رہائشی کیمپ میں اپنے لیے ایک عارضی مسجد بنا لی اور باجماعت نماز کا اہتمام کیا.... ....
چار پانچ ماہ بعد رمضان المبارک آگیا اور وہاں تراویح پڑھانے کی ضرورت محسوس ہوئی...
وہاں ان پاکستانیوں کے ساتھ ایک پاکستانی حافظ قرآن بھی موجود تھا مگر وہاں قانون کے مطابق تراویح پڑھانے والے حافظ صاحب حکومت سے طلب کئے جاتے ہیں...
حکومت کے بھیجے ہوئے حافظ صاحب کو کسی وجہ سے تین چار روز کی تاخیر ہو گئی تو پاکستانی حافظ نے تراویح پڑھانا شروع کر دیں....
حکومت کی طرف سے بھیجا گیا حافظ بھی وہاں پہنچ گیا اور اتفاق سے عین اس وقت پہنچا جب پاکستانی حافظ تراویح پڑھا رہا تھا....
تراویح ختم ہوئی تو عربی حافظ صاحب نے پاکستانی حافظ کو قریب بلایا اور کہا..
*’’من اعطاک صلاحیۃ تلعب مع کتابنا قران الکریم‘‘؟*
یعنی تمہیں کس نے یہ اختیار دیا کہ تم ہماری کتاب قرآن سے کھیل کھیلو؟
*"ھل ترید تخلص المصحف فی لیلۃ الواحدہ؟؟؟"*
کیا تم اسے ایک ہی رات میں ختم کرنا چاہتے تھے؟؟؟
پاکستانی حافظ صاحب حیران و پریشان ہو کر ادھر ادھر تکنے لگا...
ایک پاکستانی جو تھوڑی بہت عربی جانتا تھا، پاس آیا اور اس نے ترجمہ کر کے پاکستانی حافظ کو بتایا کہ عربی حافظ کیا پوچھ رہا ہے؟
پاکستانی حافظ نے جواب دیا میں نے کونسی غلطی کر دی..؟
عربی حافظ جواب میں بولا....
*’’ھل تقرون القران بھٰذا شکل مثل دراجہ الناریہ فت فت فت فت فت۔؟؟؟‘‘*
کیا تم لوگ قرآن کو اس طرح پڑھتے ہو جیسے موٹر سائیکل کی پھٹ پھٹ پھٹ پھٹ۔‘؟
اور مجھے ذرا یہ تو بتاؤ کہ تم کو تو میری زبان سمجھ آ نہیں رہی اور تم نے قرآن کیسے یاد کر لیا..؟
بولو..؟
کیا تم نے قرآن میں قرآن پڑھنے کے اصول نہیں دیکھے کہ قرآن کیسے پڑھا جاتا ہے.?
کیا تم نے یہ آیت نہیں پڑھی کہ:
*وَقُرْآناً فَرَقْنَاہُ لِتَقْرَأَہُ عَلَی النَّاسِ عَلَی مُکْثٍ وَنَزَّلْنَاہُ تَنزِیْلا* (سورہ الاسرا۔آیت106) :
اور ہم نے قرآن کو وقتاً فوقتاً اس لیے اتارا کہ تم مہلت کے ساتھ اسے لوگوں کو پڑھ کر سناؤ اور اس کا مطالب انہیں ذہن نشین کراؤ.
اور پھر ایک اور آیت نہیں دیکھی تم نے؟
’ورتل القراٰن ترتیلاً‘ (سورہ المزمل۔آیت 4)
اور قرآن کو خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو۔
پھر تم کیسے اس طرح بھاگم بھاگ چلے جارہے ہو?
تم نے قرآن کو مقتدیوں کو ذہن نشین تو کرایا ہی نہیں۔ تم تو اسے ایک ہی رات میں ختم کرنے پر تلے ہوئے نظر آئے..
پاکستانی حافظ صاحب نے ٹوٹی پھوٹی عربی میں کہا کہ
’واللہ یا شیخ انا ما عرف ایش تقول.
قسم ہے یا شیخ میں کچھ نہیں سمجھا کہ آپ کیا کہہ رہے ہو۔
عربی حافظ نے جواب دیا کہ جب تم کچھ سمجھتے ہی نہیں تو پھر لوگوں کے آگے کیوں کھڑے ہوتے ہو؟
*(لماذا واقف امام الناس؟‘‘)*
انت تقراء بالسرعۃ۔
تم بہت تیزرفتاری سے قرآن پڑھتے ہو۔
ھدو لاک مساکین لوراک یمکن یسمعون ولاکن لا یفھمون.
یہ جو لوگ تیرے پیچھے کھڑے ہیں یہ سنتے ہونگے، مگر سمجھ کچھ نہیں رہے ہونگے.
عربی حافظ نے کہا اگر آئندہ تم نے قرآن پاک کے ساتھ یہ کھیل کھیلا تو میں تمہیں پولیس کے حوالے کر دوں گا.
عہد رسالت میں جب قرآن پڑھا جاتا تھا تو سننے والوں کی کیا کیفیت ہوتی تھی.
اللہ فرماتا ہے : (سورہ المائدہ۔آیت 83)
اور جب یہ لوگ وہ کتاب سنتے ہیں جو ہم نے نازل کی اپنے پیغمبر پر تو ان کی آنکھوں کی طرف دیکھو کہ کیسے آنسو رواں دواں ہیں... اس لیے کہ انہوں نے حق بات پہچان لی ہے.
اور یہاں ہمارے ہاں جب قرآن پڑھا جاتا ہے تو سننے والوں پر غنودگی طاری ہورہی ہوتی ہے... اور دل ہی دل میں دعا کر رہے ہوتے ہیں کہ جلدی جان چُھوٹے تو گھروں کو پہنچیں.
کیونکہ ہم سمجھتے ہی نہیں کہ کیا پڑھا جارہا ہے اور کیا کہا جارہا ہے۔
اللہ قرآن میں فرماتا ہے کہ :
*لَوْ أَنزَلْنَا ہَذَا الْقُرْآنَ عَلَی جَبَلٍ لَّرَأَیْْتَہُ خَاشِعاً مُّتَصَدِّعاً مِّنْ خَشْیَۃِ اللَّہِ وَتِلْکَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُہَا لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمْ یَتَفَکَّرُونَ ہ*
(سورہ الحشر. آیت 21)
اور (اس قرآن کی اثر انگیزی کا یہ عالم ہے کہ ) اگر ہم (مثال کے طور پر) اسے کسی پہاڑ پر نازل کر دیتے تو تم دیکھتے کہ اس کی خلاف ورزی کے احساس سے اس پر لرزہ طاری ہوجاتا اور ذمہ داری کے خیال سے وہ ریزہ ریزہ ہوجاتا.
اس سبق آموز تحریر کو اساتذہ کرام ، قراء حضرات، حفاظ کرام، علماء حق و باعمل مشائخ کے علاوہ نئی نسل کے نوجوانوں، با شعور شہریوں اور مساجد کی انتظامیہ و عہدیداران تک ضرور پہنچائیں ۔
🔴 چین نے مکمل خودکار برقی ٹریکٹر تیار کر لیا۔
▪️"ہونگھو T70" ہل چلانے سے لے کر بوائی، دیکھ بھال اور کٹائی تک پورا زرعی عمل اکیلا انجام دے سکتا ہے۔
▪️یہ زمین کی حالت کا لمحہ بہ لمحہ تجزیہ کر کے کسان کو تمام ضروری معلومات فراہم کرتا ہے۔