ایک کروڑ سے زیادہ فیک اکاونٹس بناکر لوگوں کو متاثر کرتے ہو
تمہاری بنیاد جھوٹ کی سیاست پر ہے
قائد ملت اسلامیہ کا 22 کروڑ عوام کے نام دبنگ پیغام
آج کے خطاب کا ایک اہم حصہ
#ووٹ_صرف_کتاب_کا
جمعیت کے ابابیلوں کے نام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منزلیں لاکھ کٹھن آئیں گزر جاؤں گا
حوصلہ ہار کے بیٹھوں گا تو مر جاؤں گا
چل رہے تھے جو میرے ساتھ کہاں ہیں وہ لوگ
جو یہ کہتے تھے کہ رستے میں بکھر جاؤں گا
لاکھ روکیں یہ اندھیرے مرا رستہ لیکن
میں جدھر روشنی جائے گی ادھر جاؤں گا
راس آئی نہ محبت مجھے ورنہ ساقیؔ
میں نے سوچا تھا کہ ہر دل میں اتر جاؤں گا
#مولانا_کے_سنگ
#سرحد_یا_سیاست
#ہائبرڈ_راج_نامنظور
#معدنیات_کی_لوٹ
#ڈالر_کی_جنگ
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کے خلاف چلائی جانے والی حالیہ ٹرینڈ مہم کا جائزہ لینے کے لیے ہم نے تقریباً 300 اکاؤنٹس کا تجزیہ کیا۔ اس جائزے میں ایک بھی ایسا اکاؤنٹ سامنے نہیں آیا جو حقیقی اور فعال ذاتی (جینوئن) اکاؤنٹ معلوم ہوتا ہو۔
زیادہ تر اکاؤنٹس خواتین کے ناموں سے بنائے گئے تھے، جیسے نمل، ایمن، ڈاکٹر آمنہ وغیرہ۔ ان اکاؤنٹس کی پروفائل تصاویر، فالوورز، سرگرمی اور پوسٹنگ پیٹرن واضح طور پر غیر فطری دکھائی دیتے ہیں۔ اکثر اکاؤنٹس کے فالوورز چند درجن سے لے کر چند سو تک ہیں، مگر ان کی تمام سرگرمی ایک ہی نوعیت کے مواد کو آگے بڑھانے تک محدود ہے۔
مشاہدہ یہ بھی سامنے آیا کہ یہ اکاؤنٹس بظاہر واٹس ایپ گروپس یا کسی مرکزی نظام سے موصول ہونے والا ایک ہی مواد بیک وقت پوسٹ کرتے ہیں، تاکہ مصنوعی طور پر ایک مخصوص بیانیہ اور ٹرینڈ بنایا جا سکے۔ اس قسم کی سرگرمی کا مقصد عوامی رائے کی حقیقی ترجمانی نہیں بلکہ ایک منظم پروپیگنڈا مہم کے ذریعے یہ تاثر پیدا کرنا ہوتا ہے کہ جیسے یہ عوام کی وسیع رائے ہو۔
یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اس نوعیت کی مہمات چند منظم ڈیجیٹل میڈیا نیٹ ورکس کے ذریعے چلائی جاتی ہیں، جن کا ذکر پہلے بھی کیا جا چکا ہے۔ ان نیٹ ورکس کے مختلف منصوبوں کا بنیادی مقصد مصنوعی ٹرینڈز کھڑے کرنا، پروپیگنڈا پھیلانا اور مخصوص بیانیہ تشکیل دینا ہوتا ہے، نہ کہ حقیقی عوامی رائے کی عکاسی کرنا۔
ہمارے جائزے کے مطابق، سینکڑوں اکاؤنٹس میں ایک بھی ایسا فعال اور حقیقی ذاتی اکاؤنٹ نظر نہیں آیا جو اس مہم میں قدرتی انداز سے شریک ہو۔ یہ حقیقت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایسی ٹرینڈ مہمات کو عوامی ردِعمل سمجھنے کے بجائے ان کی نوعیت، اکاؤنٹس کے پیٹرن اور ان کے باہمی تعلق کا تنقیدی جائزہ لینا ضروری ہے۔
#مولانا_سے_معافی_مانگو
#حلف_نبھاؤ_بارڈرجاؤ
#سلیکشن_مافیا_نامنظور
#آئین_شکن_مقدس_گائے
#معافی_مائی_فٹ
#مولانا_شان_پاکستان
بھروسا تم نے توڑا تھا مگر خود کو سزا یوں دی
کہ پھر جو مل گیا مجھ کو، بھروسا کر لیا اس پہ۔
عدم اعتماد کی فضا تم نے پیدا کی۔ میرے مخالفین ساری زندگی کبھی ملا ملٹری الائنس کہتے تھے، کبھی کہتے تھے کہ اسٹیبلشمنٹ کے بہت قریب ہے۔ کیوں؟ میری سیاست اعتدال کی ہے۔ میں مذہبی طبقے سے تعلق رکھتا ہوں، اور اس کو اشتعال دلانے کے لیے پوری دنیا وسائل استعمال کر رہی ہے۔ اس ماحول میں رہ کر جب میں اپنے ماحول کو اعتدال کی راہ دکھاؤں گا تو یقیناً کچھ نرمیاں اس کے اندر آئیں گی۔ کوئی اس کو کہتا ہے: تم مفاد پرست ہو، موقع پرست ہو، تم نے فلاں جگہ یہ کیا، وہ کیا۔ نہیں! ہم نے حالات کے مطابق پالیسی اختیار کی، اور ہم کبھی حکومتوں کی خواہش پر نہیں چلے۔
میں اگر 1988ء میں اسمبلی میں آیا، تب بھی اپوزیشن میں تھا۔ مجھے 1990ء میں ہرایا گیا۔ 1993ء میں آیا، میں پھر اپوزیشن میں تھا۔ 1997ء میں اسمبلی میں آیا، میں پھر اپوزیشن میں تھا۔ تم نے میرے خلاف اس وقت بھی گندا پروپیگنڈا کیا، غلیظ ترین پروپیگنڈا کیا۔ کبھی کہا: ڈیزل پرمٹ خریدا ہے۔ پھر ڈیزل پرمٹ اگر میں نے لیا ہے تو دستاویز ہوگی نا؟ پرمٹ کے معنی ہی دستاویز ہیں۔ 2003ء، 2004ء میں آپ نے میرے خلاف یہ پروپیگنڈا کیا۔ آج 2026ء ہے۔ کہیں کوئی اس کا ریکارڈ، کوئی دستاویز، کوئی ثبوت تمہیں آج تک ملا؟ کہتے تھے: پلازے لے لیے ہیں، فیکٹریاں بنا لی ہیں، دبئی میں ہوٹل بنا لیے ہیں۔ اسی ہزار کی لسی پی لی ہے، دو دن ہوٹل میں ٹھہرا ہوں تو کہتے ہیں: اسی ہزار کی لسی پی لی ہے۔ شرم بھی نہیں آتی اس قسم کی گفتگو کرتے ہوئے۔
اور پھر ایک وقت آیا جب اسٹیبلشمنٹ کی ایک اہم شخصیت نے مجھے پیغام بھیجا کہ وہ مجھ سے ملنا چاہتے ہیں۔ میں نے انکار کر دیا۔ پھر نوابزادہ نصر اللہ خان مرحوم درمیان میں آئے اور مجھے کہا: "آپ کو بات کر لینی چاہیے۔" میں نے اپنی جماعت سے مشورہ کیا۔ انہوں نے بھی مجھے کہا: "ہاں، ہمیں مل لینا چاہیے تاکہ پتا تو چلے کہ ہم کس غار سے ڈسے جا رہے ہیں۔"
ان ملاقاتوں میں جب میں نے اپنی شکایات ان کے سامنے رکھیں، اور میں نے ان کو چیلنج کیا کہ اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے، اللہ تمہیں سن رہا ہے، میں بھی بیٹھا ہوں، تم بھی بیٹھے ہو۔ اگر میرے ہاتھ سے یا میرے ماحول کے اندر کوئی ایسے غلط کام ہوئے ہوں، کوئی ایسے غلط مفادات میں نے حاصل کیے ہوں، تو اللہ کے لیے کم از کم مجھے واضح طور پر بتا دو کہ فضل الرحمٰن، آپ کے اندر یہ نقص ہے۔ اس اعلیٰ ترین افسر نے سر جھکایا، پھر سر اٹھایا، پھر کہا: "مولانا! کوئی ایسی بات نہیں ہے، قطعاً کوئی ایسی بات نہیں ہے۔"
تو میں نے کہا: "پھر میری کردار کشی کیوں کی؟ کیوں میرے بارے میں یہ غلط باتیں کیں؟"
انہوں نے کہا: "میں متعلقہ حلقوں (Concerned Quarters) کو ہدایت دے دوں گا، ان شاء اللہ آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔
تو میں نے کہا: آپ نے تو کہہ دیا کہ ہم نے جو بولا، جھوٹ بولا، غلط بولا، اور آئندہ ہدایت دے دوں گا کہ ایسا نہیں ہوگا، لیکن میرا دعویٰ تو اپنی جگہ برقرار ہے کہ تم نے الیکشن میں دھاندلی کرائی ہے، اور حکمران جو بھی بنے گا، دھاندلی سے بنے گا۔سو آج میرا سوال یہ ہے کہ دھاندلی سے بنی ہوئی حکومت ہمیں قبول نہیں
قائدِ جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں وکلاء کنونشن سے خطاب
#قائدانقلاب_مولانا
#سیاسی_چوکیدار
#مولانا_سے_معافی_مانگ
#شہداء_صرف_بہانہ
#لشکر_نہیں_امن