اسلام میں عورتوں کے لیے زیرِ ناف بال صاف کرنے کا حکم!
(قرآن و حدیث اور فقہاء کی روشنی میں)
اسلام صفائی اور طہارت کو بہت اہمیت دیتا ہے۔
مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے جسمانی صفائی کے چند کام ایسے ہیں جنہیں سنتِ فطرت کہا گیا ہے۔ انہی میں سے ایک زیرِ ناف (شرمگاہ کے اردگرد) کے بال صاف کرنا بھی ہے۔
اس بارے میں قرآن و حدیث اور فقہاء کی وضاحت درج ذیل ہے۔
1️⃣ سنتِ فطرت کیا ہے؟
رسول اللہ ﷺ نے چند چیزوں کو فطرت (اسلامی فطری سنت) قرار دیا ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“پانچ چیزیں فطرت میں سے ہیں: ختنہ کرنا، زیرِ ناف بال مونڈنا، بغل کے بال اکھیڑنا، ناخن کاٹنا اور مونچھیں چھوٹی کرنا۔”
(صحیح بخاری: 5891، صحیح مسلم: 257)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ زیر ناف کے بال صاف کرنا سنت ہے اور صفائیِ اسلام کا حصہ ہے۔
2️⃣ کتنے دن تک بال چھوڑے جا سکتے ہیں؟
اسلام نے اس صفائی کے لیے ایک حد بھی بیان کی ہے۔
حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں:
“ہمیں حکم دیا گیا کہ مونچھیں تراشنے، ناخن کاٹنے، بغل کے بال اکھیڑنے اور زیرِ ناف بال صاف کرنے کو چالیس دن سے زیادہ نہ چھوڑیں۔”
(صحیح مسلم: 258)
علماء کے مطابق:
بہتر یہ ہے کہ ہر ہفتے یا پندرہ دن میں صفائی کر لی جائے
زیادہ سے زیادہ مدت 40 دن ہے
اس سے زیادہ چھوڑنا خلافِ سنت اور مکروہ ہے۔
3️⃣ کیا حدیث میں صرف مونڈنے کا طریقہ بتایا گیا ہے؟
احادیث میں لفظ آیا ہے:
"حلق العانة"
جس کا مطلب ہے زیر ناف بال مونڈنا۔
لیکن فقہاء نے وضاحت کی ہے کہ مقصد بالوں کو ختم کرنا ہے، صرف مونڈنا لازم نہیں۔
4️⃣ فقہاء کی وضاحت
📚 امام نوویؒ لکھتے ہیں:
“مراد یہ ہے کہ زیر ناف کے بال زائل کیے جائیں، چاہے مونڈ کر، کاٹ کر، نوچ کر یا کسی اور طریقے سے۔”
(شرح النووی علی صحیح مسلم)
📚 امام ابن حجر عسقلانیؒ فرماتے ہیں:
“حدیث میں مونڈنے کا ذکر ہے لیکن اصل مقصد بالوں کو ختم کرنا ہے۔”
(فتح الباری)
📚 فقہ حنفی کی معروف کتاب رد المحتار میں بھی یہی بات ذکر ہے کہ مقصد بالوں کا ہٹانا ہے۔
5️⃣ جدید طریقوں کا حکم (ویکس یا کریم)
چونکہ حدیث میں طریقہ لازم نہیں کیا گیا بلکہ مقصد صفائی ہے، اس لیے موجودہ دور میں استعمال ہونے والے طریقے جیسے:
ویکس
بال صاف کرنے والی کریم
ٹرمر یا مشین
استرا
یہ سب استعمال کرنا جائز ہے، بشرطیکہ:
جسم کو نقصان نہ پہ��چے
حرام یا نجس چیز شامل نہ ہو
شرعی پردے اور ستر کا خیال رکھا جائے۔
6️⃣ عورت کے لیے شرعی آداب
اسلامی اصول کے مطابق:
عورت اپنے جسم کی صفائی خود کرے
شوہر اور بیوی ایک دوسرے کے لیے جائز ہیں
غیر ضروری طور پر کسی دوسرے کے سامنے ستر ظاہر کرنا جائز نہیں
خلاصہ
✔ زیرِ ناف بال صاف کرنا سنتِ فطرت ہے۔
✔ زیادہ سے زیادہ 40 دن تک چھوڑنے کی اجازت ہے۔
✔ اصل مقصد بالوں کو ختم کرنا ہے، طریقہ لازم نہیں۔
✔ استرا، ویکس، کریم یا مشین — سب استعمال کیے جا سکتے ہیں اگر نقصان نہ ہو۔
اسلام صفائی، طہارت اور پاکیزگی کا دین ہے، اور یہ تعلیمات اسی پاکیزگی کو برقرار رکھنے کے لیے ہیں۔
جیسے ہی بال صاف کرنے والی کریم لگائی جاتی ہے!
چند ہی منٹ گزرتے ہیں کہ جلن، چبھن اور بے چینی شروع ہو جاتی ہے۔
اور یہ مسئلہ اکثر لڑکیوں کے ساتھ پی�� آتا ہے۔
ایسے وقت میں دل فوراً یہی کہتا ہے:
“بس ابھی اسے دھو لوں!”
لیکن پھر سوال یہ ہے کہ
اگر پہلی بار اتنی جلن ہوئی تھی،
تو ہم وہی کریم دوبارہ کیوں استعمال کرتے ہیں؟
یہی سب سے بڑی غلطی ہے۔
اگر کوئی چیز آپ کو پہلی ہی بار میں جلا رہی ہے،
تو سمجھ لیں کہ وہ چیز آپ کی جلد کے لیے بنی ہی نہیں ہے۔
اصل حقیقت
شرمگاہ کی جلد بہت نازک اور حساس ہوتی ہے۔
یہ ہر چیز کو برداشت نہیں کر سکتی۔
اسی لیے خوشبو والی چیزیں اس جگہ پر استعمال نہیں کرنی چاہئیں۔
اسی طرح صابن سے بھی شرمگاہ کو نہیں دھونا چاہیے، کیونکہ اس سے جلد مزید حساس اور خشک ہو سکتی ہے۔
لیکن ہم اکثر کیا کرتے ہیں؟
ج��ن کے با��جود بھی ہم خود کو یہی کہتے ہیں:
“شاید آج ٹھیک ہو جائے…”
“شاید اگر کم لگاؤں تو فرق پڑے…”
لیکن نتیجہ اکثر وہی نکلتا ہے:
• خارش
• دانے
• جلن
• اور جلد کا سیاہ ہونا
اب سیدھی اور واضح بات
اگر کریم لگاتے ہی ��لن شروع ہو جائے،
تو فوراً اس کا استعمال بند کر دیں۔
کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ وہ چیز آپ کی جلد کے لیے مناسب نہیں ہے۔
پھر کیا کرنا چاہیے؟
اگر بال صاف کرنے ہوں تو بہتر اور محفوظ طریقے یہ ہیں:
• مشین (ٹرمر) سے بال چھوٹے کر لیں — یہ سب سے محفوظ طریقہ ہے۔
• یا پھر احتیاط کے ساتھ ریزر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ایک عام سوال
“کیا کریم استعمال کرنے سے شرمگاہ یا بغلیں کالی ہو جاتی ہیں؟”
اس کا جواب ہے:
نہیں۔
کریم خود جلد کو سیاہ نہیں کرتی۔
اصل مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ
بار بار کی جلن، حساسیت اور غلط استعمال جلد کو آہستہ آہستہ سیاہ کر دیتا ہے۔
کیا پرائیویٹ پارٹس کی ویکس کروانا ٹھیک ��ے؟
جی ہاں، کروائی جا سکتی ہے۔
لیکن یہ ہر شخص کے لیے ضروری نہیں ہوتی۔
ویکس کروانے کے فوائد
• بال دیر سے واپس آتے ہیں
• جلد زیادہ صاف اور ہموار محسوس ہوتی ہے
• بالوں کی چبھن کم ہو جاتی ہے
لیکن کچھ باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے
• ویکس کرواتے وقت کافی درد ہو سکتا ہے
• حساس جلد میں جلن یا دانے بن سکتے ہیں
• ہمیشہ کسی تجربہ کار اور تربیت یافتہ (trained) شخص سے ہی ویکس کروائیں
پرائیویٹ ایریا کے لیے کون سی ویکس استعمال ہوتی ہے؟
اس حساس جگہ کے لیے عام ویکس استعمال نہیں کی جاتی۔
بلکہ عام طور پر استعمال ہوتی ہے:
ہارڈ ویکس (Hard Wax)
جو بغیر پٹی کے اتاری جاتی ہے اور حساس جلد کے لیے زیادہ بہتر سمجھی جاتی ہے۔
یا پھر
خاص سینسٹو ویکس (Sensitive Wax)
جو خاص طور پر نازک جلد کے لیے تیار کی جاتی ہے۔
یاد رکھیں:
جو عام ویکس ہاتھوں اور ٹانگوں پر استعمال ہوتی ہے، وہ پرائیویٹ ایریا کے لیے مناسب نہیں ہوتی۔
آخر میں ایک اہم بات
صفائی ضرور ضروری ہے،
لیکن اپنی جلد کو جلا کر نہیں۔
ہر چیز ہر انسان کے لیے مناسب نہیں ہوتی۔
اس لیے وہی طریقہ اختیار کریں
جو آپ کی جلد کو سوٹ کرے اور اسے ن��صان نہ پہنچائے۔
پٹرول مہنگا ہوگیا ہے سفر ممکن نہی رہا
سیمنٹ،سریا،اینٹیں مہنگی ہوگئ ہیں گھر بنانا ممکن نہی رہا
دودھ مہنگا ،بجلی مہنگی
آہستہ آہستہ ہر چیز کی قیمتیں بڑھ رہی جس میں کھانے پینے کی اشیاء سے لے کے پہننے اوڑھنے کی چیزیں شامل ہیں
گھر کے برتن ہوگئے یا بجلی سے چلنے والی اشیاء 1/2
یہاں پہ کچھ اکاونٹس جس میں زیادہ تعداد بڑے اکاونٹس کی ہے وہ چھوٹے اکاونٹس کو ایسے ٹریٹ کرتے جیسے ہماری اشرافیہ اور GHQ والے غریب بلڈی سویلینز (bl***dy civilians) کو
آپ یہ خاطر جمع رکھیں کہ نہ ہم آپ کے فین ہیں نہ نوکر تو زرا اپنا ایٹی ٹیوڈ اپنی حد میں رکھیں یہ تیور کہی اور صحیح
کل صبح پاکستانی وقت کے مطابق چار بجے ارتیمس مشن کے یہ چار خلاباز اک کیپسول میں بند چاند کے عقب سے گزریں گے تو چالیس منٹ کے لئے ان کے سگنل زمین پر آنا بند ہو جائیں گے
چالیس منٹ وہ زمین سے مکمل کٹ جائیں گے اور دوبارہ سے سگنل کی بحالی کا انتظار کریں گے
کیسا عجیب منظر، نظارہ اور احساس ہوگا چاند کے بلکل قریب
اور اپنی زمین سے مکمل کٹے ہوئے !
Science
پاکستان دنیا کے فیصلے کرنے ہی لگا تھا
کہ متحدہ عرب امارات نے اپنے پیسے واپس مانگ کر کہا
پائین تسی دنیا دے فیصلے کرن لگے او
تواڈے کول بعد اچ ٹائم نئی ہونا
تسی ساڈے پیسے فوری واپس کرو تے ارام نال دنیا دے فیصلے کردے رینڑا 😄