My name is Saad Iqbal and I am a PTI Social Media volunteer. I love Pakistan therefore #MyLeaderIsImranKhan. No one pays me for tweets and social media activism; passion is priceless! #PakistanZindabad
عمران خان نے اپنے بیٹے سے صاف کہ دیا کہ آپ میں Passion (جذبہ) نہیں، کرکٹر نہیں بن سکتے۔ ادھر نواز شریف اور آصف زرداری نے اپنی نالائق اولادوں کو وزیر اعظم بنانے کے لیے پورے ملک کا حشر نشر کر کے رکھ دیا ہے۔ کروڑوں نوجوانوں کا مستقبل برباد کر دیا ہے۔ ثمینہ پاشا
@pasha_samina
ویڈیو دیکھنے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan
آپ مجبور ہیں، آپ اپنی ڈیوٹی ادا کریں… ہم اپنا فرض ادا کرتے رہیں گے، ان شاء اللہ۔”
گرفتاری سے قبل ریحانہ ڈار کے یہ الفاظ اس عزم کی گواہی ہیں کہ جبر، گرفتاریوں اور ریاستی طاقت سے اب ہمیں خاموش نہیں کیا جا سکتا۔
بانی چیئرمین عمران خان کی قید کے تین سال مکمل ہونے پر پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے۔ اگر اس حق کی پاداش میں گرفتاریاں ہی جواب ہیں تو ہم یہ قیمت بھی ادا کریں گے، مگر آئین، جمہوریت اور عوام کے مینڈیٹ کی جدوجہد سے ایک قدم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
یہ گرفتاریاں ہمارے حوصلے نہیں، صرف حکمرانوں کا خوف ظاہر کرتی ہیں۔ ان شاء اللہ، یہ جدوجہد جاری رہے گی۔✌️🇵🇰
#KhanIllegallyJailed3Years
5 August marks three years since the illegal incarceration of former Prime Minister Imran Khan and his wife. Their continued imprisonment has come to symbolize, for many, the erosion of constitutional rule, justice, and due process.
What should have been a democracy governed by the will of the people has, been overshadowed by authoritarianism and the interests of a corrupt and incompetent elite. Institutions have been undermined, constitutional principles violated, and fundamental freedoms increasingly curtailed.
This anniversary is not only about two individuals; it is about the future of democracy, the rule of law, and the right of citizens to have their voices respected. Justice delayed is justice denied.@amnestysasia@amnestyusa
سمجھایا تھا جرنیلوں کو عمران خان کو قید کر دینے سے اسکا نظریہ قید نہیں کیا جا سکتا ۔
عاصم منیر نے تین سال سے عمران خان کو عوام کی نظروں سے غائب کر رکھاہے تاکہ لوگ اسے بھول جائیں، مگر آج پشاور کی عوام نے تمام تر جبر اور فسطائیت کے باوجود سڑکوں پر نکل کر واضح پیغام دے دیا کہ تم کل بھی ناکام تھے، آج بھی ناکام ہو، اور آئندہ بھی ناکام رہو گے۔ ہمارے دل آج بھی عمران خان کے ساتھ دھڑکتے ہیں ہم خود کو تو بھول سکتے ہیں لیکن عمران خان کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے ۔
میں آج جتنا پریشان ہوں اس سے پہلے کبھی اتنا پریشان نہیں ہوا عمران خان سے 5 مہینے پہلے جب آخری مرتبہ ہماری گفتگو ہوئی تو وہ اپنے علاج اور دیگر قیدیوں کے علاج کے حوالے سے بہت پریشان تھے جس سیل میں عمران خان کو رکھا گیا ہے اس کی صورتحال بہت خراب ہے ان جیلوں میں قیدی ہیپاٹائٹس کی وجہ سے مر رہے ہیں عمران خان کی آنکھ کا علاج نا کروانا پرفیکٹ مثال ہے عمران خان کو تین مہینوں تک تکلیف رہی لیکن کسی نے توجہ نہیں دی عمران خان کی آنکھ میں خون کا لوتھڑا آ گیا کیوں آیا ہمیں آج تک نہیں پتا تب جب ہماری عمران خان سے بات ہوئی بہت فرسٹریٹڈ تھے۔
قاسم خان کا انٹرویو
CNN کی صحافی @amanpour کے الفاظ:”عمران خان پاکستان کے سب سے زیادہ پہچانے جانے والے اور مقبول ترین عوامی رہنماؤں میں سے ایک ہیں، اور مسلسل غیر حاضر رہنے کے باوجود ان کی عوامی مقبولیت قائم ہے“
#KhanIllegallyJailed3Years
🚨سوال : میں جانتی ہوں کہ علیمہ خان عمران خان سے ملاقات کا راستہ نکالنے کے لیے عوامی موبلائزیشن کر رہی ہیں اور شائید شہر اقتدار کی طرف مارچ بھی کرنا چاہتی ہیں کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس کا کوئی اثر ہو گا ؟
قاسم خان : پاکستان میں اس وقت ملٹری ڈکٹیٹر شپ قائم ہے پاکستان میں جو بھی احتجاج کے لیے نکلتا ہے اسے کچل دیا جاتا ہے پچھلے کچھ سالوں سے ہم یہ ہی دیکھتے آ رہے ہیں پاکستان میں آزادی اظہار رائے کا کسی کو حق حاصل نہیں ہے یہ لوگ بیت ظالم ہیں یہ لوگوں کو مسرت ہیں ہر قسم کا ظلم کرتے ہیں تاکہ ان کے اقتدار کو دوام بخشا جاسکے اس کے لیے ان کو کوئی فکر نہیں میرے خیال میں ان لوگوں کو احتجاج سے فرق تو نہیں پڑتا لیکن مجھے امید ہے کہ علیمہ خان پوری کوشش کریں گی کہ اثر ہو لیکن اس وقت یہ رجیم مکمل طاقت رکھتی ہے انہیں نے میرے والد عمران خان سمیت تمام جمہوری لوگوں کو قید کر رکھا ہے ہم نے بین الاقوامی سطح پر جس بھی فورم پر بات کی ہمیں مثبت ردعمل ملا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہر جگہ پر خاموشی چھا جاتی ہے
#WorldwideProtestsForImranKhan as he stands like a tall mountain, not bending, not bowing.
The protests are testament to his support. The only leader with the power of moving the whole world.
3 سال مکمل: ایک طرف عمران خان نے بہادری سے جیل کاٹ کر اسٹیبلشمنٹ کا غرور خاک میں ملا دیا۔
دوسری طرف عاصم منیر اور انکے ساتھیوں نے خان کو توڑنے کے چکر میں عدلیہ، میڈیا، پارلیمان، اداروں، آئین، معیشت، امن و مان، قومی یکجہتی اور انسانی حقوق سمیت سب کچھ تباہ کر دیا مگر بات نہیں بنی۔
قوم سے معافی مانگیں اور جس کا اقتدار ہے اس کے حوالے کریں۔اسے اپنی پالیسی کی تحت بغیر کسی مداخلت کے چلانے دیں؛ہر کرپٹ کا احتساب ہونے دیں اور آئین کی پاسداری کرتے ہوئے ریاست جو فیصلہ کرے اس پر عمل کریں
سسٹم ٹھیک بھی ہو جائے گا اور پاکستان ترقی بھی کرے گا انشاء اللہ
پاکستان زندہ باد
اگر عمران خان کی صحت کے حوالے سے تشویشناک اطلاعات کی تصدیق کی ہمارے پاس کوئی ٹھوس وجہ نہیں تو تردید کا بھی کوئی جواز نہیں ہے، جب ان سے کسی کی ملاقات ہی نہیں ہوئی۔ پچھلی دفعہ جب آنکھ کا مسئلہ آیا تو ایسے ہی تردید کی جاتی رہی اوراس کو ڈس ٹریکشن کہا گیا لیکن پھر بینائی کے شدید متاثر ہونے کی خبر کی تصدیق ہوگئ۔
جب ملاقات ہی نہیں ہوئ، قابل اعتماد معالجین تک رسائی ہی میسر نہیں تو تردید،جھوٹ اور پروپیگنڈا قرار دینے کے بجائے کیوں نہ تمام تر قیادت عمران خان کو ذاتی ڈاکٹرز کی موجودگی میں ہسپتال منتقل کرنے کے لیے ہر فورم کا استعمال کریں۔ اگر ”متعلقہ لوگ” اتنے ہی قابل بھروسہ اور ہمدرد ہیں تو ان کی آنکھ کیسے ضائع ہوگئی؟ ابھی تک علاج کیوں نہیں کروایا گیا؟ اور اب تسلی دینے کے بجائے ذاتی ڈاکٹرز سے ملاقات کیوں نہیں کروائ جا رہی؟
یہاں جعلی پلیٹ لیٹس رپورٹس پر طوفان کھڑا کیا جاتا ہے لیکن ان کی بینائی کے معاملے پر اتنی شدید غفلت کے بعد اب مزید ایسی خبروں پر خاموشی مجرموں کی سہولت کاری ہے۔ جیسے پچھلی دفعہ آٹھ فروری کے ایونٹ کا انتظار کرتے ہوئے دو ہفتے ضائع کیے گئے اس دفعہ بے شک پانچ کی تیاری جاری رکھیں لیکن فوری طور پر قیادت و صوبائی حکومت ہر آئینی قانونی اور عوامی فورم استعمال کرے۔ تصدیق کی وجہ نہیں تو تردید کا بھی کوئی جواز نہیں۔
اور کیسے دکھانی ہے وفاداری؟
ٹیکس دیتا ہوں، کرپٹ نظام بھگت رہا ہوں، آپکی سیاسی مداخلت پر خاموش ہوں، علاج پرائیویٹ کرواتا ہوں، بجلی خود سولر سے لیتا ہوں، حفاظت کے لیئے پرائیوٹ چوکیدار ہے، ووٹ چوری ہوا خاموش ہوں، ریاست بندے مار رہی پھر بھی چپ ہوں ، مہنگائی ڈبل ، بےروزگاری ڈبل ہو گئی