Be delusional about your potential.
Be delusional about your potential.
Be delusional about your potential.
Be delusional about your potential.
Be delusional about your potential.
Be delusional about your potential.
Be delusional about your potential.
آج نیرہ نور کی چوتھی برسی ہے، احمد شمیم کی شہرہ آفاق نظم ”کبھی ہم خوبصورت تھے“ جس کو نیّرہ نُور نے گا کر امر کر دیا۔ کہتے ہیں کہ یہ نظم احمد شمیم نے اپنی ماں کی یاد میں لکھی جو بٹوارے کے دوران مقبوضہ کشمیر میں رہ گئیں، اور احمد شمیم ان سے ملنے کی حسرت لیے اس دنیا سے چلے گئے۔ آئیے یہ نظم نیرہ نور کی خوبصورت دلسوز آواز میں سنتے ہیں۔
"ریت پر سفر کا لمحہ"
کبھی ہم خُوب صُورت تھے
کتابوں میں بَسی
خُوشبو کی صُورت
سانس ساکِن تھی
بہت سے اَن کہے لفظوں سے
تصویریں بناتے تھے
پرندوں کے پروں پر نظم لکھ کر
دُور کی جھیلوں میں بسنے والے
لوگوں کو سُناتے تھے
جو ہم سے دُور تھے لیکن
ہمارے پاس رہتے تھے
نئے دِن کی مُسافت
جب کِرن کے ساتھ
آنگن میں اُترتی تھی
تو ہم کہتے تھے
اَمی تِتلیوں کے پَر
بہت ہی خُوب صُورت ہیں
ہمیں ماتھے پہ بوسہ دو
کہ ہم کو تتلیوں کے
جگنوؤں کے دیس جانا ہے
ہمیں رنگوں کے جُگنو
روشنی کی تتلیاں آواز دیتی ہیں
نئے دِن کی مُسافت
رنگ میں ڈُوبی ھََوا کے ساتھ
کِھڑکی سے بُلاتی ہے
ہمیں ماتھے پہ بوسہ دو
ہمیں ماتھے پہ بوسہ دو
"احمّد شمیم"