حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ یوں فرمایا کرتے:
’’ اے اللہ ! میں نکمے پن ‘ بے جا سستی ‘ شدید بڑھاپے ‘ کنجوسی اور بزدلی سے تیری پناہ میں آتا ہوں ‘ نیز قبر کے عذاب اور زندگی اور موت کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔‘‘
(سنن نسائی،۵۴۵۴)
رسول اللہﷺکی دعا:
اے اللہ! میں تجھ سے جنت کاطالب ہوں اور اس قول و عمل کا بھی جو جنت سے قریب کر دے،اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں جہنم سے اور اس قول و عمل سے جو جہنم سےقریب کر دے، اور میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ ہر وہ حکم جس کا تو نےمیرےلیے فیصلہ کیاہے بہتر کر دے۔
(ابن ماجہ،۳۸۴۶)
بزم جہاں میں آج یہ کس کا ورود ہے
جبریل کے لبوں پر مسلسل دُرود ہے
فخرُ الرّسُل ہے شافعِ روزِ حساب ہے
اُمّی لقب ہے صاحبِ اُمّ الکتاب ہے
قرآن جس کا خُلق ہے وہ رحمتِ تمام
جس کیلئے ہوا ہے دو عالَم کا انصرام
جس کے غلام فاتحِ ایران و شام ہوں
لاکھوں دُرود اُس پہ، ہزاروں سلام ہوں
ﷺ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
”بخیل وہ ہے جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور پھر بھی وہ مجھ پر صلاۃ ( درود ) نہ بھیجے“۔
(جامع ترمذی،۳۵۴۶)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر ہفتہ کو مسجد قباء آتے پیدل بھی ( بعض دفعہ ) اور سواری پر بھی،
اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا ہی کرتے۔
(صحیح بخاری،۱۱۹۳)
مولای صل وسلم دائما ابدا
علی حبیبک خیر الخلق کلھم
السلام علیکم
ماہ ربیع الاوّل مبارک ہو!
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی شخص اس وقت تک مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک میں اس کے نزدیک اس کے ماں باپ، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔ (بخاری، حدیث:15)
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
جس شخص کے قدم الله کی راہ میں غبار آلود ہوگئے، الله تعالیٰ اُسے دوزخ پر حرام کر دے گا.
بخاری 907
(بخاری 2811؛ ترمذی 1632؛ نسائی 3118؛ مسند احمد 15010، 16031؛ دارمی 2442؛ ابی شیبہ 19733؛ بیہقی 5876؛ مشکوٰۃ 3794)
وٹس ایپ گروپ میں شیئر ہونے والا ایک خوبصورت پیغام
ماہ ربیع الاول۔۔۔۔
یہ وہ بابرکت مہینہ ہے جس میں ہمارے آقا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ دنیا میں تشریف لائے۔ ❤️
آئیے اس ربیع الاول کو صرف مبارکباد کا مہینہ نہیں بلکہ اپنی زندگی بدلنے کا مہینہ بنائیں۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“نماز میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔”
آئیے اس ربیع الاول عزم کریں کہ ہم اپنی پانچوں نمازوں کی پابندی کریں گے، وقت پر نماز ادا کریں گے اور اپنی نماز کے ذریعے اپنے محبوب نبی ﷺ کی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچانے کی کوشش کریں گے۔ 🤲
اور آئیے اس مہینے اتنا درود شریف پڑھنے کا عزم کریں جتنا ہماری زندگی کے کسی پچھلے ربیع الاول میں نہیں پڑھا، پھر اسی محبت اور تعلق کو ربیع الاول کے بعد بھی جاری رکھنے کی کوشش کریں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سچی محبتِ رسول ﷺ، نماز کی پابندی اور کثرتِ درود کی توفیق عطا فرمائے، اور ہماری اس معمولی سی کوشش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔ آمین یا رب العالمین 🤲❤️
ربیع الاول ہمیں صرف خوشی منانے کا نہیں، بلکہ اپنے محبوب نبی کریم ﷺ سے تعلق مضبوط کرنے کا پیغام دیتا ہے۔
آئیے اس بابرکت مہینے میں اپنے لیے دو خوبصورت عہد کرلیں:
🕌 پہلا عہد: نماز کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنائیں۔
نبی کریم ﷺ نے نماز کو اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک قرار دیا۔ ہم اپنی نمازوں کی پابندی کرکے، ان شاء اللہ، اپنے آقا ﷺ کی اس محبوب عبادت کو اپنی زندگی کا مرکز بنا سکتے ہیں۔
📿 دوسرا عہد: اس ربیع الاول میں اتنا درود شریف پڑھیں کہ ہمیں خود محسوس ہو کہ ہم نے اپنی زندگی کے کسی بھی پچھلے ربیع الاول میں اتنا درود نہیں پڑھا۔
اور پھر ربیع الاول گزر جانے کے بعد بھی درود شریف کا یہ معمول نہ چھوٹے۔
تیسرا عہد، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کو پڑھیں گے، سمجھیں گے، عمل کرنے اور دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کریں گے، انشاء اللہ
یا اللہ! ہمیں نماز کا پابند، درود و سلام کا عاشق اور اپنے محبوب ﷺ کا سچا امتی بنا دے۔ ہمارے دلوں میں محبتِ رسول ﷺ کو بڑھا دے اور اس محبت کو ہماری زندگی سنوارنے کا ذریعہ بنا دے۔
آمین یا رب العالمین 🤲
🌹 ربیع الاول کی بہت بہت مبارکباد! 🌹
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ ان میں اپنے دین پر صبر کرنے والا آدمی ایسا ہو گا جیسے ہاتھ میں چنگاری پکڑنے والا“ ۔
(جامع ترمذی،۲۲۶۰)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جب تم میں سےکوئی شخص مر جاتا ہے تو اس کا ٹھکانا اسے صبح و شام دکھایا جاتا ہے۔اگر وہ جنتی ہے تو جنت والوں میں اور جو دوزخی ہے تو دوزخ والوں میں۔ پھر کہا جاتا ہے یہ تیرا ٹھکانا ہے یہاں تک کہ قیامت کے دن اللہ تجھ کو اٹھائے گا۔
(بخاری، ۱۳۷۹)
رسول کریم ﷺ نے فرمایا:
"جب امانت ضائع کی جائے تو قیامت کا انتظار کرو"
پوچھا گیا کہ یا رسول اللہﷺ! امانت کس طرح ضائع کی جائے گی؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
"جب کام نااہل لوگوں کے سپرد کر دیئے جائیں تو قیامت کا انتظار کرو" -
صحیح بخاری۔۶۴۹۴
قالَ النبی ﷺ:
جس شخص نے اپنے (مسلمان) بھائی کے لئے اُس کی پیٹھ پیچھے (غائبانہ میں) دعا کی، تو جو فرشتہ اِس کے ساتھ مقرر ہے وہ کہتا ہے:
"آمین، اور تمہیں بھی اِسی کے مانند عطا ہو"
مسلم 6928، 6927، 6929
(ابوداؤد 1534؛ ماجہ 2895؛ حبان 989؛ ابی شیبہ 29770، 29771؛ مشکوٰۃ 2228)
ایک صاحب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا:
اسلام کی کون سی حالت افضل ہے؟
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کہ ( اللہ کی مخلوق کو ) کھانا کھلاؤ اور سلام کرو، اسے بھی جسے تم پہچانتے ہو اور اسے بھی جسے نہیں پہچانتے۔
(صحیح بخاری ،٦٢٣٦)
حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا:
اللہ جس کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے اور میں تو صرف تقسیم کرنے والا ہوں اور دیتا اللہ ہے۔
(بخاری، ۷۳۱۲)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
”ساری امت جنت میں جائے گی سوائے ان کے جنہوں نے انکار کیا۔“ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! انکار کون کرے گا؟ فرمایا ”جو میری اطاعت کرے گا وہ جنت میں داخل ہو گا اور جو میری نافرمانی کرے گا اس نے انکار کیا۔“.
(صحیح بخاری ، ۷۲۸۰)
سب سے اچھی بات کتاب اللہ اور سب سے اچھا طریقہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے اور سب سے بری نئی بات (بدعت) پیدا کرنا ہے(دین میں) اور بلاشبہ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ آ کر رہے گی اور تم پروردگار سے بچ کر کہیں نہیں جا سکتے۔
(صحیح بخاری، ۷۲۷۷)