تح تحریکِ انصاف لاہور کے صدر میاں عثمان اکرم کے ساتھ پولیس کی بدسلوکی قابلِ مذمت ہے۔
میاں اکرم عثمان کو 9 مئی کے بعد بھی بغیر کسی ثبوت کے دو سال ملٹری ٹرائل کے ذریعے سزا دے کر جیل میں رکھا گیا، ان کے سسر میاں محمود الرشید صاحب بھی تین سال سے جیل میں ہیں، لیکن انہوں نے تمام تر ظلم کے باوجود عمران خان سے بےوفائی نہیں کی۔
آج، 5 اگست کو، جب عمران خان کی قید کے تین سال مکمل ہونے پر احتجاج کی کال دی گئی، تو ان کو پھر سے پولیس کی جانب سے بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا ۔ بار بار سیاسی کارکنوں کے ساتھ طاقت کا استعمال یہ سوال اٹھاتا ہے کہ کیا پاکستان میں اختلافِ رائے جرم بن چکا ہے؟
#ناحق_قید_کے_3سال
🚨🚨
After hearing the arguments, the court directed that Toor should not be harassed during the inquiry. It also summoned the investigating officer in his personal capacity and adjourned further proceedings in the case. https://t.co/X8oI1jG8UL
پشتو میں کہہ رہا ہے،" میری والدہ کا 9 سال شوکت خانم ہسپتال میں فری علاج ہوا جس پر 5 کروڑ 86 لاکھ روپے عمران خان نے لگائے"۔
لیکن بدقسمتی سے آج اسی غریبوں کے خیر خواہ عمران خان کا علاج نہیں ہو رہا 💔
خان اتنا دلیر اور بہادر ہے کہ اس نے پریس کانفرنس میں جنرل باجوہ کی کال تک نہیں سنی تھی اور لانگ مارچ کا اعلان کر دیا تھا ۔۔۔۔۔
اور آج کے لیڈر اتنے ڈرے ہوئے ہیں کہ لانگ مارچ کی تاریخ 2 مہینے بعد کی دے رہے ہیں...
آج حکومت پاکستان “یوم استحصال کشمیر” منا رہی ہے لیکن حکومت پنجاب نے آج کا دن “ یوم استحصال صحافت” بنا دیا ہے آج TV کے رپورٹر ناطق ریحان پر پنجاب پولیس کے وحشیانہ تشدد کے خلاف لاہور پریس کلب نے مذمتی بیان جاری کر دیا ہے جس کے بعد پریس کلب کے عہدیداران کو بھی ٹارگٹ کیا جا سکتا ہے
وہ کہتے ہیں عمران خان کی مقبولیت نہیں ۔۔۔۔وہ کہتے ہیں عمران خان کے لیے نکلتا کوئی نہیں ۔۔۔۔ وہ کہتے ہیں ہمارے لیے عمران خان مان ہی نہیں رکھتا ۔۔۔تو پھر لوگوں کے گھروں میں چھاپے کیوں ؟؟؟
پھر وکلاء کو ریلی نکالنے سے روکا کیوں جا رہا ہے ؟؟
فیصل چوہدری نے بات تو ٹھیک کی ہے۔ محسن نقوی نے چوراہے میں جوتے مارے اور ن لیگ جواب کیوں نہ دے سکی۔ ان کے برے دن آۓ تو پی ٹی آئی تو کیا کوئی بھی ان کے ساتھ کھڑا نہیں ہو گا۔
کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہونا کوئی جرم نہیں، بلکہ انسانیت، انصاف اور حق کا ساتھ دینے کا تقاضا ہے۔ افسوس کہ آج کشمیر کے حق میں آواز بلند کرنے والوں کو ہی قید کیا جا رہا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جیلیں، مقدمات اور دباؤ حق کی آواز کو کبھی خاموش نہیں کر سکے۔ ہم کشمیریوں کے ساتھ تھے، ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔ کشمیر کے عوام کے حقِ خودارادیت، انصاف اور عزت کی جدوجہد جاری رہے گی
"مریم نواز کی شکل دیکھیں۔ میں تو اس کے چہرے پر جو تکبر اور رعونت ہے، اسے دیکھ کر حیران ہوتا ہوں کہ اسے کس چیز کا تکبر ہے؟
یہ دوکان جو زبردستی بنائی گئی، وہ نہیں چل سکی" -
شبر زیدی