دو سال پہلے، انہوں نے اس کے بچے کو شہید کر دیا
اپنے بیٹے کی نمازِ جنازہ پڑھاتے وقت وہ بمشکل اپنے قدموں پر کھڑا ہو پا رہا تھا انہوں نے اسے قید کر لیا اور گزشتہ 623 دنوں سے اس پر تشدد کر رہے ہیں! خاموش نہ رہیں، آواز اٹھائیں، اسے بھولنے نہ دیں۔
قبضہ گیر کا قبضہ تو چیک کریں، جس جماعت نے الیکشن میں سب سے زیادہ ووٹ لیے، جس جماعت نے سب سے زیادہ نشستیں جیتیں، اُس جماعت کی اس ملک میں کہیں بھی حکومت نہیں ہے! آصف خان احمدانی
#pakistan@Asifspeaks2
خبر کا سورس لنک جاننے کیلئے QR Code سکین کریں۔۔
یا اللہ! عمران خان صاحب کی باعزت رہائی کے اسباب پیدا فرما، پاکستان کو عدل و انصاف، آئین کی بالادستی اور حقیقی جمہوریت عطا فرما۔ ملک کو دیانت دار قیادت نصیب فرما اور قوم کی تقدیر بدل دے۔
آمین یا رب العالمین 🤲🏻🇵🇰
اسلام آباد میں کھنہ پل کے پاس جامع مسجد سیدنا صدیق اکبر کو انتظامیہ نے شہید کر دیا ہے جو 80 سالہ پرانی مسجد تھی۔۔
اگر اسوقت عمران خان کی حکومت ہوتی تو لازمی سرکاری افسران اس وقت عوام کوبتارہے ہوتے کہ یہ یہودی ہے فلاں ، فلاں۔
لیکن اب کوئی مفتی اعظم، یا کسی سرکاری افسر کی زبان نہیں کھلے گی۔
یہ نشانیاں ہیں سمجھنے والوں کے لئے۔۔۔
لاہور پولیس کا نیا کارنامہ! ملزم نہ ملا تو اس کی بیوی اور دو چھوٹے بچوں کو گرفتار کر لیا اور ان بے گناہوں پر 2 دن شدید تشدد کیا
کہانی یہیں پر ختم نہیں ہوئی، بلکہ جب ایک میڈیا ٹیم نے پولیس کا پیچھا کیا تو مظلوم ماں اور بچوں کو ایک میرج ہال میں چھپا دیا۔
سوال یہ ہے کہ موٹر سائیکل چوری کا کیس اتنا سنگین کیسے ہو گیا کہ ملزم کے چھوٹے بچوں کو اُٹھا کر مارا جائے؟
اب SOPs کہاں ہیں؟ کیا پولیس کا یہ رویہ قانون کے مورال کو خراب نہیں کریگا؟
مبصرین حیران ہیں کہ لوگ ایسی بے شرم پولیس میں اپنے بچے کیوں بھرتی کرتے ہیں اور جو بھرتی ہو جاتے ہیں، وہ یوں بے شرموں کی طرح ظلم کیوں کرتے ہیں؟ اور جب ظلم کر کے تنخواہ لیتے ہیں تو ایسے بے شرم ظالموں کے ماں باپ اور بیوی بچے اس ظلم کی کمائی کی روٹی کیسے کھا لیتے ہیں؟
یار حد ہوتی ہے کیسے کیسے لوگ ہمارے اردگرد رہ رہے ہیں
ابھی کچھ دیر قبل جب شجاع آباد سے رحمان بابا ایکسپریس ملتان کے قریب شیر شاہ حادثے کا شکار ہوئی تو تمام بوگیاں الٹ گئیں اس وقت کئی مسافر بے ہوش ہوگئے کئی زخمی ہوگئے
یہ جو معصوم پھول نظر آرہی ہے اس کو کسی بے غیرت انسان نے اغواء کرلیا
اب جب زخمیوں کو باہر نکالا گیا تو والدین اپنی بچی کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر ہلکان ہوگئے کہ ہماری شفاء کہاں گئی ؟؟
ایک اتنا بڑا حادثہ ، دوسرا اس میں اس بچی کا اغواء ہوجانا ہمارے منہ پہ تماچہ ہے
اس بچی کی تصویر کو اتنا پھیلا دیں کہ اغواء کار اس کو کہیں دور نہ لے جا سکیں
کیونکہ آپ کی وجہ سے کئی بچے اپنے والدین کو مل چکے ہیں پلیز مدد کریں
اگر کسی کو اس کے بارے میں کوئی بھی معلومات ہوں تو دیے گئے نمبر پر رابطہ کریں۔
03018352057
آج خیبر پختونخوا حکومت کے خزانے کا بیلنس نوٹ کر لیں۔ جب گورنر راج کے خاتمے ہوگا تو حساب مانگیں کہ خزانے میں کتنا پیسہ باقی ہے؟ دہشت گردی ختم کرنے کے نام پر آنے والوں کا اصل مشن امن و امان نہیں، بلکہ کے پی کے کا قومی خزانے ہے۔ وقت بتائے گا کہ خیبر پختونخوا میں امن قائم کرنے کی کوشش ہوئی یا عوام کے خزانے پر ہاتھ صاف کرنے کا موقع ملا! مہر عبدالستار
سورس جاننے کیلئے کیو آر کوڈ سکین کریں
#Pakistan
@MehrAS04
عمران خان نے دو صوبوں کی اسمبلیاں توڑیں، اگر وہ تب اسمبلیاں نہ توڑتے تو یہی ہوتا جو آج خیبرپختونخوا میں ہوا ہے۔ اگر عمران خان اسمبلیاں نہ توڑتے تو بہت آسانی سے گورنر راج لگا لیتے، لیکن عمران خان نے انہیں بے نقاب کر دیا ہے۔ شہباز گل
#pakistan@SHABAZGIL
خبر کا سورس لنک جاننے کیلئے QR Code سکین کریں۔۔
بینظیر بھٹو کی ایک دوست ہوا کرتی تھی جس کا نام وینا حیات تھا- بے نظیر کی حکومت جب غلام اسحاق خان نے 58 ٹو بی کا استعمال کرکے گرائی تو پیپلز پارٹی نے غلام اسحاق خان کے خلاف احتجاج شروع کروائے جس پر غلام اسحاق خان بہت زیادہ پریشان تھا- پھر ایک دن ایسا ہوا کہ ایک رات کچھ چور وینا حیات کے گھر گھسے ان کے گھر ڈکیتی کی اور پھر وینا حیات کا گینگ ریپ کیا- اور یہ کیس وینا حیات کیس کے نام سے مشہور ہوا-- انویسٹی گیشن کی گئی تو ایک نام اس کیس میں سامنے آیا جس کا نام عرفان اللہ مروت تھا یہ عرفان اللہ مروت کوئی اور نہیں بلکہ غلام اسحاق خان کا داماد تھا اور غلام اسحاق خان کے اس داماد کی بیٹی کوئی اور نہیں بلکہ ثمر ہارون بلور ہے اور وہ اس وقت پی پی کی کابینہ ہے
آپ کو یاد ہے کچھ عرصہ پہلے عرفان اللہ مروت نے پی پی میں شمولیت اختیار کی تو اس وقت بلاول اور اس کی بیٹیوں نے باپ سے احتجاج کیا جس پر پیپلز پارٹی نے عرفان اللہ مروت کو پارٹی سے نکال دیا- مگر آج اسی عرفان اللہ مروت کی بیٹی پیپلز پارٹی کی کابینہ میں شامل ہے-- کہا جاتا ہے کہ بے نظی راپنی زندگی میں بس دو دفعہ روئی ایک جس دن میر مرتضی بھٹو کو مارا گیا اور دوسرا وینا حیات کے ریپ پر اسمبلی میں بات کرتے ہوئے--
یہ اوقات ہے ان ب کے پکوڑوں کی--