طالبان کی واپسی اور عاصم منیر :
دہشت گردوں کی واپسی کا فیصلہ کور کمانڈرز کی کانفرنس میں جرنل باجوہ کی صدارت میں ہوا اور عاصم منیر بھی پوری طرح شریک نظر آ رہے ہیں نیچے سرکاری ویڈیو میں ، سیاسی حکومت تو ظاہر ہے انکے حکم پر ہی چلتی تھی ان معاملوں میں -ان سب افسروں میں عاصم منیر سب سے تجربہ کار تھے کیونکہ ISI اور MI دونوں کے سربراہ رہے تھے - انکا مشورہ سب سے اہم تھا -
چار سال 3000 کے قریب TTP کے لوگوں کو بلا کر رکھا اور کوئی شکایت نہیں کی مگر جب خیبر کی حکومت کو زبردستی نکالنا تھا انکا بہانہ بنایا کے صوبائی حکومت کچھ نہیں کر رہی -ناکام خود ہوے اور ملبہ دوسروں پر- میر تقی میر نے اسی دن کے لیے لکھا تھا:
" ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی
چاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بدنام کیا "
" کس کا کعبہ کیسا قبلہ کون حرم ہے کیا احرام
کوچے کےان باشندوں نے سب کو یہیں سے سلام کیا "
الزام لگا کر نکال دیا اب ذمے داری سر پر پڑی ہے تو دہشت گرد تو بھول گئے اور لگے ہیں منتخب عوام کے نمائندوں کو پکڑنے ، جیسے وہ کروڑوں لوگوں کے دل بدل دیں گے - کچھ ہی دن میں پختون آتے ڈال کا بھاؤ سمجھا دیں گے جیسے مجبور ہو کر بلوچ لوگوں نے وہ ٹھکائی کی ہے کے عورتوں کو بھی جیلوں میں بند کر دیا - خوف کا عالم دیکھیں -
عاصم منیر اپنے آپ کو ان حالات سے نہیں نکال سکتے ، اب اونٹ پہاڑ کے نیچے آ ہی گیا ہے -
آج تین دن ہو گئے ہیں PTI کا وزیراعلی غائب ہے، سپیکر غائب ہے صوبائی صدر جنید اکبر غائب ہے لیکن کسی نے پیٹیشن دائر نہیں کی
بیرسٹر گوہر کو چاہیے دس لوگوں کی ایڈوائز ڈی بنا دیں وہ اس سے بہتر پارٹی چلا لیں گے، کیوٹی پاۓ ہونا ہر مسئلے کا حل نہیں ہے
عدیل راجہ
خیبر پختونخواہ کے جن اضلاع میں ایمرجنسی لگائی گئی ہے ان میں شمالی وزیرستان بھی شامل ہےجس کے گاؤں محمد خیل میں معدنیات کے ذخائر ایک محتاط اندازے کے مطابق 60 کھرب ڈالر ہیں جو کہ آج پاکستانی 16,680 کھرب روپے بنتے ہیں ۔
🚨🚨ہمارے پر امن اجتجاج پر فائرنگ اور آنسو گیس کی بارش متعدد کارکن زخمی ہسپتال منتقل
ہم پر امن طریقے سے احتجاج کر رہے تھے پولیس نے فائرنگ کی اپنے لوگوں پر گولیاں چلادی ۔۔۔