عمران خان کے دور میں مدر اینڈ چائلڈ اسپتال بنائے گئے جو بہترین منصوبہ تھا انہوں نے میانوالی میں مدر اینڈ چائلڈ اسپتال کا نام بدل کر مریم رکھ دیا بس ری نیم کر رہے ہیں تصویریں لگ رہی ہیں اب تو کچرے کے ڈبوں اور ٹوائلٹس پر بھی انکی تصویریں لگ رہی ہیں ! محمد مالک ۔۔
یہ دونوں گرافکس بینرز بغور دیکھیے؛
ایک بینر پیپلز پارٹی نے اپنے آفیشل پیج سے پوسٹ کیا ہے جس میں ن لیگ پر تنقید کی گئی ہے۔ دوسرا بینر ن لیگ نے اپنے آفیشل پیج سے پوسٹ کیا ہے جس میں پیپلز پارٹی پر تنقید کی گئی ہے
میں گرافکس ڈیزائننگ کو گہرائی سے سمجھتا ہوں
ان دونوں بینرز کو غور سے دیکھیے۔ کچھ دلچسپ مماثلتیں ہیں
1. دونوں بینرز میں تین، تین افراد، اوپر تلے stack فارمیشن میں دکھائے گئے ہیں
2. دونوں بینرز کا بیک گراؤنڈ، تھوڑی بہت تبدیلی کے سوا ایک ہی استعمال کیا گیا ہے
3. دونوں بینرز میں، پارٹی کا لوگو بلکل ایک ہی لوکیشن پر ہے یعنی ٹاپ لیف ہینڈ سائیڈ پر
میرا تجربہ کہہ رہا ہے کہ دونوں بینرز ڈیزائن کرنے والی سورس ایک ہی ہے۔ ایک ہی کانسیپٹ پر دونوں بینرز کو ڈیزائن کیا گیا ہے۔ ایک پیپلز پارٹی کو، دوسرا ن لیگ کو بھیج دیا گیا کہ اپنے اپنے آفیشل پیجز پر پوسٹ کردو۔ دونوں نے کر بھی دیا
اس کا مطلب یہ ہے کہ ان دونوں جماعتوں کی نورا کشتی ایک ہی "ڈیزائن ہاؤس" سے پلان کی گئی اور execute کی جارہی ہے۔ دونوں کو اشارے ہیں کہ دھمال ڈالے رکھو۔ ایک دوسرے پر خوب حملے کرو، دبا کر کیچڑ اچھالو
یہ دونوں پارٹیاں ہدایات پر من و عن عمل کررہی ہیں
تحریر : شہزاد حسین.
آج سے دو ڈھائی برس قبل خضدار سے ایک نوجوان لڑکی اسما جتک کے اغوا کی خبر آئی، جسے زہری کے ایک بدبخت شخص ظہور جمالزئی نے پسند آنے اور زبردستی شادی کے لیے راضی کرنے پر اغوا کر لیا تھا۔ اسما کا نوجوان پڑھا لکھا بھائی آگے آیا اور اس نے قبائل کے لوگوں کو جمع کر کے پرامن احتجاج کیا۔ مرکزی شاہراہ پر دھرنا دیا۔ سوشل میڈیا کو احتجاج کا ذریعہ بنایا۔
اسی سوشل میڈیا کی ہاہاکار نے نتیجے میں خبر ملک بھر میں پھیل گئی تو ادارے حرکت آئے اور دو چار دن بعد کہیں جا کر زہری کے علاقے سے لڑکی تو بازیاب کر لی مگر نواب زہری کے رائٹ ہینڈ سمجھے جانے والے اس طاقت ور شخص کو نہ پکڑ سکے۔ بعدازاں جرگہ ہوا۔ معافی تلافی ہوئی اور معاملہ دبا دیا گیا۔
آج خضدار کے مقامی میڈیا سے اسما مینگل کی وڈیو چلائی گئی جس میں وہ پھر دُہائی دے رہی تھی کہ ظہور نامی شخص اب بھی اس کے پیچھے پڑا ہوا ہے، اس کے خاندان پر زبردستی شادی کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے، باپ کو دھمکی دی ہے کہ اگر کہیں اور رشتہ کیا اور لڑکی میرے حوالے نہ کی تو اپنے لیے کفن کا انتظام کر لو۔
یہ زورآور شخص اپنے قول کا پکا ثابت ہوا۔ آج شام کا سورج ڈھلنے سے پہلے ہی اس نے اپنا قول نبھایا۔ خبر ہے کہ خضدار میں "نامعلوم افراد" کی فائرنگ سے اسما جتک کے والد ماسٹر عنایت اللہ جتک جاں بحق ہو گئے۔
نہتے طلبہ سے لائبریری خالی کروانے، انھیں سڑکوں پر دھکیلنے والی خضدار کی "معاملہ فہم" بیوروکریسی کمشنر، ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر، پولیس سب کے سب یہاں سوئے رہے۔ سرکار نے صبح جاری ہونے والی بچی کی وڈیو کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔ باپ قتل ہو گیا، سارا خاندان دھمکیوں کی زد میں ہے۔ قانون سویا پڑا ہے۔
جنگل کا قانون اور کسے کہتے ہیں!
کوئٹہ میں ایک خاتون ڈاکٹر پر تیزاب گردی کرنے والے بندے کو چند گھنٹوں میں پکڑ کر پولیس مقابلے میں مارنے والی انتظامیہ کی خواہش تھی کہ ان کی اس کارکردگی کی تعریف ہونی چاہیے۔ ہم نے تب بھی کہا تھا کہ حضور یہ فوری انصاف اس لیے ممکن ہوا کہ قاتل ایک عام شہری تھا، یہ کسی میر، معتبر، کسی سردار نواب کا لڑکا ہوتا تو آپ اسے ہاتھ لگانے کی جرات بھی نہ کرتے۔
یہ بدبخت ظہور جمالزئی، نواب ثنااللہ زہری کا رائٹ ہینڈ ہے۔ اسے کوئی مائی کا لعل ہاتھ نہیں لگا سکتا۔ اب جواز تراشے جائیں گے کہ وہ تو خضدار میں ہے ہی نہیں، اسے کہیں کراچی، کہیں دوبئی میں دکھایا جائے گا۔ تمام تر ثبوتوں اور مقتول کی دُہائی کے باوجود یہ قاتل نہیں پکڑا جائے گا۔ کیوں کہ اس کے پیچھے ایک طاقت ور نواب کھڑا ہے۔ اور اس نواب کے پیچھے، سرداری نظام کو ستر سال بعد بوسیدہ قرار دینے والی ریاست کھڑی ہے۔
تو ریاست ہی بتائے کہ یہ لہو کس کے ہاتھ پہ تلاش کرنا ہے؟
ایک غریب ماسٹر کے قتل کی ایف آئی آر کس کے خلاف درج کروانی ہے؟
انصاف کی دُہائی کس کو دینی ہے؟
"میر پور کا ہر بندہ ماں اور بہن سے شادی کر کے لندن پہنچا ہوا ہے" - رضی دادا
نواز شریف کی ٹیم کی غلیظ سوچ اور گھٹیا گفتگو سے اندازہ لگائیے کہ یہ کتنے گرے ہوئے لوگ ہیں۔
ہر روز پہلے سے زیادہ گری ہوئی حرکت۔ لخ لعنت۔
عمران خان نے شوکت خانم ہسپتال لاہور کے لیے 1988 سے 1994 تک فنڈ ریزنگ کی، 29 دسمبر 1994 کو افتتاح ہوا،
مبشر لقمان صاحب جس Nissan Sunny گاڑی کا ذکر فر رہے ہیں، اُسکا فیول ٹینک 50 لیٹر کا ہوتا تھا، اور 1988 سے 1994 تک پاکستان میں فیس لیٹر پیٹرول کی قیمت 11 سے 14 روپے ہوتی تھی،
اگر متعلقہ گاڑی کا 50 لیٹر کا ٹینک فُل بھی کروایا جاتا تو بھی فی لیٹر پیٹرول کے حساب سے محض 700 روپے بنتا ہوگا، لیکن مبشر لقمان صاحب کے مطابق عمران خان نے فری کا 3000 روپے کا فیول ڈلوا لیا،
یہ ساری کہانی سُن کر مجھے وہ واقعہ یاد آگیا کہ
" منجی دیو نا دیو لیکن ترتیب تے سِدھی رکھو "
تین بار ہم تھانے میں آچکے ہیں۔ صبح 11 بجے کا واقعہ ہے ۔ میری بہنوں کی یہ حالت ہے ان کیساتھ زیادتی کی گئی ہے ان کو مارا بھی ہے ان کو گھسیٹا گیا ہے کپڑے پھاڑے گئے ہیں ۔ یہ میری والدہ کی حالت دیکھیں ۔ میرے بھائی کو اغواہ کیا گیا ہے اور جب ہم یہاں راولپنڈی تھانے میں آئے ہیں تو انہوں نے کہا ہے ہم کچھ نہیں کرسکتے سی سی ڈی کے پاس جائیں ۔ کیا اس ملک میں کوئی قانون نہیں ہے کیا ان پولیس والوں کی فیملی کو کوئی اٹھاکر لے جائے تو یہ ایسا کہیں گے ۔ ان کا نیٹورک نہیں چل رہا درخواست تک نہیں لے رہے
خاتون کا الزام
پنجاب یونیورسٹی کی طالبہ سونیا فاروق کی خودکشی کی کوشش۔
20 گولڈ میڈل اور نو چاندی اور براؤن میڈل لینے والی سونیا فاروق نے خودکشی کی کوشش کیوں کی.
پنجاب یونیورسٹی کے سپورٹس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے مجھے جنسی تعلقات بنانے پر مجبور کیا جا رہا تھا ۔ سونیا فاروق ۔
ہاسٹل میں سوتے ہوئے ہماری ویڈیوز بنائی جاتی ہیں
اور اسے استعمال کر کے ہمیں بلیک میل کیا جاتا ہے ثمرا بشیر
میں نے اس نا انصافی اور اس ظلم کے خلاف تین بار درخواست جمع کروائی مگر کوئی فیصلہ نہ ہوا ثمرا بشیر
پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ نے ہم لڑکیوں کو رات کے ڈیڑھ بجے ہوسٹل سے نکال دیا۔
ثمرا بشیر
“ ناپاک معاشرہ “
راولپنڈی 14 ماہ کے بچے کی لاش کیساتھ بیٹھی ماں،جس کا ریپ ہوا،بچے کو تشدد کرکے مارا گیا. تھانہ چونترہ کی حدود میں سفاک شخص کے ہاتھوں چاقو کے وار سے شدید زخمی ہونے والی خاتون نسیم بی بی ہسپتال میں دم توڑ گئیں__
اگر آپ اس شیطان صفت معاشرے میں رہتے ہوئے ایسے ظلم کو روک سکتے ہیں اور نہیں روک رہے، اس کے کیخلاف بول سکتے ہیں اور بول نہیں رہے، آپ اس برائی اور گناہ کے مذمت بھی نہیں کر رہے تو پھر “کلمہ پڑھ لیں” __ لعنت ہے ایسے معاشرے پہ لعنت ہے ایسی انسانیت پہ لعنت ہے ایسے قانون پہ اور لعنت ہے ایسے انصاف پہ __
جب یہ عزت لٹی ہوئی ماں اپنے ۱۴ ماہ کے بچے کیساتھ اللّہ پاک کے حضور پیش ہوگی تو اللّہ پاک کے جلال اور قہر سے اس پاک سر زمین اور اس میں بسنے والی عالیشان قوم کو اللّہ پاک کے عذاب سے کون بچا سکے گا؟؟؟؟
گزشتہ امتوں کی انتہا سے ڈر نہیں لگتا
یہ کیسے لوگ ہیں جن کو خدا سے ڈر نہیں لگتا
😢💔
چشمِ فلک نے شاید یہ منظر بھی دیکھنا تھا کہ کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی کرنا اور کشمیر کا پرچم اٹھانا بھی جرم بن جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ اگر کسی مظلوم قوم کے حق میں آواز اٹھانا اور اس کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنا بھی قابلِ گرفت عمل ہے، تو پھر آزادیِ اظہار اور جمہوری اقدار کی حقیقت کہاں باقی رہ جاتی ہے؟ اختلافِ رائے کا جواب گرفتاری نہیں، دلیل اور مکالمہ ہونا چاہیے۔
کشمیر کا جھنڈا اٹھانے پر لا تعداد طلبہ گرفتار
بڑی تعداد میں نوجوانوں نے پولیس کے سامنے سینہ سپر ہو کر گرفتاری دی جب انہیں پولیس وین میں منتقل کیا گیا تو نوجوانوں نے پولیس وین سے کشمیر کے پرچم نکال لیے اور کشمیر کے حق میں فلک شگاف نعرے بلند کیے
نوجوانوں نے دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا کہ وہ کسی بھی صورت میں خوف زدہ نہیں ہوں گے اور نہ ہی ظلم و جبر کے سامنے سر تسلیم خم کریں گے
ہم نے برداشت کر لیا ، ہم کہتے تھے تم لوگ نہیں کر پاؤ گے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ڈکار کو ہارٹ اٹیک کہنے والی ن لیگ اپنی ٹھکائی کی باری پر کدھر کدھر دوڑ لگائے گی۔
والد کے پاس موبائل فون نہ ہونے پر ڈکیتوں کا گالی دینا اور ایک ننھی جان کو گولی مار دینا اس بات کی علامت ہے کہ یہاں انسان نہیں، صرف درندے آزاد گھوم رہے ہیں۔ کراچی ایف سی ایریا شہید چوک کے قریب رونما ہونے والا یہ واقعہ صرف ایک تین سال کی بچی کا قتل نہیں بلکہ اس بے حس اور تباہ شدہ قانون کا ثبوت ہے جو اس شہر پر مسلط ہے۔
یہ المیہ صرف گلی کے ایک مجرم کا نہیں، بلکہ اس بوسیدہ اور مفلوج نظام کا ہے جو شہریوں کی سیکیورٹی میں مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ پیپلزپارٹی حکومت اور وزارتِ داخلہ سندھ کی بے حسی اب ناقابلِ برداشت حد تک پہنچ چکی ہے۔
کہاں ہیں وہ ادارے جن کی ذمہ داری شہریوں کا تحفظ ہے؟ رینجرز اور پولیس کی اتنی بھاری نفری، اربوں روپے کے بجٹ اور گلی گلی ناکوں کے باوجود اس شہر کی گلیوں پر نفاذِ قانون کے بجائے اسٹریٹ کرمنلز کا راج کیوں ہے؟
جب ایک باپ اپنی تین سالہ بچی کے ساتھ بھی محفوظ نہیں، تو پھر ان اداروں کے قائم رہنے اور ان کے شاہانہ اخراجات کا کیا جواز رہ جاتا ہے؟