@ChairmanMQMPak بھائ اسلام علیکم
آپ نےبلکل صحیح فرمایا۔سندھ پولیس کو کھل کر کراچی دشمنی بلخصوص مہاجر دشمنی کیلیۓ استعمال کیا جارہا ہے۔ڈاکوؤں کو حفاظت میں رکھا جارہا ہے اور مہاجروں کا قتل روز کی بنیادوں پرکیا جارہا ہے۔
سندھ میں جمہوری حکومت نہیں بادشاہت قائم ہے.
شکار پور کے پولیس اہلکاروں کی کراچی تعیناتی غیر قانونی ہے.
سندھ سے جرائم پیشہ پولیس اہلکاروں کی کراچی میں تعیناتی کی شدید الفاظ میں مزمت کرتے ہیں۔
کراچی پہلے ہی غیر مقامی اور نااہل پولیس کے ہاتھوں تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے، اب سندھ سے مزید جرائم پیشہ پولیس اہلکاروں کی کراچی تعیناتی کا مقصد کراچی کے شہریوں کی جان و مال کو غیر محفوظ بنا کر انارکی پھیلانا ہے۔
پہلے بھی عارضی تعیناتی کے نام پر ہزاروں پولیس اہلکار دادو اور لاڑکانہ میں بھرتی کئے گئے پھر کراچی تعینات کردیا گیا اور اب انہیں مستقل کردیا گیا ہے، اس طرح نہ صرف کراچی میں پولیس میں بھرتی کی گنجائش پر ڈاکہ ڈالا گیا بلکہ اس ڈاکے کے زریعے کراچی آنے والوں نے ڈکیتوں کا منظم نظام قائم کرڈالا۔
شکار پور سے پولیس اہلکاروں کا کراچی تبادلے اور تعیناتی کا حالیہ فیصلہ بھی غیر قانونی ہے۔
سندھ میں حکمرانوں کے متعصبانہ اور من مانے فیصلوں سے لگتا ہے سندھ میں جمہوری حکومت نہیں بادشاہت قائم ہے، اگر سندھ ��کمرانوں نے اپنے روئیے تبدیل نہ کئے اور سندھ کے شہری عوام کے حقوق پر اس ہی طرح ڈاکے ڈالے جاتے رہے تو سندھ کے شہری عوام اپنے مستقبل کو سندھ سے جوڑے رکھنے کے فیصلے پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہونگے۔
مہاجر قومی موومنٹ پاکستان شاہ فیصل زون کی جانب سے منعقدہ دعوت افطار میں وائس چیئرمین مہاجر قومی موومنٹ جناب شاہد فراز اور سیکریٹری مالیات جناب تنویر قریشی بھی شریک ہیں
‼️‼️لے کر رہینگے پاکستان ۔۔بٹ کر رہیگا ہندوستان۔۔کیف بنارسی صاحب آپ سے ہم شرمندہ ہیں۔آپ کے پوتے کو غیرمقامی ڈاکوؤں نے گولیاں مار کر شہید کردیا۔آپ کے جانے کے بعد مہاجروں کا خون بہت سستے داموں بکتا ہے۔کوئ پوچھنے والا نہیں ہے۔ارباب اختیار خاموش ہیں۔میری طرف سے پرسہ قبول فرماۂیں‼️‼️
فیصل ��ھائی یہاں بھی ایک فقہ ہی مسئلہ ہے جو کھلا رہا ہے گلا پھاڑ کے سیٹھ کی حمایت کر رہا ہے جس فقہ سے ظفر عباس کا تعلق ہے اس میں شتر مرغ کھانا حرام ہے یہ بات ضمیر اختر نقوی صاحب نے خود کہی ہے
کسی کو کراچی کے ایسے ہوٹل یا ریسٹورنٹ کا نام معلوم ہے جہاں شترمرغ کی کڑاہی فروخت ہوتی ہو یا کوئی ایسا دوست جس کے گھر میں معمول کے مطابق تیار کی جاتی ہو یا کبھی ایک مرتبہ پکی ہو
مصطفی کمال نے متحدہ کا اٹھارہواں یوم تاسیس منانے سے صاف انکار کردیا مزید کہا کہ موجودہ متحدہ 22 اگست کی رات کو ٹھاکر کی بدولت وجود میں آئی یہ یوم تاسیس الطاف حسین کی پارٹی کا ہے ہم منانے کے مجاز نہیں
آؤ عہد کریں ایک پائی ہو یا ایک روپیہ اپنی قوم کے ایسے سفید پوش لوگوں کی مدد کرو گے جو کسی کے آگے ہاتھ پھیلانا پسند نہیں کرت�� نا ہی گھر سے باہر دسترخوانوں پر بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں نا راشن کی لائن میں کھڑے ہوتے ہیں
#RamadanKareem #Ramadan2024
#رمضان #رمضان_مباركم #
@ChairmanMQMPak کراچی کی پڑھی لکھی عوام کو اب سوچنا ہوگا کیا اسی طرح زندگی گزارنی ہے آفس سی واپسی پر یا تو غیر مقامی لوگ مطلب پولیس روک کر 300 روپے لیتی ہے ، اور پھر تھوڑا سا آگے بڑھتے ہی اگلے سگنل پر غیر مقامی ڈکیت آپ کا پیچھا کرتے ہیں ملی بھگت ہوتی ہے کیا حال ہوگا پھر سوچیں ذرا ۔
شہر اسٹریٹ کریمنل کے رحم وکرم پر ہے۔
پولیس کی ذمہ داری امن وامان کو یقینی بنانا ہے نا کہ سیاسی مخالفین کچلنا۔
غیرقانونی تارکین وطن آج بھی آزادانہ دندناتے گھوم رہے ہیں۔
اسٹریٹ کرائم میں ہونے والے جانی نقصان پر انتہائی تشویش ہوئی۔
پولیس کی ذمہ داری امن وامان کو یقینی بنانا ہے نا کہ سیاسی مخالفین کچلنے کیلئے مامور کر کے جرائم پیشہ عناصر کی راہموار کرنا۔
رواں سال محض 2 ماہ کے دوران ڈکیتی کی وارداتوں میں 2 سالہ حورین سمیت 35 سے زائد معصوم شہریوں کو موت کی آغوش میں دھکیلا جا چکا ہے جبکہ درجنوں زخمی ہونے کے سبب مفلوجی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
چند ماہ قبل پاک افواج کی جانب سے غیر قانونی تارکین اور افغان باشندوں کے انخلاء کے حوالے سے اٹھائے جانے والا اقدام خوش آئند تھا لیکن شاید وہ بھی کسی مصلحت کا شکار بن گیا ہے اور اس سے حاصل ہونے والے نتائج بھی ��ھٹائی میں پڑگئے ہیں آج بھی غیر قانونی تارکین اور افغان باشندے شہر کی شاہراہوں پر آزادانہ دندناتے دکھائی دیتے ہیں جبکہ مجرمانہ کارروائیوں میں ملوث ہونے کے پختہ ثبوتوں کے باوجود انکے خلاف کارروائی کو کوئی تیار نہیں
اب یہ سیاسی دباؤ ہے یا بیرونی، عوام کو خود فیصلہ کرنا ہوگا اور اپنی جان و مال کے تحفظ کی ذمہ داری خود اٹھانی ہوگی کیونکہ حکومت اور سیکیورٹی اداراے اپنی ذمہ داری نبھانے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔