ایک نہیں دو پاکستان ، تمام ممبران خیبر پختونخوا اسمبلی اور انکے شریک حیات کو تاحیات سرکاری پاسپورٹ (بلیو پاسپورٹ) دینے کا قانون منظور کرلیا گیا ہے ۔۔۔کیوں بھائی ؟ اس کا کیا جواز ہے؟ شریک حیات کیا کسی رکن پارلیمنٹ کو بھی تاحیات نیلا پاسپورٹ دینا نہیں بنتا۔ سب کے پاس ایک ہی پاسپورٹ ہو،جو سرکاری کام سے جائے ،صرف اسے نیلے پاسپورٹ پر سفر کرنے کی اجازت ہو۔باقی سب سے یہ سہولت واپس لی جائے ۔
Alhamdulillah! Today marks another important milestone in Pakistan’s economic reform journey.
The successful First Financial Closing of the PIA privatisation transaction, and the transfer of management control to the investor consortium, marks the beginning of a new chapter for our national carrier. With a transformational investment to modernise and strengthen PIA, we are laying the foundation for its revival while reinforcing investor confidence in Pakistan.
I commend Deputy Prime Minister and Foreign Minister Senator Mohammad Ishaq Dar, and pay special tribute to Field Marshal Syed Asim Munir and his dedicated team, as well as Adviser to the Prime Minister on Privatisation Muhammad Ali, Finance Minister Senator Muhammad Aurangzeb, the Privatisation Commission, and all those whose professionalism, commitment and tireless efforts made this landmark achievement possible.
Together, we will continue to pursue bold reforms that strengthen our economy, create opportunities for our people, and secure a more prosperous future for Pakistan.
وضاحت
1997 کے الیکشن میں چراغ ہی پی ٹی آئی کا انتخابی نشان تھا۔ اسی انتخابی نشان سے میں نے NA 197 کوئٹہ- چاغی سے پی ٹی آئی کے امیدوار کی حیثیت سے الیکشن بھی لڑا تھا۔
ثبوت حاضر ہے۔
میری ایک عرصہ سے یہ پختہ رائے ہے کہ طالبان جو کچھ کر رہے ہیں اس کے پیچھے پاکستان دشمن طاقتیں ہیں جو ڈالر دے کر ان سے یہ کام کروا رہی ہیں۔ اب مزید مصلحت سے کام لینے کی کنجائیش نہیں ہے۔ ان ملک دشمنوں کے ساتھ وہی سلوک کرنا چاہئیے جو ہم نے بھارت کے ساٹھ پچھلے سال مئی میں کیا تھا۔
جب تک کسی کو یہ پتہ نہ ہو کہ وار کون کر رہا ہے اور تیر کدھر سے آ رہا ہے، نہ وہ اس تیرکو روک سکتا ہے اور نہ وار کرنے والے کی گردن دبوچ سکتا ہے۔
بہت عرصہ تک ہم طالبان کو دہشت گردی کا الزام دیتے رہے اور کم علمی میں یا مصلحتا” بھارت کا ذکر کرنے سے احتراز کرتے رہے حالانکہ یہ ساری دہشت گردی کو بھارت کی مالی معاونت حاصل تھی۔
جب بیماری نے پوری طرح جڑیں پھیلا لیں تب جا کر ہم نے بیماری کا اعتراف کیا اور دہشت گردی کو فتنہ آل ہندوستان کہا۔
اب واضح طور پہ اسرائیل بھی اس کھیل میں شامل ہو گیا ہے، کراچی کی دہشت گردی بھارت اور طالبان سے آگے کا لیول ہے۔ ہم اب اسرائیل کا ذکر کرنے میں بے دیر کر رہے ہیں۔ پہلے بھی ہم نے ایک عرصہ تک قوم کو ابہام میں رکھا اور اسے بتاتے رہے کہ یہ ناراض لوگ ہیں، محض بگڑے ہوے لوگ ہیں۔ یہ بہت بڑی غلطی تھی اب یہ غلطی نہیں دہرای جانی چاہیے۔
قوم کو اس دہشت گردی کے خلاف کھڑا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اسے صاف بتایا جاے کہ یہ دہشت گردی بھارت اسرائیل کے کراے کے مرسنریز کر رہے ہیں اور ان کی جیبوں سے ڈالر نکلتے ہیں۔
جیو نے بطور ادارہ اگر دانستہ حماقت کی تو اس کی سزا وہی ہے جو اسے دی گئی مگر اگر یہ حماقت کسی خاص شخص نے کی تو سزا اس تک محدود رہنی چاہیے ۔
Content control بھی البتہ اداروں اور اس سے منسلک افراد کی ذمہ داری ہے اور جہاں اس بارے غفلت ثابت ہو اس کی بھی کُچھ جرمانے اور ملازمت سے برخواستگی کی سزا بنتی ہے مگر اگر یہ حماقت غیر ارادی طور پہ یا سہوا” ہوی تو پورے ادارے کو ختم نہیں ہونا چاہیےاس سے ہزاروں افراد کا روزگار وابستہ ہے۔
گولی نہیں بولی !
ہم نے سنا تھا کہ ریاست ہوگی ماں کے جیسی۔ وزارت داخلہ حکومت کا عکس ہوتی ہے۔ اس آئینے میں پاکستان کے عوام اپنی ماں کا چہرہ دیکھنا چاہتے ہیں لیکن انکو سوتیلی ماں نظر آتی ہے۔
جو احتجاج کیلے اسلام آباد آئے اسے گولی مت مارو اسے بات کرو۔
( ایسی بہت سی باتیں اس تقریر سے حزف کر دی گئی ہیں۔ لیکن بحال جو اسمبلی سے خدا خدا کر کے ملا وہ آپ کے سامنے حاضر ہے۔ )
Speech on Interior Ministry in Budget 2026
عمران نشئی اس لئے جیل میں ہے کہ اس کے وکیل کیس لڑنا ہی نہیں چاہتے، اور وہ اس لئے کیس پر بحث کرنا نہیں چاہتے کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ نیازی نے جرائم کئے ہیں اور اگر کیس کا فیصلہ آیا تو وہ نہیں بچے گا۔
آفرین۔ پاکستان جس طرح بحالی امن کے عمل پہ پہرہ دے رہا ہے اس کی مثال نہیں ملتی ۔ آفرین ۔
وزیر آعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل مزاکرات کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے سویٹزر لینڈ پہنچ گئے جبکہ ڈپٹی پرائم منسٹر مصر سے وہاں پہنچ رہے ہیں۔
پاکستانی حکام کے یہ رت جگے اور یہ بھاگ دوڑ تاریخ کا حصہ بننے جا رہی ہیں۔ پاکستان دنیا میں امن کے قیام کی تحریک کا سرخیل تسلیم کیا جا رہا ہے۔ الحمدوللہ ۔
ہر چھڑی والے کے پاس اپنا اپنا ٹومی گینگ ہوتا ہے جس کا کام سیاستدانوں کے پیچھے بھاگنا اور بھونکنا ہوتا ہے۔۔۔ فیصل واوڈا بھی موجودہ چھڑی والے کے ٹومی گینگ کا حصہ ہے
اسرائیل کو معاہدہ کا احترام کرنا ہوگا، امریکہ کے فیصلے میں کرتا ہوں نیتن یاہو نہیں۔
ٹرمپ
عوامی سطح پہ نیتن یاہو سے ٹرمپ کا خود کو علیحدہ کرنا شاید ٹرمپ کی وقتی مصلحت ہو مگر اس کے اثرات بہت دور رس ہونگے۔
امریکہ کی راے عامہ پہلے ہی کھُل کر اسرائیل کے لیے ناپسندیدگی کا اظہار کر رہی ہے اور ٹرمپ کے اس بیان سے امریکی عوام میں اسرائیل سے نفرت کے جزبات کو مہمیز ملے گی اور امریکہ میں اسرائیل لابی پسپا ہو گی اور امریکہ کو اب کُھل کر اسرائیل کی جارحیت کی پالیسی کی حمایت سے دستبردار ہونا پڑے گا۔
وڈیرے نہ پہلے کبھی عوام کے ہمدرد تھے نہ آئندہ امید ہے۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت صرف اس وجہ سے ہے کہ متبادل میسر نہیں ہے ورنہ جو حال انہوں نے کراچی کا کیا ہے وہ سب پر واضح ہے۔
میں نے بہت عرصہ پہلے ایک پروگرام میں ایک صحافی کو سنا تھا، کہہ رہے تھے کہ 1998 کے انتخابات میں بھی عمران خان نے مجھ سے کہا تھا کہ میں لکھ کر دینے کو تیار ہوں کہ ہماری پارٹی سوئپ کرے گی اور پارٹی کو کیا جیتنا تھا عمران خود تمام حلقوں سے زمانت ضبط کر وا بیٹھا تھا۔
گلگت بلتستان کے عوام ایک بار پھر پاکستان پیپلز پارٹی سے اپنی والہانہ محبت اور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں۔ اگر انتخابات آزاد، منصفانہ اور شفاف ہوئے تو پاکستان پیپلز پارٹی عوامی حمایت سے حکومت قائم کر کے ہمیشہ کی طرح عوامی فلاح و بہبود اور ترقی کے سفر کو آگے بڑھائے گی۔
تاریخ گواہ ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کو ایف سی آر جیسے جابرانہ نظام سے نجات دلانے، انہیں سیاسی شناخت دینے اور اپنی رائے کے آزادانہ اظہار کا حق فراہم کرنے میں پاکستان پیپلز پارٹی نے کلیدی کردار ادا کیا۔
ان شاء اللہ 7 جون کو گلگت بلتستان کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگا کر پاکستان پیپلز پارٹی کو کامیاب بنائیں گے اور ترقی، جمہوریت اور عوامی خدمت کے سفر کو مزید مضبوط کریں گے۔
#GilgitBhuttoKa #VoteForTeer
عمران نشئی نہ پہلے کوئی الیکشن جیتا تھا اور نہ ہی آئندہ کوئی امید ہے۔ 2018 کے الیکشن پر ڈاکہ مار کر نشئی کو زبردستی وزیر اعظم بنوانے والے سارے اللہ کی پکڑ میں ہیں۔ عمران نشئی کی سیاست کا باب ہمیشہ کے لئے بند ہو چکا ہے۔
وِچھڑ گیا میرے دل دا جانی 😢
آج اگر والد صاحب زندہ ہوتے تو عید والے دن پہلی فون کال اُن کو کرنی تھی صبح سے ابھی تک کسی کو بھی کال نہیں کی اور نہ ہی دل کر رہا ہے اللہ پاک میرے والدین کے درجات بلند کرے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے آمین ثم آمین 😢🤲🕋🌹