پاکستان میں کوئی انسان نہیں سوائے چند اشرافیہ کے نا ہی کوئی ہیومن رائٹس ہیں۔ جو ہیومن رائٹس کی آرگنائزیشن ہیں وہ بھی پیسے والے ڈکٹیٹروں کی غلام ہیں انسانیت کا ہر حق سلب کر لیا گیا ہے۔
🛑 پورا دن دھوپ میں کھڑی اس لوہے کی چادر سے بنی گاڑی میں کوئی بیٹھ کر دکھائے ۔۔
اچھے وقتوں میں انسانیت ہوا کرتی تھی جو آج کل ناپید ہوگئی ہے بڑی بڑی کرسیوں پر بیٹھ کر AC کی ٹھندی ہوا میں باہر اس لوہے کے تندور میں بیٹھے غریبوں کے بچوں کی کیسے پرواہ ہوسکتی ہے ۔ یہ حکومت اور اداروں کی زمہ داری ہوتی ہے شہریوں کے حقوق کا خیال رکھنا ، انسانی حقوق تو ختم ہی ہوگئے ہیں ۔
مجھے 1999 میں امریکہ کی نیشنلٹی آفر ہو گئی تھی
CIA میرے گھر آئی مجھے اور میرے بچوں کو امریکن پاسپورٹ تنخواہ پیکج سب کچھ دیا جب میں نے پوچھا مجھے کیا کرنا ہے تو انہوں نے کہا جو باقی پاکستانی جرنیل ہمارے لیے کرتے ہیں
میں اس وقت درانی کیساتھ ڈائریکٹر انٹیلجنس تھا
ایڈمرل جاوید احمد
CCD والے لوگوں کو قتل کر کے ان کے اعضاء نکال کر بیچ رہے ہیں
ابھی انہوں نے پانچ لوگوں کو قتل کیا جن کی عمریں پچیس سے سترہ سال تھیں سب کی چیر پھاڑ کر کے انسانی اعضاء نکالے گئے تھے
آفتاب باجوہ
فی دوکاندار نے 60000 روپے دیے ہیں اپنی جیب سے لوگوں نے بنایا ہے کیونکہ ادھر میری بھی شاپ ہے مینے بھی 60000 روپے دیے ہیں جو نہی دیتا تھا دوکان سیل کر دیتی تھی انتظامیہ اور پبلکسٹی مریم نواز اپنی کر رہی
پولیس، ایف آئی اے اور سیکیورٹی ادارے ایک سیاسی جماعت کو فنا کرنے میں لگے ہوئے ہیں اسی چکر میں اداروں کی کالی بھیڑیں لوگوں کے خاندان فناء کرنے میں مافیا کی پشت پناہی کر رہی ہیں۔ بلاسفیمی گینگ نے کتنے گھر اجاڑ دیئے کیا کسی ایک کو بھی سزا ہوئی کوئی ایک بھی پکڑا گیا؟
جب حکومتی پارٹی کے حمایت یافتہ ہوں تو ہر سانحے پر انسانیت اور ہمارے معاشرے کی ذمہ داری کا راگ الاپہ جاتا ہے مگر یہ سوچ کبھی نہیں آتی کہ ریاست ہوگی ماں کے جیسی صرف لفظوں کی حد تک کیوں۔ لوگ روٹی کپڑا مکان کے بعد کفن سے بھی محروم ایسا کیوں؟ مہنگائی آسمان کو اور حاکم عیاشی کو چھو رہے
ہر دکھ اور ہر سانحے کا بوجھ صرف حکومت پر ڈال دیا جائے، جبکہ معاشرہ اپنی ذمہ داری بھول جائے۔ ملتان میں ایک باپ اپنے بیٹے کی لاش بغیر کفن کے قبرستان لے گیا۔ افسوس صرف اس بات کا نہیں، سوال یہ بھی ہے کہ اس گلی، اس محلے، اس وارڈ اور اس شہر میں کیا ایک بھی ایسا انسان نہ تھا جو اس کی مدد کرتا؟ انسانیت صرف حکومت نہیں، ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
Feminist Indian Girl and Simp husbands have now brought Western kissing culture into Hindu traditional weddings.
Imagine how uncomfortable the guests and Relatives must have felt.