@RanaSikandarH درخواست برائے فوری انکوائری اور انصاف: روشن پاکستان پبلک مڈل اسکول، خانگڑھ دومہ،تحصیل علی پور ،ضلع مظفرگڑھ۔ ہم انتہائی افسوس اور شدید صدمے کے ساتھ یہ تحریری شکایت متعلقہ حکام کے علم میں لا رہے ہیں کہ یکم ستمبر 2026ء کو روشن پاکستان پبلک مڈل اسکول خانگڑھ میں ساتویں جماعت کے طالبِ
مولانا ناصر مدنی صاحب کو خانیوال میں جمعہ پڑھاتے دل کا دورا پڑا ہے لوگ ان کو CPR دے رہے اور یہ باعث اطمعیبان کہ یہ درست ابتدائی فوری طبعی امداد ہے اس سے جان بچنے کے چانس زیادہ ہوتے ہیں یہی ایس او پی بھی ہے
@NadraPak@writerhuyar کمپیوٹرآز برتھ سرٹیفیکیٹ پر ایک بچہ کی والدہ کا نام نام غلط درج ہوگیا تھا اس کو اب کیسے صیح کروآئے کیونکہ۔جب تک یہ ٹھیک نہیں ہوگا اس کا بے فارم نہیں بن سکتا
پنجابی کا ایک محاورہ ہے کہ "ات خدا دا ویر"۔
کورونا وائرس کی وبا کے بعد دنیا بھر میں جو اندھیر نگری برپا ہوئی، بظاہر لگ رہا ہے کہ وہ ٹھنڈی ہو رہی ہے۔
اس پوسٹ میں پہلے پاکستان کی بات کرتے ہیں، یعنی لوکل مارکیٹ کی۔
سب سے پہلے پراپرٹی کی مارکیٹ الٹ گئی۔ سال 2021 کے مقابلے میں پلاٹ کم از کم 30 فیصد گر چکے ہیں۔ کچھ پاکٹ تو ایسی ہیں جہاں فروخت کنندہ 50 فیصد یعنی آدھی قیمت پر جان چھڑوانا چاہتا ہے مگر مارکیٹ میں خریدار نہیں۔
اسکے بعد آٹو سیکٹر الٹ پڑا۔ گاڑیوں کی فروخت کم ترین لیول پر آ گئی۔ ڈیمانڈ نہ ہونے کیوجہ سے کمپنیوں کو اپنے پلانٹ بند کرنے پڑے۔ سٹاک مارکیٹ میں آٹو سیکٹر کے شئیرز 30 فیصد سے زیادہ گر گئے۔ لاہور کی جیل روڈ اور سمن آباد مارکیٹ سیکنڈ ہینڈ گاڑیوں سے بھری پڑی ہیں مگر خریدار نہیں۔
پھر کرنسی کی مارکیٹ الٹ پڑی۔ ڈالر 335 میں بھی نہیں ملتا تھا، آج 285 پر دستیاب ہے، مگر خریدار خوفزدہ ہے۔
چین میں Deflation کیوجہ سے سولر پینل کی مارکیٹ بھی الٹ پڑی۔ امپورٹ پر پابندی لگی تو سولر پینل 130 روپے فی واٹ میں بھی دستیاب نہیں تھا۔ آج کا ریٹ 60 روپے فی واٹ ہے، خریدار موجود نہیں اور موسم سرما شروع ہونے کو ہے۔ بجلی کے بھاری بلوں سے جان چھڑانے کا یہ نادر موقع ہے۔
لوکل مارکیٹ میں 24 قیراط سونے کی قیمت 2 لاکھ 44 ہزار روپے تک بڑھی، لگتا تھا کہ ریٹ کم ہونا ناممکن ہے، آج سونے کا بھاؤ ایک لاکھ 90 ہزار روپے فی تولہ تھا۔ انٹرنیشنل مارکیٹ میں محض چار دن کے دوران سونا 1943 ڈالر فی اونس سے گرتا ہوا اب 1820 ڈالر فی اونس پر دھکے کھا رہا ہے۔ سونے میں سرمایہ کاری کرنے والے رگڑے گئے، یوں محسوس ہو رہا ہے کہ ان کا سرمایہ پھنس گیا ہے اور وہ اب مہینوں نہیں نکل پائیں گے۔
کورونا کے بعد کوئلے کی قیمت 80 ڈالر فی ٹن سے 470 ڈالر تک بڑھی مگر اس وقت قیمت 121 ڈالر ہے۔
انٹرنیشنل مارکیٹ میں نیچرل گیس کی قیمت 61 فیصد گر چکی۔
آج انٹرنیشنل مارکیٹ میں خام تیل کی مارکیٹ الٹ گئی۔ امریکہ کی بانڈ مارکیٹ میں شدید سیلنگ دیکھی گئی۔
کارگو کے بزنس سے وابستہ ایک دوست بتا رہے تھے کہ کورونا سے پہلے جس روٹ پر کنٹینر کا کرایہ 1800 ڈالر تھا، کورونا کے بعد وہ کرایہ 8000 ڈالر تک بڑھ گیا تھا۔ اب اسی روٹ کا کرایہ 1200 ڈالر ہے۔
مارکیٹوں پر نظر رکھنے والے لوگوں کا کہنا ہے کررونا لاک ڈاؤن سے ائیر لائیز کو نقصانات ہوئے جو انہوں نے لاک ڈاؤن کے بعد کرائے بڑھا کر پورے کئے مگر اب قوت خرید متاثر ہونے سے جلد ہی ائیر لائن/ٹریول انڈسٹری الٹے گی۔
پاکستان میں کچھ وقت ضرور لگے گا مگر مستقبل قریب میں اجناس کی باری ہے۔ پچھلے ایک سال کے دوران انٹرنیشنل مارکیٹ میں گندم 38 فیصد، مکئی 28 فیصد، سویابین 7 فیصد، کافی 31 فیصد اور چاول 7 فیصد گر چکا ہے۔ جلد ہی اسکا اثر پاکستان پر بھی آئے گا۔
وقت بدل رہا ہے، خود کو بدلیں اور بدلتے ہوئے ماحول سے حتیٰ الامکان فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں تاکہ آپ کی اور آپکی فیملی کی زندگی میں بہتری آئے۔
پوسٹ کے طویل ہونے کی معذرت، کوشش کی کہ مفاد عامہ میں تمام مارکیٹوں کا احاطہ کر سکوں۔
وہ عادل راجہ جو 9 مئی کے دن عوام کو حملوں پر بھڑکا رہا تھا اور فوجی مقامات پر حملوں کا حکم دے رہا تھا،
یہاں قوٹ کی گئی ویڈیو میں تحریک انصاف کے سلمان احمد اس کی تعریف میں مصروف ہیں۔
پھر بعد میں کہتے ہیں 9 مئی تو فالز فلیگ تھا۔ ہم نے تو کوئی حملہ نہیں کیا۔