@aali123@IqAwais 3/3
قسم گواہی کے برابر نہیں ہوتی۔ کلاسیکی فقہ میں شہادت (گواہی) اور یمین یا لعان (قسمیں) کو الگ الگ قانونی زمروں میں رکھا گیا ہے، اس لیے ان دونوں کو ایک جیسا سمجھنا درست نہیں۔
@aali123@IqAwais 2/3
یہ ایک غیر معمولی قانونی طریقہ (لعان) ہے جو اس وقت اختیار کیا جاتا ہے جب کسی دعوے پر ثبوت فراہم کرنا ممکن نہ ہو۔ لہٰذا یہ آیات گواہی کے عمومی اصول بیان نہیں کرتیں بلکہ ناانصافی سے بچنے کے لیے ایک خاص طریقہ بتاتی ہیں۔
@aali123@IqAwais 1/3
سورۂ النور 24:6–9 گواہی کا معاملہ ہی نہیں ہے۔ اس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ان کے پاس اپنے سوا کوئی گواہ نہیں ہوتا، یعنی یہاں کسی باقاعدہ گواہ کی موجودگی سرے سے نہیں ہے۔
@aali123@IqAwais 3/3
لیکن جو آپ دعویٰ کر رہے ہیں کہ یہ خاص اسی معاملے کے لیے تھا، تو قرآن نے اس کو واضح طور پر مخصوص نہیں کیا۔
اب قرآن کی ہزاروں تفاسیر ہیں، اور اگر آپ ان میں سے اپنی مرضی کے مطابق مطلب نکالتے ہیں تو یہ آپ پر ہے۔
@aali123@IqAwais 2/3
دوسری جو آپ نے قرآن کی بات کی ہے، تو قرآن میں گواہوں کی تعداد کا ذکر صرف ایک بار آیا ہے اور وہ بھی معاہدے کے معاملے میں ہے، جس میں دو عورتوں کو گواہ مانگا گیا تاکہ اگر ایک بھول جائے تو دوسری اسے یاد دلا دے۔
@aali123@IqAwais 1/3:
ہم نے گفتگو کا آغاز ایک حدیث سے کیا تھا جس پر آپ نے کہا تھا کہ میں نے حدیث کی غلط تفسیر کی ہے، جبکہ اس میں صاف لکھا تھا کہ یہ عورت کی دماغ کی کمی کی وجہ سے ہے۔ اب اگر آپ اس حدیث کو رد کرتے ہیں تو مجھے اس سے کوئی مسئلہ نہیں۔
@aali123@IqAwais اگر عورت کو جذباتی اور نازک سمجھ کر اسے گھریلو کاموں تک محدود رکھا جائے تو یہ کیسے مساوات کہلائے گا؟ مساوات کا مطلب ہے کہ مرد اور عورت دونوں کو اپنے خوابوں اور صلاحیتوں کو حاصل کرنے کا یکساں حق ملے۔
@smapak2001@IqAwais 2/2:
اور آپ کیا سمجھتے ہیں؟ وہ خدا جو سب کچھ جاننے والا ہے، وہ آپ کے ارادوں کو نہیں جان سکتا؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ خدا صرف ظاہری اعمال کو دیکھے گا، اور دل کی حقیقت کو نہیں جانے گا؟ اگر آپ کا ایمان محض فائدے کے لیے ہے، تو کیا یہ واقعی ایمان کہلائے گا؟
@smapak2001@IqAwais 1/2:
اگر کوئی ایسا کہتا ہے تو شاید وہ خود بھی خدا کے وجود میں شک رکھتے ہیں اور صرف اپنے ذاتی فائدے کے لیے محفوظ رہنا چاہتے ہیں۔ یہ ایک قسم کی احتیاط ہے، نہ کہ سچے ایمان کی علامت۔
@aali123@IqAwais Here it is in urdu
پھر آپ نے کیوں کہا کہ میں نے حدیث کی غلط تفسیر کی؟ اور
دوسری بات جو کی، وہ مجھے سمجھ نہیں آئی، کیا آپ تھوڑا وضاحت سے بتا سکتے ہیں؟
مرد اور عورت روحانیت میں برابر ہیں، لیکن دنیاوی معاملات میں عورت کو "coerced" کیا جا سکتا ہے، جس کا مطلب ہے مجبور یا دباؤ ڈالنا۔
@Dani_Rana78789 @IqAwais Kiu k vo Islam ko sai ni smjhta to vo Islam ki teachings ni follow kry ga pr ap smjhty hy to apko krni prdy gi or jis trah sy apny represent kia hy apny apko or apny Deen ko vo qabil e tareef hy.
@aagahi0313@IqAwais Pehli bat apny yey kaisy claim kr dia k my mulhid hn doosri bat ap jis nizam ko manty hy usko thorda explain kr dy k apka nazria kia hy kia pta my apky nazriye sy qaiel ho jaoon. Shukria
@aali123@IqAwais Then why u claimed that I have misinterpreted that ahdees or doosri Jo bat apny ki mujhy uski smjh ni ayi ap usy thorda explain kry gy
K man or women spiritually equal hy
Pr wordly matter m women ko "coerced" kia ja skta hy jiska literal meaning forces krna , dabaoo dalny k hy
@aagahi0313@IqAwais Bhai agr ap Deen behtr janty hy to apny Jo bat ki vo apky Deen m nahi saza or jaza apky hath m ni hy apny rad e aml ya uspy tanqeed krni hy to apko apny Deen ki boundary m reh k krni prdy gi agr ap usy violate kry gy iska mtlb ap khud bhi apny Deen ko follow ni kr rye
@aali123@IqAwais Can u explain how u interpreted this from this ahdees that is clearly stating it is due to lack of her intelligence I will love to know