“My father is in a situation where the @UN has called it torture. The human rights organization @amnesty international has said he is being held arbitrarily under inhumane conditions. My aunties are also being held by the regime.
No one can speak their mind in the country. It is a military dictatorship and an oppressive regime. The world needs to look at what is happening in Pakistan.” @Kasim_Khan_1999’s interview with @CBCNews.
#PakistanUnderFascism #FreeImranKhan
سب سے بڑی بہادری ٹریگر دبانا نہیں بلکہ غلط ہونے پر اسے دبانے سے انکار کرنا ہے۔ ہر سپاہی کو ایک سوال کا جواب دینا ہوتا ہے کیا یہ حکم عادلانہ ہے؟ یاد رکھیں، اللہ کے حضور جوابدہی ہمیشہ باقی رہتی ہے۔
عاصم منیر ایک ذہنی مریض ہے جس کی اخلاقی پستی کی وجہ سے پاکستان میں آئین اور قانون مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں اور کسی بھی پاکستانی کے بنیادی انسانی حقوق اب محفوظ نہیں۔
پاکستان کے حقیقی وزیراعظم عمران خان
#ستمبر27_مارچ_ہو_ک��_رہے_گا
Former Prime Minister Imran Khan in conversation at Adiala Jail - 24 July 2025
Note: This is a repost of the tweet from 24th July 2025
“We have knocked on every door, but no one has listened. I had asked for dialogue only once, and that too was conditional upon commissions to investigate the events of November 26th (2024) and May 9th (2023) being formed. It was Asim Munir who ordered the shooting of unarmed civilians on November 26th. I reiterate there is no longer any room for dialogue because this group has completely hijacked the entire system.
I have instructed Barrister Gohar, Salman Akram Raja, Ali Amin Gandapur, and Junaid Akbar to ensure the protest movement runs with full force. The objective of this movement must be the restoration of justice, the supremacy of law, and the protection of the Constitution. If we fail to raise our voices in the streets, this group of oppressors will gradually finish off our parliamentary party as well. I am standing firm; all of you must also stand firm.
Eighty percent of the people of Pakistan stand with me and we are entitled to fight for our rights. I am aware that 90% of the electoral fraud took place between polling and the compilation of results. I campaigned for the implementation of Electronic Voting Machines (EVMs) for two years. If EVMs had been used on February 8th (2024), the game would have ended there and then. I still say today: if transparent elections are desired, EVMs must be introduced, and rigging will end once and for all.”
پنجاب پر قابض تھیف منسٹر نے پستی کی تمام حدود کراس کر لی ہیں۔
ایک دوسرے صوبے کے موجودہ وزیر اعلیٰ کو اغوا کرنا وفاق پر حملہ اور اور بدترین گراوٹ ہے!
ایک طرف یہ دعویٰ کہ ہندوستان سے نہیں بلکہ اپنے ہی ملک کے لوگوں سے ڈر لگتا ہے، اور دوسری طرف یہ سستی اور گھٹیا حرکت—کیا اب اس پر بھی 'خود دفاعی' کا ڈرامہ رچایا جائے گا؟
#ستمبر27_ہر_چوک_ڈی_چوک
عمران خان کے نام پر فارم 47 حکمرانوں کی بوکھلاہٹ،
تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک صوبے کے وزیراعلیٰ کی دوسرے صوبے کی پولیس کے ہاتھوں گرفتاری
#مزاحمت_ہی_خان_کی_رہائی
@fawadchaudhry But when people in KP or the police arrest these so-called terrorists, the Punjabi army comes to their rescue, saying, They aren’t terrorists they are our people!
And Who is supplying these terrorists with guns, money, and food?
How does a trrst get everything in the mountains?
@iihtishamm Everyone should ask why the only developed areas in Pakistan are specifically Punjabi areas. It’s not the whole of Punjab either; the Saraiki areas are in a worse situation than any other province. We Pakistanis should do something about it.
@iihtishamm Terrorism, the Taliban, the Afghan jihad, and whatever is happening in KP and Balochistan are clearly from these Punjabis, whose ancestors used to bathe dogs for British colonizers and presented their best women through Heera Mandi.
@iihtishamm I think the worst ethnic group of people I have encountered anywhere are Punjabis, with very low moral standards, deeply rooted racism, and little awareness of their own identity. I have also noticed a strong hostility toward Pashtuns among Punjabis.
We shld beseparated frm them.
پاکستان تحریکِ انصاف کا عطا تارڑ اور طلال چوہدری کی پریس کانفرنس پر شدید ردعمل
پاکستان تحریکِ انصاف عطا تارڑ اور طلال چوہدری کی پریس کانفرنس کو انتہائی افسوسناک، غیر ذمہ دارانہ اور شرمناک قرار دیتی ہے۔ عمران خان کی صحت جیسے سنجیدہ اور انسانی مسئلے کو سیاسی بحث، الزام تراشی اور پوائنٹ اسکورنگ کا موضوع بنانا حکومتی وزراء کی بے حسی اور غیر سنجیدگی کا واضح ثبوت ہے۔
عطا تارڑ اور طلال چوہدری کو یاد رکھنا چاہیے کہ معاملہ کسی سیاسی جماعت یا حکومت کی خواہش کا نہیں بلکہ ایک انسان کی زندگی، صحت اور بنیادی انسانی حقوق کا ہے۔ عمران خان اس وقت قید میں ہیں اور ان کی صحت کے حوالے سے ان کے اہلِ خانہ، ذاتی معالجین اور وکلا مسلسل اپنے تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔
حیرت انگیز امر یہ ہے کہ آج یہی وزراء یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ عمران خان کا علاج اڈیالہ جیل میں ہو رہا تھا اور انہیں تمام طبی سہولیات فراہم کی جا رہی تھیں، جبکہ سپریم کورٹ کے سامنے جمع کروائی جانے والی میڈیکل رپورٹ خود اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کی جانب سے جمع کروائی گئی، جس میں عمران خان کی صحت اور طبی صورتحال سے متعلق تفصیلات عدالت کے سامنے رکھی گئیں۔ یہی وہ طبی صورتحال اور رپورٹ تھی جس کی روشنی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے عمران خان کو شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے�� ماہرین پر مشتمل میڈیکل بورڈ تشکیل دینے اور ان کے ذاتی معالجین کو طبی عمل میں شامل کرنے کا حکم دیا۔
لہٰذا عطا تارڑ اور طلال چوہدری پہلے یہ وضاحت کریں کہ اگر اڈیالہ جیل میں عمران خان کا علاج اتنا ہی بہترین اور اطمینان بخش تھا تو پھر سپریم کورٹ کے سامنے پیش کی گئی طبی صورتحال کے بعد عدالت کو شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقلی کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟
یہ بھی قوم کو یاد دلانا ضروری ہے کہ جب ان کے اپنے قائد نواز شریف نے علاج کے لیے بیرونِ ملک جانے کی درخواست کی تھی تو پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت نے سیاسی انتقام اور ذاتی دشمنی کا مظاہرہ کرنے کے بجائے انسانی ہمدردی اور اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کیا۔ اس وقت ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت پی ٹی آئی حکومت کے وزراء نے نواز شریف کے علاج کے حق کو تسلیم کیا، انہیں علاج کے لیے بیرونِ ملک جانے کی اجازت دی گئی اور عمران خان نے خود بھی نواز شریف کی صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
حتیٰ کہ آج جو لوگ عمران خان کے علاج کے بنیادی حق میں رکاوٹیں کھڑی کرنے اور عدالتی فیصلے میں روڑے اٹکانے کی کوشش کر رہے ہیں، انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ پی ٹی آئی حکومت نے نواز شریف کے علاج کے معاملے میں حتیٰ کہ ان کے ذاتی معالجین کو بھی طبی معاونت اور رسائی فراہم کی اور انسانی بنیادوں پر ان کے علاج کی راہ میں رکاوٹ نہیں ڈالی۔
آج اسی جماعت کے وزراء کا رویہ دیکھ کر قوم سوال کرنے میں حق بجانب ہے کہ وہ کس قدر سیاسی اور اخلاقی پستی کا شکار ہو چکے ہیں کہ ایک سابق وزیراعظم اور ملک کے مقبول ترین سیاسی رہنما کے علاج کے معاملے میں بھی سیاست کر رہے ہیں۔
عطا تارڑ اور طلال چوہدری کو شرم آنی چاہیے کہ وہ ایک بیمار اور قید سیاسی رہنما کے علاج کے بنیادی حق کو بھی سیاسی بحث کا موضوع بنا ��ہے ہیں۔ عمران خان کے معاملے میں اگر واقعی انہیں طبی سہولیات کی فراہمی پر اتنا اعتماد ہے تو انہیں شفاء انٹرنیشنل ہسپتال میں ماہر ڈاکٹروں سے معائنہ اور علاج کروانے پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔
اب جبکہ سپریم کورٹ آف پاکستان کا تین رکنی بینچ واضح حکم دے چکا ہے کہ عمران خان کو شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے، ماہرین پر مشتمل میڈیکل بورڈ ان کا مکمل طبی معائنہ کرے، ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عظمیٰ خان کو طبی عمل میں شامل کیا جائے، تو حکومت کا کام عدالت کے حکم پر عمل درآمد کرنا ہے، نہ کہ پریس کانفرنسیں کر کے اس فیصلے کو متنازع بنانے کی کوشش کرنا۔
اگر حکومت کو عمران خان کی صحت اور علاج کے حوالے سے کوئی اعتراض تھا تو اسے عدالت میں اپنا مؤقف پیش کرنا چاہیے تھا۔ لیکن عدالت کا فیصلہ آنے کے بعد وزراء کی جانب سے اس فیصلے پر اعتراضات اٹھانا، قانونی موشگافیوں میں الجھانا اور عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کرنا کسی طور قابلِ قبول نہیں۔
سپریم کورٹ نے عمران خان کے انسانی اور طبی حقوق کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقلی کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے ماہرین پر مشتمل میڈیکل بورڈ، ذاتی معالجین کی شمولیت، اہلِ خانہ سے ملاقات اور بیٹوں سے ٹیلی فونک رابطے سمیت واضح ہدایات جاری کی ہیں۔
حکومت کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ سپریم کورٹ کے احکامات حکومت کی مرضی کے تابع نہیں ہوتے۔ عدالتی فیصلے پر عمل درآمد ریاستی اداروں کی آئینی و قانونی ذمہ داری ہے۔
I have asked the Punjab CM to ensure that every health facility in the country is made available for Nawaz Sharif to get the treatment of his choice. The federal govt will assist wherever required. I wish him good health.
اعظم نذیر تارڑ اور خواجہ آصف کے بیانات پر انتہائی دکھ اور افسوس ہوا۔ کیا اعظم نذیر بھول گئے ہیں کہ نواز شریف جب تقریباً ایک سال جیل میں تھے تو انہوں نے کتنی دفعہ میڈیکل ٹریٹمنٹ کے لیے درخواست دی اور کتنی دفعہ علاج کروایا؟ اگر نہیں پتا تو میں بتا دیتا ہوں۔
22 جنوری 2019: پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی، لاہور ایک دن۔
2 سے 7 فروری 2019: سروسز ہسپتال، لاہور پانچ دن۔
15 سے 25 فروری 2019: جناح ہسپتال، لاہور دس دن۔
26 مارچ سے 7 مئی 2019: جاتی عمرہ، ذاتی رہائش گاہ، لاہور بیالیس دن۔
21 اکتوبر سے 6 نومبر 2019: سروسز ہسپتال، لاہور سولہ دن۔
6 نومبر سے 19 نومبر 2019: جاتی عمرہ، ذاتی گھر تیرہ دن، جہاں آئی سی یو کی سہولت بھی موجود تھی۔
19 نومبر 2019 کو اعلیٰ عدلیہ نے علاج کی غرض سے چار ہفتوں کے لیے بیرونِ ملک جانے کی اجازت دی، اور موصوف بڑے میاں چار سال بعد واپس آئے۔ مسلم لیگ (ن) نے ہمیشہ اعلیٰ عدلیہ سے محاذ آرائی کی اور ان کے فیصلوں پر ہمیشہ تنقید کی۔ پاکستان تحریکِ انصاف نے ہمیشہ عدلیہ کے فیصلوں کو تسلیم کیا اور ان پر عمل بھی کیا، اور ساتھ ہی انسانی حقوق کی ہمیشہ بات کی اور ان پر عمل بھی کیا۔
تحریکِ انصاف کے دور میں جتنے بھی اپوزیشن کے رہنما جیل گئے، ان میں سے ایک کیس بھی ان پر تحریکِ انصاف کے دور میں نہیں بنایا گیا، سارے کیسز پرانے تھے۔ تمام سیاسی رہنماؤں اور جماعتوں کو عمران خان کی صحت پر سیاست نہیں کرنی چاہیے، بلکہ ان کو ہسپتال منتقل کرنے کی حمایت کرنی چاہیے، جو عمران خان کا آئینی اور قانونی حق ہے۔