ہوا کی کاٹ شگوفوں نے جذب کر لی تھی
تبھی تو لہجۂ خوشبو بھی جارحانہ تھا
وہی فراق کی باتیں ، وہی حکایت ِ وصل
نئی کتاب کا ایک اک ورق پرانا تھا
قبائے زرد نگارِ خزاں پہ سجتی تھی
تبھی تو چال کا انداز خُسروانہ تھا
-- افتخار عارف
تھکن تو اگلے سفر کے لیئے بہانہ تھا
اُسے تو یوں بھی کسی اور سمت جانا تھا
وہی چراغ بجھا ، جس کی لو قیامت تھی
اسی پہ ضرب پڑی ، جو شجر پرانا تھا
متاعِ جاں کا بدل ایک پل کی سرشاری
سلوک خواب کا آنکھوں سے تاجرانہ تھا