مولانا فضل الرحمن صاحب کا آخری ایک جملہ، سیاست کے کئی معنی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دورِ حاضر کے ممتاز، منجھے ہوئے اور مضبوط سیاست دان محترم مولانا فضل الرحمن صاحب کی پریس کانفرنس پر ہر کوئی اپنے اپنے تبصرے کر رہا ہے، لیکن میری نظر میں اس پریس کانفرنس کا اصل نچوڑ ان کا آخری جملہ ہے۔
مولانا فضل الرحمن صاحب کے میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری صاحب کے ساتھ سیاسی تعلقات محض مفادات نہیں، بلکہ ایک مضبوط سیاسی وضع داری اور باہمی احترام کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان کی پریس کانفرنس کا آخری جملہ اسی سیاسی بصیرت اور معاملہ فہمی کا اظہار ہے۔
واضح رہے کہ آصف علی زرداری صاحب نے مولانا فضل الرحمن کو ایک بندوق تحفے میں دی تھی۔ میں اسی وقت سے کہتا آ رہا ہوں کہ یہ بندوق عمران خان اور اس کے سیاسی ٹولے کی طرف تو اٹھ سکتی ہے، لیکن زرداری صاحب کی طرف کبھی نہیں اٹھے گی۔
ایمرجنسی کے نوٹیفکیشن پر دستخط کے بعد ملک کی سیاست مولانا فضل الرحمن کی پریس کانفرنس کے گرد گھوم رہی ہے۔ اس کلپ کو غور سے سنیے کہ مولانا صاحب نے کس تدبر، سیاسی حکمت اور وضعداری کے ساتھ آصف علی زرداری صاحب کے بارے میں آخری جملہ ادا کیا۔
بعض اوقات ایک جملہ پوری پریس کانفرنس سے زیادہ سیاسی معنی رکھتا ہے۔ مولانا صاحب صاحب کا آخری جملہ بھی محض ایک ��قرہ نہیں، بلکہ موجودہ سیاسی منظرنامے میں ان کے طرزِ سیاست اور تعلقات کی گہرائی کو سمجھنے کی ایک اہم کنجی ہے۔
@BBhuttoZardari
👇👇
کل آغا شیخ سرور کی دوبارہ پیشی ہے ؛ ان کا دو دفعہ ریمانڈ لیا جا چکا ہے اور اب والد کو شامل تفتیش کرنے کا بھی کہا گیا تھا کہ کسی طرح سے آغا ٹوٹ جائے : آغا کے لیئے آواز اٹھائیے
#ReleaseAghaSheikhSarwar