ایک رات مولانا جلال الدین رومی نے اپنے استاد حضرت شمس تبریزی کو .
اپنے گھر دعوت دی مرشد شمس تشریف لے آئے۔ کھانے کے سب برتن تیار ہو گئے تو شمش نے رومی سے فرمایا : کیا تم مجھے پینے کے لیے شراب لا سکتے ہو ؟ رومی یہ سن کر حیران رہ گئے کیا استاد بھی شراب پیتے ہیں؟
شمش نے کہا: "ہاں، بالکل ۔ " رومی نے عرض کیا: مجھے معاف کیجیے، مجھے اس کا علم نہیں " تھا۔
شمس نے فرمایا: اب جان گئے ہو، لہٰذا شراب لا دو۔ رومی بولے: اس وقت رات گئے کہاں سے لاؤں ؟ " شمس نے کہا: اپنے کسی خادم کو بھیج دو۔ رومی نے کہا: میرے نوکروں کے سامنے میری عزت ختم ہو جائے گی۔
"شمس نے کہا: پھر خود ہی جا کر لے آؤ۔
رومی پریشان ہوئے: "پورا شہر مجھے جانتا ہے، میں کیسے جا کر شراب خریدوں؟
شمش نے فرمایا اگر تم واقعی میرے شاگرد ہو تو وہی کرو جو میں کہتا " ہوں۔ ورنہ آج نہ میں کھاؤں گا، نہ بات کروں گا، نہ سو سکوں گا۔
استاد کی محبت اور اطاعت میں رومی نے چادر اوڑھی بوتل چھپائی اور عیسائیوں کے محلے کی طرف چل دیے۔ جب تک وہ راستے میں تھے، کسی کو شک نہ ہوا۔ لیکن جیسے ہی وہ عیسائی محلے میں داخل ہوئے، لوگ حیران ہوئے اور ان کے پیچھے پیچھے چلنے لگے۔
سب نے دیکھا کہ رومی شراب خانے میں گئے اور بوتل خرید کر چادر کے نیچے چھپا لی۔ پھر وہ نکلے تو لوگ اور بھی زیادہ ہو گئے اور ان کے پیچھے پیچھے مسجد تک پہنچ گئے۔
مسجد کے دروازے پر ایک شخص نے شور مچا دیا: "اے لوگو! تمہارا امام شیخ جلال الدین رومی، ابھی عیسائی محلے سے شراب خرید کر آ رہا ہے" یہ کہہ کر اس نے رومی کی چادر ہٹا دی اور بوتل سب کے سامنے آ گئی۔
ہجوم نے غصے میں آکر رومی کے منہ پر تھوکا، انہیں مارا یہاں تک کہ ان کی پگڑی بھی گر گئی۔
رومی خاموش رہے، انہوں نے اپنی صفائی پیش نہیں کی۔
لوگ اور بھی یقین کر بیٹھے کہ وہ دھوکہ کھا گئے ہیں۔ انہوں نے رومی کو بری طرح مارا اور کچھ نے تو قتل کرنے کا بھی ارادہ کیا۔
اسی وقت شمس تبریزی کی آواز بلند ہوئی اے بے شرم لوگو! تم نے ایک عالم اور فقیہ پر شراب " نوشی کا الزام لگا دیا۔ جان لو کہ اس بوتل میں شراب " إنہیں بلکہ سرکہ ہے
ایک شخص بولا: میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ وہ شراب خانے سے بوتل لائے ہیں۔
شمس نے بوتل کھولی اور کچھ قطرے لوگوں کے ہاتھ پر ڈالے تاکہ وہ سونگھ سکیں ۔ سب حیران رہ گئے کہ واقعی یہ تو سرکہ ہے
اصل بات یہ تھی کہ شمس پہلے ہی شراب خانے گئے تھے اور دکاندار کو کہہ دیا تھا کہ اگر رومی بوتل لینے آئیں تو انہیں شراب کے بجائے سرکہ دیا جائے۔
اب لوگ اپنے سر پیٹنے لگے اور شرمندگی کے مارے رومی کے قدموں میں گر گئے۔ سب نے معافی مانگی اور ان کے ہاتھ چومے پھر آہستہ آہستہ منتشر ہو گئے۔
رومی نے شمس سے عرض کیا آج آپ نے مجھے کتنی بڑی آزمائش میں ڈال دیا، یہاں تک " کہ میری عزت اور وقار میرے مریدوں کے سامنے خاک میں مل گئی۔ اس سب کا کیا مطلب تھا ؟
شمس نے فرمایا
تاکہ تم سمجھ لو کہ لوگوں کی عزت اور شہرت محض " ایک فریب ہے۔ کیا تمہیں لگتا ہے کہ ان لوگوں کا احترام ہمیشہ قائم رہتا ہے ؟ تم نے خود دیکھا، محض ایک بوتل کے شک پر وہ تمہارے دشمن بن گئے، تم پر تھوکا مارا اور قریب تھا کہ جان لے لیتے۔ یہی وہ عزت ہے جس پر تم نازاں تھے، جو ایک پل میں ختم ہو گئی
آج کے بعد لوگوں کی عزت پر نہ بھروسہ کرنا۔ اصل عزت صرف اللہ کے پاس ہے جو وقت کے ساتھ نہ بدلتی اور نہمٹتی ہے۔
وہی بہتر جانتا ہے کہ کون واقعی باعزت ہے اور کون جھوٹی عزت کا طلبگار ۔ لہٰذا آئندہ اپنی نظر صرف اللہ پر رکھو۔
سبق
دنیا کی عزت اور لوگوں کی رائے لمحوں میں بدل جاتی !... ہے۔ اصل عزت وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہو۔
گاندھی جی کے سیکورٹی افسر نے کہا تھا
ہمیں باپو کو غریب دکھانے کے لئے بہت خرچہ کرنا پڑتا ہے۔
۔
باپو کو عوامی ریل پر سوار کرنے کے لئے ساری ریل کی سیکورٹی چیک ہوتی ہے۔ پورے راستے میں پولیس سیکورٹی سنبھالتی ہے۔
سیکورٹی اہلکاروں کو غریب دیہاتیوں کے بھیس میں ڈبے میں سوار کیا جاتا ہے۔ ان کو پھٹے پرانے کپڑۓ دھو کر پہنائے جاتے ہیں
دو چار ننگ دھڑنگ بچے بھی جامعہ تلاشی کے بغد سوار کئے جاتے ہیں۔
مسافروں کی پوٹلیوں میں فرسٹ ایڈ کا سامان رکھا جاتا ہے۔
راستے کے تمام سٹاپ پر بغیر وردی پولیس یا فوج کے جوان تعینات ہوتے ہیں جو خفیہ اداروں کے اہلکاروں کے علاوہ کسی کو سوار نہیں ہونے دیتے۔
باپو کے ساتھ ٹرین میں سوار ان کی بکری کو انڈے، دیسی گھی، بادام اور چلغوزے اور پتہ نہیں کیا کیا کھلایا جاتا ہے۔
باپو قمیض نہیں پہنتے اس لئے انہیں سردی سے بچانے کے لئے کوئلوں کی انگیٹھی ساتھ رکھنا پڑتی ہے۔
دیہاتی خواتین کے لباس میں دو ٹرینڈ نرسیں ہمہ وقت باپو کی خدمت کے لئے موجود ہوتی ہیں۔
تب جا کر چمن میں دیدہ ور پیدا ہوتا ہے اور
باپو کا عوامی روپ سامنے آتا ہے۔
منقول.
نوٹ :: وزیراعلی صاحبہ کا عمل کتنا خوبصورت ہے نا 😍
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی کام سخت تکلیف و پریشانی میں ڈال دیتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے:
“يا حي يا قيوم برحمتك أستغيث ”
اے زندہ اور ہمیشہ رہنے والے! تیری رحمت کے وسیلے سے تیری مدد چاہتا ہوں“۔
(جامع ترمذی ،۳۵۲۴)
اس نتیجے تک تو مجھے خود آپ لے کر گیے — اپ کے مسلسل باہمی متصادم ٹویٹس نے اس نتیجے تک میری رہنمائی کی —
سیاستدانوں اور اسٹیبلشمنٹ کیلئے
مذمتی الفاظ میں انیس بیس کا فرق ہو تو ہم اگنور کر بھی دیں پر جب سیاستدانوں پر تنقید کرتے ہویے لہجہ اکبری جیسا طرش اور تند ہو اور اسٹیبلشمنٹ پر اول تو مذمت نظر نہ آیے اور اگر کبھی آیے تو لہجہ اصغری جیسا شستہ اور عاجزانہ ہو ‘ تو ہم عوام یہ تضاد نوٹ بھی نہ کریں ؟
اور عوام اگر اس فرق کو محسوس کرلیں تو اس پر بھی آپ کو اعتراض ہے - تو آپ دونوں کیلئے پیمانہ’ زبان ‘ فرہنگ اور اسم صفت ایک کیوں نہی کرلیتے -
باقی پوری بحث میں میں آمروں کے مقابلے میں تمام سیاستدانوں اور سویلین کی عمومی ترجمانی کر رہا تھا ‘ اور خصوصی طور پر عمران خان کا ذکر نہی کیا — پر اب اگر آپ نے خاص طور پر ان کی بات کی ہے تو میں ان کی بھی ترجمانی کر دیتا ہوں -
میں عمران خان ضرور کرتا ان پر تنقید ان غلطیوں پر جو ان سے ہوئیں ‘ باز پرس بھی کرتا ‘ پر جب میں سوال کرنے کیلئے اس کے گھر کا رخ کرتا ہوں تو وہ مجھے وہاں نہی ملتا بلکہ کسی جیل میں ہوتا ہے - تب میں یہ دیکھتا ہوں کہ دو سال سے زیادہ وہ مقید ہے - اس عرصے میں اس کا چہرہ تک کوئی نہی دیکھ سکا - اس کو اوپن کورٹ ٹرائل جو کسی عام پاکستانی کا بھی حق ہوتا ہے اس سے بھی محروم رکھا گیا ہے —- اس کی بیوی کی ماہواریوں تک کو میڈیا اور عدالت کا موضوع بنادیا گیا - اس کی بہنوں کی اس سے ملاقات کو کسی کرنل کے موڈ سے مشروط کردیا گیا - اس کا نام تک میڈیا پی لینا بین کردیا گیا -دو سال میں بھینس چوری سے لے کر ملک توڑنے تک کونسا ایسا مقدمہ ہے جو اس پر نہی ڈالا گیا —دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں - کیا اس نے یہ سب جرم کیے ہیں جن کے اس پر مقدمات ہیں ؟
— جب میں یہ دیکھتا ہوں تو میں اپنے سب اعتراضات اور سوالات کو موخر کر دیتا ہوں اس وقت کیلئے جب وہ میری اور آپ کی طرح آزاد ہوگا اور خود اپنے اوپر ہونے والی تنقید کا خود ڈائریکٹ جواب دینے کی پوزیشن میں ہوگا تو ضرور ان کے بھی کچھ اقدامات پر اور ان کی کج مردم شناسی
پر تنقید کرونگا - ویسے ہی جیسے جب وہ اقتدار میں تھا تو اس کے کچھ اقدامات جیسے کہ بزدار کو وزیر بنانا ‘ آرمی چیف کو توسیع دینا ‘ سینیٹ چیئر مین کے الیکشن میں ایجنسی کا استعمال کرنا وغیرہ ‘ ان پر اعتراض کیا تھا —— پر ابھی وہ جیل میں قید اور معتوب اور مقفول شخص پر ہیرو بن کر تنقید کے نشتر چلانا میرے انصاف کے معیار کے خلاف ہے -
[ہیکل سلیمانی سے یہودیوں کا تعلق]
آج کی پوسٹ تھوڑی لمبی لیکن کافی معلوماتی ہے۔
ہیکل سلیمانی درحقیقت ایک مسجد یا عبادت گاہ تھی۔ جو حضرت سلیمان علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے جنات سے تعمیر کروائی تھی تاکہ لوگ اس کی طرف منہ کرکے یا اس کے اندر عبادت کریں۔
ہیکل سلیمانی کی تعمیر سے تعمیر سے پہلے یہودیوں کے ھاں کسی بھی باقاعدہ ہیکل کا نہ کوئی وجود اور نہ اس کا کوئی تصور تھا۔ اس قوم کی بدوؤں والی خانہ بدوش زندگی تھی۔ان کا ہیکل یا معبد ایک خیمہ تھا۔ اس خیمے میں تابوت سکینہ رکھا ھوتا تھا جس کی جانب یہ رخ کرکے عبادت کیا کرتے تھے۔👇
محترم ابصار صاحب ! @AbsarAlamHaider
میں نے یہ کلپ دو تین دفعہ دیکھا اور ہر دفعہ مجھے اس میں باہمی تضاد (conflicting statement) کونفیوزن اور دانشورانہ بد دیانتی (intellectual dishonesty) نظر آئ - ایک جمہوری ملک میں ایک صحافی لوگوں کو احتجاج سے روکتا نظر آیا لیکن اس احتجاج پر گولی چلانے والے کو منع کرتا نظر نہی آیا - پیغام رسا کو "گدھ " کہتا نظر آیا لیکن غاصب کو "بھیڑیا" کہتا نظر نہی آیا - آخر میں یوٹیوبرز کی کمائی پر بہت شدید ریسرچ نظر آئ پر ریسرچ میں ان عوامل کا ذکر نظر نہی آیا جس کی وجہ سے لوگ سماء پر آپ جیسے اینکرز کو چھوڑ کر یو ٹیوب کا رخ کرتے ہیں نہ ہی ان درجنوں کلپس ' انٹرنیشنل رپورٹس اور گارڈین کے پمز اور پولی کلینیک ہسپتال بارے میں آرٹیکلز پر ریسرچ نظر آئ جو اس دن کچھ اور کہانی بیان کر رہے تھے - -
اس تحریر میں میں آپ سے جڑے ہی ایک واقعہ سے بتاونگا کہ لوگ سماء چھوڑ کر کیوں یو ٹیوب دیکھتے ہیں - میرے پوائنٹس یہ ہیں :
1. کلپ کے شروع میں آپ نے کہا کہ "ماؤں کے بچے قربان ہوگیے " پھر مڈل میں کہا کہ "یو ٹیوبرز لاشیں ڈھونڈتے رہے اور جب نہیں ملی تو جھوٹ بولا " پھر اس کے پندرہ سیکنڈ بعد کہا کہ "چودہ لوگ مارے گیے " -
اس پورے تسلسل میں مجھے آپ خود اپنے ضمیر سے لڑتے نظر آیے کہ کیا بتانا ہے ؟ کوئی مارا نہی گیا ' کوئی اسلحہ نہیں تھا ' یہ بتانا ہے یا پھر تھوڑا بہت سچ بھی بتانا ہے - یہ کنفیوزن میں نے 26 نورمبر کے دن آپ کی لائیو رپورٹنگ میں بھی دیکھا تھا جب آپ کے پیچھے آٹومیٹک اسلحے کی گولیوں کی آواز ہر عام و خاص سن رہا تھا اور آپ کہ رہے تھے "ربڑ کی گولیاں چل رہی ہیں پر ساتھ ساتھ دیوار کی شدید اوٹ بھی لے رہے تھے "- بہرے کو بھی سنائی دے رہا تھا کہ وہ آتشی اسلحہ (Fire arms) تھا -
2. اپنے اس کلپ میں آپ نے یو ٹیوبرز کی رپورٹنگ پر تنقید کرکے وہ کام کیا جس کو ہم کہتے ہیں "شوٹ دا مسنجر " (Shoot the messenger) یعنی پیغام رسا کو ہی نشانہ بنادینا - پرانے زمانے میں یہ کام ظالم منگول حکمران کیا کرتے تھے کہ خط لانے والے قاصد کا ہی سر قلم کردیتے تھے - آپ نے ان کو "مردار خور گدھ" کہ دیا پراس دن زندہ کو جس نے مردار کی ' اس کو "بھیڑیا " نہیں کہا -
3. آپ نے ایک جمہوری ملک میں ایک صحافی ہوتے ہویے ماؤں سے درخواست کی کہ وہ بچوں کو احتجاج میں نہ بھیجیں پر اس احتجاج کو جنہوں نے پر تشدد بنادیا ان پر تنقید کے نشتر نہیں برسایے- یہ ووہی مثال ہوگئی کہ الیکشن کے دن جو لوگ پولنگ سٹیشن پر دھاوا بولیں ' ان کو روکنے اور برا کہنے کی بجاے لوگوں کو ہی کہا جاۓ کہ "ووٹ ڈالنے نہ نکلو " -
4. آخر میں آپ نے سات یو ٹیوبرز کی نومبر کے تیس دن کی کمائی کا احاطہ کیا پر تھوڑی سی بھی ریسرچ ان عوامل پر نہی کی جس کی وجہ سے لوگ سماء ' یا جیو پر آپ جیسے اینکرز کو سننے کی بجاے ان یو ٹیوبرز کو سننا پسند کرتے ہیں - لیکن میں نے اس پر ریسرچ کی ہے اور اس ریسرچ کا نتیجہ یہ ہے کہ اس کی وجہ خود آپ جیسے صحافی ہی ہیں جو اسٹبلشمنٹ کے پریشر میں اپنے چینلز پر حقائق بتانے سے ڈرتے ہیں اور اگر کوئی اور حقائق بتادے تو ان کو ایڈٹ کردیتے ہیں -
ہمیشہ کی طرح ثبوت سے بات کرونگا -
30 نومبر 2024 کو اسی سماء چینل پر آپ کے پروگرام "میرا سوال " میں ایک رپورٹر شیراز احمد @Sherazi_Silmian نے براہ راست بتایا کہ 26 نومبر احتججاج میں پی ٹی آئ کہ بارہ لوگوں کی ہلاکت ہوئی ہے - یہ براہ راست چلا - یہ ہے اس کا لنک:
https://t.co/tOKsxvZV9c
بعد میں جب یہ پروگرام آپ کی ٹیم نے یو ٹیوب پر اپلوڈ کیا تو یہ بارہ سیکنڈ کا کلپ کاٹ کر اپلوڈ کیا - جب اس پر صحافی صدیق جان @SdqJaan نے نشاندھی کی تو آپ نے خود ایک ٹویٹ کی جس میں ایڈمٹ کیا کہ آپ کی ٹیم نے اسٹیبلشمنٹ کے پریشر میں وہ بارہ سیکنڈ کلپ کاٹ کر پروگرام یو ٹیوب پر اپلوڈ کیا تھا -
یہ ہے آپ کی ٹویٹ کا لنک :
https://t.co/1bFws6klcS
اب جب آپ لوگ اسٹبلشمنٹ کے پریشر میں صحیح خبر نہیں دے سکتے اور آٹومیٹک اسلحے کو ربڑ بلٹس کہتے ہیں - ہلاکتوں کا کوئی بھی بیان کاٹ کر پروگرام اپلوڈ کرتے ہیں تو پھر عوام کیوں آپ کو سنیں اور کیوں نہ یو ٹیوبرز کو سنیں ؟ بجاے اس کے سوال پوچھتے کہ "گولی کیوں چلائی " آپ اس پر معترض ہیں کہ "آواز کیوں اٹھائی ؟" آپ کو کیوں لگتا ہے کہ پاکستان کے عوام جاہل اور "لائی لگ " سے ہیں کہ کوئی بھی ان کو یو ٹیوب پر انقلاب کی کہانی سنایگا اور وہ اس کی طرف مائل ہونے لگیں گے ؟ مائل وہ تب ہوتے ہیں جب وہ آپ لوگوں کی پیشہ ورانہ بدیانتی ' اسٹبلشمنٹ کے سامنے مجرمانہ خاموشی اور ان کے پریشر میں اپنے پیشے سے خیانت ' وکٹم بلیمنگ اور "شوٹ دا مسنجر " اپروچ دیکھتے ہیں -
آپ بھی بغیر ایڈٹ کیے کلپ یو ٹیوب پر لگائیں ' آٹومیٹک بلٹس کو ربڑ بلٹس نہ بتائیں تو پھر دیکھیں کہ عوام آپ کی طرف کتنے مائل ہونگے - لیکن ایسا کیے بغیر آپ کا دوسروں کی کمائی کا پوسٹمارٹم محض جیلسی اور بغض سمجھا جائیگا اور کچھ نہیں -
اور ہاں ! اپنے اس کلپ کے آخر میں ایک دفعہ غصے سے لفظ "اسٹبلشمنٹ " بول دینے سے آپ ان بددیانتیوں سے مبرا نہیں ہوسکتے جس کا مظاہرہ عوام متواتر کرتے رہے ہیں - سلام
#DoNotShootTheMessenger
--------------------------------------------------------
@MoeedNj@ImranRiazKhan@ImranARaja1@ryangrim@SHABAZGIL
سال 2024 کے آخر تک غیر مقامیوں کو سب سے زیادہ زمین گلگت بلتستان میں ضلع شگر والوں نے فروخت کردیا جو ریوینیو ریکارڈ کے مطابق تقریبا" 7000 کنال بنتے ہیں۔ 😥
زمینوں کی فروخت کی بارے میں خان صاحب نے کیا نصیحت کیا تھا گلگت بلتستان والوں کو وہ بھی سنو ...
میرے بھی ظہور پزیر ہونے سے پہلے کے انقلابی اشعار پڑھنے کی مثال دے کر آپ نے اسی بات کی توثیق کردی جو میں کہ رہا ہوں کہ یہی تو باریک واردات ہے کہ سیاسی جماعتوں پر حال میں تنقید کرو اور جب بات اسٹبلشمنٹ اور اصل قصور واروں پر تنقید کی آیے تو کالج کے زمانے کی تقریریں پیش کردیں - محترم ! لمحۂ موجود میں جو غیر جمہوری عمل ہورہے ہیں ان پر لمحہ موجود میں انقلابی بنیے ورنہ وہ انقلاب جو بس ماضی میں ہو اور حال میں خاموش ہو ‘ وہ انقلاب نہی جلاب ہوتا ہے - باقی میری جماعت نے جو غلطیاں کی وہ بھگت رہے ہیں پر ان کی آڑ لے کر آپ محض ماضی کے اشعار سنا کر حال سے کنارہ کشی نہی کرسکتے - وہ جن کو ماضی میں “ابو “ کہتے تھے ان کی سیاسی مداخلت پر بات نہ کرکے آپ نے ان کو آج ابو کا درجہ دیا ہوا ہے تو پھر فرق کیا ہے ؟ سانحہ اسلام آباد پر آج یہ اشعار “پیشہ ور قاتلو “ پڑھیے جو کالج کے زمانے میں پڑھے تھے - اور اگر نہی پڑھ سکتے تو پھر سیاسی جماعتوں کےبھی حال پر تنقید کے حق سے آپ کو دستبردار ہونا چاہیے- شکریہ
سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کو بھی دبئی کا وزٹ ویزا جاری نہیں کیا جا رہا۔ ریجیکشن ریٹ 99 فیصد ہے۔ جبکہ 5 اور 6 ستمبر کی درمیانی رات کی تاریکی میں حملہ کرنے والے ہمسایہ ملک کے باشندوں کو 24 گھنٹے کے اندر ویزا جاری کر دیا جاتا ہے!!! ☹️
سپریم کورٹ کے ججز کو اب بزدلی چھوڑ کر اپنے ڈکٹیٹر کا راستہ روکنا چاہیے ورنہ وہ انہی ججز سے آئین کی کتاب میں پکوڑے بکوائے گا اور ان کی اہمیت ایک مجسٹریٹ جتنی رہ جائے گی
کیا سارا ملک ٹھیک کرنے کا ٹھیکہ عمران خان اور اس کے ورکرز نے ہی لیا ہوا ہے؟ آپ لوگوں نے خود کب ہمت دکھانی ہے؟