خاندانی بادشاہتیں کم از کم محکمانہ فوجی آمریتوں سے تو بہتر ھوتی ھیں ۔ حکمران کو خاندانی عزت اور prestige کی فکر تو رہتی ھے .. یہاں تو بعد میں کہتے میں نہیں محکمہ تھا ۔۔میرا ضمیر جاگ گیا ۔ اب میں کتاب لکھوں گا
تلمیذ راجہ
وہ جنگلی ہاتھی جس پر قابو پانا اور پکڑنا جان جوکھم کا کام ہوتا ہے ، تو اس پر قابو پانے کے لیے شکاری ایک چال استعمال کرتے ہیں۔
وہ ہاتھیوں کے رستے میں ایک ہاتھی کی جسامت کے
مساوی گہرا گڑھا کھود کر اسے درخت کی شاخوں سے ڈھانپ دیتے ہیں۔
اور جب ہاتھی اس گہرے گڑھے کے اندر گرتا ہے تو اپنی طاقت اور زور کے باوجود اس سے باہر نہیں نکل سکتا۔
اب شکاریوں میں اتنی ہمت نہیں ہوتی کہ غصے میں مبتلا ہاتھی کو گڑھے سے فوراً باہر نکال کر اس کے غضب کا سامنا کریں۔
ہاتھی کو شانت کرنے اور اسے مکمل طور پر اپنے بس میں کرنے کے لیے پہلے مرحلے کے بعد شکاری مزید دیگر چالوں کا سہارا لیتے ہیں:
شکاری خود کو دو گروہوں میں تقسیم کر لیتے ہیں:
ایک گروہ میں شامل شکاری سرخ رنگ کا لباس پہن لیتے ہیں..
اور دوسرا گروہ نیلے رنگ کا۔
ایسا اس لیے کرتے ہیں کہ ہاتھی دونوں رنگوں میں واضح طور پر فرق کر سکے۔
پہلے لال کپڑوں میں ملبوس شکاری آتے ہیں اور ہاتھی کو لاٹھیوں سے بری طرح سے پیٹتے ہیں، جسمانی تشدد کے بعد جب کہ وہ شدید غصے میں ہوتا ہے اور ہلنے جلنے سے قاصر ہوتا ہے۔
تو پھر نیلے لباس والے شکاری آتے ہیں، اور وہ سرخ لباس والے شکاریوں پر غصہ کرتے ہیں اور انہیں وہاں سے بھگا دیتے ہیں ، اور وہ ہاتھی کو تھپتھپاتے ہیں ، لاڈ پیار کرتے ہیں، اور اسے چارہ کھلاتے اور پانی پلاتے ہیں، لیکن وہ اسے باہر نہیں نکالتے، اور چلے جاتے ہیں۔
عمل متعدد بار دہرایا جاتا ہے...
اور ہر بار، سرخ گروہ، مار پیٹ اور تشدد کا دورانیہ بڑھاتا ہے۔
اور نیلا گروہ برے شکاریوں کو بھگانے، ہاتھی کو کھانا کھلانے اور پانی پلانے کے لیے اچانک آگے بڑھ آتا ہے۔
اس نفسیاتی کھیل میں ہاتھی کے نزدیک سرخ گروہ شریر اور ظالم افراد اور نیلا گروہ ہمدرد اور مہربان کا درجہ حاصل کرلیتے ہیں.
جب شکاری دیکھتے ہیں کہ ہاتھی دونوں گروہوں سے اچھی طرح مانوس ہوچکا ہے اور رفتہ رفتہ مار پیٹ کے دوران مزاحمت کرنے کی بجائے نیلے گروہ کا انتظار کرنے لگتا ہے تاکہ وہ آکر ہاتھی کو ظالم شکاریوں سے نجات دلا کر کھلائیں پلائیں اور ہمدردی جتائیں، تو ایک دن، وہ نیلا گروہ جو ہاتھی کا اعتماد جیت کر دوست اور ہمدرد کا درجہ پا چکے ہوتے ہیں وہ گروہ ہاتھی کی مدد کرتا ہے اور بالآخر اسے گڑھے سے باہر نکال لیتا ہے. توقیر بُھملہ
ہاتھی، مکمل تابعداری، فرمانبرداری اور دوستانہ جذبات کے ساتھ، اس اچھے نیلے شکاری گروہ کے ساتھ رہنا شروع کردیتا ہے۔
ہاتھی کو یہ خیال نہیں آتا کہ اگر نیلا گروہ اچھا اور طاقتور ہے اور اسے باہر نکالنے پر قادر بھی تھا ، تو اس نے اسے اس ساری اذیت کو برداشت کرنے کے لیے گڑھے میں کیوں چھوڑ دیا؟
پہلے دن سے اسے بچا کر باہر کیوں نہیں نکالا؟
نیلے لباس والا گروہ ظالم لوگوں کو تھوڑی دیر کے لیے کیوں بھگاتا تھا؟
اگر نیلا گروہ طاقتور تھا تو سرخ گروہ کی بار بار وہاں آنے کی ہمت کیسے ہوتی تھی؟
یہ تمام سوالات قوی الجثہ ہاتھی کے ذہن سے نکل گئے تھے۔
جس طرح ہاتھی کو قابو کیا گیا تھا ٹھیک اس طرح لوگوں کو قابو کیا جاتا ہے۔
مارنے اور بچانے والا گروہ ایک ہی ہوتا ہے مگر بھیس بدل کر آنے والے نیلے لباس والوں کا لوگ شکریہ ادا کرتے ہیں اور وہ اس بات سے لاعلم رہتے ہیں کہ جنہوں نے انہیں بچایا ہے دراصل وہی ہیں جنہوں نے اس مصیبت میں دھکیلا تھا۔
کیا ہمارا سسٹم ہمارے ساتھ یہی کھیل نہیں کھیل رہا وہی ایک پرسنٹ اشرافیہ چہرے بدل بدل کر لوگوں کے ساتھ نفسیاتی کھلواڑ کرتے ہیں سسٹم کو بدلے بنا مسائل کیسے حل ہو سکتے ہیں؟؟؟؟
منقول
یہ میرے زمانۂ جاہلیت کی بات ہے۔ آج سے تقریباً 13 سال پہلے، دوستوں کے مشورے پر اپنی تھوڑی سی جمع پونجی گورنمنٹ آفیشلز کوآپریٹو ہاؤس بلڈنگ سوسائٹی (Govt Officials Cooperative House Building Society) میں لگائی۔ تمام کارروائی ملتان ڈویلپمنٹ اتھارٹی (MDA) کے دفتر میں ہوئی، اس لیے مکمل اعتماد تھا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ MDA کے چند ملازمین نے مل کر مبینہ طور پر فراڈ کیا۔
میں نے 2013 میں 10 مرلے کا پلاٹ قسطوں پر خریدا اور تقریباً 2014 یا 2015 تک تمام اقساط بھی ادا کر دیں۔ مگر آج 11 سے 12 سال گزرنے کے باوجود نہ سوسائٹی آباد ہوئی، نہ پلاٹ کا قبضہ ملا اور نہ ہی متاثرین کو انصاف۔
کبھی ایک کمیٹی بنتی ہے، کبھی دوسری۔ سوسائٹی کے انتخابات ہوتے ہیں، عہدیدار بدل جاتے ہیں، مگر مسئلہ وہیں کا وہیں ہے۔ کوئی پوچھنے والا نہیں۔
اس سوسائٹی میں بہت سے غریب اور متوسط طبقے کے لوگ شامل ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی اس امید پر لگائی تھی کہ ایک دن اپنے بچوں کے لیے ایک چھت بنا سکیں گے، مگر آج بھی وہ کرائے کے گھروں اور ایک ایک کمرے کے مکانوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ جن لوگوں نے 13 یا 14 لاکھ روپے جمع کرائے تھے، آج بھی انہیں یہی کہا جا رہا ہے کہ ان کی رقم کی مالیت اتنی ہی ہے۔ اتنے سال گزرنے کے باوجود ان کے نقصان کا کوئی ازالہ نہیں کیا گیا۔
ہم نے مختلف اداروں سے رجوع کیا، درخواستیں دیں، حتیٰ کہ معاملہ نیب تک بھی گیا، مگر کوئی عملی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ حال ہی میں ایک درخواست پر دوبارہ انکوائری کی بات ضرور ہوئی ہے، لیکن پہلے بھی ایسی کوششیں ہو چکی ہیں جن سے کوئی فائدہ نہیں ہوا۔
میں وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز صاحبہ سے اپیل کرتا ہوں کہ اس معاملے کا نوٹس لیں اور گورنمنٹ آفیشلز کوآپریٹو ہاؤس بلڈنگ سوسائٹی کے متاثرین کو انصاف دلائیں۔ شاید ہم اپنا نقصان برداشت کر لیں، مگر اس سوسائٹی میں پھنسے ہوئے غریب لوگ آج بھی اپنی چھت کے منتظر ہیں۔ اس بڑے فراڈ کے متاثرین کو انصاف ملنا چاہیے۔
شکریہ۔
@MaryamNSharif
Latest development
He is now in the same Adiala Jail cell where I was once imprisoned by him as an accused in a fabricated case that was dismissed by the court. The difference is that I was acquitted, while he stands convicted in the £190 million corruption case.
The funds returned by the UK’s National Crime Agency belonged to the people of Pakistan. Instead of being deposited into the national exchequer, they were diverted to settle Malik Riaz’s liability in the Supreme Court.
I never complained or sought sympathy. If he now believes his treatment is unfair, should he not first apologise for what was done to me? @SkyYaldaHakim
کھاریاں تک موٹروے کا کام زور و شور سے جاری ہے اور دریائے چناب پر پل کی تعمیر بھی تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔ یہی نہیں، بلکہ کھاریاں سے روات تک بھی 205 ارب روپے کا ٹھیکہ FWO کو دے دیا گیا ہے۔ماضی میں کہا جاتا تھا کہ سیالکوٹ جی ٹی روڈ پر نہیں ہے، اس لیے اسے وہ سہولیات اور اہمیت نہیں مل سکتی جو دوسرے شہروں کو حاصل ہیں۔ الحمدللہ، جی ٹی روڈ تو سیالکوٹ نہیں آ سکی لیکن میاں نواز شریف کے ہم ممنون و مشکور ہیں جنہوں نے سیالکوٹ کو موٹروے کے شاندار تحفے سے نوازا۔ سیالکوٹ کی ترقی کا سفر اب رکنے والا نہیں۔
وزیر دفاع خواجہ آصف
🚨🇪🇺🇮🇳🇵🇰Pakistan Representative In UN Asim Iftikhar drops a bombshell on India at UNSC for Supporting Taliban In name Of Medicine Aid .
"India talks we are world Biggest democracy but they are biggest state sponsor of terrorism. We know your evil designs"..
@PakistanPR_UN
یہ سارے لوگ ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر نواز شریف کو بھگوڑا کہتے تھے آج اللہ تعالی کی شان دیکھو نواز شریف اپنے وطن پاکستان میں ہے جبکہ یہ لوگ خود بھگوڑا بنے ہوئے ہیں!!
There are hardly 5-6 Pakistani families in Antigua & Barbuda, a small nation of 100,000 ppl, yet I was surprised and proud to see Tapal and Shan on the shelves at Waitrose. Shan Spices are imported from Orlando, FL. Pakistani brands have made their way to the farthest corners of the world. @PakinCuba
What a shame. These money hungry, part of the power politics and self centered family members of a murshad who is an asset of Israel.
PHZ.
https://t.co/loMsO0kVRK
جس مُلک میں استعفی دے کر بھاگنے والے جسٹس صاحبان سولہ کروڑ روپے پینشن وصول کر کے گھر جاتے ہوں بجلی گیس پانی پیٹرول سیکورٹی کے 4 پولیس اہلکار تاحیات لیتے ہوں
پانچ سو لیٹر پیٹرول تاحیات لیتے ہوں اُس مُلک کے شودرلوگوں کو ریاست مضبوط کرنے کا درس دیا جا رہا ہے سبحان اللہ
جب جسٹس قاضی فائز عیسی پر لندن میں حملہ ہوا تھا تو اس وقت ہائی کمیشن نے شایان اور انکی مما کی سہولتکاری کرتے ہوئے پتلی گلی سے فرار کروایا تھا اور آج بھی لاتعداد ممالک میں سفیر قونصل جنرل فتنہ عمرانیہ سہولتکاری کررہے ہیں
لیکن ریاست آج بھی ستی پئی ہے