The debate must move beyond slogans. Pakistan needs a constitutional solution to its governance crisis: either create new provinces or establish fully empowered administrative units with defined powers, resources and constitutional guarantees.
سندھ کا اصل بحران تقسیمِ سندھ یا مالی مفادات کی جنگ؟؟؟
کوٹہ سسٹم پر شہری اور دیہی منظور ہے
لیکن جونہی صوبے میں بہتر انتظام اور فلاح و بہبود کے لئے انتظامی یونٹس (اضلاع یا ڈویژنز کی سطح پر اختیارات کی منتقلی) بنانے کی بات کی جائے،تو فوری طور پر "سندھ کی تقسیم" کا واویلا مچا دیا جاتا ہے
اصل تنازع انتظامی بہتری بمقابلہ اختیارات کا ارتکاز
بیانیہ یہ واضح کرتا ہے کہ اصل مسئلہ خطے کو تقسیم کرنے کا ہرگز نہیں ہے
اصل کشمکش وسائل کی منصفانہ تقسیم فنڈز کے درست استعمال اور مالی مفادات کی تقسیم کے گرد گھومتی ہے
جب تک اختیارات نچلی سطح پر عوام تک نہیں پہنچیں گے شفافیت کا فقدان رہے گا اور عوام بنیادی حقوق سے محروم رہیں گے
اہم نکتہ صوبے کی مضبوطی کسی ایک خطے کے استحصال میں نہیں بلکہ ہر شہری کو برابری کی سطح پر حقوق اور ترقی کے یکساں مواقع دینے میں پوشیدہ ہے
اور پیپلز پارٹی میں موجود مفاد پرست کرپٹ عناصر اختیارات نچلی سطح پر منتقلی نہیں چاہتے ورنہ اربوں کھربوں کی کرپشن کیسے کریں گے
ساری غطی انتظامیہ کی ھے جو لڑکے کو پہلے بتایا نہیں کہ جب پیر صاحب ایسا کریں تو تم نے سٹارٹ ہو جانا ھے اور گھومتے گھومتے زمین پر گر جانا ھے، ایویں فضول میں پیر صاحب کی اتنی محنت ضائع کروا دی🤦
جنہیں سچ برداشت نہیں ہوتا، وہ ہمیشہ کردار کشی پر اتر آتے ہیں۔
قیوم صدیقی شاید بھول گئے کہ انصاف کے ایوانوں پر الزام لگانے سے انصاف کمزور نہیں ہوتا، صرف الزام لگانے والا ننگا ہو جاتا ہے۔
اطہر من اللہ نے ضمیر بیچنے سے انکار کیا، اس لیے آج ان پر حملے ہو رہے ہیں۔
طاقت کے در پر جھکنے والے صحافی جب آزادی کی بات کریں تو صرف تماشہ لگتا ہے۔
تاریخ نے فیصلہ محفوظ رکھا ہے وقت گزرے گا، نام ا��صاف کے وفاداروں کے رہ جائیں گے، باقی شور مچانے والے صرف نوٹسوں میں رہ جائیں گے۔
#اطہر_من_اللہ #عدلیہ #سچ_باقی_ہے