@mpappan19@shamshergondal جس طرح کی عقل و خرد شمشیر گوندل صاحب کو عطاء ہوئی ہے یا پھر وہ دانستہ طور جس قدر تعصب اور بھانڈ پن کرتے ہیں وہ عقل مندی اور دانش یقینا میرے پاس نہی ہے۔ میں نے کسی سیاسی وابستگی سے بالا تر ہوکر پروفیسر محترم کے مقام و مرتبے کی بات کی ہے۰
World Bank report showing ‘Pakistan bears region’s biggest poverty burden’: 48% poor in Middle East/North Africa, while rest of poor are in Afghanistan, Yemen & Syria, shows worst kind of Elite Capture in failed System! ISSUE is NOT new Provinces, it’s about Policy Priorities!
@drabdullahjadrn@AmmarZaf@KashifMD The admission of Afghan students in Pakistani educational institutions was solely dependent on state to state relations,they were not admitting on open quota or anything else.Since now both the states have sour relationships,so both are taking such steps. It was a favour, indeed
اردو میں مستعمل چند فارسی ضرب الامثال
1۔ زبان یار من ترکی و من ترکی نمی دانم
ایسے موقع پر کہا جاتا ہے جب دو ایسے افراد کا واسطہ پڑ جائے جو ایک دوسرے کی زبان نہ سمجھتے ہوں یا کوئی مسافر کسی اجنبی ملک جائے جہاں کی زبان سے نابلد ہو۔
2۔ مال حرام بود بجائے حرام رفت
حرام کی کمائی حرام پر خرچ ہو جاتی ہے۔
3۔ یک نہ شد دو شد
ایک مصیبت سے چھٹکارا ملا نہیں کہ دوسری مصیبت گلے پڑ گئی۔
4۔ کند ہم جنس با ہم جنس پرواز
کبوتر با کبوتر باز با باز
ہر شے اپنے ہم جنسوں یا اپنی اصل کی طرف لوٹتی ہے یا میلان رکھتی ہے۔ یا شعر کی زبان میں
آخر گِل اپنی صرفِ درِ میکدہ ہوئی
پہنچے وہاں ہی خاک جہاں کا خمیر ہو
5۔ قہر درویش بر جان درویش
غریب کا غصہ اپنے آپ پر نکلتا ہے۔
6۔ نشستند گفتند برخاستند
عملی کام کے بجائے صرف زبانی منصوبے بنانا یعنی
اقبالؔ بڑا اپدیشک ہے من باتوں میں موہ لیتا ہے
گفتار کا یہ غازی تو بنا کردار کا غازی بن سکا
7۔ بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست
برصغیر میں مسلم اقتدار کے بانی ظہیر الدین محمد بابر کا مشہور فارسی قول ہے کہ'' بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست''جس کے معنی یہ ہیں کہ اے بابر۔۔ اپنی زندگی کا بھرپور لطف اٹھاو اور عیش کرو کیونکہ زندگی ایک ہی بار ملتی ہے ۔ بار بار نہیں ملتی۔
8۔ دروغ گو را حافظہ نباشد
جھوٹے کا حافظہ درست نہیں ہوتا ، اسے یاد نہیں رہتا کہ پہلے کیا کہا ہے اور اب کیا کیا کہہ رہا ہے۔
9۔ در جوانی توبہ کردن شیوه پیغمبری
وقت پیری گرگ ظالم میشود پرہیزگار
جوانی میں توبہ کرنا پیغمبروں ہی کا شیوہ ہے
بڑ��اپے میں تو ظالم بھیڑیا بھی پرہیزگار ہوجاتا ہے۔ یا پشتو کے مشہور شاعر غنی خان کے الفاظ میں
چې دې وس د بدو نۀ وي
څۀ به تۀ څۀ به دې ښۀ وي
توبه هله _______ د شرابو
چې شراب درته پراتۀ وي
چې بوډا شي خلۀ کړشپه
بیا توبه توبه ____ د څۀ کې؟
هغه ښۀ _____ د بدو بد وي
د ناکامه چې ___ ته ښه کې
10۔ بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر
شاہ عبد الحق محدث دہلوی سے منسوب ایک نعتیہ قطعے کا آخری مصرع ہے ۔ نعتیہ قطعہ یہ ہے :
یا صاحب الجمال و یا سید البشر
من وجہک المنیر لقد نور القمر
لا یمکن الثناء کما کان حقہ
بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر
ترجمہ :
اے صاحب الجمالﷺ اور اے انسانوں کے سردار ﷺ
آپ ��� کے رخِ انور سے چاند چمک اٹھا
آپ ﷺ کی ثنا کا حق ادا کرنا ممکن ہی نہیں
قصہ مختصر یہ کہ خدا کے بعد آپ ﷺ ہی بزرگ و برتر ہیں۔
11۔ ہر فرعون را موسی
اصل ضرب المثل اس طرح ہے : "ہَر فِرعَونِے را مُوسیٰ و ہَر نَمُرودَے را پشّہ"
ترجمہ : ہر فرعون کے لیے موسیٰ اور ہر نمرود کے لیے مچھر ہوتا ہے ۔
یعنی ہر ظالم کی سرکوبی کے لیے کوئی نہ کوئی نیک بندہ پیدا ہوجاتا ہے۔
12۔ ہر کمالے را زوالے
ہر کمال یا ہنر کو ایک روز زوال بھی آتا ہے۔ انتہائی ترقی کے بعد زوال شروع ہوجاتا ہے۔
13۔ تنگ آمد بجنگ آمد
پریشان ہو کر آدمی جنْگ کے لیے یا لڑنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے-
14۔ ہنوز دلی دور است
مطلب: ابھی دلی بہت دور ہے۔یعنی کہ ابھی کامیابی یا منزل مقصود کافی دور ہے۔
یہ فارسی کہاوت اردو میں بھی مستعمل ہے ۔اس کے پس منظر میں جو کہانی بیان کی جاتی ہے اس کے مطابق دہلی پر بادشاہ غیاث الدین تغلق کی حکومت تھی۔ وہ اس وقت کے ولی بزرگ حضرت نظام الدین اولیاء سےبغض رکھتا تھا۔ ایک دفعہ بادشاہ بنگال میں ایک جنگی مہم سے کامیاب ہوکر اپنے لاؤ لشکرکے ہمراہ دلی کی طرف آرہا تھا۔ تب اس نےایک قاصد کےذریعے حضرت نظام الدین کو پیغام بھیجا کہ وہ شاہی لشکرکے دلی پہنچنے سے پہلے پہلے دلی سے کسی دوسرے شہر چلے جائیں ورنہ ان کے لیے اچھا نہیں ہوگا۔ حضرت نظام الدین اولیاء نے یہ سنتے ہی جواب دیا۔ "ارے بابا! ہنوز دلی دور است" یعنی کہ ابھی تو دلی بہت دور ہے۔اتنی جلدی کاہے کی۔ پہلے بادشاہ دلی پہنچ تو جائے۔ پھر دیکھا جائے گا کہ اللہ کا کیا حکم ہے۔ اللہ کا کرنا یہ ہوا کہ بادشاہ راستے میں ہی ایک دیوار کے نیچے آکر مرگیا۔ اسے دوبارہ دلی دیکھنا نصیب نہ ہوئی۔ اسی واقعہ کو لے کر یہ کہاوت ��ام لوگوں میں بھی مشہور ہوگئی۔
15۔ آواز سگاں کم نہ کند رزق گدا را
ترجمہ : کتوں کے بھونکنے سے فقیروں کا رزق کم نہیں ہوتا۔
یہ عرفی شیرازی کے شعر کا دوسرا مصرع ہے۔ مکمل شعر اس طرح ہے :
عرفی تو می اندیش ز غوغائے رقیباں
آواز سگاں کم نہ کند رزق گدا را
جمع و ترتیب : وقارالدین
@MubashirAZaidi مبشر زیدی صاحب، چاہے آپ کسی مذہب کے ماننے والے نہی ہیں، جو ایک مذہب میں پیغمبر کا درجہ رکھتے ہیں ان کا تذکرہ جناب بہت عمومی اور مجہول انداز میں کرتے ہیں جیسے عام لوگوں کا ہو۔ جناب والا حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام پیغمبران خدا ہیں ۰
Op-Ed: "Our civil service still largely operates on 1973-era structures — defined, sadly, by loyalty, sycophancy, and patronage; distorted compensation for top bureaucrats; civil servants focused on personal welfare; and power with little accountability."
https://t.co/l5ToV0uzuF