فرحان صاحب سے آج درخواست بھی کی تھی کہ جتنے مرضی یونٹس بنا لیں
47 والا میرٹ رکھیں گے تو اِسی طرح ہم جل مرتے رہیں گے
3000 ووٹ والا وزیر اور سر کا فرمائشی افسر رکھیں گے تو یہی حال ہوگا
ویسے انکو CMH اور Medical Corps میں کیوں نہیں لگایا جاتا تاکہ یہ …..
مسئلہ یہ ہے کہ جس کا جو کام ہے وہ نہیں کرتا۔ اب ضروری نہیں کہ "ڈنگر ڈاکٹر" کسی علمی موضوع پر بات کرنے کا سلیقہ جانتا ہو۔
عرض یہ ہے کہ آج جو واقعہ ہوا ہے اس کا اس سے تعلق ہی نہیں کہ پمز میں کشمیر سے لوگ آتے ہیں یا کے پی بلوچستان سے۔ نہ ہی یہ ہسپتال پر بوجھ کا مسئلہ تھا۔ یہ خالصتا انتظامی نااہلی تھی۔ اس کا بنیادی کیریکٹر وہ شخص ہے جس کو صوبہ دینے کی بات ہورہی ہے۔ اگر صوبے زیادہ ہونے سے بات بنتی تو اس خطے کا سب سے ترقی یافتہ ملک افغانستان ہوتا جہاں اس خطے میں سب سے زیادہ صوبے ہیں۔
پمز کا واقعہ کہیں اور ہوتا تو پوری ریاست الٹ پلٹ ہوچکی ہوتی۔
اب تک کئی استعفے آچکے ہوتے۔
کم ازکم وزیر صحت تو جاچکا ہوتا۔
مگر ہماری بدنصیبی ملاحظہ کریں۔
وزیر صحت اب تک گھر پڑے ہیں۔
اور جب سامنے آئیں گے تو ان کے لیکچر سننے والے ہوں گے۔
آپ کو یوں لگے گا کہ
سارا قصور مرنے والے نومولودوں اور ان کے والدین کا تھا۔
یاد رہے کہ موصوف کو تین سال ہوچکے ہیں۔
ان سے ان کی کارکردگی پوچھیں۔
یہ آپ کو نئے صوبوں کے فوائد بتائیں گے۔
آنسو بہاکر بیڈگورننس پر تقریریں جھاڑیں گے۔
لیکن ان کی ذمہ داری میں آنے والے ہسپتال، پمز کا حال۔
آپ کبھی بھی کسی بھی وقت جاکر دیکھیں۔
آپ سر پکڑکر بیٹھ جائیں گے۔
جس ہسپتال کو ملک کا ماڈل ادارہ ہونا چاہیے تھا، وہ بدحالی کی تصویر۔
اس پمز ہسپتال سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ایک صاحب بیٹھتے ہیں۔
جن کا نام شہبازشریف ہے۔
اور جنہیں دنیا میں وزیراعظم پاکستان کے نام سے جانا جاتا ہے۔
ان کی بھی گفتگو سنیں۔
تو حیرت زدہ رہ جائیں گے۔
یوں لگے گا سارے جہاں کا درد ان کے جگر میں ہے۔
لیکن جس چند کلومیٹر پر ان کی حکمرانی ہے، وہاں بھی کوئی ایک چیز ڈھنگ کی نہیں۔
کوئی بھی دارالحکومت کسی ��ھی ملک کا چہرہ ہوتا ہے۔
آپ اسلام آباد کے کسی بھی ادارے میں چلے جائیں۔
آپ سی ڈی اے ہسپتال چکر لگالیں۔
خدا نہ کرے آپ کو اسلام آباد کے کسی بھی پولیس اسٹیشن جانا پڑجائے۔
آپ اپنی بے بسی پر روئیں گے۔
۱۲ربیع الاول کا دن ہے۔
14بچے جھلس گئے۔
14خاندان اجڑ گئے۔
یہ حادثہ نہیں، یہ قتل ہے۔
اور یہ معصوم بچے یقینا اپنے رب کے حضور جاکر پوچھ رہے ہوں گے
ہمیں کس جرم میں قتل کیا گیا؟
دونوں فریقوں (حکومت اور پی ٹی آئی) کے درمیان پس پردہ خفیہ مذاکرات اور مفاہمت ہوئی ہے، جسے کوئی بھی ڈیل کہنے کو تیار نہیں کیونکہ اس سے غلط تاثر جاتا ہے۔
اس پردے کے پیچھے طے پانے والے معاہدے کے تحت عمران خان کو مرحلہ وار ریلیف دیا جائے گا تاکہ حکومت کمزور دکھائی نہ دے اور پی ٹی آئی پر بھی حکومت سے سمجھوتا کرنے کا الزام نہ آئے۔
تاہم حکومت سیکیورٹی اور دیگر قانونی مسائل کی وجہ سے انہیں پرائیویٹ کے بجائے کسی سرکاری اسپتال منتقل کرنے پر زور دے رہی ہے۔
نجم سیٹھی کا انڈین صحافی کرن تھاپر کو انٹرویو
ترجیحات کا فرق: انڈیا میں بہت کم ایسی شخصیات ہیں جن کو تین سول ایوارڈز ملے ہیں، ان میں لیجنڈری کرکٹر سچن ٹنڈولکر جیسے نام آتے ہیں۔ سیاستدان، جنرلوں اور بیوروکریسی کا حساب تو بعد میں ہو گا، ہمارے ہاں تو اسلام آباد کے ایک پوش سیکٹر کے حکیم صاحب تین سول ایوارڈ تمغہ امتیاز، ستارہ امتیاز، ہلال امتیاز لے اُڑے ہیں۔
Pak’s Debt, liabilities near Rs100 trillion!
Pakistan's total debt and liabilities mounted to nearly Rs100 trillion by June 2026, eating up Rs12 trillion in servicing costs in the last fiscal year, amid signs of reversal of high indebtedness due to an improvement compared to the size of the economy.
https://t.co/nFtYspUpN5
پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں ��س وقت لڑائی کی بڑی وجہ ایک اور بھی ہے۔ نئے ججز کی تعیناتیوں پر تنازع۔ ن لیگ "اپنے" جج لانا چاہ رہی ہے جبکہ پیپلز پارٹی اس میں اپنا حصہ بقدر جثہ مانگ رہی ہے۔
ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں جب ایسے جج صاحبان مسند پر جلوہ افروز ہوں گے تو ان سے کیا آپ انصاف کی توقع رکھیں گے اور کیسے آپ انہیں سیاسی فیصلے کرنے سے روکیں گے؟
ن لیگ کو یاد رکھنا چاہیے کہ آپ کا لگایا ہوا جج ثاقب نثار بن سکتا ہے اور پیپلز پارٹی کو نہیں بھولنا چاہیے کہ جس جج کے لیے آپ لڑجھگڑ رہے ہیں، اسے ا��تخار چوہدری بنتے دیر نہیں لگتی۔
عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اب تک تقریبا 9 فیصد کمی ہوئی ہے اس حساب سے پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں تقریبا 30 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت میں تقریبا 34 روپے فی لیٹر کمی ہونی چاہیے۔۔۔۔
اب رات تک انتظار کریں ہمارے 'تجربہ کار' أج کیا کاری گری دیکھاتے ہیں۔۔۔
Since January 1 2026, an average of four children every day have been diagnosed with HIV in Sindh.
By the end of June 2026, the number had reached 729, including 171 children diagnosed in June alone.
Has anyone in authority even taken notice?
Details tomorrow @thenews_intl
Indian police on July 20 struck students protesting for education reforms with batons and fired tear gas shells in New Delhi. Thousands of young demonstrators demanded the resignation of Education Minister Dharmendra Pradhan over question paper leaks that affected more than 2 million students
Tear gas and batons. Suspended metro services and mobile internet. Reported unnecessary and excessive use of force against peaceful protesters. Demonstrators in India were marching towards parliament to demand the resignation of a Union education minister following alleged examination paper leaks that affected millions of students. The Delhi Police responded with violent crackdowns.
Indian authorities must ensure that all allegations of unlawful conduct against these Cockroach Party-led protests are promptly, independently, and impartially investigated.
People get price hike- Bureaucrats to get Rs1.8b new allowance!
The federal cabinet has approved another special allowance for top bureaucracy �� the second in four years – and sanctioned Rs1.8 billion budget in the middle of a further extension in austerity measures and a 7% raise for all government employees. https://t.co/7szwkGtSjH
@Asad_Umar بلاول بھٹو بلدیاتی انتخابات میں مہم چلارہے تھے کہ پیپلز پارٹی کو ووٹ دیں تو پھر میئر بھی ہمارا ہوگا، صوبائی حکومت بھی ہماری ہوگی اور وفاق سے بھی ہم بات کرسکیں گے، کراچی کی قسمت بدل دیں گے۔ لیکن بدقسمتی سے ایسا کچھ نہ ہوسکا۔ ��لکہ کراچی کے حالات مزید خراب ہوئے ہیں۔
حکومت نے منگل کے روز کہا کہ
استعمال شدہ گاڑیوں کی درآم�� پر عائد ٹیکس کم کردیے گئے ہیں اور عمر کی حد بھی ختم کردی گئی ہے، لیکن وہ بچوں کی پنسلوں اور کاپیوں کو سیلز ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دینے کے لیے آئی ایم ایف سے اجازت حاصل نہیں کرسکی۔
یہ صورتحال ملک کی ترجیحات پر کئی سوالات اٹھاتی ہے۔
شہباز رانا @81ShahbazRana کی خبر
ایران جنگ کے بعد جب حکومت نے پیٹرول کی قیمت 137 روپے فی لیٹر بڑھائی تھی تو اس وقت کہا گیا تھا کہ عالمی مارکیٹ میں قیمتیں کم ہوتے ہی فوری طور پر پاکستان میں بھی کم کی جائیں گی۔۔ گذشتہ چند دنوں کے دوران عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں مسلسل کم ہو رہی ہیں اور کل اور آج تو تقریبا 10 فیصد کمی ہوئی ہے تو حکومت کب کم رہی ہے تیل کی قیمتیں؟
اس بار پٹرولیم مصنوعات میں بڑی کمی ہونے جا رہی ھے۔
پٹرولیم مصنوعات کی پرانی قیمتیں بحال کرنے کا جو وعدہ کیا تھا وہ پورا کرنے کا وقت ہوا چاہتا ھے۔ ان شاءاللہ
28 کلومیٹر سڑک کی 28 کروڑ روپے میں تعمیر، مگر 17 سال اور ایک ارب 60 کروڑ روپے خرچ ہونے کے باوجود صرف 12 سے 13 کلومیٹر سڑک ہی تعمیر ہو سکی — اپر چترال کی تورکھو و تریچ یونین کونسل کے عوام کی دردناک داستان اور محکمہ سی اینڈ ڈبلیو خیبر پختونخوا کی نااہلی اور مبینہ کرپشن کی ایک عجیب کہانی
2010 میں 28 کلومیٹر طویل بونی۔بزند روڈ کی توسیع اور اسفالٹ (پختہ) کرنے کا منصوبہ وفاقی پی ایس ڈی پی منصوبے کے طور پر تقریباً 28 کروڑ روپے کی لاگت سے شروع کیا گیا تھا۔ 2026 کا نصف سال بھی گزر چکا ہے، لیکن اب تک صرف تقریباً 13 کلومیٹر سڑک ہی تعمیر ہو سکی ہے، جس پر ایک ارب 60 کروڑ روپے خرچ ہو چکے ہیں۔
حیران کن بات یہ ہے کہ جو 13 کلومیٹر سڑک تعمیر کی گئی ہے، وہ بھی پی سی ون کے مطابق مکمل نہیں۔ سڑک کے دونوں جانب سیمنٹڈ شولڈرز، نکاسیٔ آب کے لیے نالے ا��ر ریٹیننگ والز کی تعمیر ابھی تک مکمل نہیں ہو سکی۔ گویا 17 سال اور ایک ارب 60 کروڑ روپے خرچ ہونے کے باوجود ایک کلومیٹر سڑک بھی مکمل طور پر پی سی ون کے مطابق تعمیر نہیں ہوئی۔
اس تمام عرصے کے دوران علاقے کے عوام مسلسل احتجاج کرتے رہے، جس کے ��تیجے میں ان کے خلاف دہشت گردی سمیت مختلف دفعات کے تحت مقدمات بھی درج کیے گئے۔ اس منصوبے کے حوالے سے متاثرہ عوام نے پشاور ہائی کورٹ سے بھی رجوع کر رکھا ہے۔
پشاور ہائی کورٹ کے احکامات کی ٹائم لائن
یکم جولائی 2025 کو پشاور ہائی کورٹ کے ڈویژنل بینچ، مینگورہ نے قرار دیا کہ تورکھو روڈ منصوبے میں بے ضابطگیاں ہوئی ہیں۔ عدالت نے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو ہدایت کی کہ ذمہ داران کا تعین کرکے ان کے خلاف کارروائی کی جائے اور 15 جولائی کو خود عدالت میں پیش ہوں یا اپنی جگہ سیکریٹری سی اینڈ ڈبلیو کو بھیجیں۔
15 جولائی کو سیکریٹری سی اینڈ ڈبلیو عدالت میں پیش ہوئے اور یقین دہانی کرائی کہ صوبائی حکومت سے 50 کروڑ روپے بطور برج فنانسنگ حاصل کرکے منصوبہ 31 اکتوبر 2025 تک پی سی ون کے مطابق مکمل کر لیا جائے گا۔
بعد ازاں چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ نے رٹ پٹیشن سوات سے پشاور منتقل کرکے اپنی سربراہی میں قائم دو رکنی بینچ کے سامنے سماعت کی۔ گزشتہ سال نومبر میں چیف انجینئر نارتھ عدالت میں پیش ہوئے اور بیان دیا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے 50 کروڑ روپے جبکہ وفاقی حکومت کی جانب سے 74 لاکھ روپے سی اینڈ ڈبلیو کو موصول ہو چکے ہیں اور منصوبہ 30 جون 2026 تک مکمل کر دیا جائے گا۔ سماعت کے دوران ان کے الفاظ تھے : Required money is in our pocket
جب عدالت نے ہدایت کی کہ منصوبہ تین شفٹوں میں کام کرکے مکمل کیا جائے تو چیف انجینئر نے جواب دیا کہ تین شفٹوں میں کام ممکن نہیں کیونکہ درجۂ حرارت کم ہو چکا ہے۔
انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ اگلے سال مارچ سے کام شروع کرکے منصوبے کو 30 جون 2026 تک پی سی ون کے مطابق مکمل کر لیا جائے گا۔
26 مارچ کی سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ اپریل کے پہلے ہفتے میں کام دوبارہ شروع کر دیا جائے گا، تاہم ایسا نہ ہو سکا۔ اس دوران علاقے کے عوام مسلسل احتجاج کرتے رہے اور پشاور میں سیکریٹری سی اینڈ ڈبلیو اور چیف انجینئر سے دو مرتبہ وفود کی صورت میں ملاقاتیں بھی کیں۔
بعد ازاں 2 مئی 2026 کو ایک بار پھر چیف انجینئر نارتھ نے عدالت میں بیان دیا کہ منصوبہ 30 جون تک مکمل کر لیا جائے گا۔
تاہم مطلوبہ فنڈز دستیاب ہونے اور 30 جون تک منصوبہ مکمل کرنے کی یقین دہانی کے باوجود تعمیراتی کام مطلوبہ رفتار سے شروع نہیں کیا جا رہا۔ اس وقت صرف ایک ایکسکیویٹر، ایک ٹریکٹر اور چھ ٹرک سائٹ پر موجود ہیں۔
سی اینڈ ڈبلیو کی دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہونے میں صرف 24 دن باقی ہیں، جبکہ تقریباً 14 کلومیٹر سڑک پر اسفالٹ کا کام باقی ہے۔ اس کے علاوہ متعدد مقامات پر سڑک کی توسیع، سب بیس، ریٹیننگ والز، پی سی سی، شولڈرز اور ایک آر سی سی پل کی تعمیر بھی ابھی باقی ہے۔
سیکریٹری سی اینڈ ڈبلیو اور چیف انجینئر عدالت میں تحریری طور پر یقین دہانیاں کروا رہے ہیں کہ منصوبہ 30 جون تک مکمل کر لیا جائے گا، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ نہ تو ٹھیکیدار کو تمام حصوں پر بیک وقت کام کرنے کا پابند بنایا جا رہا ہے اور نہ ہی اس کی من مانیوں کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی کی جا رہی ہے۔
مجبور ہو کر علاقے کے عوام ن�� چیف جسٹس کے نام یہ اپیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کی سکرین شاٹ نیجے دی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا جناب سہیل آفریدی صاحب جو سی اینڈ ڈبلیو کے وزیر بھی رہے اور بعد ازاں وزیراعلی بننے کے بعد بھی محکمہ کافی عرصہ ان کے پاس رہا، اور جن تک اس منصوبے سے متعلق شکایات مسلسل پہنچتی رہی ہیں، سے گزارش ہے کہ تقریباً ڈیڑھ لاکھ آبادی پر رحم کرتے ہوئے محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے ذمہ دار اور مبینہ طور پر کرپٹ عناصر کا محاسبہ کریں اور متعلقہ حکام کو منصوبہ فوری طور پر مکمل کرنے کا پابند بنائیں۔
اسی طرح محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کی ذمہ داری دوبارہ سنبھالنے والے شکیل خان صاحب کے لیے بھی یہ منصوبہ ایک بڑا امتحان اور چیلنج ہے کہ وہ عوام کو درپیش اس دیرینہ مسئلے کے حل کے لیے عملی اقدامات کریں۔
@YarMKNiazi @SohailAfridiISF @AsadAToor @AsadQaiserPTI @saarbab @JunaidAkbarMNA @Wabbasi007 @AnsarAAbbasi @majidsnizami @NaxarUlIslam @IKPeshawar @SdqJaan @SanaullahDawn @FaisalAminKhan @fkkundi @salmanAraja @TheLehaz
میدان عرفات میں ایسی راہداریاں جن پر چلنے سے تھکن نہیں ہوتی، اس کے ساتھ درخت، پھوار پھینکنے والے پنکھے اور شیڈز۔۔۔ خصوصی مناظر دیکھیں اردو نیوز کے اس خصوصی کوریج میں
Access to clean drinking water is a basic right, and today we took another meaningful step toward that goal.
I had the honour of inaugurating a water filtration plant at Peshawar Cantt Railway Station, ensuring that commuters and nearby communities can now benefit from safe and clean drinking water.
Grateful for the presence of the Chairman of Pakistan Railways, Mr. Syed Mazhar Ali Shah, whose support reflects the importance of collective efforts in public welfare.
At #SAF, we remain committed to expanding access to clean water and improving everyday living conditions for underserved communities across Pakistan.
#ShahidAfridiFoundation #CleanWater #HopeNotOut