بھارتی ادیب اور محقق ارجمند آرا نے سندھو ناول کا ہندی ترجمہ کیا ہے۔ ارجمند آرا دلی یونیورسٹی میں اردو کی پروفیسر ہیں اور انہوں نے ارون دھتی رائے کے ناول The Ministry of Utmost Happiness کے اردو ترجمہ پر ساہتیہ اکادمی ایوارڈ حاصل کیاہے۔ خوشی ہے کہ ہندی ترجمہ ریختہ نے شائع کیا ہے۔
:
سعدی شیرازی
“بنی آدم اعضایِ یکدیگرند،
که در آفرینش ز یک گوهرند۔
چو عضوی به درد آورد روزگار،
دگر عضوها را نماند قرار۔”
“انسان آپس میں ایک جسم کے اعضا ہیں،
کہ ان کی پیدائش ایک ہی جوہر سے ہے۔
اگر ایک عضو تکلیف میں مبتلا ہو،
باقی اعضا سکون میں نہیں ہو سکتے۔”
سرائے نورنگ، لکی مروت سے فہیم اللہ لکھتے ہیں کہ:
”میرے ماموں کا بیٹا ریاض ولد کریم خان (گنڈی خانخیل) نورنگ بلاسٹ میں شہید ہو گیا ہے ۔اِس سے پہلے ان کے والد صاحب فوت ہوئے، پھر چند مہینے بعد اس کے چھوٹے بھائی کو دہشتگردوں نے مارا اور آج اسے بھی شہید کر دیا گیا۔ یہ ایف سی میں ملازم تھا پھر اس کی والدہ نے اس سے نوکری چھڑوائی کہ تم میرے پاس ایک رہ گئے ہو، میں تمہیں کھونا نہیں چاہتی۔ پھر یہ یہاں اپنا زرنج/لوڈر رکشہ خرید کر نورنگ بازار میں مزدوری کرتا تھا اور ظالموں نے آج اسے بھی نہیں چھوڑا ��و ماں کا واحد سہارا تھا۔ اس کے گھر میں اب کوئی مرد باقی نہیں رہا۔“
سکھر کی ایک عدالت کے احاطے میں کھڑی ایک نوجوان خاتون نے چند روز قبل ایک ایسا جملہ کہا تھا جو اب ایک ہولناک حقیقت بن چکا ہے۔ سکھر کی مقامی عدالت کے باہر کا وہ منظر اب سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے۔ ویڈیو میں ایک بزرگ شخص گلاں بھارو کا والد اپنی پگڑی بیٹی کے قدموں میں رکھتا ہے۔
مطلب یہ ہوا کہ جیو نیوز کی سکرین جتنی بھی بڑی ہو کسی کو مشہور تو کر سکتی ہے صحافی نہیں بنا سکتی۔
اور اداکارہ میرا نے ماضی میں جتنے بھی کمزور فیصلے کیے ہوں وہ گفتگو میں ضبط کرنا سیکھ چکی ہیں۔
یہ مریم نواز @MaryamNSharif کا لاہور ہے۔ صوبے کے دور دراز علاقوں کا کیا حال ہوگا۔
یہ نوجوان لاہور کے تھانے میں لٹک رہا ہے اور اس کی بہن دیکھ رہی ہے، کیوں؟
اس لیے کہ یہ لوگ غریب ہیں، کمزور طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، گھروں میں ذاتی ملازم بن کر کام کرتے ہیں۔
اس طرح کا تشدد آج بھی ہر تھانے میں ہوتا ہے اور غریب پر ہوتا ہے۔
کچھ ذ��نی مریض قسم کے پُلسیے تشدد کی ویڈیوز اپنی تفریح طبع کے لیے بناتے ہیں جو کبھی کبھار لیک ہو جاتی ہیں۔
پنجاب پولیس کے اعلیٰ افسران اس کا نوٹس لیتے ہیں، اہلکاروں کو معطل کرتے ہیں، سرزنش ہوتی ہے کہ ویڈیو کیوں بنائی، اور پھر لیک کیوں ہوئی؟
اس کے دو ماہ بعد معطل اہلکاروں کو بحال کر کے پرانی تنخواہ بھی ساتھ دے دی جاتی ہے۔
اور تشدد کا نشانہ بننے ��الوں میں سے کچھ نفسیاتی مسائل سے دوچار ہو کر جوابی تشدد کے لیے جرائم پیشہ عناصر سے مل جاتے ہیں۔
لکھنے والے کا کام تاریخ کو زندہ رکھنا ہے۔ اقتدار عوام کی یادداشت چھیننا چاہتا ہے۔ صحافی کا کام اجتماعی حافظے کو زندہ رکھنا ہے۔ سیاسی شعور فراموشی کے خلاف یادداشت کی جدوجہد سے عبارت ہے
برصغیر کی معروف گلوکارہ آشا بھوسلے کے انتقال پر جیو نیوز نے ان کے کچھ یادگار گیت اور نغمے نشر کیے۔۔ آشا بھوسلے کے چاہنے اور سننے والے پورے برصغیر میں موجود ہیں۔ آشا بھوسلے نورجہاں کی مداح تھیں اور انہیں بڑی بہن کہہ کر پکارتی تھیں، آشا نے نصرف فتح علی خان کے گانے گائے اور عظیم پاکستانی شاعر ناصر کاظمی کے گیت بھی گائے۔ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹر اتھارٹی پیمرا نے جیو کی نوٹس جاری کیا ہے کہ بھارتی مواد نہیں چلایا جا سکتا۔ جیو یقین رکھتا ہے کہ فن انسانیت کا مشترکا اثاثہ ہے اور اسے سرحدوں میں قید نہیں کیا جانا چاہیئے۔
تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال تونسہ میں 32 گھنٹوں کی خفیہ فلمنگ کے دوران ہم نے دیکھا کہ دس مختلف مواقع پر استعمال شدوں سرنجوں میں دوائی بھری گئی۔۔۔
https://t.co/vV9tzYRSmQ
دُنیا کی نظریں اسلام آ��اد پر، اور پاکستان کے بڑے میڈیا چینلز کیا کر رہے ہیں یہ بھی سب دیکھ رہے ہیں۔
ایران-امریکہ مذاکرات میں خبر کیا ہے اور یہ کہاں سے آ رہی ہے، اور ایسے مواقع پر خبریں آتی کیسے ہیں۔ یہ سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ میڈیا کے ذرائع کو سمجھا جائے۔
اس وقت بین الاقوامی نشریاتی ادارے یعنی سی این این، فاکس نیوز، بی بی سی، اے ایف پی، روئٹرز اور ایسوسی ایٹڈ پریس مذاکرات کی اندر کی خبریں نشر کر رہے ہیں۔ اور پاکستانی میڈیا (خاص طور پر نیوز چینلز) اور پاکستان کا سرکاری نشریاتی ادارہ (پی ٹی وی) یہ بتا رہے ہیں کہ کنونشن سینٹر میں ملکی و غیرملکی صحافیوں کو بہترین سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ چائے، کھانا اور انٹرنیٹ، بڑی سکرینز، لیپ ٹاپ وغیرہ دیے گئے ہیں۔
ایسے مواقع پر خبر اُن ذرائع سے آتی ہے جن کے ساتھ اپنے کام پر توجہ رکھنے والے رپورٹرز کے رابطے ہوتے ہیں۔ مثلا امریکی وفد میں موجود نچلی سطح کی شخصیات اور ایرانی وفد میں بھی ایسے لوگ جو معاونت/ اسسٹنس دے رہے ہیں یا جونیئر پوزیشن پر مددگار کے طور پر کام کر رہے ہیں۔
یہ دونوں اطراف تو ظاہر ہے کہ امریکی و ایرانی ذرائع ابلاغ اور بین الاقومی نشریاتی اداروں کے نمائندوں کے ہی ”ذرائع“ ہو سکتے ہیں۔
پاکستانی صحافی اسلام آباد ��یں مقیم امریکی و ایرانی سفارت کاروں کو ذرائع بنا کر معلومات حاصل کر کے خبر دے سکتے ہیں۔
اسی طرح پاکستان کی وزارت خارجہ میں موجود افسران اور سرکاری عہدیداروں کو ذرائع بنا کر اندر کی خبر ناظرین تک پہنچائی جاتی ہے۔
مگر یہاں ایک اور مسئلہ بھی ہے۔ پاکستانی میڈیا پر سخت قدغنیں ہیں، اور اسلام آباد مذاکرات کے حوالے سے کوئی بھی خبر باقاعدہ سرکاری طور پر جاری ہونے سے قبل نشر کرنے پر ایک بے ضابطہ حکمنامے کے ذریعے پابندی عائد کی گئی۔ اس کے لیے ایک دن قبل واٹس ایپ پر تمام چینلز کو ہدایات بھیجی گئی تھیں۔
صحافی عقیل افضل نے اپنے کریئر میں پہلی بار کوئی قابلِ غور بات لکھی ہے۔
اُنہوں نے وزارتِ اطلاعات و نشریات کو ٹیگ کر کے فیس بُک پر لکھا کہ ”انٹر نیشنل میڈیا نے ایران ،امریکا مذاکرات کے راؤنڈرز کروا دیے، ڈرافٹس شئیر کروا دیے اور پاکستانی میڈیا ابھی تک صرف دونوں وفود کی آمد کی ہی خبریں دے رہا ہے۔
وزیر اطلاعات تاررڑ (فیسیلیٹیشن سینٹر میں) انٹرنیٹ لگا کر ہی کامیابیاں سمیٹ رہے ہیں ۔میڈیا کا کام خبریں دینا ہوتا ہے ۔ اپنے میڈیا پر رحم کریں انہیں خبروں کی دنیا میں بین الاقوامی میڈیا کا ذمہ داری کے ساتھ مقابلہ کرنے دیں تاکہ پرائیویٹ میڈیا کی سانسیں چلتی رہیں۔“
(سکرین شاٹ بشکریہ مطیع اللہ جان ایکس اکاؤنٹ)