ابھی تک ان امیر زادوں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی گئی اگر کوئی غریب ہوتا تو سی سی ڈی نے ابھی اسکو مقابلے میں پار کر دینا تھا ۔۔۔۔ قانون صرف غریب کیلئے ہے
میرے خلاف جس انداز میں کردار کشی کی مہم چلائی جا رہی ہے، وہ دراصل اسی سیاسی کلچر کا تسلسل ہے جسے برسوں سے چند نام نہاد سوشل میڈیا ٹرولز نے پروان چڑھایا۔ مسلسل گالم گلوچ، بہتان تراشی، تضحیک اور دھونس کے ذریعے ہر اخ��لافی آواز کو دبانے کی کوشش کی گئی، اور یہی رویّہ بالآخر مجھے اس مقام تک لے آیا جہاں آج میں کھڑا ہوں۔
میں اب پاکستان تحریکِ انصاف کا حصہ نہیں ہوں، اس لیے مجھ پر کسی جماعتی ڈسپلن کی اخلاقی یا سیاسی پابندی عائد نہیں ہوتی۔ اختلافِ رائے کو غداری اور سوال اٹھانے کو بغاوت قرار دینا دراصل سیاسی عدم برداشت کی بدترین شکل ہے۔
یہ بھی واضح رہے کہ عمران خان صاحب کی غیر منصفانہ سزا کا حوالہ دینے کا مقصد ہرگز کسی کی توہین نہیں تھا بلکہ صرف اُس قانونی اصول کی نشاندہی کرنا تھا جو خود عمران خان صاحب کی درخواست پر سپریم کورٹ نے 2018 میں میاں نواز شریف کے خلاف طے کیا تھا۔ اصول اگر ایک کے لیے قانون بنے تو دوسرے کے لیے بھی وہی اصول لاگو ہونا چاہیے۔ قانون شخصیات کے تابع نہیں بلکہ شخصیات قانون کے تابع ہوتی ہیں۔
پی ٹی آئی اور اس کے سوشل میڈیا بریگیڈ نے گزشتہ برسوں میں جو طرزِ سیاست اپنایا، وہ آج کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اختلاف کرنے والوں کو گالیاں دینا، ان کی کردار کشی کرنا، جعلی مہمات چلانا اور خاندانوں تک کو نشانہ بنانا ایک ک��لا راز بن چکا ہے۔
تمام تر ٹرولنگ، خصوصاً علیمہ خان کے زیرِاثر چلنے والی مہمات کے باوجود، میں نے ہمیشہ خان صاحب کا احترام کیا، ان کا دفاع کیا اور مشکل ترین وقت میں بھی اُن کے ساتھ کھڑا رہا۔ مگر افسوس کہ پارٹی قیادت یا ذمہ دار حلقے میری بات سننے، وجوہات معلوم کرنے یا آئینی عدالت میں دائر مؤقف پر مجھ سے مکالمہ کرنے کے بجائے سیدھا ٹرولز کو چھوڑنے میں مصروف ہوگئے۔ اگر اختلاف تھا تو دلیل سے جواب دیتے، گفتگو کرتے، نظرِ ثانی کی درخواست کرتے، مگر یہاں تو ہر سمت سے صرف بھونکنے کی آوازیں آئیں۔
یاد رکھیں، پی ٹی آئی کے ہر اُس کارکن کی فطرت میں یہ بات شامل ہو چکی ہے کہ جتنا اسے دباؤ، جتنا اسے دیوار سے لگاؤ، وہ اتنا ہی زیادہ خطرناک ردِعمل دیتا ہے۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ دھمکیوں، ٹرولنگ اور کردار کشی سے مجھے ��اموش کرا لیں گے تو یہ آپ کی خام خیالی ہے۔
میں نے نہ پہلے کبھی کسی کے شور کی پرواہ کی، نہ آج کرتا ہوں۔ البتہ میرا ردِعمل ایسا ضرور ہوگا جو آپ کو بے چین بھی کرے گا، تڑپائے گا بھی اور بہت کچھ سوچنے پر مجبور بھی کرے گا۔
سیاست دلیل، برداشت اور کردار سے چلتی ہے، ٹرولز، گالیوں اور ہجوم کے شور سے نہیں۔
میں نے ہمیشہ عمران خان صاحب کا احترام کیا، اُن کا دفاع کیا، مگر اس کے جواب میں مسلسل ٹرولنگ، تضحیک اور کردار کشی ملی۔
میں آج بھی نہیں چاہتا کہ معاملات اُس نہج تک پہنچیں جہاں واپسی کے راستے بند ہو جائیں۔ میں عمران خان کی جماعت کو نقصان پہنچانے کا خواہشمند نہیں، مگر مجھے مسلسل دیوار سے لگانے کی کوشش نہ کی جائے۔ کیونکہ جب انسان خاموشی چھوڑ دے تو پھر بہت سے مقدس چہروں کے نقاب اترنے میں دیر نہیں لگتی، شیر افضل خان مروت
میں نے ہمیشہ عمران خان صاحب کا احترام کیا، اُن کا دفاع کیا، مگر اس کے جواب میں مسلسل ٹرولنگ، تضحیک اور کردار کشی ملی۔
میں آج بھی نہیں چاہتا کہ معاملات اُس نہج تک پہنچیں جہاں واپسی کے راستے بند ہو جائیں۔ میں عمران خان کی جماعت کو نقصان پہنچانے کا خواہشمند نہیں، مگر مجھے مسلسل دیوار سے لگانے کی کوشش نہ کی جائے۔ کیونکہ جب انسان خاموشی چھوڑ دے تو پھر بہت سے مقدس چہروں کے نقاب اترنے میں دیر نہیں لگتی، شیر افضل خان مروت
🚨BREAKING: For the first time, the original Pakistani cypher — cable I-0678, the document that triggered the removal of former Pakistani Prime Minister Imran Khan — is being released in full by Drop Site.