یہ جو دھشتگردی ہے!
کم وسائل کے باوجود وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل خان آفریدی اور پختونخوا حکومت نے یہ بکتر بند گاڑیاں اور اسلحہ پولیس کے لیے خریدا لیکن کے پی حکومت کو اس کی ڈیلیوری نہیں کی گئی، گورنر راج اور ایمرجنسی لگا کر دوسرے دن ہی گاڑیاں پشاور پہنچا دی گئیں، اب یہی اسلحہ اور گاڑیاں تحریک انصاف کے کارکنوں کیخلاف استعمال کیا جا رہا ہے، اس سے بڑی بے حسی اور بددیانتی ہو نہیں سکتی کہ دھشتگردوں کے خلاف صوبائی حکومت کا خریدا گیا اسلحہ دیا نہیں گیا اور ایمرجنسی لگا کر عوام کے خلاف یہ بکتر بند گاڑیاں اور اسلحہ ایک دن میں پہنچا دیا گیا۔
پھر اصل دھشتگرد اور پشتونوں کا دشمن کون ہوا؟
#FascismUnderAsimLaw
#PakistanUnderMartialLaw
گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ آئینی اختیار ہے جسے دہشت گردوں کے نرغے میں آئے عوام اور خیبرپختونخوا کے تحفظ، سلامتی اور بھتوں سے نجات دلانے کے لیے استعمال کیا گیا کیونکہ جس حکومت نے دہشت گردوں کا مقابلہ کرنا تھا، وہ خود ان کی سہولت کار اور ترجمان بن کر اپنے ہی عوام اور آئین کی دشمن بن گئی۔ پوری قوم متحد ہے اور دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے اپنی بہادر افواج، پولیس اور سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ 13 سال سے پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا کو دہشت گردوں کے لئے سیف ہیون بنا رکھا تھا جو اب دہشت گردی سے پاک ہوگا۔ دہشت گردوں کے بیانیے پر چلتے ہوئے پاکستانی جھنڈے کو اتارنے اور قومی ترانے کا احترام نہ کرنے والوں کو پاکستان، آئین اور عوام کے نمائندہ عہدے پر بیٹھنے کا حق نہیں۔ دہشت گردوں کی طرح سہولت کاروں کو بھی عبرت کا نشان بنانا ہوگا۔ صوبے میں تین دہائیوں سے رکا ہوا ترقی کا عمل بحال ہونے سے عوام کو تعلیم، صحت اور ترقی ملے گی، سابق قبائلی علاقوں میں انفراسٹرکچر قائم ہوگا اور ریاستی عملداری قائم ہونے سے امن کی ایک نئی صبح طلوع ہو گی۔ انشاء اللہ
سابق وزیر اعلٰی پنجاب اور مسلم لیگ پنجاب کے سابق جنرل سیکرٹری غلام حیدر وائیں شھید کی آج 33 ویں برسی ھے
ایک درویش منش ، دنیاوی آلائشوں سے بے نیاز مرد ِ قلندر جس نے خودی کا سودا نہیں کی اور غریبی میں نام پیدا کیا ، اپنے پیچھے اپنے کردار اور خدمات کے سوا کوئ اثاثہ نہیں چھوڑا
آج کے دور میں ایسے سیاستدان ناپید ھو چکے
یہی وہ شخصیت ھی جنھوں نے پہلی بار مسلم لیگ کی تنظیم کی بنیادیں رکھیں ، نظریۂِ پاکستان کے فروغ اور جاگیردارانہ سیاست کی گرفت کمزور کرنے کیلئے دیوانہ وار کام کیا ، نظریۂِ پاکستان ٹرسٹ کی بنیاد رکھی ۔
پنجاب میں دیانت اور میرٹ پالیسی کا نفاذ کیا ، میاں چنوں میں اعلٰی تعلیمی ادارے قائم کیے ، غنڈوں کو نکیل ڈالی ،
انتخابی مہم کے دوران پیشہ ور قاتلوں کے ایک گروہ کے حملے کے نتیجے میں منصب ِ شھادت پر فائز ھوۓ
خدا رحمت کُند ایں عاشقان پاک طینت را
جناب مطیع اللّٰہ صاحب ! کسی بھی قیدی کی ملاقات پر پابندی نہیں ھونی چاھئیے ، جیل مینول پر عملدرآمد کیا جانا چاھئیے ، ایک سیاسی راھنما کو اپنے ساتھیوں سے ملتے رھنا چاھئیے بھلے وہ جیل میں ھو ،
خواجہ سعد رفیق جو کچھ لکھتے یاکہتے ھیں ھیں وہ محض اس وال پر نہیں کہا جاتا بلکہ جماعت اور حکومت کے اعلٰی حلقوں کے سامنے بار بار کہا جاتا ھے ، کوئ سُنے سمجھے نہ سمجھے اسکی مرضی ۔۔ وہ آواز بلند کر سکتے ھیں سو نتائج یا کسی منفعت کی پروا کے بغیر ھمیشہ اے صدا لگاتے رھتے ھیں
رہ گىئ بات (تھوڑی سی ھمت ) کی !
تو اصولوں اور جمہوری رویوں کی بالادستی کیلئے بارھا اقتدار ٹھکرانے ، بار بار جیلیں بھگتنے ، ماریں کھانے اور جانیں دینے والوں کو آپکا یہ طعنہ دینا نہیں بنتا ، الحمد للّٰہ ابھی تک تو کوئ ایسا پیدا نہیں ھوا جو سعد رفیق کو اپنی مرضی سے چلا سکے یا رکھ سکے
طنز ، دشنام اور الزام کے نشتر چلانا اور اپنے تئیں خبط ِ عظمت میں مبتلا ھو کر حقائق کے منافی باتیں کرنا بطور sadist آپکی فطرت ھے ۔آپ زیر بحث رھنے اور توجہ حاصل کرنے کیلئے ایسی حرکتیں عموماً کرتے رھتے ھیں سو آپ اسی کام پہ لگے رھیں ، ھم نے جو کہنا تھا کہ دیا ۔۔شاباش ۔۔۔ Admin
آواز ِ دروں —•-—
ایک دوسرے سے بات چیت کریں ،گفت و شنید جاری رکھیں ، مسائل حل کرنے کی نیت ھو تو راستہ ضرور نکلتا ھے
حکومتیں اور احتجاج کرنیوالے اناؤں ، ضدوں اور دھڑے بندیوں سے اوپر اٹھیں ،
یاد رھے آپ میں سے کوئ فاتح نہیں ھو گا کیونکہ سب ھار رھے بیں، پہل ھمیشہ ریاست کرتی ھے ،پہل کی جاۓ ۔!
جانی و مالی نقصانات سے بچا جاۓ ، ایک دوسرے کی عزت ِ نفس کو تار تار کرنا کم ظرفی ھے ، کوئ فخریہ کام نہیں
مہنگائ ، بیروزگاری ، ناانصافی اور دھشت گردی کی آگ میں جھُلسا ھوا پاکستان کراہ رھا ھے ، پُکار رھا ھے ، اسکی پُکار سنی جاۓ
عام آدمی پِس چُکا ھے ، اسے آپکے مباحثوں ، ملاکھڑوں ، الزامات ، دھینگا مشتی اور خدمات کا ڈھنڈورا پیٹنے سے کوئ دلچسپی نہیں ، جینا تقریباً ناممکن ھو چکا ،
بروقت علاج نہ کیا جاۓ تو رِ ستے ھوۓ زخم ناسور بن جاتے ھیں ، پھر ساری قوم دھائیوں تک اسکی قیمت ادا کرتی رہتی ھے
تاریخ لکھی جا رھی ھے ، اسے قید کیا جاسکتا ھے نہ روکا جاسکتا ھے ۔۔۔
لاعلاج زخم چھوڑ کر جانیوالے ھمیشہ تاریخ کے کٹہرے میں کھڑے رھتے ھیں
سول سوسائىٹی ، اھل ِ دل اور اھل ِ درد بیدار ھوں ،
( قومی بیداری اور اذان ِحق )کا تسلسل وقت کی ضرورت ھے ،
جو جہاں بھی ھے ، اپنی آواز بلند کرے ۔۔۔!!!
اسیری کے دوران ڈاکٹر یاسمین راشد نے تکیوں اور صوفہ کُشنز پر اپنے ہاتھوں سے مختلف رنگوں کے دھاگوں اور سوئی سے اس قدر خوبصورت کڑھائی کی کہ دیکھنے والے دنگ رہ گئے 76 سالہ ڈاکٹر یاسمین راشد نے اپنے اندر چھپی بہار کو جیل میں آزاد کر دیا اس بہار کے رنگوں اور خوشبو کو اب دنیا کی کوئی طاقت قید نہیں رکھ سکتی یہ بہار آزاد ہو چکی
https://t.co/ksVZARlxpf
میر صاحب مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں اتحاد کا بڑا فقدان ہے پھر سیاستدان ہوں میڈیا نمائندگان ہوں یا پھر عوام دوسرا یہاں ایسی عدالتیں بھی تو نہیں جو انصاف پر مبنی فیصلہ کر سکیں یہاں صرف اتحاد ایک جماعت میں دیکھا گیا ہے اور وہ ہے اسٹیبلشمنٹ
میڈیا کے ادارے متحد ہو جائیں تو حکمرانوں کے غرور کو خاک میں ملایا جا سکتا ہے ایک سپر پاور کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کچھ دن پہلے وائٹ ہاؤس میں بعض صحافیوں کا داخلہ بند کیا جس پر امریکا کے بڑے ٹی وی چینلز متحد ہو گئے اور انہوں نے ٹرمپ کی کوریج بند کر دی انہوں نے مل کر عدالت سے رجوع کیا اور عدالت نے ٹرمپ کا فیصلہ معطل کر کے ٹی وی چینلز پر پابندی ختم کر دی #JournalismNotACtime #PressFreedom
میڈیا کے ادارے متحد ہو جائیں تو حکمرانوں کے غرور کو خاک میں ملایا جا سکتا ہے ایک سپر پاور کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کچھ دن پہلے وائٹ ہاؤس میں بعض صحافیوں کا داخلہ بند کیا جس پر امریکا کے بڑے ٹی وی چینلز متحد ہو گئے اور انہوں نے ٹرمپ کی کوریج بند کر دی انہوں نے مل کر عدالت سے رجوع کیا اور عدالت نے ٹرمپ کا فیصلہ معطل کر کے ٹی وی چینلز پر پابندی ختم کر دی #JournalismNotACtime #PressFreedom
سیاسی، نظریاتی اور ذاتی اعتبار سے جواد احمد عمران خان سے ہزار گنا بہتر ہے کیونکہ اس نے کبھی اپنی بیٹی کو تسلیم کرنے سے انکار نہیں کیا، کبھی کسی کی گھر جا کر اُس کی بیوی اور پانچ بچوں کی ماں کو گمراہ کر کے اسے طلاق نہیں دلوائی، کبھی فوجی ڈکٹیٹروں ووٹ نہیں دیا، کبھی کسی جرنیل کو جمہوری نہیں کہا، کبھی جرنیلوں کے تلوے نہیں چاٹے۔۔۔ سو مجھے جواد احمد سے ملائے جانے پر کوئی مسئلہ نہیں، مجھے جواد احمد کو ذلیل کہنے اور خود کو فیملی کی موجودگی میں تحقیر کا نشانہ بنائے جانے پر اعتراض ہے۔ ایسے موقع پر تحمل اور برداشت کا مطلب ہے کہ آپ اس شخص کو یہ حوصلہ دے رہے ہیں کہ وہ آئندہ ائیرپورٹ پر ہر نظریاتی مخالف کو ذلیل کرے اور اُس کی دیکھا دیکھی ایئرپورٹس، گلیوں اور بازاروں میں لوگ دوسروں کو فیملیوں کے ساتھ گالیاں دیتے رہیں۔