Imran, a resident of Timergara, Lower Dir, has reportedly been imprisoned in Muscat, Oman, for the past 17 years. According to his family, his legal case has already been concluded, yet he remains behind bars in Ismail Jail. A video shared by our journalist friend Shabir from Buner highlights the pain and anguish of his elderly parents.
Our colleagues from ANP Buner, who are currently in Oman, are actively following this case. We urge @ForeignOfficePk and @PakinOman to intervene and make every possible effort to secure his release and reunite him with his family after nearly two decades.
الحمدللہ، پشاور کے علاقے پشتخرہ سے لاپتہ ہونے والی دونوں بچیاں ڈیرہ اسماعیل خان سے بحفاظت برآمد کرلی گئی ہیں۔
آپ سب کی دعاؤں، نیک تمناؤں اور پختونخوا پولیس کی تعاون کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ۔ اس سے بڑھ کر میرے لیے اور کیا خوشی ہوگی کہ عید سے قبل جو باپ ایک ویڈیو میں رو رو کر مجھ سے اپنی بچیوں کی بازیابی میں مدد کی اپیل کر رہا تھا، آج اُسی نے ہنستے ہوئے مجھے ٹیلی فون کیا۔
بے شک اللہ ہی بہترین انتظام کرنے والا ہے۔
الحمدللہ، بچی بازیاب ہوچکی ہے۔ اس جدوجہد میں آپ سب کی آواز، دعاؤں اور سوشل میڈیا کے مثبت اور ذمہ دارانہ استعمال نے انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ ہر اُس فرد کا شکریہ جس نے اس معصوم بچی کیلئے آواز بلند کی اور انسانیت کا ساتھ دیا۔
اب یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ مکمل، شفاف اور غیرجانبدار تحقیقات کریں کہ ایک معصوم بچی کس طرح سندھ تک پہنچی، اس پورے واقعے کے پیچھے کون لوگ تھے، اور کن عناصر نے اس جرم میں سہولت کاری یا معاونت کی۔
اس کیس میں جو بھی ملوث ہو، خواہ وہ کوئی بھی ہو، اسے قانون کے مطابق سخت سے سخت سزا ملنی چاہیے تاکہ آئندہ کسی معصوم بچے کو ایسے اذیت ناک حالات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
بچی معصوم تھی، اُس کیلئے کھڑا ہونا، آواز اٹھانا اور انصاف کا مطالبہ کرنا ہم سب کی اخلاقی، انسانی اور سماجی ذمہ داری تھی۔
شہید مولانا شیخ ادریس صاحب کے ساتھ نہایت ہی قریبی ذاتی تعلق اور قربت رہی۔ ہم ایک ساتھ حج اور عمرے کے ساتھی رہے۔ پھر میرے گاؤں اتمانزئی میں شیخ صاحب کے والدِ محترم کا باچا خان کے دکانوں میں کلینک تھا، اور باچا خان کے وقتوں سے لے کر اُن کے دادا محترم، جو اُس وقت دیوبند سے فارغ التحصیل تھے، تک ہمارے خاندانی مراسم نے ہمارے تعلق کو مزید مضبوط بنائے رکھا۔ پھر جب شیخ صاحب بطور امیدوار صوبائی اسمبلی ضمنی انتخابات میں میدان میں آئے، تب بھی ہمارے محبت اور خلوص کا یہ رشتہ اسی طرح قائم و دائم رہا اور رہبرتحریک اسفندیار ولی خان نے اُن کیلئے بذات خود کمپین چلائی۔
آج کا دن ذاتی تعلق سے بڑھ کر اس لیے بھی بھاری ہے کہ شیخ ادریس صاحب ایک قابلِ فخر پشتون عالمِ دین اور چارسدہ کی پہچان تھے۔ شیخ صاحب سمیت اُن تمام شہداء کے لیے اے این پی جو بھی کر سکتی ہے، وہ کرے گی، کیونکہ اے این پی اس سرزمین میں دہشت و وحشت کے خلاف اور امن کے حق میں اُٹھنے والی تحریک کا نام ہے۔
دکھ کی اس گھڑی میں شیخ صاحب کے خاندان، شاگردوں اور پارٹی کے ساتھ اے این پی اپنے آپ کو برابر کی شریک سمجھتی ہے۔ جمعیت علماء اسلام نے شیخ صاحب کی شہادت کے تناظر میں جو تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے، اے این پی بھی شیخ صاحب کی شہادت کے باعث تین روزہ سوگ کا اعلان کرتی ہے، کیونکہ شیخ ادریس صاحب کی شہادت صرف جمعیت علماء اسلام کے لیے نہیں بلکہ پوری قوم کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔
اٹھارہویں آئینی ترمیم کا 16 واں یوم تاسیس/ عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ایمل ولی خان کا پیغام
🔴 19 اپریل کا دن، پاکستان کی جمہوری تاریخ میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
🔴 یہ دن صرف ایک آئینی ترمیم کی یاد نہیں بلکہ ایک طویل جدوجہد، قربانیوں اور پختہ عزم کی علامت ہے،
🔴 آج کے دن صوبوں کو اُن کے حقوق، اختیار اور پختونخوا کو شناخت ملی۔
🔴 آج کے دن رہبرِ تحریک اسفندیار ولی خان اور ان کے ساتھیوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں،
🔴 اسفندیار ولی خان کی قیادت، بصیرت اور سیاسی جدوجہد نے اس تاریخی آئینی پیشرفت کو ممکن بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
🔴 اُن کے ساتھ ساتھ ہم اُن گیارہ ممبرانِ پارلیمنٹ کو بھی سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے اس تاریخی ترمیم کی منظوری میں عملی کردار ادا کیا،
🔴 یہ دراصل اُس فکر و فلسفے کی عملی تعبیر ہے جو ہمیں باچا خان اور خان عبدالولی خان سے ورثے میں ملا۔
🔴 اٹھارویں آئینی ترمیم کے ذریعے نہ صرف پاکستان کے وفاقی ڈھانچے کو مضبوط بنایا گیا بلکہ صوبوں کو اُن کے وسائل اور فیصلوں پر اختیار دے کر دیرینہ محرومیوں کا ازالہ کیا گیا۔
🔴 یہ وہی خواب تھا جس کے لیے باچا خان، ولی خان اور خدائی خدمتگاروں نے ساری زندگی جدوجہد کی،
🔴 ہمارا دیرینہ مطالبہ تھا کہ وسائل پر پہلا حق اُن لوگوں کا ہو جو اس سرزمین کے اصل وارث ہیں۔
🔴 اسی جدوجہد کا ایک اہم سنگِ میل صوبہ سرحد کا نام تبدیل کرکے خیبر پختونخوا رکھنا ہے،
🔴 ہم اس موقع پر اپنے اُن تمام شہداء کو بھی خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے اس سرزمین پر امن کے قیام کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
🔴 ہمارے ہزاروں کارکنان، رہنما اور اُن کے خاندان اس جدوجہد کی قیمت ادا کر چکے ہیں۔
🔴 اے این پی کارکنان کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ عوامی نیشنل پارٹی نے کبھی بھی امن، جمہوریت اور آئینی بالادستی پر سمجھوتہ نہیں کیا۔
🔴 آج بھی ہم اسی عزم کے ساتھ یہ اعادہ کرتے ہیں کہ ہم اپنے اکابرین کے مشن کو جاری رکھیں گے،
🔴 ہم ایک ایسا پاکستان چاہتے ہیں جہاں صوبے مضبوط ہوں، وسائل پر عوام کا حق ہو، اور ہر شہری کو امن، تعلیم اور ترقی کے یکساں مواقع میسر ہوں۔
🔴 ہم آج بھی یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اٹھارویں آئینی ترمیم پر کسی بھی قسم کا حملہ دراصل وفاق پر حملہ ہوگا،
🔴 اے این پی اٹھارویں تررمیم کے دفاع کے لیے ہر آئینی، جمہوری اور سیاسی محاذ پر بھرپور کردار ادا کرے گی۔
🔴 یہ دن ہمیں نہ صرف اپنی کامیابیوں کی یاد دلاتا ہے بلکہ یہ عہد بھی دلاتا ہے کہ ہم اس جدوجہد کو مزید مضبوطی اور تسلسل کے ساتھ آگے بڑھائیں گے۔
#ANP | #AimalWaliKhan | #جشن_پختونخوا
اٹھارہویں آئینی ترمیم کا 16 واں یوم تاسیس/ عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ایمل ولی خان کا پیغام
🔴 19 اپریل کا دن، پاکستان کی جمہوری تاریخ میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
🔴 یہ دن صرف ایک آئینی ترمیم کی یاد نہیں بلکہ ایک طویل جدوجہد، قربانیوں اور پختہ عزم کی علامت ہے،
🔴 آج کے دن صوبوں کو اُن کے حقوق، اختیار اور پختونخوا کو شناخت ملی۔
🔴 آج کے دن رہبرِ تحریک اسفندیار ولی خان اور ان کے ساتھیوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں،
🔴 اسفندیار ولی خان کی قیادت، بصیرت اور سیاسی جدوجہد نے اس تاریخی آئینی پیشرفت کو ممکن بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
🔴 اُن کے ساتھ ساتھ ہم اُن گیارہ ممبرانِ پارلیمنٹ کو بھی سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے اس تاریخی ترمیم کی منظوری میں عملی کردار ادا کیا،
🔴 یہ دراصل اُس فکر و فلسفے کی عملی تعبیر ہے جو ہمیں باچا خان اور خان عبدالولی خان سے ورثے میں ملا۔
🔴 اٹھارویں آئینی ترمیم کے ذریعے نہ صرف پاکستان کے وفاقی ڈھانچے کو مضبوط بنایا گیا بلکہ صوبوں کو اُن کے وسائل اور فیصلوں پر اختیار دے کر دیرینہ محرومیوں کا ازالہ کیا گیا۔
🔴 یہ وہی خواب تھا جس کے لیے باچا خان، ولی خان اور خدائی خدمتگاروں نے ساری زندگی جدوجہد کی،
🔴 ہمارا دیرینہ مطالبہ تھا کہ وسائل پر پہلا حق اُن لوگوں کا ہو جو اس سرزمین کے اصل وارث ہیں۔
🔴 اسی جدوجہد کا ایک اہم سنگِ میل صوبہ سرحد کا نام تبدیل کرکے خیبر پختونخوا رکھنا ہے،
🔴 ہم اس موقع پر اپنے اُن تمام شہداء کو بھی خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے اس سرزمین پر امن کے قیام کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
🔴 ہمارے ہزاروں کارکنان، رہنما اور اُن کے خاندان اس جدوجہد کی قیمت ادا کر چکے ہیں۔
🔴 اے این پی کارکنان کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ عوامی نیشنل پارٹی نے کبھی بھی امن، جمہوریت اور آئینی بالادستی پر سمجھوتہ نہیں کیا۔
🔴 آج بھی ہم اسی عزم کے ساتھ یہ اعادہ کرتے ہیں کہ ہم اپنے اکابرین کے مشن کو جاری رکھیں گے،
🔴 ہم ایک ایسا پاکستان چاہتے ہیں جہاں صوبے مضبوط ہوں، وسائل پر عوام کا حق ہو، اور ہر شہری کو امن، تعلیم اور ترقی کے یکساں مواقع میسر ہوں۔
🔴 ہم آج بھی یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اٹھارویں آئینی ترمیم پر کسی بھی قسم کا حملہ دراصل وفاق پر حملہ ہوگا،
🔴 اے این پی اٹھارویں تررمیم کے دفاع کے لیے ہر آئینی، جمہوری اور سیاسی محاذ پر بھرپور کردار ادا کرے گی۔
🔴 یہ دن ہمیں نہ صرف اپنی کامیابیوں کی یاد دلاتا ہے بلکہ یہ عہد بھی دلاتا ہے کہ ہم اس جدوجہد کو مزید مضبوطی اور تسلسل کے ساتھ آگے بڑھائیں گے۔
#ANP | #AimalWaliKhan | #جشن_پختونخوا
اٹھارہویں آئینی ترمیم کا 16 واں یوم تاسیس/ عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ایمل ولی خان کا پیغام
🔴 19 اپریل کا دن، پاکستان کی جمہوری تاریخ میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
🔴 یہ دن صرف ایک آئینی ترمیم کی یاد نہیں بلکہ ایک طویل جدوجہد، قربانیوں اور پختہ عزم کی علامت ہے،
🔴 آج کے دن صوبوں کو اُن کے حقوق، اختیار اور پختونخوا کو شناخت ملی۔
🔴 آج کے دن رہبرِ تحریک اسفندیار ولی خان اور ان کے ساتھیوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں،
🔴 اسفندیار ولی خان کی قیادت، بصیرت اور سیاسی جدوجہد نے اس تاریخی آئینی پیشرفت کو ممکن بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
🔴 اُن کے ساتھ ساتھ ہم اُن گیارہ ممبرانِ پارلیمنٹ کو بھی سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے اس تاریخی ترمیم کی منظوری میں عملی کردار ادا کیا،
🔴 یہ دراصل اُس فکر و فلسفے کی عملی تعبیر ہے جو ہمیں باچا خان اور خان عبدالولی خان سے ورثے میں ملا۔
🔴 اٹھارویں آئینی ترمیم کے ذریعے نہ صرف پاکستان کے وفاقی ڈھانچے کو مضبوط بنایا گیا بلکہ صوبوں کو اُن کے وسائل اور فیصلوں پر اختیار دے کر دیرینہ محرومیوں کا ازالہ کیا گیا۔
🔴 یہ وہی خواب تھا جس کے لیے باچا خان، ولی خان اور خدائی خدمتگاروں نے ساری زندگی جدوجہد کی،
🔴 ہمارا دیرینہ مطالبہ تھا کہ وسائل پر پہلا حق اُن لوگوں کا ہو جو اس سرزمین کے اصل وارث ہیں۔
🔴 اسی جدوجہد کا ایک اہم سنگِ میل صوبہ سرحد کا نام تبدیل کرکے خیبر پختونخوا رکھنا ہے،
🔴 ہم اس موقع پر اپنے اُن تمام شہداء کو بھی خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے اس سرزمین پر امن کے قیام کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
🔴 ہمارے ہزاروں کارکنان، رہنما اور اُن کے خاندان اس جدوجہد کی قیمت ادا کر چکے ہیں۔
🔴 اے این پی کارکنان کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ عوامی نیشنل پارٹی نے کبھی بھی امن، جمہوریت اور آئینی بالادستی پر سمجھوتہ نہیں کیا۔
🔴 آج بھی ہم اسی عزم کے ساتھ یہ اعادہ کرتے ہیں کہ ہم اپنے اکابرین کے مشن کو جاری رکھیں گے،
🔴 ہم ایک ایسا پاکستان چاہتے ہیں جہاں صوبے مضبوط ہوں، وسائل پر عوام کا حق ہو، اور ہر شہری کو امن، تعلیم اور ترقی کے یکساں مواقع میسر ہوں۔
🔴 ہم آج بھی یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اٹھارویں آئینی ترمیم پر کسی بھی قسم کا حملہ دراصل وفاق پر حملہ ہوگا،
🔴 اے این پی اٹھارویں تررمیم کے دفاع کے لیے ہر آئینی، جمہوری اور سیاسی محاذ پر بھرپور کردار ادا کرے گی۔
🔴 یہ دن ہمیں نہ صرف اپنی کامیابیوں کی یاد دلاتا ہے بلکہ یہ عہد بھی دلاتا ہے کہ ہم اس جدوجہد کو مزید مضبوطی اور تسلسل کے ساتھ آگے بڑھائیں گے۔
@AimalWali
اے این پی نے حمایت اللہ مایار کے شوکاز نوٹس کا معاملہ نمٹا دیا
🟥اے این پی کی ڈسپلنری کمیٹی نے مرکزی صدر اے این پی سینیٹر ایمل ولی خان کی سربراہی میں سابق میئر مردان و ممبر مرکزی ورکنگ کمیٹی حمایت اللہ مایار کے جواب پر اطمینان کا اظہار کیا
🟥حمایت اللہ مایار نے اپنے جواب میں دوسری تنظیم چھوڑنے کا اعلان کیا
🟥حمایت اللہ مایار نے واضح کیا کہ وہ باچا خان کے پیروکار ہیں اور پختون قومی وحدت پر یقین رکھتے ہیں
🟥اے این پی کسی بھی فلاحی تنظیم کے خلاف نہیں، البتہ پختون قومی وحدت کو نقصان پہنچنے کے خدشے کے پیشِ نظر یہ اقدام اٹھایا گیا، ترجمان اے این پی
🟥اے این پی تمام پختون قبائل کو اپنا قبیلہ سمجھتی ہے، کسی کو بھی پختونوں کے درمیان نفاق ڈالنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، انجینئر احسان اللہ
🟥یہ اے این پی ہی تھی جس نے اپنے دورِ حکومت میں پختون ہیروز کی قبروں کو نہ صرف دریافت کیا بلکہ انہیں تاریخی طور پر محفوظ بھی بنایا۔
🟥باچا خان کے علاوہ گجو خان میڈیکل کالج اور دیگر کئی منصوبے پشتون مشاہیر کے نام پر پایۂ تکمیل تک پہنچائے گئے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اے این پی کے لیے تمام پشتون مشاہیر و قبیلے قابلِ عزت و تکریم ہیں۔
#ANP | #AimalWaliKhan
آج 19 اپریل، اٹھارویں آئینی ترمیم کا دن، پاکستان کی جمہوری تاریخ میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ دن صرف ایک آئینی ترمیم کی یاد نہیں بلکہ ایک طویل جدوجہد، قربانیوں اور پختہ عزم کی علامت ہے، جس کے ذریعے صوبوں کو اُن کے حقوق، اختیار اور پختونخوا کو شناخت ملی۔
ہم آج اس موقع پر اپنے رہبرِ تحریک اسفندیار ولی خان کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں، جن کی قیادت، بصیرت اور سیاسی جدوجہد نے اس تاریخی آئینی پیشرفت کو ممکن بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اُن کے ساتھ ساتھ ہم اُن گیارہ ممبرانِ پارلیمنٹ کو بھی سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے اس تاریخی ترمیم کی منظوری میں عملی کردار ادا کیا اور پاکستان کے وفاقی ڈھانچے کو مضبوط بنیادوں پر استوار کیا۔
یہ دراصل اُس فکر و فلسفے کی عملی تعبیر ہے جو ہمیں باچا خان اور خان عبدالولی خان سے ورثے میں ملا۔
اٹھارویں آئینی ترمیم کے ذریعے نہ صرف پاکستان کے وفاقی ڈھانچے کو مضبوط بنایا گیا بلکہ صوبوں کو اُن کے وسائل اور فیصلوں پر اختیار دے کر دیرینہ محرومیوں کا ازالہ کیا گیا۔ یہ وہی خواب تھا جس کے لیے باچا خان، ولی خان اور خدائی خدمتگاروں نے ساری زندگی جدوجہد کی کہ وسائل پر پہلا حق اُن لوگوں کا ہو جو اس سرزمین کے اصل وارث ہیں۔
اسی جدوجہد کا ایک اہم سنگِ میل صوبہ سرحد کا نام تبدیل کرکے خیبر پختونخوا رکھنا ہے، جو پختونوں کی شناخت، تاریخ اور قربانیوں کا عملی اعتراف ہے۔ یہ کامیابیاں ایک پوری تحریک کے کارکنان کی قربانیوں کا نتیجہ ہیں۔
ہم اس موقع پر اپنے اُن تمام شہداء کو بھی خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے اس سرزمین پر امن کے قیام کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ہمارے ہزاروں کارکنان، رہنما اور اُن کے خاندان اس جدوجہد کی قیمت ادا کر چکے ہیں۔ یہ قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ عوامی نیشنل پارٹی نے کبھی بھی امن، جمہوریت اور آئینی بالادستی پر سمجھوتہ نہیں کیا۔
آج بھی ہم اسی عزم کے ساتھ یہ اعادہ کرتے ہیں کہ ہم اپنے اکابرین کے مشن کو جاری رکھیں گے ایک ایسا پاکستان جہاں صوبے مضبوط ہوں، وسائل پر عوام کا حق ہو، اور ہر شہری کو امن، تعلیم اور ترقی کے یکساں مواقع میسر ہوں۔
ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اٹھارویں آئینی ترمیم پر کسی بھی قسم کا حملہ دراصل وفاق پر حملہ ہوگا، اور عوامی نیشنل پارٹی اس کے دفاع کے لیے ہر آئینی، جمہوری اور سیاسی محاذ پر بھرپور کردار ادا کرے گی۔
یہ دن ہمیں نہ صرف اپنی کامیابیوں کی یاد دلاتا ہے بلکہ یہ عہد بھی دلاتا ہے کہ ہم اس جدوجہد کو مزید مضبوطی اور تسلسل کے ساتھ آگے بڑھائیں گے۔
#جشن_پختونخوا #18thAmendment
Pakistan has once again proved that if it puts its heart into something, the sky is the limit. Heartiest felicitations to PM @CMShehbaz, DPM @MIshaqDar50, and Field Marshal Asim Munir for their efforts in bringing about peace. I urge them to apply the same dedication and clarity of purpose toward achieving peace and economic prosperity for the country in general, and Pukhtunkhwa in particular. Only a peaceful, prosperous Pakistan can attain its rightful place on the world stage in the truest sense.
پاکستان نے ثابت کر دیا کہ اگر ہم نیک نیتی سے کام کریں تو آخری حد آسمانوں سے بھی بڑھ کرہے۔ وزیر اعظم @CMShehbaz ، نائب وزیر اعظم @MIshaqDar50 اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو امن کی کاوشوں پر صدق دل سے مبارک باد۔ اب اسی نیک نیتی اور تندہی سے ملک کے اندر بالعموم اور پختونخوا میں بالخصوص، امن قائم کرنے اور معاشی ترقی کے لئے کام کیا جانا چاہیئے۔ اگر ہم اندر سے مظبوط ہوں گے تب ہی اقوام عالم میں حقیقی طور سے اپنا مقام حاصل کر سکیں گے۔
With the greatest humility, I am pleased to announce that the Islamic Republic of Iran and the United States of America, along with their allies, have agreed to an immediate ceasefire everywhere including Lebanon and elsewhere, EFFECTIVE IMMEDIATELY.
I warmly welcome the sagacious gesture and extend deepest gratitude to the leadership of both the countries and invite their delegations to Islamabad on Friday, 10th April 2026, to further negotiate for a conclusive agreement to settle all disputes.
Both parties have displayed remarkable wisdom and understanding and have remained constructively engaged in furthering the cause of peace and stability. We earnestly hope, that the ‘Islamabad Talks’ succeed in achieving sustainable peace and wish to share more good news in coming days!
@realDonaldTrump@JDVance@SecRubio@SteveWitkoff@SEPeaceMissions@drpezeshkian@mb_ghalibaf@araghchi