1971 میں، جب عمران خان 18 سال کے تھے، تو ملکہ الزبتھ عمران خان کو برطانیہ میں کھیلتا دیکھنے کے لیے کرکٹ اسٹیڈیم آئیں۔ اس وقت عاصم منیر تین سال کا تھا اور ڈھیری حسن آباد، راولپنڈی میں لنگوٹ میں پڑے رہتا تھا۔
50 سال پہلے عمران خان دنیا میں پاکستان کی ایک پہچان بن چکے تھے، جو آج بھی برقرار ہے اور آئندہ بھی قائم رہے گی۔ ایسی چھوٹی حرکتوں سے عمران خان کا نام مزید بلند ہوگا، جبکہ عاصم منیر کا نام مزید گٹر کی گہرائی میں گرتا جائے گا۔
🚨مفتی صاحب عمران خان کے سخت مخالف . پارٹی کا سیاسی لیڈر بھی بول پڑے ہیں عمران خان کے ساتھ اور قوم کے ساتھ انتہائی ظلم ہو رہا ہے
جس طرح اللہ سے ڈرنے والے کے معاملات آسان ہو جاتے ہیں، اسی طرح تقویٰ چھوڑنے والے کے معاملات مشکل ہو جاتے ہیں۔ ❤️👍💯
میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں فوج تو شوکت خانم ہسپتال بھی ایک دن ہتھیا کے اسکا نام تبدیل کرنا چاہتی ہے فوج عمران خان کا نام مٹانا چاہتی ہے لیکن نہیں جانتی عمران خان ان کتبوں کا مح��اج نہیں
مولوی صاحب نے حق ادا کردیا!!
مریدکے سے پہلے 26 نومبر کو سانحہِ ڈی چوک ہؤا تو سارے خاموش تھے, کاش اسوقت سب لوگ ایک ہوجاتے, تو سانحہِ مریدکے نا ہوتا, سانحہِ راولاکوٹ نا ہوتا!!
خاموش تماشائی مت بنے, آج آپکے ہمسائے کے ساتھ تو کل آپکے ساتھ ظلم ہوگا!!
میزان بینک نے مجھے فون پر اطلاع دی ہے کہ صدرِ پاکستان کے سیکریٹریٹ کے 18 مارچ 2026 کے حتمی فیصلے پر عملدرآمد کرنے کے بجائے، صرف Rs. 216,000 کی رقم واپس نہ کرنے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔
میرا سوال صرف اتنا ہے کہ ایک عام پاکستانی آخر صرف Rs. 216,000 کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں وکیل کیسے کرے؟ مقدمے کے اخراجات کہاں سے لائے؟
میں دو سال سے زیادہ ہر قانونی فورم پر گیا۔ Meezan Bank نے میری شکایت مسترد کی، پھر Banking Mohtasib گیا، وہاں سے بھی ریلیف نہ ملا۔ اس کے بعد میں نے صدرِ پاکستان کے سیکریٹریٹ سے رجوع کیا، جہاں باقاعدہ سماعت ہوئی۔ میں بغیر کسی وکیل کے خود پیش ہوا، جبکہ Meezan Bank کی جانب سے ان کا وکیل پیش ہوا۔ دونوں فریقین کو سننے کے بعد میرے حق میں فیصلہ آیا اور بینک کو Rs. 216,000 واپس کرنے کا حکم دیا گیا۔
لیکن کئی ماہ گزر جانے کے باوجود فیصلے پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ میں نے ای میلز لکھیں، برانچ گیا، SBP Sunwai پر شکایت کی، دوبارہ Banking Mohtasib سے رجوع کیا، مگر نتیجہ صفر رہا۔ پہلے کہا گیا معاملہ Senior Management کے پاس ہے، اور اب بتایا جا رہا ہے کہ فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔
کیا ایک عام شہری کو انصاف حاصل کرنے کے لیے ہر دروازہ کھٹکھٹانے کے بعد بھی نئی قانونی جنگیں ہی لڑنی ہوں گی؟ اگر ایک حتمی فیصلہ بھی عام شہری کو ریلیف نہ دے سکے، تو پھر انصاف آخر کہاں ملے گا ۔
پنجاب پولیس کا نیا کارنامہ!!
ایک PhD پروفیسر ڈاکٹر کو گریبان سے پکڑا ہؤا ہے, ڈاکٹر کہہ رہا ہے میں ایک PhD پروفیشنل ڈاکٹر ہوں مجھے چھوڑ دے, آگے سے پولیس والا ویڈیو بنانے والے کو تن دی��ا ہے!!
یاد رہے پنجاب پولیس کرپٹ ترین پولیس ہے
"اگر عافیہ صدیقی کو قانون کے مطابق سزا ہوئی ہے تو میں عافیہ کو ملنے والی سزا کو غلط نہیں کہہ سکتا۔ قانون سب کے لئے برابر ہونا چاہیئے" -
اسحاق ڈار
کیا اب اسحاق ڈار اپن�� نواسے کو "قانون کے تحت" سزا ہونے دیں گے؟