العجب دنیا والو
قارئین
اگر آپ تحمل سے ایک بات کا جواب دیں تو عرض کروں ۔
ذرا ٹھنڈے دل سے بتایے ،
دنیا کے جتنے ممالک ہیں ، اُن کی اپنے نظریات ہیں ۔ سردست اگر اسلامی ممالک کو لیں تو اِن میں اکثریت سُنی ممالک کی ہے ، قوانین ، نظریات ، افکار ، اُن کی معاشی ، سیاسی ، سماجی، تجارتی اور اخلاقی ترجیحات اپنے مفادات میں ہیں ۔ اُن کے اپنے حلیف ہیں ۔ اپنے حریف ہیں۔
اہلِ سُنت جسے سوادِ اعظم کہا جاتا ہے ،اُن کی ہمدردیاں زیادہ تر سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ، قطر، عمان ، شام ، افغانستان اور ترکی کے ساتھ ہیں ۔
لبرلز اور ملحدین کی اخلاقی اور انسانی سطح کی ہمدردیاں زیادہ تر مغربی اور امریکی نظریات کے زیرِ اثر ہیں ۔ یہ اُن کا حق ہے ۔ جیسا وہ معاشرے کو دیکھنا چاہتے ہیں مغربی ، امریکی ، اور اسرائیلی معاشرے اُس کے قریب تر ہیں ۔
اکثر اہلِ سنت چاہتے ہیں سعودی عرب مکہ اور مدینہ کی وجہ سے اہلِ مغرب اور امریکہ کے زیرِ اثر نہ آئے ۔نہ ہی وہاں پر مذہبی تقدس پامال ہو ۔
مَیں اِس معاملے میں اُن کے ساتھ ہوں ۔
لیکن کیا یہ حق شیعہ کمیونٹی کو نہیں دیا جا سکتا کہ جو اُن کے آئمہ کی سرزمین رہی ہے شیعہ اُس زمین کے لیے نصرت کی دعا کریں ، اُس سے محبت رکھیں ۔ وہاں امریکی ، یورپی ، اسرائیلی اور مادرپدر آزاد لبرلز نظریات قوتوں کو شکست ہو ۔
مَیں پوچھنا چاہتا ہوں آخر شیعہ کو عراق ، ایران اورحجاز کی سلامتی کے لیے اپنے خیالات کے اظہار کی کیوں اجازت نہیں ؟
جہاں تک ایران کی پراکسی کا معاملہ ہے تو مجھے سمجھایے جب آپ کو دشمن چاروں طرف سے گھیرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو کیا آپ اپنے گرد مضبوط حصار بنانے کا حق نہیں رکھتے ؟ آپ کو امریکہ ، چین ، سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ، پاکستان ،روس اور یورپ کی پراکسی پر اعتراض نہیں ۔ اُن قوانین پر اعتراض نہیں جس کے تحت امریکہ جب اور جس ملک پر چاہے معاشی پابندیاں لگا دے ۔ حملہ کر کے انسانی آبادی کو بے دریغ قتل کر دے ۔
آپ کو دنیا کے ہر گوشے میں جہاد پھیلانے پر اعتراض نہیں ، آپ کو پوری دنیا میں اپنی فوجیں رکھنے پر اعتراض نہیں ۔ آپ کو دیوارِگریہ پر اعتراض نہیں ۔ لاکھوں انسانوں کے بے گناہ قتل پر اعتراض نہیں ، سوڈان ، صومالیہ ، یمن ، عراق افغانستان اور ایران پر جنگیں مسلط کر کے وہاں لاکھوں انسانون کے قتل اور تباہی پر اعتراض نہیں، جاپان پر ایٹمی بم گرائے جانے پر اعتراض نہیں ۔ عورتوں کو تعلیم کی سہولیات کی نایابی ، ریپ ، اور انسانی آبادی کو جبراً اُن کے ملکوں سے نکالنے پر اعتراض نہیں ۔ پاکستان اور دنیا کے تمام اسلامی ملکوں میں وہابی اور داعش جیسی خونخوار تحریکیں پھیلانے پر اعتراض نہیں ۔ ہاں شاید عورت کے سر پر ایک چھوٹے سے کپڑا رکھنے پر اعتراض ہے، کیونکہ یہ اُن تمام عوامل اور قتل و غارت گری سے زیادہ بڑا جرم ہے ۔
شاید یہ بھی اعتراض نہیں ، اصل میں علیؑ اور اولادِ علیؑ کا نام لینے پر اعتراض ہے ۔ صرف اُس ایک ملک پر اعتراض ہے جہاں مسجدوں میں علی ولی اللہ کی آذان ہوتی ہے ۔ یہاں آپ مُلا ازم ، کٹر مذہبی ، جمہوریت کی پامالی ، معاشی جبر ، روشن خیال دشمنی ، انسانی جبر ، یعنی ہر وہ لعنت جس کے سرچشمے آپ کے پسندیدہ ممالک ہیں اور بھرپور ہیں وہ سب کے سب آپ صرف ایک ملک پر تھوپ دو ، کیونکہ اُسے شیعہ ہونے کی سزا دینا ہے۔
آخر ہم اُسے یہ حق دیتے ہوئے کیوں گھبراتے ہیں کہ وہ اپنے ملک میں جیسے چاہے رہیں جس طرح چاہے اُسے چلائے ۔ آپ کیوں اتنے ممالک کو چھوڑ کر صرف ایران کی آزادی کے مامے بنتے ہیں؟
آخر آپ کو اسرائیل کے کٹھ ملا کیوں نظر نہیں آتے جو بچوں کے قتل پر بھی بھنگڑے ڈالتے ہیں ۔ آخر آپ کو امریکہ اور اسرائیل اور یورپ کی دوغلی پالیسی دیکھنے کے لیے کون سی عینک لگتی ہے ۔ آپ کو کیوں بیمار ہیں ،صرف شیعہ نام سے آپ کی بیماری میں اضافہ کیوں ہوتا ہے ْ۔
مَیں ایسے لبرلز اور ملحدین کے ساتھ بیٹھ کر گفتگو کرنے کو تیار ہوں جنھیں دنیا کی آزادی سلب کرنے پر ایران سے شکایت ہے ۔ مگر اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے دوسرے انسان کی آزادی سلب کرنے میں لذت محسوس کرتے ہیں ۔ خدا اور رسول اور آئمہ کے بارے میں ناسزا الفاظ ادا کر کے کروڑوں انسانوں کی دل آزاری کرنے میں نہیں ہچکچاتے ۔ یہ ایسی عدالت ہیں جنھوں نے خود ہی فیصلہ کر کے طے کر دیا ہے کہ یہ چند لوگ جو شراب پی کر مثانے سے سوچتے ہیں یہی دراصل دانشور ہیں ، یہی دنیا اور کائنات کو سمجھتے ہیں ۔ باقی ۹۹ فیصد لوگ پاگل اور جاہل ہیں ۔ بخدا یہ لوگ اتنے بڑے چغد ہیں کہ یہ دو منٹ مکالمہ نہیں کر سکتے ۔ اِنھیں معلوم ہے ۔ یہ اُس شے کے پیچھے بھاگتے ہیں جو اِن کے ہاتھ نہیں آ سکتی اور اُس عزت کے خواہاں ہیں ،خدا کی قسم جس میں اِن کا کوئی حصہ نہیں ۔ یہ وہ کوتاہ بازو اور تنگ ماتھے والے ہیں جہاں ایک چیونٹی کی بھی سانس گھُٹتی ہے ۔
The US President who judges arrogantly about the whole world should know that tyrants & arrogant rulers of the world, such as Pharaoh, Nimrod, Mohammad Reza [Pahlavi] & other such rulers saw their downfall when they were at the peak of their hubris. He too will fall.
عالمی منظرنامہ دیکھیں تو فلسطینیوں کی مزاحمت کا واحد سہارا شیعہ، عراق میں امریکی مفادات کو زک پہنچانے والے شیعہ،
لبنان سے صیہونیوں کو مار بھگانے والے شیعہ، اسرائیل جانے والی امدادی کشتیوں کا راستہ روکنے والے یمنی شیعہ۔
خلاصہ دنیا بھر میں مظلومین امت کی حمایت اور ظالموں اور مستکبرین کے خلاف قیام کرنے والے شیعہ ہیں، شیعہ مزاحمت اور وفا کا استعارہ ہیں لیکن انہی شیعوں کے ساتھ جب پاکستان میں اتحاد کی بات سامنے آئے تو اسلام کے ٹھیکیداروں کو اس میں فرقہ وارانہ پہلو نظر آجاتا ہے۔ مسئلہ فرقہ واریت کا نہیں؛ ان ٹھیکیداروں کی دکان داری کا ہے ورنہ شیعہ امت مسلمہ کا درخشاں چہرہ اور ملت اسلامیہ کا توانا بازو ہیں۔
@mehdi_tayebii سید علی خامنهای رهبر من و ما است
سید علی خامنهای رهبر من و ما است
سید علی خامنهای رهبر من و ما است
سید علی خامنهای رهبر من و ما است
سید علی خامنهای رهبر من و ما است
سید علی خامنهای رهبر من و ما است
@fawadchaudhry فواد صاحب اہل تشیع پہ اتنا غصہ کیوں کر رہے ، قائداعظم کو آپ جیسے یزیدی کافراعظم کہتے رہے اب کہہ رہے کہ انکا کوئی کردار نہیں تھا ، پنجابیوں نے کیا تھا سوائے انگریزوں کے کتے نہلانے کے انگریزوں کے اٹھانے کے ۔ آپ اپنی مثال لے لیں بیوی تک پیش کردی اپنی جان بچانے کیلئے ، لعنت قبول کریں
@Virk1192 وہ تو سید ہے تو قادیانی تو نہیں ہو آل رسول ص کے خلاف وہی بکواسیات کر سکتے ہیں، نطفے حرام کے۔ تو اس شخصیت واحد کے خلاف بھونک بیشک لیکن اس کی نسبت پہ نہ بھونکنا کتے
@mansoorcomics بھائی یہ کہاں پہ ہوتا ہے ہمارے ہاں تو یہ سارے کام دولھے والے کرتے ہیں بارات کے دن اور مہندی کی رات دولہن کی فیملی کے ہاں کھانا بھیجا جاتا ہے جو کہ بہت زیادہ ہوتا ہے
@shafqatmm1 Shafaq Ibn e yazid . Hazrat umer k betay Abdullah bin umer ny khud bayat bhe ki thee and Imam Hussain a.s ko bhe kaha tha aur beshumar sahaba zinda thy sb ny yazid ki bayat ki thee ghatya Insan