"دھوپ کنارے" جب محبت میں شرم تھی، اور رشتوں میں وقار
کچھ عرصہ پہلے کسی نے مجھ سے کہا: "اگر تم آج کے ڈراموں پر اتنی تنقید کرتی ہو تو ایک بار دھوپ کنارے دیکھ لو۔"
میں نے سوچا، پرانا ڈرامہ ہے، شاید لوگ صرف پرانی یادوں کے سہارے اس کی تعریف کرتے ہوں گے۔ مگر جب دیکھا تو احساس ہوا کہ مسئلہ صرف "پرانا" یا "نیا" ہونے کا نہیں، مسئلہ فکر، تہذیب اور ذوق کا ہے۔
"دھوپ کنارے" میں محبت تھی، مگر چیخ و پکار نہیں تھی۔
جذبہ تھا، مگر بے حیائی نہیں تھی۔
رشتے تھے، مگر سازشوں اور ناجائز تعلقات کی آلودگی سے پاک تھے۔
آج کے بہت سے ڈرامے دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے مصنفین نے یہ طے کر لیا ہو کہ اگر ایک قسط میں دو ناجائز تعلقات، تین خاندانی سازشیں اور چار اخلاقی تباہیاں نہ ہوں تو شاید ریٹنگ نہ آئے۔ 🤦♀️
جبکہ "دھوپ کنارے" خاموشی سے یہ ثابت کرتا ہے کہ ایک لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے سے محبت بھی کر سکتے ہیں، احترام بھی برقرار رکھ سکتے ہیں اور ناظرین کو شرمندہ کیے بغیر ایک خوبصورت کہانی بھی سنائی جا سکتی ہے۔
اس ڈرامے کے مکالموں میں وہ مٹھاس ہے جو آج کل کے کئی ڈراموں میں چیخنے چلانے کے باوجود پیدا نہیں ہوتی۔
آج کل اکثر ڈرامے دیکھ کر لگتا ہے کہ خاندان نام کی چیز صرف وراثت کے جھگڑے، دوسری شادی، خفیہ عشق اور سازشوں کے لیے ایجاد ہوئی تھی۔ 😅
جبکہ "دھوپ کنارے" یاد دلاتا ہے کہ خاندان محبت، شفقت، احترام اور برداشت کا نام بھی ہوتا ہے۔
شاید اسی لیے دہائیاں گزر جانے کے باوجود لوگ آج بھی "دھوپ کنارے" کو یاد کرتے ہیں، جبکہ آج کے کئی سپر ہٹ ڈرامے ختم ہونے کے چند ماہ بعد ہی یادداشت سے محو ہو جاتے ہیں۔
فرق صرف اتنا ہے کہ اُس دور کے لکھاری انسان کو بہتر بنانا چاہتے تھے، اور آج کے بہت سے لکھاری صرف مصروف رکھنا چاہتے ہیں۔
"دھوپ کنارے" دیکھ کر احساس ہوا کہ اچھا ادب، اچھی محبت اور اچھے کردار کبھی پرانے نہیں ہوتے؛ پرانا صرف وہ ذوق ہوتا ہے جو انہیں سمجھنے سے محروم ہو جائے۔
ایک ن لیگی ورکر کو سنیں
لوگ کہتے ہیں عمران خان نے کیا کیا ہے ؟ میں ن لیگ کا پکا سپورٹر ہوں آپ کو پہلے بھی بتا چکاُہوں لیکن ایک بات کو ماننے کے لئیے ہمیں تیار ہونا چاہیے نا
“ اس نے لرونا میں ہمیں زندہ رکھا ہے کیا یہ کم ہے ؟ تین سال اس کی حکومت رہی جس میں دو سال کرونا رہا ہے “
یہ دو منٹ چونتیس سیکنڈ کا کلپ آپ سب سنیں
پٹرول کے قیمتوں میں اضافے سے یاد آیا کہ ایک شخص ایسا بھی تھا جس نے کرونا کے دوران پٹرول 15 روپے سستا کرنے کا اعلان کیا تھا
غریب شہر تیرا خیر خواہ قید میں ہے 💔
#petrol
مطالبہ جاری رکھیں 🚨
آگر زیادہ نہیں تو کم از کم ایک ٹویٹ عمران خان کی علاج کے لئے ضرور کریں۔ مطالبہ کریں کہ شوکت خانم کے ڈاکٹرز کی موجودگی میں خان صاحب کو فوری شفا انٹرنیشنل منتقل کر دیا جائے۔
سوشل میڈیا اس پر ضرور آواز اُٹھائیں
ایران نے اسرائیل کو تباہ کردیا
یہ ویڈیو انٹرنیشنل میڈیا نہیں دکھاتی
اسکو وائرل کرنے کا طریقہ یہ ہے
کہ آپ جلدی سے اس ویڈیو کو لائک کریں ری پوسٹ کریں کمنٹ کریں اور اس اکاؤنٹ کو فالو کریں
سردار سکندر حیات سابقہ وزیراعظم آزاد کشمیر کا انکشاف 🔥🔥🔥
نوازشریف ایک کنجوس اور گھٹیا آدمی ہے۔ وہ چیزوں کا اتنا بھوکا ہے کہ کسی کی اچھی گھڑی دیکھ لے تو اسکے پیٹ میں درد شروع ہوجاتا ہے اس سے اتروا کر زبردستی خود ہی کو تحفہ کر کے رکھ لیتا یے۔ ایک بار میری زیرو میٹر مرسڈیز اسکو پسند آگئی تو اس نے زبردستی مجھ سے لے لی۔ جو شخص اس حد تک گرا ہوا اور بھوکا ہو وی ملک کے خزانے کے ساتھ کیا حشر کر چکا ہوگا ؟؟
My father, former Prime Minister Imran Khan, has now spent over 700 days in prison - held in solitary confinement. He is denied access to his lawyers, not allowed visits from his family, fully cut off from us (his children), and even his personal doctor is refused entry. This is not justice. It is a deliberate attempt to isolate and break a man who stood for rule of law, democracy, and Pakistan.
ایک دن منیب فاروق نے عمران ریاض کو سمجھایا تھا کہ صحافی بنے یوتھیا نہ بنے 😂😂
مگر پھر بھی یہ صحافی نہ بن سکا کیونکہ یوٹیوب سے کروڑوں کی کمائی ہورہی تھی اور اس نے صحافت کی بجائے یوتھیا بننے پر ترجیح دی
🚨سب سے اہم ترین پیغام پوری قوم کے نام
صحافی اسد کھرل کا قوم سے اپیل شوکت خانم ہسپتال کے بارے میں جتنا بھی تم سے ہو سکتا ہے عطیات شوکت خانم پہنچا دیں
اس پوسٹ کو اتنا وائرل کریں کہ پوری دنیا تک پہنچ سکے🙏🏻🔥
صحافی: آپ پر پریس کانفرنس کا پریشر نہیں ہے؟
محمود الرشید: ڈٹ کر عمران خان کیساتھ کھڑے ہیں، ہماری وابستگی نظریہ کیساتھ ہے
میاں محمود الرشید کی کوئی سوشل میڈیا ٹیم نہیں اس لئے آگر زیادہ نہیں تو کم از کم ایک ٹویٹ رہائی کے لئے ضرور کریں 💔