ترأست اليوم اجتماعاً لمجلس الوزراء في قصر الوطن بأبوظبي... ومع بداية موسمنا الحكومي الجديد لدينا ثلاث رسائل لفريق عملنا:
رسالتنا الأولى: نحن لا ننتظر الظروف المثالية حتى نستمر في إنجازاتنا... مشاريعنا مستمرة واقتصادنا في نمو وأسواقنا تعمل بكامل طاقتها... وفعالياتنا تستقبل العالم... الإمارات لا تتوقف... ولن تتوقف.
رسالتنا الثانية: بدأنا العمل في أكبر مشروع تحولي للخدمات الحكومية عن طريق الذكاء الاصطناعي المساعد... مشروعنا استراتيجي ووطني ومستقبلي ونراهن عليه في إحداث نقلة نوعية حكومية... ورسالتنا لجميع فرق العمل أن تكون جزءاً من هذا التحول الاستراتيجي لحكومة الإمارات.
رسالتنا الثالثة: الثقة التي بنتها دولة الإمارات عبر عقود هي العملة التي نراهن عليها… ثقة تم بناؤها عبر تطوير التشريعات والأنظمة والسياسات وعبر موارد ضخمة في أفضل بنية تحتية في العالم... وعبر سمعة تم ترسيخها وعلاقات دولية تم بناؤها.
As students return to school, Dubai Police continues to promote road safety through the Ministry of Interior’s #ADayWithoutAccidents initiative, encouraging responsible driving and shared responsibility to help make the first day of school safer and accident-free.
@moiuae
#RoadSafety
اليوم يبدأ عام دراسي جديد .. وتبدأ معه رحلة أكاديمية وعلمية جديدة لأكثر من مليون و277 ألف طالب في دولة الإمارات..🇦🇪
ومع بداية كل عام دراسي .. تسري في مجتمعنا طاقة جديدة .. وحركة متجددة .. وأحلام جديدة لأطفالنا وطلابنا بمستقبل أفضل وأجمل ..
أقول لطلابنا : من فصولكم .. ودروسكم .. ومعارفكم نبني مستقبل وطننا .. فكونوا على قدر الطموح ..
وأقول للمعلمين المخلصين : بجهودكم ننشر العلم .. ونرعى المواهب .. ونغرس الثقة .. ونزرع الأفكار العظيمة في أجيالنا .. فكونوا على قدر هذه الأمانة .
وأقول لأولياء الأمور: أنتم الشريك الأول في رحلة التعليم .. وأنتم المدرسة الأولى .. وبكم ومعكم نبني إنسان هذا الوطن .
حفظ الله أجيالنا ووفقهم وسدّدهم .. وتمنياتنا لهم بعام دراسي ناجح .. وأوقات مليئة بالعلم والمعرفة والسعادة.
الحمدللہ ان دونوں بچیوں کا خاندان مل گیا ہے۔
سندھ کے شہر مہڑ سے انکے خاندان نے رابطہ کرکے بتایا کہ وہ دو ماہ سے ڈھونڈ رہے ہیں۔ بچیاں اپنی والدہ کے ساتھ گم ہوئی تھیں والدہ کو پولیو بھی ہے اور ذہنی طور پر بھی ٹھیک نہیں ہے۔
انکا والد سیلاب میں وفات پاچکے تھے۔
بڑی بچی کے بال بڑے تھے بعد میں مبینہ طور پر شناخت مٹانے کے لئے سر گنجا کیا گیا ہے ۔ اور چھوٹی بچی کی ٹانگ دو جگہوں سے توڑی گئی ہے۔ گم ہونے سے قبل ٹھیک تھی۔
بچیوں کو عدالت حکم سے سندھ چائلڈ پروٹیکشن کی حفاظتی تحویل میں رکھا گیا ہے۔ انکا بھائی لینے آرہا ہے۔۔
یاد رہے بچیاں سندھ کے شہر مہڑ سے گم ہوئی تھیں اور حب بلوچستان سے بازیاب ہوئی تھیں۔
#waliullahmaroof
اپریل میں میرے دو بھانجے پولیس نے قتل کر دیے پولیس سی ٹی ڈی نےجس میں ایک کی عمر صرف 16 تھی دوسرے کی 22 سال برباد کر دیا میری کزن بہن کو جس کے بس دو ہی بیٹے تھے پہلے کہا غلطی ہوئی پھر کہا ڈاکو تھے پوری فیملی پڑھی لکھی اور سب جاب کرنے والے لوگ ہیں سوچ بھی نہیں سکتے تھے چوری یا ڈاکے کا کوئی آواز نہیں اٹھا رہا ہے یہ بھی دوغلی پالیسی ہے کسی کیلئے آواز اٹھائیں کسی کیلئے نہیں آپ ان کی شکل دیکھے گے تو آنکھیں بھر آئیں گی اتنا خوبصورت تھے ہمارے بچے 💔🥲
میری بہن پاگل ہو گئی ہوش کھو بیٹھی ہے سب آواز اٹھائیں اس ظلم کے خلاف
سرحد یونیورسٹی واقعہ
یونیورسٹی فون کیا تو تصدیق کی گئی کہ افسر کے ساتھ موجود خاتون وہاں کام کرتی ہیں ان کا کسی اسٹاف ممبر سے تنازع تھا۔ یہ معاملہ کوئی مہینے سے زائد عرصہ ہوا چل رہا تھا ۔
آج بگڑ گیا۔ فوٹیج میں نظر آ رہا ہے کہ انہوں نے ہوائی فائر کرنے سے پہلے گولی چلانے کی کوشش کی جو نہیں چل سکی ۔ ورنہ بہت نقصان ہو سکتا تھا۔
آرمی کے تحریری ضابطوں کے مطابق اس طرح سول مقام پر اسلحہ کیری نہیں کیا جا سکتا۔
ان آفیسر کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
ایک سابق فوجی افسر کا کہنا ہے کہ ممکن ہی نہیں کہ ملوث افسر اب نوکری پر برقرار رہ سکیں۔ 2019 میں ایک واقعہ ڈیرہ اسماعیل خان میں پیش آیا تھا وہاں ایک میجر نے ایک بچے پر تشدد کر دیا تھا وہ ڈسمس فرام سروس کر دیے گئے تھے۔
- صاحب السمو الشيخ محمد بن زايد آل نهيان رئيس الدولة "حفظه الله" يستقبل المواطنين بحضور عدد من سمو الشيوخ.
UAE President His Highness Sheikh Mohamed bin Zayed Al Nahyan receives citizens in the presence of a number of Sheikhs.
آج ہمارا بہت مشکل کیس کامیاب ہوا ۔ اس کیس کے لئے چند ماہ قبل بھی ویڈیو لگائی تھی کوئی سراغ نہیں ملا تھا ۔ بہت خواہش تھی اماں کو خوشی مل جائے۔ الحمدللہ آج بہت سارے عزیز رشتے مل گئے ۔ ویسے جس دن کیس کامیاب ہوتا ہے دل بہت خوش ہوتا ہے۔ ساری تھکاوٹ دور ہوجاتی۔
لیکن آج اس طرح نہیں تھا۔ کیونکہ اس کیس سے قبل ہم حب بلوچستان گئے وہاں دو بچیوں کے لئے کال آئی تھی۔ ان بچیوں کالو کسی نے مبینہ طور پر اغواء کیا تھا ۔ شاید پولیس نے بچیوں کو ریسکیو کیا ملزمان فرار ہوگئے ہیں۔
ایک بچی گونگی بہری ہے اور ایک بچی بول سکتی ہے لیکن بہت کم عمر ہے صرف اپنا نام بتاسکتی ہے ۔ دعا نام بولتی ہے۔ سندھی زبان میں بات کرتی ہے۔ ممکن ہے انکو اندرون سندھ سے اغواء کیا گیا ہو۔
چھوٹی والی بچی کی ٹانگ دو جگہوں سے توڑی گئی ہے۔ دوسری جو گونگی ہے اسکی گردن پر داغ کے نشان ہیں۔ شاید جسم پر بھی ہو ۔ سر کے بال بہت چھوٹے ہیں بچی نے اشاروں میں بتایا کہ اسکے بال پہلے بڑے تھے پھر کاٹے گئے ہیں۔ اس بچی پر مبینہ طور پر جسمانی تشدد بھی کی گئی ہے۔
ان بچیوں کے بارے میں لیڈی کانسٹیبل نے بتایا کہ بہت روتی ہیں۔ گھر کو یاد کرتی ہیں۔ حب سے پھر ہم کراچی فشری گئے وہاں عامر کے کیس کی خوشخبری دی اور انٹرویو کیا ۔ پھر بہادر آباد گئے ایک اور کیس کے سلسلے میں۔
سارا دن گزر گیا لیکن وہ دو سہمی ہوئی بچیاں ذہن سے نہیں نکل رہیں۔
آپ تمام دوستوں سے دست بستہ گزارش ہے کہ خدارا انکی ویڈیو کو خوب زیادہ شئیر کریں۔ سندھ بھر کے دوست خاص طور پر دلچسپی لیں۔ انکے خاندان کی تلاش میں مدد کریں۔
03162529829
#waliullahmaroof
آئیں ایک بہن کو اپنوں سے ملائیں۔۔!!
ایک بہن نےبرابطہ کرکے بتایا کہ میری عمر ابھی 36 سال ہے۔میں نے ایک بہت اچھے گھرانے میں ہوش سنبھالا ۔انہوں نے مجھے اچھا رکھا اچھی تعلیم دی کبھی کوئی پریشانی نہیں ہوئی۔
ایک روز میرے والد بہت بیمار تھے۔ہمارے ایک بزرگ رشتےدار والد کی عیادت کے لئے اسپتال تشریف لائے تھے ۔میں وہاں موجود تھی۔
بزرگ نے باتوں باتوں میں والد صاحب سے کہا "یہ وہی بچی ہے جسے ایدھی سے گود لیا تھا؟"۔ یہ سن کر میں سن ہوگئی کہ یہ کیا سن لیا؟
گھر آکر تحقیق کی تو پتہ چلا میں کہ چار جنوری 1990 میں ایک ٹرین حادثہ ہوا تھا۔ٹرین کا نام بہاؤالدین زکریا تھا۔مجھے بتایا گیا کہ اس وقت یہ ٹرین صرف کراچی اور ملتان کے لئے چلتی تھی۔
ہماری ٹرین کراچی سے ملتان جارہی تھی۔حادثہ سندھ کے علاقے سانگی میں پیش آیا تھا۔
کچھ زخمیوں کو قریبی اسپتال لیجایا گیا تھا اور کچھ کو کراچی منتقل کیا گیا تھا۔
مجھے یہ نہیں معلوم میں والدہ کی گود میں تھی یا والدہ کے پیٹ میں تھی۔میرے ہاتھ اور بازو پر جلنے جیسا نشان بھی ہے۔ شاید والدہ کا انتقال ہوا ہو یا حادثے کے دوران میں گود سے گر کر کہیں دبی ہونگی انکو نا ملی ہوں۔مجھے ایدھی میں دےدیا گیا تھا۔ اور پھر مجھے کراچی میں ایدھی سے گود لیا گیا تھا۔
یہ حادثہ تو مشہور ہے میرے حقیقی ورثاء کو ضرور میرے بارے میں علم ہوگا اگر میری پوسٹ کو وائرل کیا جائے تو ضرور وہ مل سکتے ہیں۔
پوسٹ میں جو تصویر دی گئی ہے یہ حادثے کے کچھ مہینے بعد کی ہے۔
آپ تک یہ پوسٹ پہنچ گئی ہے تو اللہ کا نام لیکر خوب زیادہ شئیر کریں ان شاءاللہ انکا خاندان ضرور مل سکتا ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں۔
+923162529829
16 Aug 2026
#waliullahmaroof
#FamilyReunion
#MissingFamily
#TrainAccident1990
#BahauddinZakariyaExpress
سورۃ الحشر کی آخری تین آیات قرآنِ مجید کی نہایت عظیم اور بابرکت آیات ہیں۔ ان میں اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر اسمائے حسنیٰ اور اس کی کامل صفات بیان ہوئی ہیں۔ احادیث میں ان کی خاص فضیلت وارد ہوئی ہے ۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
جو شخص صبح کے وقت تین مرتبہ
أَعُوذُ بِاللّٰهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
پڑھ کر سورۃ الحشر کی آخری تین آیات پڑھے،
تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ستر ہزار فرشتے مقرر فرما دیتے ہیں جو شام تک اس کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں۔
اگر وہ اسی دن فوت ہو جائے تو شہید کا درجہ پاتا ہے۔
(ترمذی)
علمتني الحياة أن التفكير بطريقة مختلفة، أو بناء شيء لم يعتد عليه الناس أو لا يفهمه الناس في وقته يجلب النقد من أصحاب النظرة الضيقة وممن لا يملكون البصيرة لرؤية المستقبل.
طبيعة العمل العام أنه يجلب النقد.. ولابد أن تتحمل، افعل الصواب.. دعهم يتحدثون، أما إذا أردت رضا الناس الكامل فلا تقل شيئاً.. ولا تفعل شيئاً.. ولا تكن شيئاً.
#من_كتاب_علمتني_الحياة
امام شافعیؒ سے پوچھا گیا:
اللہ تعالیٰ کے بارے میں بدگمانی کیسے ہوتی ہے؟
انہوں نے فرمایا:
وسوسوں میں مبتلا رہنا، ہمیشہ کسی مصیبت کے پیش آنے سے خوف زدہ رہنا، اور نعمت کے چھن جانے کا انتظار کرتے رہنا—یہ سب رحمن و رحیم اللہ کے بارے میں بدگمانی کی صورتیں ہیں۔
إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
جب موت سعادت بن جائے
پہلی تصویر کل صبح 9 بجے اور دوسری دبئی ایئرپورٹ پر حالت احرام میں بیٹھے ہوئے کی ہے
لائلپور کالونی لال ملز چوک کے رہائشی عبد الطیف عرف باو جو کہ پرائیویٹ سکولوں میں کتابیں سپلائی کے کاروبار سے وابستہ تھے۔ چار روز قبل 8 اگست کو اچانک عمرہ کی خواہش کا اظہار کیا فوری طور پر اپنا اور بیٹے ارسلان کا پاسپورٹ بجھوایا کہ جیسے ہی عمرہ ویزہ لگتا اگلی ہی دستیاب فلائٹ سے فوری روانہ کروادیا جائے۔ پس دونوں باپ بیٹے کا سفر کل بروز منگل صبح 11 بجے فیصل آباد ائیرپورٹ سے فلائی دبئی کی پرواز کے زریعے شروع ہوا۔ فلائٹ دو گھنٹے تاخیر کا شکار ہوئی رات گئے جدہ پہنچے۔ بیٹے ارسلان کے مطابق ابا جی نے جدہ سے مکہ کا سفر بہت بے چینی میں کیا۔ بار بار وقت دیکھتے اور باہر دیکھتے کہ کتنا سفر باقی رہ گیا ہے۔ ٹیکسی ڈرائیور سے جلدی پہنچنے کی بار بار التجاء کرتے رہے۔ میں نے پوچھا کہ طبیعت تو ٹھیک ہے۔ کہتے طبیعت بالکل فٹ ہے بس اللہ کے گھر کا دیدار جلد از جلد کرنا چاہتا ہوں۔ ارسلان کے مطابق آج بروز بدھ 12 اگست کی علی الصبح تہجد کے وقت ہوٹل پہنچتے ہی ایک منٹ بھی آرام نہی کیا بس سامان رکھا اور فوری طور پر حرم پاک پہنچنے کی کوشش کی۔ میں نے کہا بھی کہ ابا جان کچھ دیر آرام کرلیں۔ تھکاوٹ ہوگئی ہے نماز فجر کے بعد عمرہ کریں گے۔ لیکن وہ کہتے کہ مجھے سکون نہی مل رہا بس مطاف پہنچنا ہے
ہوٹل قریب تھا لہذا تیز تیز قدموں سے چل کر حرم مقدس پہنچے تو بے چینی میں اضافہ ہوگیا اونچی آواز میں کلمات کی ادائیگی شروع کردی اور میرا ہاتھ مضبوطی سے تھام کر باب عمرہ سے داخل ہوئے اس وقت ان کے ہاتھ لرز رہے تھے جسم کانپ رہا تھا اور پسینہ سے شرابور تھے۔ میں نے بڑی مشکل سے روک کر آب زم زم پلایا اور تیز چلتے چلتے مطاف پہنچے۔۔۔
ارسلان کے مطابق مطاف پہنچتے ہی جب کعبتہ اللہ پر پہلی نظر پڑی تو والد محترم اس نظر کی تاب نہ لا سکے اور اللہ اکبر کبیرا استغفرُللہ استغفرُللہ کہتے ہوئے پہلے اوندھے منہ ہوکر دو زانوں بیٹھ گئے پھر ان کی طبیعت مزید بگڑتی چلی گئی اور بے ہوش ہوگئے۔ اچانک پیدا ہونے والی ایمرجنسی صورتحال میں بہت گھبرا گیا اور میں ان کو سنبھال ہی رہا تھا کہ خودبخود ہی موقع پر سیکیورٹی اور طبی عملہ آگیا انہوں نے ریسکیو کرتے ہوئے موت کی تصدیق کردی ۔ میں ایسے عالم میں روتے ہوئے ایک نظر کعبتہ اللہ کو دیکھوں پھر والد صاحب کو دیکھوں ۔۔ مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ اچانک کیا ہوگیا۔۔
إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
حاجی عبدالاطیف صاحب کی نماز جنازہ حرم مکی میں ادا کرکے مکہ میں ہی تدفین کی جائے گی
پوسٹ دیکھنے والوں سے فاتحہ خوانی کی درخواست ہے
تحریر محمد صغیر احمد صاحب
#muftiabdulwahidqureshi #viralpost #BreakingNews
ایک بےزبان بہن اپنے گھر والوں کی تلاش میں...
یہ معصوم بچی بول اور سن نہیں سکتی۔ تقریباً ایک سال قبل یہ کوہاٹ میں لاوارث حالت میں ملی تھی۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ اپنے بارے میں کچھ بھی بتانے یا لکھنے سے قاصر ہے، جس کی وجہ سے اس کے اہلِ خانہ تک پہنچنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔
اس وقت یہ بچی کسی کی حفاظتی تحویل حویل میں ہے،
اس کی آنکھوں میں اپنے گھر والوں سے بچھڑنے کا درد صاف نظر آتا ہے۔ دن رات روتی ہے، اپنے پیاروں کو یاد کرتی ہے، اپنی بےبسی کو الفاظ میں بیان نہیں کر سکتی۔ اس کے آنسو ہی اس کے دکھ کی داستان سناتے ہیں۔
بظاہر یہ کسی خانہ بدوش خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔
آپ سب سے گزارش ہے کہ اس بےزبان بچی کی آواز بنیں۔ اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔ ہوسکتا ہے آپ کا ایک شیئر اسے اس کے ماں باپ اور خاندان تک پہنچا دے۔
اگر آپ اس بچی کو پہچانتے ہیں یا اس کے اہلِ خانہ کے بارے میں کوئی معلومات رکھتے ہیں تو براہِ کرم درج ذیل نمبر پر واٹس ایپ کے ذریعے رابطہ کریں۔
واٹس ایپ: 03162529829
13 اگست 2026
#WaliullahMaroof
#MissingChild
#FamilyReunion