گلگت بلتستان کے غیور عوام کے پاس حقیقی جمہوریت، عوامی حقِ حکمرانی اور کپتان کے نظریے کی فتح کا فیصلہ کن موقع ہے۔ 7 جون کو ہونے والے انتخابات میں آپ کا ایک ایک ووٹ جبر، ناانصافی اور سیاسی انتقام کے خلاف عوامی ریفرنڈم ثابت ہوگا۔ باہر نکلیں، اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں اور ووٹ کی طاقت سے ایک شفاف نظام کی بنیاد رکھیں۔ ظلم کا بدلہ ووٹ سے!
#جی_بی_کا_فیصلہ_عمران_خان
جبر اور ناانصافی کے خلاف سب سے مضبوط ہتھیار آپ کا ووٹ ہے۔ 7 جون 2026 کو قانون کی بالادستی، حقیقی جمہوریت اور اپنے قائد عمران خان کے ہاتھ مضبوط کرنے کے لیے پولنگ اسٹیشنز کا رخ کریں اور تبدیلی کا حصہ بنیں۔ ظلم کا بدلہ ووٹ سے!
#جی_بی_کا_فیصلہ_عمران_خان
فرائیڈے ٹائمز میں شائع ہونے والے اپنے مضمون "عدالتی ریلیف کی پیتھالوجی" میں، میں نے لکھا کہ پہلے عدالتی ریلیف کا مطلب ضمانت، اسٹے آرڈر یا حق میں فیصلہ ہوتا تھا۔ آج حالات یہ ہیں کہ مقدمے کی سماعت کے لیے مقرر ہو جانا یا وکالت نامے پر دستخط ہو جانا بھی ریلیف سمجھا جاتا ہے۔ عمران خان، ایمان مزاری اور حسان نیازی کے مقدمات اس صورت حال کی واضح مثالیں ہیں۔ جب صرف سنے جانے کو کامیابی سمجھا جانے لگا تو یہ نظام انصاف کے زوال کی نشانی ہے۔
بیرسٹر ابوذر سلمان خان نیازی
@SalmanKNiazi1
"اگر انہوں نے فیصلہ کرلیا ہے کہ گلگت بلتستان میں فلاں پارٹی کو فارم 47 کے ذریعے حکومت دینی ہے اور کشمیر میں فلاں کو تو پھر یہ الیکشن کا تماشہ بند کر دینا چاہیئے اگر آپ عوام سے ووٹ کا حق چھیننا ہے تو الیکشن چھوڑیں لسٹ جاری کردیا کریں کہ فلاں ایم پی اے فلاں ایم این اے ہے"۔
عارف مبین جٹ
ظلم سے نجات کا ایک ہی حل: اپنے حق اور سچ کے لیے ڈٹ جاؤ!
7 جون 2026 کو ہونے والے انتخابات میں قانون کی بالادستی، اسیرانِ جمہوریت کی آزادی اور حقیقی انصاف کے لیے باہر نکلیں اور اپنے ووٹ کی طاقت سے ایک نئے اور پرامن کل کا انتخاب کریں۔
یاد رکھیں: ظلم کا بدلہ ووٹ سے!
#جی_بی_کا_فیصلہ_عمران_خان
"گلگت بلتستان میں آئین ہمیں جو صاف شفاف انتخابات کا کہتا ہے اس کی کھلی خلاف ورزی ہورہی ہے ایک وفاقی وزیر وہاں کیمپین کے لیے جاتا ہے تو اس کو پڑوٹوکول ملتا ہے۔ خیبرپختونخوا اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر کو پروٹوکول ملتا ہے۔ بلاول زرداری، آصفہ زرداری، نواز شریف کو پروٹوکول ملتا ہے الیکشن کیمپین کی کھلی چھوٹ ملتی ہے۔ لیکن تحریک انصاف کے سلمان اکرم راجہ، نعیم پنجوتھہ، جنید اکبر خان اور دیگر ایم این ایز جاتے ہیں تو ان کو صوبہ بدر کردیا جاتا ہے"۔ علی بخاری
گلگت بلتستان کے عوام کے لیے صحت کی بہتر سہولتیں ہمیشہ تحریک انصاف کی ترجیحات میں شامل رہیں۔
وزیراعظم عمران خان نے اپنے دورِ حکومت میں اسکردو، گلگت بلتستان کے لیے 250 بستروں کے اسپتال کی منظوری دی اور اس کا افتتاح کیا۔ یہ اہم منصوبہ ڈاکٹر یاسمین راشد کی خصوصی درخواست پر کیا گیا، جن کا گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ ایک خاص اور گہرا رشتہ ہے۔
یہ اسپتال گلگت بلتستان کے عوام کے لیے بہتر علاج، آسان رسائی اور صحت کی مضبوط سہولتوں کی طرف ایک اہم قدم تھا۔
صحت، وقار، خدمت۔
گلگت بلتستان زندہ باد۔
ڈاکٹر یاسمین راشد
@Dr_YasminRashid
#گلگت_بلتستان_خان_کا
بیرسٹر گوہر صاحب آپ تو سسٹم میں موجود ہیں،
لیکن آپ کے لیڈر عمران خان کی پچھلے آٹھ مہینوں سے ملاقاتیں بند ہیں،
آپ کا مینڈیٹ تسلیم نہیں کیا جا رہا ہے،
اور آپ کہتے ہیں کہ سسٹم سے باہر نکلنے پر مجبور نا کریں،
یہی وجہ ہے کہ آپ کی سیاست پر لعن طعن ہو رہی ہے، پارس جہانزیب
اتنے بڑے عہدےلےکرتین بندوں کےساتھ گلگت جاتےاورپانچ پولیس والوں کےہاتھوں صوبہ بدرہوکرآجاتےہیں۔ یونین کاونسل لیول بندہ فاتحہ پرجاتاہےتو20بندےاورپانچ گاڑیاں ساتھ ہوتی۔ کچھ توسنجیدگی دکھائیں۔ کیوں مایوسیاں بٹوررہےہیں؟ جب پوچھوکہ تنظیم کیوں نہیں بناتے توزاتیات پر اتر آتے ہیں۔
اصولی طور پر عمران خان کے مقدمات میں انصاف ہوتا ہوا نظر آنا چاہیے تھا، لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ناانصافی ہوتی ہوئی نظر آئی ہے۔ عمران خان پاکستان کے پہلے شہری ہیں جن کا ٹرائل تمام عدالتوں میں خود قید ہو کر کر رہی ہیں۔
کوئی جج اپنی عدالت میں آزاد بیٹھ کر ٹرائل نہیں کرتا۔ جتنے بھی ٹرائل ہو رہے ہیں قید خانے کے اندر قید کے ماحول میں ہو رہے ہیں۔ یہ کسی صورت فیئر ٹرائل نہیں۔ اگر فیئر ٹرائل ہو تو عمران خان 48 گھنٹے سے زائد جیل میں نہیں رہ سکتے۔
اس لیے ہم عدلیہ کی آزادی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ عوام عدالتوں کی جانب دیکھ رہے ہیں اور ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ عمران خان کے ساتھ انصاف ہوتا ہوا نظر آنا چاہیے۔
ڈاکٹر بابر اعوان
@BabarAwanPK