مانیٹرنگ
بلوچ لبریشن آرمی نے زیارت حملے کی ویڈیو فوٹیج جاری کی جس کئی پاکستانی فورسز کے ہلاک اہلکاروں کی لاشیں دیکھائی گئی۔
ترجمان جیئند بلوچ کے مطابق حملہ بی ایل اے کے فتح اسکواڈ نے سرانجام دی، جس میں 18 عسکری اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ بی ایل اے کے جنگجو ان کے قبضے سے اسلحہ بھی ساتھ لے گئے۔
#زیارت #بلوچستان
خاران: پاکستانی فوج کے گاڑیوں سمیت بسوں پر مشتمل قافلے پر بلوچ آزادی پسندوں کے حملے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصانات کی اطلاعات ہیں۔
قافلہ، خاران سے دالبندین کے جانب جا رہا تھا کہ راستے میں قافلے کو شدید حملے کا سامنا کرنا پڑا۔
#بلوچستان
بریکنگ نیوز
خاران کے علاقے گْواش میں خاران یکمچ سی پیک لنک روڈ پر پاکستانی فورسز کے 15 گاڑیوں پر مشتمل قافلے پر شدید حملہ
ذرائع کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب پاکستانی فورسز کے 15 سے زائد گاڑیاں اور دو بسیں سی پیک روڈ سے گزر رہے تھے، جہاں پہلے سے گھات لگائے مسلح افراد نے ان پر حملہ کیا۔
پاکستانی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان شدید جھڑپیں تاحال جاری ہیں۔ جبکہ علاقے میں شدید فائرنگ و دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہے ہیں۔
#بلوچستان
بریکنگ نیوز
خاران کے علاقے گْواش میں خاران یکمچ سی پیک لنک روڈ پر پاکستانی فورسز کے 15 گاڑیوں پر مشتمل قافلے پر شدید حملہ
ذرائع کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب پاکستانی فورسز کے 15 سے زائد گاڑیاں اور دو بسیں سی پیک روڈ سے گزر رہے تھے، جہاں پہلے سے گھات لگائے مسلح افراد نے ان پر حملہ کیا۔
پاکستانی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان شدید جھڑپیں تاحال جاری ہیں۔ جبکہ علاقے میں شدید فائرنگ و دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہے ہیں۔
#بلوچستان
تمپ: رودبن میں پاکستانی فوج کے کیمپ پر حملہ، حملے کے وقت فائرنگ و دھماکوں کی آواز سنائی دی۔
دریں اثنا، مسلح افراد نے زامران میں پاکستانی فوج کے ایک چیک پوسٹ کو بھی حملے میں نشانہ بنایا۔
#بلوچستان
تمپ: رودبن میں پاکستانی فوج کے کیمپ پر حملہ، حملے کے وقت فائرنگ و دھماکوں کی آواز سنائی دی۔
دریں اثنا، مسلح افراد نے زامران میں پاکستانی فوج کے ایک چیک پوسٹ کو بھی حملے میں نشانہ بنایا۔
#بلوچستان
بی ایل ایف پولیس اہلکاروں کو سختی سے تنبیہ کرتی ہے کہ وہ سرمچاروں کی راہ میں رکاوٹ بننے یا ��ن پر حملہ آور ہونے سے گریز کریں، بصورتِ دیگر انہیں قابض فوج کی سہولت کار کے طور پر دیکھا جائے گا اور ان کے ساتھ بھی قابض پاکستانی فوج جیسا ہی سلوک کیا جائے گا۔
15 اگست 2026 کو سرمچاروں نے بارکھان کے علاقے دو سڑکہ سے ریاستی آلہ کار ذوالفقار امیر بزدار ساکن لونی، ڈوکی کو اس وقت حراست میں لیا جب وہ بلوچ سرمچاروں کے کیمپ کی جانب ٹریکنگ چپ نصب شدہ موٹر سائیکل پہنچا رہا تھا۔
دورانِ تفتیش مذکورہ شخص نے اعتراف کیا کہ وہ قابض ریاست کے لیے جاسوسی کر رہا تھا اور اس کا رابطہ فوج سے مجید زرگون نے کروایا تھا۔ وہ لورالائی کیمپ کے میجر موسیٰ خان سے براہِ راست رابطے میں تھا، اور اسی کے کہنے پر اس نے 50 ہزار روپے کے عوض 20 جولائی 2026 کو موٹر سائیکل میں جی پی ایس چپ نصب کر کے رکھنی کیمپ پہنچائی تھی، جبکہ وہ سرمچاروں کے کیمپوں کی معلومات اور فون نمبر بھی قابض فوج کو فراہم کرتا رہا تھا۔ 14 روز تک جاری رہنے والی تفتیش کے بعد جرم ثابت ہونے پر تنظیمی عدالت کے فیصلے کے تحت 29 اگست 2026 کو ناکامئی کراس نزد دو سڑکہ پر اسے سزائے موت دے کر منطقی انجام تک پہنچا دیا۔
بلوچستان لبریشن فرنٹ مذکورہ بالا تمام کارروائیوں میں قابض پاکستانی فوج اور پولیس کو پہنچنے والے جانی و مالی نقصانات، مواصلاتی تنصیبات کی تباہی اور قومی مجرموں کو منطقی انجام تک پہنچانے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے اور اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ بلوچستان کی آزادی تک قابض دشمن کے خلاف ہماری جدوجہد تمام تر قوت کے ساتھ جاری رہے گی۔
میجر گہرام بلوچ
ترجمان: بلوچستان لب��یشن فرنٹ
10 ستمبر 2026
Ref. No. BLF/September2026/000105
گیارہ کارروائیوں میں 12 فوجی اہلکار ہلاک، پولیس تھانہ و مواصلاتی تنصیبات نذرِ آتش، 3 قومی مجرموں کو سزائے موت دے دی۔ بی ایل ایف
بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے 9 ستمبر 2026 کو چاغی کے علاقے برامچہ میں تلا��ان پولیس تھانے پر حملہ کر کے اسے مکمل طور پر اپنے قبضے میں لے لیا اور وہاں موجود تمام پولیس اہلکاروں کو حراست میں لے کر ان کا سرکاری اسلحہ، دیگر حربی سامان اور 1 گاڑی قبضے میں ضبط کر لی۔ سرمچاروں نے تھانے کی عمارت اور تمام ریکارڈ کو نذرِ آتش کر دیا۔ بعد ازاں حراست میں لیے گئے پولیس اہلکاروں کو سخت تنبیہ کرکے بلوچیت اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر باحفاظت رہا کر دیا گیا۔
اسی روز سرمچاروں نے سوراب کے علاقے گدر میں گریڈ اسٹیشن کے قریب قابض پاکستانی فوج کے قافلے کو پیشگی گھات لگا کر بھاری اور خود کار ہتھیاروں سے حملہ کر کےنشانہ بنایا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں قابض فوج کو جانی و مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔
بی ایل ایف کے سرمچاروں نے آواران کے علاقے پیراندر، حمل بازار میں گڑوپ کے مقام پر قابض فوج کی ایک پیکٹ چوکی پر خفیہ طریقے سےایک آئی ای ڈی بم نصب کر رکھا تھا۔ 7 ستمبر 2026 کو جب فوجی اہلکار پیکٹ پر پہنچے تو سرمچاروں نے دھماکہ کر کے انہیں نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 2 فوجی اہلکار موقع پر ہی ہلاک اور 2 زخمی ہو گئے۔
اسی روز سرمچاروں نے چاغی کے علاقے پدگ میں واقع راسکوہ ایٹمی سائٹ کے فائبر آپٹکس اسٹیشن پر حملہ کر کے اسے نذرِ آتش کر دیا جس کے نتیجے میں وہاں موجود تمام اہم مشینری اور آلات مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔
4 ستمبر 2026 کو بی ایل ایف کے سرمچاروں نے خضدار کے علاقے نوغے میں کوئٹہ-کراچی شاہراہ پر مغلی کراس کے مقام پر گھات لگا کر قابض فوج کے ایک قافلے پر بھاری و خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا۔ قافلے میں شامل 1 فوجی گاڑی مکمل طور پر حملے کی زد میں آئی، جس کے نتیجے میں گاڑی پر سوار 6 فوجی اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہو گئے، جبکہ دیگر گاڑیوں کو راکٹ لانچرز اور جدید ہتھیاروں سے نشانہ بنایا گیا جس سے متعدد دیگر اہلکار بھی ہلاک و زخمی ہوئے۔ حملے کے بعد دشمن کا قافلہ منتشر ہو گیا اور کئی گھنٹوں تک ہلاک اہلکاروں کی لاشیں جائے وقوعہ پر پڑی رہیں۔
اسی روز سرمچاروں نے خضدار کے علاقے نوغے میں بابل ہوٹل کے قریب گرفتار قومی مجرم رحمت اللہ ولد حاجی محمد نور ساکن توتک، گہورو خضدار کو فائرنگ کر کے اس کے منطقی انجام تک پہنچا دیا۔ مذکورہ مجرم کو سرمچاروں نے 28 اگست 2026 کو ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے سرغنہ شفیق مینگل کے کیمپ پر حملے کے دوران زندہ گرفتار کیا تھا۔
دورانِ تفتیش قومی مجرم رحمت اللہ نے شفیق مینگل کے کیمپ میں ہونے والی تمام مجرمانہ سرگرمیوں کا اعتراف کیا اور انکشاف کیا کہ مذہبی شدت پسند تنظیم داعش کے کارندوں کو اسی کیمپ میں جمع کیا جاتا ہے، جس کے بعد قابض فوج کی سرپرستی میں انہیں بلوچستان میں قائم دیگر کیمپوں میں منتقل کیا جاتا ہے۔ مجرم کے اعترافی بیان اور اس کے خلاف موجود دیگر مستند شواہد کی بنیاد پر تنظیمی عدالت کی جانب سے اسے سزائے موت سنائی گئی، جس پر 4 ستمبر کو عمل درآمد کیا گیا۔ مجرم سے حاصل کردہ معلومات کی روشنی میں تنظیم مزید تحقیقات کر رہی ہے۔
3 ستمبر 2026 کو سرمچاروں نے رخشان کے علاقے گورگی میں قابض فوج کی جانب سے جاسوسی کے لیے استعمال کیے جانے والے یوفون کے مواصلاتی ٹاور کو اس کی تمام مشینری اور آلات سمیت نذرِ آتش کر کے ناکارہ بنا دیا۔
یکم ستمبر 2026 کو سرمچاروں نے آواران کے علاقے کولواہ میں کنیچی اور اوٹان کے درمیانی علاقے میں قابض پاکستانی فوج ک�� قافلے کو سیکیورٹی فراہم کرنے والی پیدل گشتی ٹیم پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں 2 فوجی اہلکار ہلاک اور 2 زخمی ہو گئے۔
30 اگست 2026 کو سرمچاروں نے تمپ کے علاقے نظرآباد میں منحرف سرمچار سجاد عرف تاج ولد نذیر کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔ مذکورہ شخص فورسز کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے بعد قومی تحریک کے خلاف مخبری کرنے، تنظیم سے وابستہ افراد کے خاندانوں کی معلومات دشمن کو فراہم کرنے، لوگوں کو قابض فوج کے آگے تسلیم ہونے پر مجبور کرنے اور علاقے میں چوری، ڈکیتی و بھتہ خوری جیسے سماجی جرائم میں براہِ راست ملوث تھا۔ گرفتاری کے دوران مذکورہ شخص نے فرا�� ہونے کی کوشش کی جس پر سرمچاروں فائرنگ کرکے اسے ہلاک کردیا۔
28 اگست 2026 کو کوئٹہ میں بی ایل ایف کے سرمچار معمول کے گشت پر تھے کہ کسٹم آفس کے قریب پولیس اہلکاروں نے انہیں روکنے کی کوشش کی، جس پر سرمچاروں نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا۔ اس جھڑپ کے نتیجے میں 1 پولیس اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔
سوراب کے علاقے گدر میں گر��ڈ اسٹیشن کے قریب پاکستانی ایف سی کے قافلے پر حملہ
اطلاعات کے مطابق آج شام چھ بجے کے قریب ایف سی کے قافلے کو سوراب کے علاقے گدر میں اس وقت حملے کا سامنا کرنا پڑا جب قافلہ گریڈ اسٹیشن کے قریب سے گُزر رہا تھا۔
علاقائی ذرائع کے مطابق مسلح افراد نے فورسز کے ایک گاڑی کو روڈ کے قریب سے گھات لگاکر نشانہ بنایا، جس سے فورسز کو نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
#بلوچستان
سوراب کے علاقے گدر میں گریڈ اسٹیشن کے قریب پاکستانی ایف سی کے قافلے پر حملہ
اطلاعات کے مطابق آج شام چھ بجے کے قریب ایف سی کے قافلے کو سوراب کے علاقے گدر میں اس وقت حملے کا سامنا کرنا پڑا جب قافلہ گریڈ اسٹیشن کے قریب سے گُزر رہا تھا۔
علاقائی ذرائع کے مطابق مسلح افراد نے فورسز کے ایک گاڑی کو روڈ کے قریب سے گھات لگاکر نشانہ بنایا، جس سے فورسز کو نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
#بلوچستان
بریکنگ نیوز
چاغی کے علاقے برابچہ میں بلوچ آزادی پسندوں کا پولیس تھانے پر حملہ، حملے کے دوران بلوچ آزادی پسندوں نے اہلکاروں کو حراست میں لے کر گرفتار کرلیا۔
ذرائع کے مطابق بلوچ آزادی پسندوں نے تھانے میں موجود اسلحہ اور دیگر سامان ضبط کرکے تھانے کو ریکارڈ سمیت جلادیا گیا۔
تاہم، بعدزاں گرفتار پولیس اہلکاروں کو بعد ازاں رہا کردیا گیا ہے۔
#بلوچستان
بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) نے تین ماہ کے دوران بلوچستان کے مختلف علاقوں میں شہید والے بلوچ سرمچاروں کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا کے کہ مختلف مقامات پر جھڑپوں میں 10 بلوچ سرمچار شہادت کے رتبے پر فائز ہوئے جبکہ جھڑپوں کے دوران پاکستانی فوج، پولیس اور ڈیتھ اسکواڈ کے بھی متعدد اہلکار ہلاک ہوئے اور ان کے اسلحہ بھی قبضے میں لیے گئے ہیں۔
#بلوچستان
بلوچ ریپبلیکن گارڈز (بی آر جی) نے ایک ویڈیو جاری کی جس میں ان کے جنگجؤں کو بلوچستان کے شہر بھاگ میں سرکاری دفاتر اور پاکستانی فوج کے کیمپوں پر حملے کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔
#بلوچستان
The individuals standing with Major General Faisal Naseer aka “ Dirty Harry ” are neither public representatives nor they are political leaders of any political party. They are pawns of Pakistan’s military and intelligence agencies, and they are running armed militias in Balochistan under army’s sponsorship.
Their armed groups are involved in abductions, ransom, robbery, targeted killings of patriotic political workers, human rights activists and journalists. They are also involved in land grabbing, extortion, and numerous other crimes and human rights violations. Most of them are even nominated in the cases of killing levies and police personnel in various areas of Balochistan and Sindh.
It’s pertinent that Major General Faisal Naseer has recently been appointed as chief of the Nation Counter Terrorism Authority (NACTA) by the Islamabad government. NACTA Chief’s meeting with these infamous criminals and terrorists denotes that NACTA isn’t a counter terrorism authority, instead, it’s an entity formed to promote state terrorism in the Occupied Balochistan.
Creating and sponsoring such armed groups in Balochistan is a primary tool of Pakistan’s so called counter insurgency policy against the Baloch independence movement.