اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ دراصل اسٹیبلشمنٹ کی سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد عمران خان کے ووٹ بینک اور عوامی حمایت کو تقسیم کرنا ہے۔ آنے والے دنوں میں ��ولانا مزید جارحانہ بیانات ، بڑے جلسے اور احتجا��ی ریلیاں بھی ہو سکتی ہیں، حتیٰ کہ گرفتاری جیسے واقعات بھی پیش آ سکتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمٰن کا اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ: حقیقت یا افسانہ؟
جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں، جب بھی مولانا فضل الرحمٰن اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ اختیار کرتے ہیں تو اس کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کی کوئی بڑی سیاسی حکمتِ عملی یا مفاہمت کارفرما ہوتی ہے۔ مولانا کی ماضی کی سیاست کو دیکھتے ہوئے یہ
عمران خان کی ہدایات پر مؤثر عمل درآمد کر پا رہی ہے، نہ ان سے ملاقات ممکن بنا سکی ہ��، نہ علاج کے معاملے میں پیش رفت ہوئی ہے، اور نہ ہی مؤثر احتجاج منظم کر سکی ہے۔دوسری جانب عمران خان کے ووٹرز اور سپورٹرز آج بھی بڑی تعداد میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ان حالات میں مولانا فضل الرحمٰن کا
اپ کے ہر پروگرام پر ایسا کریک ڈاون کرتے ہیں جیسے کوئی کالعدم تنظیم ہو۔ بحیثیت وزیراعلٰی نہ اپ کی ملاقات خان سے کروائی جاتی ہے اور کھبی کھبار تو اپ کو اسلام آباد میں پولیس کے سپاہی سے بے عزت کروایا جاتا ہے۔سہیل آفریدی صاحب اپ سے التجا ہے کہ سانپ کو دودھ نہ پلائیں۔
صوبہ پښتونخوا کے بجٹ کا ایک ایک روپیہ وہان کے عوام کی بھلائی کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔وفاق پہ 1500 ارب روپے پہلے سے صوبے کے واجب الادا ہیں یہی تو موقع ہے اپنا حق مانگنےکا لوہا گرم ہے ہتھوڑا مارنے کی دیرہے۔لیکن یہ سم��ھ سے بلاتر ہے کہ اپنا مانگنا تو دور کی بات لٹا 109 ارب روپے
مزید صوبہ خیبرپښتونخوا کے حصے سے وفاق یعنی فارم 47 کی حکومت کو دیے جارہے ہیں، جس کے ہاتھ پی ٹی آئی کے ورکرز کے خون سے رنگے ہیں خان کو بلا وجہ 3سالوں سے قید تنہائی میں رکھا ہے پارٹی اور اس کے ورکرز پر ظلم کے پہاڑ تھوڑے گئے نہ اپ کو جلسے کی اجازت دے رہے نہ کوئی کارنر میٹنگ کی