آج کے بعد مریم حکومت کو سب سےزیادہ اس مسئلے کا سامنا کرنا ہوگا کہ دکاندار پرانی قیمتیں واپس لانے کیلئےآرام سےتیار نہیں ہونگے. اب دیکھ لیجئے. LPG کی سرکاری قیمت تقریباً 309 روپے ہےاور دکاندار 600روپے تک بھی فروخت کررہے ہیں.
میری نظر میں @MaryamNSharif کا یہ بڑا امتحان شروع ہوا ہے.
ایک بھائی کی محکمہ گیس سے شکایت۔۔
راولپنڈی میں ھمارے گھر کی پوری گلی میں گیس کا مسئلہ بنا ہوا ہے، میں خود سعودیہ میں ہوں اور ایک مہینے سے زیادہ ہو گیا ہے گھر والے پریشانی میں ہیں۔ کافی مہینوں سے یہ مسئلہ چل رہا ہے۔ دن میں صرف چار پانچ گھنٹے گیس آتی ہے، بہت دفعہ دفتر جا کے شکایت کر چکے ہیں، آپ کی مدد یہ چاہئے کہ شکایت ٹھیک جگہ تک پہنچا دیں
03335112908
Haaza: DK-199, Street No. 02, Dhoak Kashmiriyan, Rawalpindi
یہ پیرا فورس کا اہلکار اس نے سرکاری موٹر سائیکل سروس اسٹیشن سے دھلوائی اور پھر جب پیسے مانگے تو دھمکیاں دے رہا الٹا سروس اسٹیشن کی ویڈیو بنانے لگ گیا کہ سیل کروادونگا۔
یہ مریم نواز کا تحفہ ہے پنجاب کے غریبوں کے لئے
پاکستان کی تمام اسمبلیوں میں یہ نان الیکٹڈ ممبرز ختم ہونے چاہیے ہیں۔خواتین کی مخصوص نشستیں اقلیتوں کی نشستیں یہ سب ختم کریں۔ خواتین کی مخصوص نشستوں پر آنے والی خواتین حد درجہ کی بدتمیز گھمنڈی اور جاہل ہوتی ہیں۔
@Iescoofficalpk our ref no.13142194878404 power off from early morning 8 am.. complain has been launched but still 11:42 nothing happen no one came to resolve the issue..
موصوفہ کے دور میں پہلے فائروال پر قوم کے تقریباً ۳۰ ارب ضائع کروائے، پھر انٹرنیٹ کی سست روی کی وجہ انٹرنیٹ کا زیادہ استعمال بتایا اور اب ٹیلی کمیونیکیشن بِل سامنے لے آئیں!!
ہر ادارے میں دانستہ طور پر نااہل سربراہ بٹھایا گیا ہے اور یہ سلسلہ نگراں دور سے شروع کیا گیا!!
موصوفہ کی صرف ایک اہلیت ہے کہ یہ ایک سینیئر وزیر کی رشتہ دار ہیں!!
نیازی بند لفافے پہ دستخط کروائے اس پہ کیس چلایا جائے تو وہ مجرم اور جیل میں۔
ن لیگی منسٹر شزا فاطمہ صاحبہ فائر وال پہ 30 ارب روپیہ ضائع کرے اور اسکے بعد متنازع بل پاس کروانے کی کوشش کرے اور پھر اس پہ چاپلوس اسکا بھی دفاع کریں تو سمجھیں دن انکے بھی گنے جا چکے ہیں۔
بھائی ن لیگ نے چُن چُن کر وزیر لگائے ہیں ۔ مہنگی بجلی کا وزیر اویس لغاری ، مہنگائی کا وزیر محمد اورنگزیب ، اور غیر سائنسی امور کیلئے شزا فاطمہ خواجہ ۔
وزیرداخلہ تو چلیں رینج سے باہر ہے ۔
لیکن ان لوگوں کے ہوتے ن لیگ کو دشمنوں کی ضرورت ہی نہیں ہے ۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنے ہی واٹس ایپ نمبر سے مولانا فضل الرحمن صاحب کے خلاف پوسٹ شیئر کی کہ اس کو وائرل کریں
تم اس لیول پر آگئے ہو
مولانا فضل الرحمن کے چھوٹے بھائی انجینئر ضیاء الرحمن آگ بگولہ
تمہارا باپ بھی روک نہیں سکے گا
جب شازیب خانزادہ نے آسان الفاظ میں وزیر صاحبہ کو سمجھایا انہوں نے ٹیلی کمیونیکیشن بل میں کیا بھنڈ مارا ہے تو مان گئی غلطی۔
سوال یہ ہے کہ ان کو وزیر کس نے لگایا، ان کی جوابدہی کون کرے گا۔ ان کو تنخواہ اور مراعات اس لیے ملتی کہ ایک اینکر ان کو بتائے کام کیسے کرنا۔ جرات کیسے ہوئی غیر آئینی بل لانے کی۔
وزیراعظم صاحب توجہ فرمائیں۔
@CMShehbaz
جب 137 روپے پیٹرول بڑھا تو بہت شور ہوا اگلے دن 80 روپے کم کرنا پڑا تھا اس لیے خوب شور ڈالیں ہر جگہ لکھیں کسی راتب خور کی کسی خوشامدی پوسٹ کے چکر میں مت آئیں اس قدر اعتراض کریں کہ ان کو جان چھڑانی مشکل ہو اور یہ واپس پیٹرول اصل قیمت پر لائیں اس کے علاوہ کوئی حل نہی ہماری حکومت کے ساتھ اپوزیشن بھی نا اہل ترین ہے
پورے پنجاب میں تمام مساجد کے اندر لاؤڈ اسپیکر میں جمعہ اور تقاریر پہ پابندی ہے.
اور اس حکم کو تمام مسالک کے علماء مانتے ہیں اور عمل کرتے ہیں. محرم شروع ہوتے ہی امام بارگاہوں چوکوں چوراہوں میں لاوڈ اسپیکر پہ نوحے اور ماتمی بیان چلاے جاتے ہیں انکے لئے قانون الگ ہے یا ہے ہی نہیں؟؟
دل موہ لینے والا منظر
سعودی عرب مہبطِ وحی اور نبی آخر الزماں کی سرزمین ہے۔ خیر و بھلائی کا مرکز۔ جہاں ایک ایسا واقعہ پیش آیا ہے جس نے پورے عرب معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا اور لاکھوں لوگوں کی آنکھیں نم کر دیں۔ یہ واقعہ قحطان قبیلے کے ایک شخص سے متعلق ہے، جنہوں نے اپنے جوان بیٹے کے قاتل کو قصاص سے صرف چند گھنٹے قبل اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے معاف کر دیا۔
10 فروری 2019 کو جدہ شہر کے مشرقی علاقے الحمدانیہ میں ایک اجتماعی جھگڑے کے دوران پیش آیا، جس میں نوجوان احمد القريقري الحربي جاں بحق ہوئے تھے۔ عدالتوں میں مقدمہ چلا، شواہد اور گواہوں کی روشنی میں قاتل مترك عایض المسردي القحطاني کو قصاص کی سزا سنائی گئی اور برسوں کی قانونی کارروائی کے بعد بالآخر سزائے موت کے نفاذ کا وقت مقرر ہو گیا۔ قاتل کے اہل خانہ اور قبائلی عمائدین مسلسل مقتول کے والد سے رابطے میں رہے اور انہیں قصاص معاف کرنے کے لیے مختلف مالی پیشکشیں کی جاتی رہیں۔
جدہ کے وکلاء کا کہنا ہے کہ مترك القحطانی کی جانب سے حميد القريقري کو لاکھوں ریال کی پیشکش کی گئی، لیکن انہوں نے ہر قسم کی مالی ترغیب کو مسترد کر دیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ بیٹے کے خون کی کوئی قیمت نہیں لگائی جا سکتی۔ جب قصاص کے نفاذ میں صرف چند گھنٹے باقی رہ گئے تو وہ خود چل کر قاتل کے گھر پہنچ گئے اور اعلان کر دیا کہ وہ قاتل کو محض اللہ تعالیٰ کی رضا اور آخرت کے اجر کی امید میں معاف کرتے ہیں اور اس کے بدلے میں ایک ریال بھی قبول نہیں کریں گے۔ یہ سن کر قاتل کی ماں ان کے پاوں میں گر گئی۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ قاتل اپنی ماں کا اکلوتا بیٹا ہے۔
اس واقعے کو مزید غیر معمولی اس لیے سمجھا گیا کہ انہوں نے نہ صرف قصاص کا حق چھوڑا بلکہ وہ مالی معاوضہ بھی قبول نہیں کیا جو شرعی اور قانونی طور پر مقتول کے ورثاء کو دیا جا سکتا تھا۔
سعودی عرب میں قتل عمد کے مقدمات میں اگر اولیائے دم قصاص سے دستبردار ہو جائیں تو دیت وصول کی جا سکتی ہے۔ موجودہ عدالتی نظام کے مطابق قتل عمد میں دیت کی مقدار تقریباً چار لاکھ (400,000) سعودی ریال سمجھی جاتی ہے، جبکہ قتلِ خطا کی دیت تین لاکھ (300,000) سعودی ریال ہے۔ لیکن مترك القحطانی نے نہ قصاص لیا، نہ دیت لی اور نہ ہی کسی قسم کا مالی معاوضہ قبول کیا۔ انہوں نے قاتل کی جان بخشی کو اپنی آخرت کا سرمایہ بنا لیا۔
اسے عربی روایات میں مروّت، نخوت، حلم اور عفو و درگزر کی ایک نادر مثال سمجھا جا رہا ہے۔ ایسے وقت میں جب ایک باپ اپنے جوان بیٹے کے قاتل کو تختۂ دار پر دیکھنے کا پورا حق رکھتا تھا، اس نے انتقام کے بجائے درگزر کو ترجیح دی۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب میں اس واقعے کو شہامت، اخلاق اور اسلامی تعلیماتِ عفو کا ایک روشن نمونہ قرار دیا جا رہا ہے۔
بلاشبہ اپنے بیٹے کے قاتل کو معاف کرنا ہر شخص کے بس کی بات نہیں، لیکن جو لوگ ایسا کر گزرتے ہیں وہ معاشروں میں صرف ایک فرد کو زندگی نہیں دیتے بلکہ رحم، درگزر اور انسانیت کی ایسی مثال قائم کر جاتے ہیں جو نسلوں تک یاد رکھی جاتی ہے
جب پیٹرول کا ریٹ تیزی سے بڑھا رہے تھے تو راتب خور بتا رہے تھے یہ جنگ کی وجہ سے عارضی بڑھ رہا ہے اب امن معاہدہ ہو گیا عالمی طور پر بھی قیمت کم تو واپس جنگ سے پہلے والی قیمت پر کیوں نہی لے جا رہے ؟
🚨🚨اگر میرا اکاؤنٹ اچانک خاموش ہو جائے تو سمجھ جائیں
کل میری پاکستان اپنے گھر کے نگران سے بات ہوئی اس کی فقط اتنی ڈیوٹی وہ مختلف کرائے داروں سے کرایہ پکڑ کر محلے کی دو مساجد کے بجلی کا بل میری طرف سے ادا کر دیتا ہے
ہم نے کرائے کی انکم مساجد کے لئے وقف کی ہے اس نے بتایا کہ تین چار دفعہ مختلف سول ایجنسیوں کے لوگ اس کے پاس جا کر میرے بارے پوچھ گچھ اور دھمکیاں دے کر جا چکے اسے ہراساں کیا وہ ڈر گیا
عمران دور میں بھی کرائے دار بھگا دیتے تھے اب مسجد کے لئے وقف کرائے کے ساتھ ایسا کرنے سے عمران کا جو حال ہوا وہ وہ موجودہ والوں کا بھی ہو گا
میں نے کونسی اینٹی سٹیٹ بات کی ہے ؟
مہنگی بجلی پیٹرول یا عوام کی بات کرتا ہوں جو معاملہ وہ میرے تک رکھیں پاکستان موجود لوگوں کا میرے سے کیا تعلق ہے ؟
میری بیٹی کی تصاویر نکالیں مجھ پر گھٹیا الزامات لگائے کتا فورس چھوڑی کیا یہ سب کافی نہی ہے ؟
کچھ تو خدا کا خوف کرو میں اگر نا بھی لکھوں تو لوگوں کے جو جذبات مہنگائی کی وجہ سے وہ نہی بدلیں گے ۔
سب طرف سے بہت دباؤ ہے دیکھو کب تک برداشت ہوتا مگر اگر چپ ہوا تو وجہ یہی ہو گی نہی چاہتا والدہ کے نام پر جو تھوڑا ُنیک کام ہو رہا وہ رک جائے
میرے لیے دعا کیجئے گا
بزنس کلاس کے ٹکٹ سستے کر دیے ہیں اپنے لئے ۔ اگر کوئی بندہ سستی گاڑی لے رہا تھا وہ انہوں نے مہنگی کر دی ہے ۔ یہ اشرافیہ کا بجٹ ہے۔ نور عالم خان کا دلچسپ تبصرہ