یہ پاکستان ہے…
جہاں قانون کی کتاب ایک ہے، مگر انصاف کے ترازو الگ الگ ہیں۔
شاہ رخ جتوئی ہو یا نتاشہ دانش، ایسے مقدمات ایک سوال ضرور چھوڑ جاتے ہیں:
کیا پاکستان میں قانون بھی دولت، طاقت اور حیثیت دیکھ کر اپنا لہجہ بدل لیتا ہے؟
غریب کے لیے قانون کی پوری طاقت،
اور طاقتور کے لیے قانون کی نرم زبان۔
جب انصاف جیب دیکھ کر ملے تو قانون کتاب میں زندہ رہتا ہے، معاشرے کے دل میں نہیں۔
آپ نے کہا کہ مجھے دھمکی دی گئی اگر لانگ مارچ کا اعلان کیا تو 5 دنوں میں فارغ کر دیے جاؤ گے، کون ہے دھمکی دینے والا؟ سہیل آفریدی سے زیشان عزیز کا سوال، سیکٹر کمانڈر نے دھمکی دی تھی، وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کا جواب
سورس جاننے کیلئے کیو آر کوڈ سکین کریں
#Pakistan@SohailAfridiISF
Multiple governments of the "civilized" West support this vile state, where rape is used as a state sponsored policy.
The level of hate embedded in the psyche of a nation is unbelievable.
"جس ملک میں آزادی سے سوچنے اور آزادی سے بات کرنے کی اجازت نہ ہو، وہ ملک کبھی ترقی نہیں کر سکتا۔ کیا اسمبلیوں میں پانچ دن کے اندر اتنی بڑی ترمیم ہوتی ہیں؟ اس ملک کو تنخواہ دار طبقے نے لوٹا ہے، خواہ وہ ججز، بیوروکریٹس یا فوجی ہوں، انہوں نے تباہ کیا ہے اور وہ اس ڈگر پر پوری قوت سے چل رہے ہیں۔" جسٹس ریٹائرڈ انوار الحق پنوں
خبر کا سورس لنک جاننے کیلئے QR Code سکین کریں۔۔
سابق جج انوار الحق پنوں نے سچ بولتے ہوئے ججوں، جرنیلوں اور بیوروکریٹس کے ہاتھوں تباہ ہوتے ملک کی حقیقت بیان کردی، اور نئے صوبوں اور سسٹم فیلئیر کا خلاصہ بیان کردیا
ریٹائر جسٹس انوارلحق پنوں نے جیسے ہی یہ بات کی کہ:
“اس ملک کو ججزز، بیوروکریٹس،فوجی انہوں نے تباہ کیا ہے اور وہ اس ڈگر پر پوری قوت سے چل رہے ہیں۔“
غریدہ فاروقی نے فوراً روک دیا۔ یہ ہیں اس ملک کے نام نہاد صحافی جنکا کام سچائی دیکھنا اور بتانا ہوتا ہے وہی اس چھپاتے ہیں تاکہ معاشرہ حقیقت سے بے خبر رہے۔
جس ملک میں آزادی سے سوچنے بات کرنے کی اجازت نہ ہو وہ ملک کسی قیمت پہ ترقی نہیں کر سکتا۔ حکمران خاندان، مقتدرہ جمہوریت میں یہ بتائیں نہیں ہوتیں ۔ جب تک یہ لوگ اپنے اپنے دائرے میں نہیں جاتے، کوئی چانس بہتری کا نہیں ہے۔ اس ملک کے وسائل کم ہوتے جا رہے ہیں اور انکی خواہشات بڑھتی جا رہی ہیں ۔ نظام فیل ہو چکا ہے یہ بات کر کون رہا ہے ؟ وہ خود کس نظام کی پیداوار ہیں؟!
اسمبلیوں میں آئینی ترامیم وزیرقانون کو بتائے بغیر کی جاتی ہیں پاکستان کی عدالتوں کو دبایا جاتا ہے ۔ اسمبلیوں میں ہاف فرائی اور فل فرائی کی ٹرم استعمال ہو یہ گڈ گورننس ہے؟ یہ کیا ہو رہا ہے اس ملک کے ساتھ ؟ کیا آپ سمجھتے ہیں اسطرح آپ بہت دیر وقت گذار لیں گے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ تمام قوتوں کو اپنے برے دنوں کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ یہ کوئی خوشی کی بات نہیں ہے یہ ایک بھیانک سین ہے جو نظر آرہا ہے۔
ہم اپنے لوگوں کو کاکروچ ماننے کو بھی تیار نہیں ہیں ۔ وہاں جمہوریت تھی تو انکی بات مان لی گئی ۔یہاں تو آزادی سے سوچنے کسی سے شئیر کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔یہ آفاقی اصول ہیں ۔ آپ دنیا بھر کے ملک دیکھ لیں جس ملک نے ترقی کی انہوں نے کسی اصول پر ترقی کی۔ ہمیں بھی اصول اپنانے پڑیں گے ۔
سر ، اس معاہدے سے کسی کو تکلیف نہیں ۔ خوشی ہے۔ آپ اپنا علاج کروائیں۔
تکلیف حکومت کے ناجائز ہونے سے ہے۔
ظلم سے ہے۔
تکلیف آپ جیسے مریم اور نواز کے قصیدہ گو لوگوں سے ہے۔
لوگوں کے سوالات ہیں
فیصلہ پارلیما ن کے ذریعے پاکستان کے عوام کا ہونا چاہیے چند افراد کا نہیں مگر یہ آپ نہیں سمجھ سکتے۔